ہندوستانی موسیقی اور نوشاد

شاہد حسن
ہندی فلم انڈسٹری نوشاد علی کے احسانوں سے گرانبار ہے۔ اس عظیم موسیقار نے موسیقی کو ایک ایسا مقام دیا، جس پر ہندوستان کو ناز ہے۔نوشاد صاحب کی موسیقی کو انڈین فلم انڈسٹری میں ایک بیش بہا خزانے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ شاہ جہاں ، دل لگی ، دلاری، انمول گھڑی ، مغل اعظم ، بیجو باؤرا ، انداز ، آن ، امر اورداستان جیسی فلموں کے دل کو چھو لینے والی موسیقی اور ان کے نغموں کو برصغیر کے عوام شاید کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔66 فلموں میں اپنی موسیقی کا جادو جگانے والے موسیقار اعظم کی آخری فلم اکبر خان کی تاج محل تھی اور ان کی موسیقی کی تعریف میں وزیراعظم ہند منموہن سنگھ نے ایک توصیفی سرٹیفکیٹ بھی دیا۔ انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور سنگیت اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ حکومت نے انہیں پدم بھوشن کے خطاب سے بھی نوازا۔دل کا دورہ پڑنے سے ممبئی میں انتقال ہوا۔
نوشاد صاحب کی پیدائش25دسمبر1919 لکھنئو شہر میں ہوئی۔ جو کہ ہندوستان کی قدیم تہذیب و تمدن کا مر کز ہے۔ ان کے والد و احدعلی ایک عدلیہ میںمنشی تھے۔نوشاد کو موسیقی سے بہت لگائو تھا۔بچپن میں وہ لکھنئو سے 25 کلو میٹر دور دیواشریف بارہ بنکی میں لٖگنے والے سالانہ عرس میں شرکت کرنے جایا کرتے تھے، جہا ںپر عظیم قوال اور ساز ندے نذرانہ ء عقیدت پیش کرتے تھے ۔نو شاد بھی عقیدت مندوں کے درمیان بیٹھ کر کرشمائی مو سیقی سنا کرتے تھے ۔بچپن سے ہی موسیقی کی طرف ر جحان کے سبب وہ دیر رات تک فلم دیکھنے کے بعد گھر لوٹا کر تے تھے۔ ان کے والد ایک پختہ مذہبی انسان تھے۔ ان کی اس حرکت پر نوشاد کو بہت ڈانٹا کر تے تھے ۔ ان کے والد کہا کرتے تھے کہ تم موسیقی یا گھر میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔ نوشادنے آخر کار ہمت کر کے بو ل ہی دیا کہ والدصاحب آپ کو اپنا گھر مبارک ، مجھے میر ی موسیقی!۔
اس کے بعد وہ اپنا گھر چھوڑ کر ڈرامہ منڈلی میں شامل ہو گئے۔ اس کے ساتھ جے پور ، جودھ پور ، بریلی اور گجرات کے بڑے شہروں کا دورہ کیا۔ نوشاد کے بچپن کا ایک مشہورو دلچسپ واقعہ ہے کہ لکھنئو میں بھوندومل اینڈ سنس کی موسیقی کے پرزوں کی ایک دوکان تھی جس کو موسیقی کے دیوانے نوشاد اکثر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ دوکاندار نے ان سے دریافت کر ہی لیا کہ وہ دوکان کے پاس کیوں کھڑے رہتے ہیں ۔ نوشاد کو مو قع مل گیا اور انھوںنے فوراً مالک سے کہا کہ وہ اس کی دوکان میں کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کی غر ض تھی کہ وہ اسی بہانے موسیقی کی ریاض کر سکیں ۔  نوشاد صاحب نے تقریبا َچھ دہائیوں کے اپنے فلمی کریئر میں سیکڑوں فلموں میں موسیقی کا جادو بکھیرا۔
نوشاد نے تھوڑی عمر میں جونیئر تھیٹریکل کلب جوائن کر لیا اور اپنے فن کا مظاہرہ کر نے لگے۔ وہ راوففئل سینما میں خاموش فلمیں دیکھنے جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں تھیٹر مالک سازندوںکو کرایہ پر لیا کر تے تھے ،جو تبلہ ،ہارمونیم ، سیتار اور وائلن بجا تے تھے ۔وہ پہلے فلم دیکھ کر صورتحال کے مطابق پردے کے سامنے بیٹھ کر موسیقی دیا کرتے تھے۔ نوشاد صاحب نے بیک گرائونڈ میوزک میں مہارت حاصل کر لی۔ انھوںنے استاد غربت علی ، استاد یوسف علی ، استاد ببن صاحب اور دیگر سے ہندوستانی موسیقی کی تعلیم وتربیت بھی حاصل کی ۔بعد ازاں نوشاد نے’’ونڈسور‘‘  نامی ایک ٹیم بنائی جو کہ لکھنئو کی گولا گنج کالونی کے ایک تھیٹر میں آزادانہ طور پرموسیقی دیا کرتی تھی۔انھوںنے پنجاب، راجستھان ، گجرات، اور سوراشٹر کے کلاسکل میوزک سے متاثر ہوکردیہی فوک سوانگ سے نائب گوہر چننے کے فن میں مہارت حاصل کر لی۔ انھونے لڈن خاں سے کلاسیکل موسیقی کی تعلیم لیکر 1937 میں13؍سال کی عمر میں بمبئی (اب ممبئی) چلے آئے۔یہ وہ وقت تھا جب1931 میں خاموش فلموں کو زبان ملی۔ وہ ممبئی میں قلابہ اور بعد اذیں دادر میں براڈ وے تھیٹرکے سامنے فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے۔ انھوں نے استاد جھنڈے خاں کے معاون کی حیثیت سے چالیس روپے ماہانا کی نوکری کر لی، جو اس زمانے کے چوٹی کے موسیقار تھے۔ اس کے بعد نوشاد نے استاد مشتاق حسین کے آرکیسٹرا میں پیانو نسٹ کے طور پر کام کیا۔ جب کہ کھیم چند پرکاش موسیقی کمپوزر نے ان کو فلم کنچن میں بطور امعائون رنجیت اسٹوڈیو میں ساٹھ روپے ماہانہ نوکری دلائی۔ کھیم چند ان کے استاد کے طور پر جانے گئے۔
نوشاد کے دوست نغمہ نگار ڈی این مدھوک نے ان کے اندر کے موسیقار کو پہچانا اور ان کی ملاقات رنجیت اسٹوڈیو کے مالک اور پروڈیوسر چندو لال شاہ سے کرائی۔ جنھوںنے نوشاد سے اس فلم کے لئے ـ’’بتادے کوئی کون گلی گئے گھنشیام‘‘ بھجن کی موسیقی کا ذمہ انھیں سونپا، لیکن یہ فلم کبھی نہیں بن پائی۔ اسکے بعد نوشاد نے پنجابی فلم’مرزا صاحب1939 میں معائون میوزک ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ انھوں نے آزادانہ طور پر1940میں ’’پریم نگر‘‘ فلم کی موسیقی دی۔ اس کے بعدانھیں کاردار کی ’’نئی دنیا‘‘1942میں پہلی مرتبہ موسیقی کی ہدایت دینے کا کریڈٹ ملا۔1942 میں ہی اے آر کاردار کی فلم ’’شاردا‘‘ میں تیرہ سالہ ثریا کی آواز میں فلم کی ہیروئن مہتاب کے لئے ’’بوٹ کروں میں پالش‘‘ نغمہ گایا۔1944 میں فلم ’’رتن‘‘ ایسی پہلی فلم تھی جس کے لئے انھوں نے پچیس ہزار روپے محنتانہ لیا۔ نوشاد کی شادی میں بینڈ باجے والے ان کی فلم رتن کے گانے بجا رہے تھے۔ جب کہ انکے والد اور سسر موسیقی سے سخت اعتراض رکھتے تھے۔ ان کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان سے کہہ سکیں کہ انھونے اس گیت کی موسیقی دی ہے۔
1946 میں ریلیز ’’انمول گھڑی‘‘ میں نور جہاں اور ’’شاہجہاں ‘‘ میں کے ایل سہگل کے ساتھ کام کیا۔ ان دونوں فلموں کی موسیقی سپرہٹ ثابت ہوئی ۔1942 سے1960 تک نوشاد نے26؍ سلور جبلی مثلاََ ’نئی دنیا‘ ’شاردا‘’قانون‘’ نمستے‘’ سنجوگ‘’ پہلے آپ‘’ سنیاسی‘’ شاہجہاں‘ ’درد ‘’ناٹک‘ ’دلگی ‘ ’دلاری ‘’بابل‘ ’جادو‘’دیوانہ‘’شباب‘’اڑن کھٹولا‘’میرے محبوب‘’دل دیا درد لیا‘’ساتھی‘ اور پالکی وغیرہ ، اور آٹھ گولڈن جبلی فلم جیسے’انوکھی ادا‘’میلا‘’انداز‘’دیدار‘’آن‘’کوہینور‘’میرے محبوب‘’ساز اور آواز‘ ’آدمی‘’پاکیزہ‘اور ’دھرم کانٹا‘ اور چار فلمیں ڈائمنڈ جبلی مثلاََ ’رتن‘’بیجو بائورا‘’مدر انڈیا‘’ مغلِ اعظم‘ کی موسیقی دی۔
نوشاد صاحب نے نغمہ نگار شکیل بدائیو نی سمیت ’مجروح سلطانپوری‘ ڈی این مدھوک‘’ضیاء سرحدی‘’کمار بارا بنکوی‘ نغمہ نگاروں کے ساتھ کام کیا۔ 1957 میں مدر انڈیا ہندوستان کی پہلی ہندی فلم تھی جو آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئی۔1972 میں ’پاکیزہ ‘ کو غلام محمد کی موت کے بعد انھوںنے ہی مکمل کیا۔1981میں نوشاد صاحب کو ’داداصاحب پھالکے ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔2004 میں جب مغلِ اعظم کو دوبارہ  کلر میں ریلیز کیا گیا تو اس کے پریمیئر پر ان کو اعزازی مہمان بنایا گیا۔2005 میں’تاج محل این اٹرنل لو اسٹوری‘ میں 86؍ سال کی عمر میں موسیقی دیکرانھوںنے کارنامہ انجام دیا۔ 2006 میں نوشاد صاحب نے اٹل بہاری واجپئی کی نظم ’’ان کی یاد کریں‘‘کو ہریہرن کی آواز میں ریکارڈ کرایا۔۵ مئی 2006 کو ممبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی تدفین جوہو مسلم قبرستان میں عمل میں آئی۔ جس کو2010 میں مسمار کر دیا گیا،جب کہ دلیپ کمار نے ان کی قبر کو بچانے کی اپیل کی۔ ان کے چھ بیٹیاں ’زبیدہ‘ ’فہمیدہ‘’فریدہ‘’سعیدہ‘’راشدہ‘’وحیدہ‘ اور تین بیٹے’رحمٰن نوشاد‘’راجو نوشاد‘’اور اقبال نوشاد‘ ہیں۔ جن میں سے رحمٰن نوشاد اور راجو نوشاد نے فلم ’مائی فرینڈ‘ اور’تیری پائل میرے گیت‘ بنائی،جس کی موسیقی نوشاد نے دی۔ نوشاد صاحب ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے لئے جانے جاتے ہیں ۔ ’بیجو بائورہ‘’مغلِ اعظم‘’گنگا جمنا‘’سنگھرش‘’ وغیرہ اس کے بہترین نمونے ہیں۔ ان کو بیجو باورہ کے لئے1952 میں پہلا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔1952 میں اڑن کھٹولا کے لئے سو آرکیسٹرہ کا استعمال کیا، جس کی موسیقی لندن میں کتاب کی شکل میں شائع ہوئی۔نوشاد صاحب 1960 میں مغلِ اعظم کے نغمے ’اے محبت زندہ باد‘ کے لئے سو کورس کا پہلی مرتبہ استعمال کیا۔
غور طلب ہے کہ نوشاد صاحب نے اپنی موسیقی میں ملک کی سوندھی مٹّی کی خوشبو اور سب سے زیادہ راگوں کا استعمال کیا ہے۔ مثلاََ باگیشوری، بھیروی، بھیم پلاسی، بیہگ، برندائونی، سانرگ، درباری کناڈا، دھان، گرا، گود سارنگ، گورکھ کلیان، ہمیرہ، جے جے ونتی، شبھ کلیان، جھنجھوٹی، بھیرئو، کیدار،کھماج، للت، مالکوس، ماروا، مند،میگھ ملہار، مصر دیشی، ملطانی، پہاڑی، یمن ، کلیان، تلنگ،راگیشوری، شو رنجنی، پوریہ، دھنشری وغیرہ ۔ نوشاد صاحب ایسے واحد موسیقار تھے جنھونے گلوکاری میں سائونڈ مکسنگ اور نغمے کی ریکارڈنگ کو الگ رکھا۔ فلم موسیقی میں اکورڈین کا سب سے پہلے استعمال کیا۔ نوشاد صاحب نے سریا‘’ اما دیوی عرف ٹنٹن‘’ مکیش‘’طلعت محمود‘’ کے ایل سہگل‘’ محمد رفیع‘’ لتا منگیشکر وغیرہ کے ساتھ کام کیا۔چھ دہائی تک اپنی موسیقی سے ناظرین کو جھمانے والے نوشاد صاحب آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن انکی موسیقی ہمارے ذہن کو تازگی بخش رہی ہے۔ شکیل بدائیو نی ، نوشاد اور دلیپ کمار کی تکڑی ایک زمانے میں بالی ووڈ میں فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ بالی ووڈ میں ان کی بے لوث خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *