یوروپ میں اسلام

سہیل ارشد
اسلام  دشمن اور صیہونی طاقتوں کی اسلام مخالف تحریکوں اور زبردست پروپیگنڈے کے باوجود مغربی ممالک میں اسلام میں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور امریکہ، جرمنی، اٹلی اور دیگر غیرمسلم ممالک میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ مہینے ٹونی بلیئر کی سالی لورین بوتھ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کر کے مغربی میڈیا کی اسلام مخالف کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ اس سے قبل مغرب کی چند معزز شخصیات جن میں گلوکار، سیاست داں اور ادیب شامل ہیں، نے اسلام قبول کر کے اسلام کی حقانیت کو ثابت کردیا۔ محمد علی کلے، مائک ٹائسن، یوسف اسلام اورہندوستانی شاعرہ کملا ثریا چندروشن مثالیں ہیں۔ 2002میں اٹلی کے سعودی عرب میں مقیم سفیر نے بھی اسلام قبول کیا۔ درحقیقت اس طرح کے لاکھوں افراد صرف یوروپی ممالک میں ہیں جو دین اسلام کی سادگی اور روحانیت سے متاثر ہو کر دین حق کے سائے میں پناہ گزیں ہوئے ہیں۔ گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی میں بابا صاحب امبیڈکر نے بھی اپنے ہزاروں دلت پیرو کاروں کے ساتھ داخل اسلام ہونے کا فیصلہ کیا تھا، مگر ان سے ایک غلطی ہوگئی۔ اسلام قبول کرنے کے اپنے فیصلے سے انہوں نے گاندھی جی کو آگاہ کردیا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ گاندھی جی نے یہ کہہ کر انہیں اسلام قبول کرنے سے باز رکھا کہ آپ کون سا اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔ بریلوی اسلام یا دیوبندی اسلام یا شیعہ اسلام یا سنی اسلام؟ آپ ہندو مذہب میں رائج ذات پات اور اونچ نیچ کی تفریق سے دل برداشتہ ہو کر ہندو مذہب چھوڑنا چاہتے ہیں، مگر وہی برائیاں تو مسلمانوں میں ہیں۔ گاندھی جی کی یہ بات ان کے دل کو لگی اور انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور بدھ مذہب اختیار کرلیا۔
کہتے ہیں کہ لینن بھی اسلامی نظام میں مساوات اور مزدوروں کے حقوق کے اصول سے متاثر تھا، اس لیے اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اسلام کو روس کا قومی مذہب بنا دیا جائے اور روس کی حکومت اسلامی قوانین کے مطابق چلے۔ یہ بات جب امریکیوں کو معلوم ہوئی تو وہ فوراً حرکت میں آئے اور انہوں نے لینن کو مختلف دلائل و براہین کی مدد سے اس اقدام سے باز رکھا۔وقت کا پہیہ گومتا رہا۔ روس ٹوٹ کر بکھر گیا اور وہاں پھر سے اسلامی تحریک کا احیا ہوا۔ دنیا کے بیشتر غیرمسلم ممالک میں اسلام پھیلنے لگا، جسے وہاں کی اسلام دشمن حکومتوں نے دہشت گردی کا الزام دے کر کچلنے کی کوشش کی۔
11ستمبر کے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں کے ذریعہ کیے گئے حملوں کے نتیجے میں عالم اسلام کو مادی طور پر ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں وہاں کی معیشت پوری طرح تباہ ہوگئی اور افغانیوں نے ایک دوسرے کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ مگر دوسری طرف ایک حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ 9/11حملے کے بعد امریکیوں، جرمنوں اور دیگر یوروپی ممالک کے غیرمسلموں میں اسلام کے بارے میں تجسس بڑھا اور اس کے مطالعے میں انہوں نے غیر معمولی دلچسپی لینی شروع کی۔ قرآن کے لاکھوں نسخے چند ہفتوں میں ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور اسلامی لٹریچر کی مانگ بڑھ گئی۔ عیسائیوں کے داخل اسلام ہونے کے سلسلے نے جو زور پکڑا تو آج تک نہیں تھما۔ مگر مغربی میڈیا جو ظاہر ہے یہودیوں اور عیسائیوں کے قبضے میں ہے، اس حقیقت کو حتی المقدور چھپانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ اپنے عوام کو اسلام سے باز رکھنے کے لیے حکومت کی شہ پر میڈیا نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ وار چھیڑ رکھی ہے۔ 2002میں مشہور انگریزی رسالے نیوز ویک نے اسلام اور عیسائیت کو کور اسٹوری بنایا اور اسلام کو منفی نقطۂ نظر سے پیش کیا۔ اتنا ہی نہیں، اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تصاویر بھی شائع کیں، جس سے مسلمانوں کی دل شکنی ہوئی۔ 2004میں ہالینڈ کے ایک اخبار نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کارٹون شائع کیے جس کے خلاف مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ 2010میں فیس بک پر توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہم چھیڑی گئی، گویا ہر چار سال پر عالمی سطح پر اسلام مخالف اور توہین رسالت کی مہم مسلمانوں کی دلآزاری اور اسلام کے خلاف لوگوں کو ورغلانے کے لیے چھیڑی جاتی ہے، مگر اسلام کا کارواں رکنے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔
مغربی میڈیا کی اسلام مخالف مہم کی وجہ سے عیسائی اور یہودی معاشروں میں اسلام سے جو عمومی نفرت اور بیزاری ہے اور اسلام ہراسی (اسلاموفوبیا) یعنی اسلام کے خوف کو جو فروغ ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں یوروپ میں مسجدوں، قرآن، حجاب اور میناروں کے خلاف قانونی و غیرقانونی اقدامات کیے جارہے ہیں، اس کے لیے خود مسلمانوں کی بداعمالیاں بھی کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ اور الشباب جیسی دہشت گرد تنظیموں نے غیرمسلموں میں اسلام کی غلط شبیہ پیش کی۔ اسلام کے نام پر شیعہ-سنی تصادم نے پورے عالم اسلام کو اپنی زد میں لے رکھا ہے۔ ایک فرقے کے ذریعے دوسرے فرقے کے جلوسوں، اسپتالوں، اسکولوں اور عبادت گاہوں پر خود کش حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ افغانستان، پاکستان، یمن، نائجیریا وغیرہ میں دہشت گرد تنظیمیں اسلام کے نام پر تشد پھیلا رہی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے ذریعہ معمولی بات پر عورتوں کے ناک، کان کاٹ لینا عام بات ہے۔ پاکستان میں شیعوں، احمدیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کی عبادت گاہوں، اسکولوں، اسپتالوں اور جلوسوں پر حملے اور اقلیتوں اور مسلم فرقوں کے افراد کا قتل عام بات ہوگئی ہے۔ ان سب واقعات سے مغربی معاشرہ اسلام سے خائف ہے اور وہ اسلام کو اسی روشنی میں دیکھتا ہے۔ مغربی میڈیا مسلمانوں کے انہی گمراہ سیاسی گروہوں کی بداعمالیوں کو غیرمسلم معاشرے کے سامنے پیش کرتا ہے اور ان میں اسلاموفوبیا کو فروغ دیتا ہے۔
تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ یوروپ کے لوگ لاکھوں کی تعداد میں اسلام کیوں کر قبول کرچکے ہیں۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ زوال آمادہ مغربی تہذیب کے پروردہ روحانیت سے خالی ہوچکے ہیں۔ بے جا آزادی، بے راہ روی اور بے لگام ذہنی تعیش پسندی نے ان کا ذہنی سکون چھین لیا ہے اور وہ روحانی و قلبی سکون کے متلاشی ہیں۔ ایسی حالت میں انہیں روحانی قیادت عطا کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کی تھی مگر نہ تو مسلمانوں نے انفرادی طور پر اپنے کردار کو ایسا بنایا کہ غیرمسلمین انہیں دیکھ کر اسلام کی طرف مائل ہوتے اور نہ ہی انہوں نے اجتماعی طور پر ایسی کوششیں یا منصوبہ بندی کی۔ حالانکہ اس کے برعکس انہوں نے اپنا متشدد چہرہ دکھا کر الٹا انہیں خائف کردیا۔ یوروپی افراد میں جو لوگ اب تک اسلام قبول کرچکے ہیں، ان میں زیادہ تر نے حق کی ذاتی طور پر تلاش اور مطالعے کی بدولت اسلام کو پایا ہے۔ انہوں نے مسلم معاشرے کو دیکھ کر نہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطالعے سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔ اسلام کی اشاعت کے لیے مسلمانوں کو جو منظم کوشش کرنی چاہیے تھی، وہ انہوں نے نہیں کی۔ اسلام میں دلچسپی رکھنے والے اور اس کا مطالعہ کرنے کے خواہاں افراد دنیا کے بیشتر ممالک میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن وغیرہ زبانوں میں اسلامی کتابیں تلاش کرتے ہیں، مگر انہیں بمشکل اسلامی مواد مہیا ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ہم پیدائشی مسلمان اپنی دینی و ملی ذمہ داری سے دامن نہیں جھٹک سکتے۔ آج ہمارے درمیان ایسے علما کی کمی ہے جو انگریزی، فرانسیسی، جرمن و دیگر غیرملکی زبانوں میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اسلامی تعلیمات پر معتبر کتابیں اور مضامین لکھ سکیں۔ لہٰذا یہ کام نو مسلم انگریز زیادہ بہتر طور پر کر رہے ہیں۔ آج اسلام مخالف کتابیں یا مضامین لکھنے والے دشمنان اسلام بہت ہیں، مگر ہم میں سے ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اسلام کے خلاف پھیلائی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے انگریزی میں مضامین لکھ سکیں۔ ایک انگریزی روزنامے کا ہی قصہ لیں۔ دسمبر 1987میں دکن ہیرالڈ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت میں ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس مضمون کے خلاف ہزاروں مسلمانوں نے اخبار کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا تھا۔ ہجوم جب بہت زیادہ متشدد ہوگیا تو پولس کو گولی چلانی پڑی، جس میں 11افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں پوری ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔ مگر اس واقعے کے چند روز قبل ہی انگریزی روزنامے ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر دو صفحات کا ضمیمہ نکالنے کا فیصلہ کیا تو انہیں چار ادیب بھی ایسے نہ مل سکے جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی پر جامع مضمون لکھ سکتے۔ لہٰذا ضمیمے کو کسی طرح پرانے اور مطبوعہ مضامین سے پر کیا گیا۔ ان دو واقعات سے یہ ظاہر ہوا کہ ہم مسلمانوں کا مزاج صرف شکایتیں کرنے اور احتجاجی مظاہرے کرنے کا بن گیا ہے۔ جو قوم دس ہزار مظاہرین تو پیدا کرسکتی ہے ،مگر چار معتبر ادیب پیدا نہیں کرسکتی، وہ نقصان اٹھانے کے سوا کیا کرسکتی ہے۔
لہٰذا اسلام کو غیرمسلموں تک پہنچانے کا کام زیادہ بہتر طور پر وہ انگریز کر رہے ہیں جو عیسائیت ترک کر کے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ وہ انگریزی میں اسلام پر مضامین اور کتابیں لکھ رہے ہیں اور اسلام اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی پر ڈاکومینٹری فلمیں بنا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ادیب ایسے بھی ہیں جو دل سے تو مسلمان ہوگئے ہیں، مگر انہیں سماج اور حکومت کا ڈر اپنے نئے مذہب کے اخفا پر مجبور کیے ہوئے ہے۔ لہٰذا وہ پردے کے پیچھے سے اسلام پر مضامین اور کتابیں لکھ کر انگریزوں میں اسلام کی اشاعت کا مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ایسے ہی چند ادبیوں کا ذکر اردو کے ادیب محمد حسن عسکری نے شمس الرحمن فاروقی کے نام اپنے ایک خط میں کیا ہے۔ ان میں رینے گینوں(شیخ عبدالواحد یحییٰ)، فری جوشوون(عیسیٰ نورالدین) اور مارٹن لنگس(ابوبکر سراج الدین) اہم ہیں۔ ان لوگوں کے قبول اسلام کے متعلق لوگ اب جاننے لگے ہیں، مگر اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مصلحتاً اپنے عیسائی نام سے ہی اسلام موافق مضامین لکھ رہے ہیں، کیوں کہ اگر وہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں تو اول تو ان کی مخالفت شروع ہوجائے گی اور دوئم ان کی تحریروں کو پروپیگنڈہ سمجھ کر رد کر دیا جائے گا۔ محمد حسن عسکری لکھتے ہیں:’’یوروپ میں جو مسلمان ہیں، وہ عموماً اپنے اسلامی نام نہیں لکھتے اور نہ اپنے اسلام کا عام طور پر اعلان کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ مغربی لوگوں کی اسلام سے نفرت۔ مجھے دو ایک حضرات کے حالات کا علم ہے کہ اگر وہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں تو شاید گرفتار ہوجائیں۔ ورنہ کم سے کم انہیں روٹی نہ ملے۔ مگر بعض حضرات ایسے ہیں جو اپنے اسلام کو چھپاتے بھی نہیں۔ سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ جیسے ہی یوروپ کے لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں شخص مسلمان ہوگیا ہے، فوراً اس کی مخالفت شروع ہوجاتی ہے۔‘‘
آگے چل کر عسکری لکھتے ہیں۔
’’ایک عجیب اتفاق ہے کہ 1928کے قریب مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی مجلس میں کہا تھا کہ مجھے تو یہی نظر آرہا ہے کہ اب اسلام کی حفاظت کرنے والے یوروپ سے پیدا ہوں گے۔تقریباً یہی زمانہ ہے جب رینے گینوں(عبدالواحد یحییٰ)نے زور وشور سے لکھنا شروع کیا۔‘‘
ہم نے ایک عرصے تک انگریزی کو کفر سے جوڑ کر دیکھا اور اسے پڑھنے اور سیکھنے سے مسلمانوں کو روکا۔ اگر ہم نے اسے غیر مسلموں تک اسلام کو پہنچانے کے وسیلے کے طور پر دیکھا ہوتا تو اسلام کی بڑی خدمت ہوتی۔ اگر ہم نے انگریزی، فرانسیسی اور دیگر یوروپی زبانیں دین کی تبلیغ کے مقصد سے سیکھی ہوتیں تو ہم نے ایک اہم دینی فریضے سے عہدہ برآ ہونے کا شرف حاصل کیا ہوتا۔ اسلام اللہ کا دین ہے۔ اس نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری ہمیں سونپی ہے۔ اگر ہم نے یہ کام نہیں کیا تو اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ یوروپ ہی سے اسلام کے مبلغ پیدا کرے گا اور دین کو ساری دنیا میں پھیلادے گا، مگر تب ہم کسی اور اجر و ثواب کی تمنا نہ کرسکیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *