یقین جانئےاگر ابتدائی طبی مرکز بیمار ہو

ابتدائی طبی مراکز کی اہمیت کسی بڑے اسپتال سے کم نہیں ہوتی، کیوں کہ یہی وہ مرکز ہے، جہاں بچوں کے لیے ٹیکہ کاری اور حاملہ خواتین کے لیے مناسب علاج کی سہولت دستیاب کرانے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ یہی وہ مرکز ہے، جہاں ملک کے نونہالوں کی صحت کے لیے طبی خدمات دستیاب کرائی جاسکتی ہیں۔ ہندوستان میں دیہی طبی خدمات کی حالت کیا ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ چند ریاستوں میں حالت اچھی ہے، لیکن زیادہ تر جگہوں پر ابتدائی صحت مراکز کی حالت خود ایک مریض کی طرح ہے۔ ایسے میں آپ سبھی سے کچھ سوالوں کا جواب جاننا ضروری ہے۔ جیسے کیا آپ کی پنچایت یا وارڈ میں ابتدائی طبی مرکز ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی حالت کیا ہے؟ کیا وہاں نرس، ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر باقاعدہ طور سے آتے ہیں، دوائیں ملتی ہیں، جانچ کی سہولت ہے؟ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک سہولت آپ کو نہیں ملتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں، شکایت یا کچھ اور ؟ ’چوتھی دنیا‘ کی حق اطلاعات مہم کے تحت اس شمارہ میں ہم آپ کو یہی بتا رہے ہیں کہ آپ کیسے مندرجہ بالا سہولتیں حاصل کرسکتے ہیں، وہ بھی بڑی آسانی سے۔ اس کے لیے آپ کو صرف ایک درخواست تیار کرنی ہے اور چند سوالات پوچھنے ہیں۔ سوالات کیا ہوںگے؟ یہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں۔ فی الحال اس شمارہ میں ہم آپ کو ابتدائی طبی مرکز پر تعینات نرس (اے این ایم) کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ اگر آپ کے مرکز پر تعینات اے این ایم باقاعدہ طور سے نہیں آتی یا دیر سے آتی ہے یا ٹیکہ لگانے اور دوا بانٹنے کا کام صحیح وقت اور صحیح ڈھنگ سے نہیں ہوتا ہے تو آپ اس شمارہ میں شائع درخواست کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یقین جانئے، صرف ایک درخواست دینے سے آپ کے مرکز کی حالت سدھر جائے گی۔ نرس صحیح وقت پر باقاعدہ طور سے آئے گی، ٹیکہ لگانے اور دوا بانٹنے کا کام سدھر جائے گا۔ آپ کو اپنی درخواست میں اے این ایم سے متعلق حاضری رجسٹر کی کاپی مانگنی ہے۔ اس کی چھٹیوں کے بارے میں پوچھنا ہے۔ ٹیکہ لگانے سے مستفید ہونے والے بچوں کی فہرست مانگنی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ اتنے سارے سوال پوچھیںگے تو کسی بھی سرکاری محکمہ کے لیے جواب دے پانا مشکل ہوجائے گا۔ کسی معاملہ میں پھنسنے کی بجائے وہ حالت سدھارنے پر زیادہ دھیان دے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس درخواست کا استعمال ضرور کریںگے۔ ساتھ ہی دوسرے لوگوں کی بھی اس کے لیے حوصلہ افزائی کریںگے، کیوں کہ یہ ایک مہم ہے بدنظمی اور بدعنوانی کے خلاف اور اس میں آپ کی حصہ داری ضروری ہے۔

(درخواست کا خاکہ اے این ایم کے سلسلہ مین)

بخدمت،
پبلک انفارمیشن آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاعات ایکٹ 2005کے تحت درخواست

محترم،
…………………………………………………..گرام پنچایت میں تعینات اے این ایم کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل اطلاعات دستیاب کرائیں:
1- اس گرام پنچایت میں تعینات اے این ایم کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل اطلاعات دستیاب کرائیں:
(الف) نام        (ب) عہدہ    (ج) اس پنچایت میں چارج سنبھالنے کی تاریخ(ہ) کام / ذمہ داری کی تفصیل    (و) روزانہ ڈیوٹی پر آنے اور جانے کا وقت
2- مذکورہ اے این ایم کے حاضری رجسٹر کی گزشتہ 6مہینوں کی کاپی دستیاب کرائیں۔
3- مذکورہ اے این ایم کے ذریعہ گزشتہ ایک سال میں اس گرام پنچایت میں کیے گئے ٹیکہ کرن اور دوا بانٹنے کے کاموں کی فہرست دستیاب کرائیں، جس میں مذکورہ اطلاعات ضرور شامل ہوں:
(الف) مستفید ہونے والے کا نام و پتہ        (ب) مستفید ہونے والے کو ٹیکہ لگانے یا دوا دئے جانے کی تاریخ         (ج) دوا اور ٹیکہ کا نام
4- مذکورہ اے این ایم اگر بروقت گاؤں کا دورہ نہیں کرتی ہے تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکتی ہے؟ برائے مہربانی اس سلسلہ میں قوانین/ پالیسی ہدایات کی کاپیاں دستیاب کرائیں۔
5- اس پنچایت کا کام کاج سنبھالنے کے بعد اب تک مذکورہ اے این ایم کے خلاف دیر سے آنے یا غیرحاضر رہنے کے سلسلہ میں اگر کوئی شکایت موصول ہوئی ہے تو اس کی تفصیل دستیاب کرائیں، جس میں مندرجہ ذیل اطلاعات ضرور شامل ہوں:
(الف) شکایت کرنے والے کا نام    (ب) شکایت کی مختصر تفصیل    (ج) شکایت کی تاریخ(ہ) شکایت پر کی گئی کارروائی کی تفصیل    (و) کارروائی کرنے والے افسر کا نام، عہدہ اور پتہ
میں درخواست فیس کی شکل میں…………………………………روپے الگ سے جمع کر رہا/ رہی ہوں۔
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لیے تمام واجب الادا  فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……………………………………….ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ/ دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات ایکٹ 2005کی دفعہ 6(3) کے تحت میری درخواست متعلقہ افسر کو پانچ دنوں کی مدت کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی ایکٹ کے بندوبست کے تحت اطلاع دستیاب کراتے وقت فرسٹ اپیل افسر کا نام اور پتہ بتائیں۔
مخلص
نام:
پتہ:
فون نمبر:
ملحقات:                                (اگر کچھ ہو تو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *