شبری‘‘ میں ایشا”

رام گوپال ورما سے ایشا کوپکر لمبے عرصہ سے ناراض ہیں اور اب وہ کھل کر ان کے خلاف غصے کا اظہار کرنے لگی ہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ سالوں پہلے ایشا نے رامو کی ایک فلم ’’شبری‘‘ میں کام کیا تھا۔ فلم کو مکمل ہوئے چار سال ہو گئے ہیں، لیکن اب تک وہ سنیما گھروں تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ایشا کا ماننا ہے کہ رامو کی فلم کے دیگر لوگوں سے لڑائی چل رہی ہے اور اس وجہ سے وہ فلم کو ریلیز کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔ ایشاکو یہ بات اس لئے بھی دکھ پہنچا رہی ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ’شبری‘ان کے کریئر کی سب سے بہترین فلم ہے۔ اس میں انھوں نے خاتون گینگسٹر کا کردار ادا کیا ہے اور اس فلم کے رکنے سے ان کی بہترین اداکاری ناظرین تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔وہ پوری کوشش کر رہی ہیں کہ ان کی اس فلم کی جلدسے جلد نمائش ہو۔ایشا نے گزشتہ سال تاجر ٹمی نارنگ سے شادی کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ہندی فلموں کی اداکارائوں کا کریئر ہی نہیں، ان کی ذاتی زندگی بھی شوہر اور پریوار کے دائرے میں سمٹ کر رہ جاتی ہے، لیکن ایشا کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد وہ زیادہ بنداس ہو گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، شادی بندھن نہیں، آزادی ہے۔ اس کی وجہ ہے ایشا کے شوہر ٹمی نارنگ سے مل رہا تعاون۔ایشا کو آنے والے وقت سے بے حد امیدیں ہیں اور وہ اس سمت میں پوری کوشش کر رہی ہیں۔ ایشا ایک بہترین اداکارہ ہیں، لیکن انہیں سمجھنا ہوگا کہ بالی ووڈ میں کامیاب فرد کو ہی بہترین اداکار ماناجاتا ہے۔ ایشا بالی ووڈمیں  ’’ خلاص گرل‘‘کے نام سے جانی جاتی ہیں اور ان چند اداکارائوں میں سے ایک ہیں، جو بولڈ اور سافٹ دونوں طرح کے کرداروں سے ناظرین کو متاثر کر چکی ہیں۔

عائشہ کی کافی شاپ

عائشہ ٹاکیہ آج بالی ووڈ کے فلمسازوں کے تئیں اپنی ناراضگی جتا رہی ہیں۔یہ ناراضگی شادی شدہ اداکارائوں کے تئیں فلمسازوں کے مایوس کن رویہ کے حوالے سے ہے۔ان کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد لڑکیاں اور بھی زیادہ فری ہو جاتی ہیں۔ یہ سماج کا بہت ہی تنگ نظریہ ہے کہ کہ لڑکیاں شادی کے بعد گھر کا شو پیس بن کر رہ جاتی ہیں،جبکہ شادی کے بعد تو لڑکیاں زیادہ فری ہوسکتی ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ کوئی دیکھ بھال کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ شادی کے بعد عائشہ نے فلموں اور فیشن ڈیزائننگ کے علاوہ کافی شاپس کی چین کھولنے کی بات کہی ہے۔ وہ ملک کے مختلف شہروں میں کافی شاپ کھولیں گی اور اس کے لئے انھوں نے مختلف مقامات کے دورے بھی کرنے شروع کر دئے ہیں۔ اپنے اس نئے وینچر کے حوالے سے عائشہ میں کافی جوش و خروش ہے اور اس کے لئے وہ جی جان سے محنت کر ہی ہیں۔ ان کہنا ہے  کہ فلمیں ان کا کور پیشن ہیں، لیکن فی الحال وہ اپنے کاروبار پر ہی توجہ دے رہی ہیں۔

ماں کے ساتھ ایشا دیول

اداکارہ  ایشا دیول نے اپنی ماں اورمعروف  اداکارہ ہیما مالنی کی ہدایت کاری میں بنی فلم ’’ ٹیل می او خدا‘‘میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وہ اس فلم کی اسسٹنٹ پروڈیوسر اور ایڈیٹر بھی ہیں۔انھوں نے اس میں تکنیکی صلاح کار کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ایشا کا کہنا ہے کہ ’’ٹیل می او خدا‘‘کے دوران میں نے فلم سازی کے تکنیکی پہلوئوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا، لیکن میرے لئے ابھی اپنے کام کا طریقہ بدلنا جلد بازی ہوگا۔ہیما نے ایشا کے ذریعہ فلم ادارت کی تصدیق کی ہے۔
ایشا کہتی ہیں، میں نے ماں کی مدد کی اور فلم ادارت بھی کی۔ میں ’’ٹیل می او خدا‘‘  میں ان کی معاون رہی ہوں۔ میں نے کیمرے کے پیچھے کی بہت سی باتیں سیکھیں، اب ادارت سیکھ رہی ہوں۔ یہ فلم میرے لئے کافی بہتر رہی۔ایشا نے 2002میں فلم ’’کوئی میرے دل سے پوچھے‘‘ سے اپنے کریئر کی شروعات کی تھی۔انھوں نے اپنے آٹھ سالہ کریئر میں25سے زائد فلموں میں کام کیا۔ دھرمیندر اور ہیما مالنی جیسے شہرت یافتہ اداکاروں کی بیٹی ایشا دیول کو اداکاری ورثہ  میں ملی ہے۔ بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ ایشا کو بچپن سے ہی فٹبال کے تئیں کافی لگائو رہا ہے۔وہ اپنے کالج میں فٹبال ٹیم کی کپتان بھی رہ چکی ہیں۔فلم ڈائریکٹر بونی کپور نے آفتاب شیو داسانی کے اپوزٹ فلم ’’کوئی میرے دل سے پوچھے‘‘ میں ایشا کو متعارف کرایا، لیکن باکس آفس پر یہ فلم فلاپ ثابت ہوئی۔اس کے بعد تو ان کی فلاپ فلموں کی لائن سی لگ گئی، لیکن یشراج بینر کی فلم ’’دھوم‘‘ کے بعد ایشا کا شمار بالی ووڈ کی پر کشش اداکارائوں میں ہونے گا۔ بنداس ایشا کو غصہ آ جائے تو وہ کسی کو تھپڑمارنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتیں۔ آج کل سنا جا رہاہے کہ جنوبی افریقہ میں کسی سے ان کا گہرا رشتہ ہے۔ اب حقیقت کیا ہے، یہ تو ایشا ہی جانیں!

مداحوں کے درمیان رمی سین

اداکارہ رمی سین نے گزشتہ دنوں اندور جیسے چھوٹے شہر میں مداحوں کے درمیان اپنا کچھ لمحے گزارے۔ پریہ درشن کے ذریعہ ہدایت کردہ فلم ’’ہنگامہ‘‘ سے فلمی دنیا میں انٹری کرنے والی بنگالی دوشیزہ رمی سین نے تھوڑے وقت میں ہی اپنا نام کامیاب اداکارائوں میں شمار کرا لیا ہے۔ آنکھوں میں اداکارہ بننے کا خواب لئے رمی نے کولکاتہ سے ممبئی کا رخ کیا۔ شروعاتی جدوجہد کے بعد انہیں ماڈلنگ کی دنیا سے جڑنے کاموقع ملا۔ایک ٹیلی ویژن اشتہار کی شوٹنگ کے دوران رمی کی ملاقات پریہ درشن سے ہوئی اور انھوں نے رمی کو ہنگامہ کے لئے سائن کر لیا۔ اس کے بعد تو رمی کے پاس بڑے بینروں کی فلموں کی لائن سی لگ گئی۔ یشراج بینر کی ’’دھوم‘‘، روی چوپڑا کی ’’باغ بان‘‘، ساجد ناڈیاڈ والا کی ’دیوانے ہوئے پاگل‘ رمی سین کے چھوٹے سے فلمی کریئر کی قابل ذکر حصولیابیاں ہیں۔ کئی بڑے بینروں اور سینئراداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع پانے والی رمی سین کو یوں تو اسٹار اداکارہ کا درجہ نہیں حاصل ہے، لیکن وہ کئی معروف ہدایت کار وں اور فلمسازوں کی پسند ضرور بن چکی ہیں۔ایکشن شاٹس سے بھرپور فلم ’’دھوم‘‘ میں رمی نے جہاں اپنے ہلکے پھلکے کردار سے ناظرین کو ہنسنے پر مجبور کیا، وہیں گزشتہ سال ریلیز ہوئی ’’جانی غدار‘‘ میں سازشوں کی شکار ایک عام لڑکی کے کردار کو بھی انھوں نے کافی سنجیدگی کے ساتھ ادا کیا۔ رمی کی فلموں نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے تو گاڑے، مگر وہ اس کے شرف سے ہمیشہ سے محروم رہیں۔ مسلسل بڑے بینروں کی فلمیں کر رہیں رمی آج بھی دوسرے درجہ کی اداکارائوں میں شمار ہوتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *