مصر اور لبنان میں صیہونی حکومت کی جاسوسی کارروائیاں

حال ہی میں مصر اور لبنان میں غاصب صیہونی حکومت کی جاسوسی کے کئی نیٹ ورکس پکڑے گئے ہیں۔اس طرح عرب ممالک میں صیہونی حکومت کے خفیہ اقدامات سے ایک بار پھر پردہ اٹھا ہے۔روزنامہ القدس العربی نے لکھا ہے کہ مصر کے اٹارنی جنرل نے حال ہی میں مصر میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں خبر دی ہے۔صیہونی حکومت کا جاسوسی کا نیٹ ورک مصر کی قومی سلامتی کے خلاف سر گرم عمل تھا اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مصر کو غاصب صیہونی حکومت نے بدستور اپنے ناپاک عزائم کا نشانہ بنا رکھا ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ مصر نے غاصب اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور مصری حکومت اس غاصب صیہونی حکومت کا ساتھ دیتی رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد مصر کی موبائل فون کمپنیوں کے بعض اہم ملازمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی اور اس کا مقصد ان مصری ملازمین سے اسرائیل کے لئے جاسوسی کا کام لینا تھا۔مصر اور دیگر عرب ممالک کے ٹیلی فونی اور مواصلاتی نظام میں نفوذ پیدا کرنا صیہونی حکومت کا اسٹریٹیجی ہدف ہے کیونکہ صیہونی حکومت ان شعبوں میں اپنے ایجنٹوں کو داخل کرکے بہت سی اہم اطلاعات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ خاص طور سے مصر اور دیگر عرب ممالک کے اعلی سیکورٹی اور فوجی عہدیداروں کی بات چیت کو کنٹرول کرتے ہوئے۔رواں سال میں یہ پہلی بار نہیں ہے بلکہ تیسری بار ہے کہ مصر میں صیہونی حکومت کے جاسوسی کے نیٹ ورکس کا پتہ چلا ہے۔خود صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ میئر داگان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ مصر میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی میں ایک نیا موڑ تھا۔موساد کے سربراہ کے بیان کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اور مصر کے درمیان ہونے والے اس معاہدے نے مصر کے دروازے اسرائیل کے خفیہ اداروں کے لئے کھول دئے تاکہ صیہونی حکومت مصر کی سیکورٹی کے ساتھ اپنا کھیل کھیل سکے۔ادھر لبنان میں بھی بتایا جاتا ہے کہ صیہونی حکومت کے جاسوسی کے نیٹ ورکس سرگرم عمل ہیں اور اطلاعات کے مطابق لبنان کی سیکورٹی فورسز نے ان میں سے کئی نیٹ ورکس کا پتہ لگا کر صیہونی حکومت کے جاسوسوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔حال ہی میں لبنان کی وزارت خارجہ نے لبنان کے مختلف علاقوں میں صیہونی حکومت کی جاسوسی کی کارروائیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت کی تھی۔لبنانی وزرات خارجہ نے ملک کے مختلف علاقوں میں صیہونی حکومت کی جاسوسی کی کارروائیوں کو سلامتی کونسل کی قرارداد سترہ سو ایک کی خلاف ورزی قراردیا اور سلامتی کونسل سے اپیل کی وہ صیہونی حکومت کو بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی سے روکے۔چارسو پچیس اور سترہ سو ایک سمیت اقوام متحدہ کی قراردادیں لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے صیہونی حکومت کی پسپائی پر زور دیتی ہیں اور ساتھ ساتھ لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات اور جارحیت کو روکنے پر تاکید کرتی ہیں۔لبنان کے وزیر خارجہ نے بھی لبنان میں جاسوسی کے آلات خفیہ طورپر نصب کرنے کے لئے صیہونی حکومت کی کوششوں کے بارے میں سلامتی کونسل میں شکایت کی ہے۔پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے وزیر خارجہ علی حسین الشامی نے کہاہے کہ حکومت لبنان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں لبنان کے خلاف جاسوسی کے آلات استعمال کرنے کے بارے میں اسرائیل کے خلاف اپنی شکایت پیش کی ہے۔شکایت پر مبنی یہ خط جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جاسوسی کے آلات کا پتہ لگانے کے بعد اقوام متحدہ کے حوالے کیا گیا۔اسرائیل نے جاسوسی کے ان آلات کو جن کو حزب اللہ لبنان کے انجینئروں نے جنوبی لبنان سے برآمد کیا تھا ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ تباہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں دو لبنانی شہری شہید ہوگئے تھے۔حزب اللہ نے کہا تھا کہ جاسوسی کے یہ آلات برآمد ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت بدستور لبنان کے مواصلاتی نظام میں نفوذ اور ٹیلی فونی گفتگو کو کنٹرول کرکے لبنان میں اپنی جاسوسی کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کررہی ہے اور ایسی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں کہ صیہونی حکومت لبنان پر حملے کے لئے خود کو تیار کر رہی ہے۔صیہونی حکومت اپنے جارحانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ لبنان کو کمزور کرنے کے لئے لبنانیوں کے درمیان اختلافات اور تفرقہ پھیلانے کی کوشش بھی کررہی ہے اور اس کے لئے وہ لبنان میں اپنے جاسوسی نیٹ ورکس کو استعمال کررہی ہے۔رفیق حریری قتل کیس کی عدالت کی سیاسی کارکردگی بھی لبنان کے خلاف صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی گہری سازش کی عکاسی کرتی ہے۔یہ عدالت ان جھوٹے گواہوں کے بیانات پر بھروسہ کر رہی ہے جن کا صیہونی حکومت کا جاسوس ہونا لبنانی لوگوں کے لئے واضح اور آشکار ہوچکا ہے۔حریری قتل سے متعلق تمام تحقیقات اور ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ میں صیہونی حکومت نے لبنان میں اپنے جاسوسی اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی مدد سے رفیق حریری کو قتل کیا تھا۔دریں اثنا چند روز قبل حزب اللہ لبنان نے موبائل فون نیٹ ورکس کی عدم سیکورٹی کی جانب خبردار کیا تھا۔لبنان کے مواصلاتی نظام میں صیہونی حکومت کی دراندازی کے بعد حزب اللہ نے سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر عوام کو موبائل فون استعمال کرنے کے خطرات سے آگاہ کیا۔قابل ذکر ہے کہ سنہ دوہزار چھ میں صیہونی حکومت لبنان کے مواصلاتی نظام میں دراندازی کرکے لبنانی شہریوں کو ٹیلی فون کرکے انہیں اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور کرتی تھی تاکہ وہ ان علاقوں پر بمباری کرسکے۔
بہ شکریہ ایران اردو ریڈیو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *