ڈاکٹر بنائک سین کی عمر قید میں میڈیا کا اہم کردار

متھیلیس پریہ درشی
ڈاکٹر بنائک سین کے معاملہ میں آئے عدالتی فیصلہ کے بعد جمہوری ڈھانچے کے تین ستون عدلیہ،عاملہ اور مقننہ قومی سطح پر تنقید کے مرکزبنے ہیں۔ مگر چوتھا ستون میڈیا، اب تک اس چرچہ سے باہر ہے۔ جبکہ مقامی یعنی چھتیس گڑھی میڈیا نے آج سے چار سال پہلے ہی ڈاکٹر بنائک سین کو قصوروار قرار دے دیا تھا۔
ریاستی مشینری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کرچلنے والے چھتیس گڑھ کے میڈیا نے ڈاکٹر بنائک سین کے خلاف ابتدائی دور میں ہی پروپیگنڈہ کی ایک زبردست مہم چھیڑ رکھی تھی۔ اس دوران تقریباً سبھی خبریں تعصب آمیزاورپروپیگنڈہ آمیز تھیں۔صحافی تہرے کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ صحافی بھی تھے، پولس بھی اور جج بھی ۔ خبروں کے لئے پولس ہی پہلا اور آخری ذریعہ تھا۔ تھانے سے نکلا بیان حقائق سے اوپر تھا۔ملزم کو مجرم لکھنے اور ثابت کرنے کی مقابلہ آرائی ہو رہی  تھی۔معاملہ ٹھیک سے عدالت بھی نہیں پہنچ پایا تھا کہ میڈیا نے اپنا یکطرفہ فیصلہ سنا دیا تھا اور ڈاکٹر بنائک سین راتوں رات ڈاکٹر سے خونخوار بنگئے تھے۔مئی میں ڈاکٹر سین کی گرفتاری کے بعد سے ہی مقامی میڈیا منصوبہ بند طریقہ سے پروپیگنڈہ کے کام میں لگ گیا تھا۔ مئی میں مقامی اخباروں نے جلی سرخیوں کے ساتھ خبر شائع کی،  ’’پولس کے ہتھے چڑھا نکسلی ڈاکیہ‘‘۔ اسی دن مقامی اخبار ’’ہری بھومی‘‘ نے لکھا تھا، جس نکسلی ڈاکئے کی تلاش میں رائے پور پولس دن رات لگی تھی، اسے مخبر کی اطلاع پر تار باہر پولس کو پکڑنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بنائک سین نامی اس شخص کی تلاش رائے پور پولس کو مئی سے تھی۔مانا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں بند اور شہر میں خفیہ طور سے رہنے والے نکسلیوں کا نامہ بر تھا۔ان کی اطلاعات کو بستر اور دوسرے مقامات پر تعینات خونخوار نکسلیوں تک پہنچانے کے لئے اس نے اپنا الگ سسٹم تیار کر رکھا تھا۔گھیرا بندی کر کے نکسلیوں کے اس خونخوار ڈاکیہ کو پولس نے پکڑ لیا۔ شروع سے ہی یہ خدشہ تھا کہ نکسلیوں کا یہ اہم ڈاکیہ بلاسپور ضلع میں کہیں چھپا ہوا ہے۔اس خبر کے بیچ میں ہی ذیلی سرخی دے کر ایک اور خبرشائع کی گئی تھی، نکسلی کودیکھنے تھانے میں لگی بھیڑ، تار باہر پولس کے ہاتھ لگنے کے بعد بنائک سین کی نکسلیوں کے اہم ڈاکئے کی شکل میں شناخت ہوئی۔ یہ خبر پورے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ تار باہر تھانہ میں نکسلی ڈاکیہ کو دیکھنے کے لئے لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔ لوگ اس کی ایک جھلک پانے کے لئے کافی وقت تک کھڑے رہے۔
ایسی تمام خبروں میں ڈاکٹر بنائک سین کے لئے ہر جگہ نکسلی ڈاکیہ، نکسلی میسنجر،نکسلی ہرکارا جیسے الفاظ ہی استعمال کئے گئے۔ خبر کی زبان اور لہجہ کچھ ایسا استعمال کیا گیا کہ ، مانو گرفتار کئے گئے شخص کی عام شناخت سے تمام اخبار انجان ہوں۔ ان کے نام کے آگے نہ ڈاکٹر تھا، نہ حقوق انسانی کارکن۔ ایک انجان قاری کے لئے بنائک سین کا مطلب چور، زانی ، چاقو باز کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پورے دو ہفتے تک ڈاکٹر بنائک سین کی ڈاکٹر اور حقوق انسانی کارکن کی شناخت منصوبہ بند طریقہ سے چھپائی گئی۔مئی سے پہلے تک ڈاکٹر بنائک سین کو ان کی سماجی خدمات اور حقوق انسانی کے لئے بے خوف جدوجہد کے لئے مقامی میڈیا میں کوئی جگہ نہیں ملی، اور جب انہیں بدقسمتی سے گرفتار کر لیا گیا تو مقامی میڈیا اس معاملہ کو لے کر اچانک اس طرح سے سامنے آیا جیسے اس نے ڈاکٹر سین کے نکسلی ہونے کی پوری تفتیش پہلے سے ہی کر رکھی ہو۔ کئی اخبار ان کی گرفتاری کے پہلے سے ہی پیوش گہا(مئی میں پولس کے ذریعہ گرفتار کیا گیا تاجر) کے لئے نکسلی میسنجر لکھ ر ہے تھے۔ بعد میں یہی لفظ ڈاکٹر سین کے لئے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ یہ اخبار چھتیس گڑھ پولس کے نقش قدم پر چل رہے تھے ۔ کیونکہ جیل کے دستاویزوں میں ڈاکٹر بنائک سین کو ہارڈ کور نکسلی درج کیا گیا تھا۔ حالانکہ تب کئی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی تھی کہ عدالتی فیصلوں سے پہلے اس طرح کی بد نامی سراسر غیر مناسب ہے۔ یہ عدالتی ٹرائل کے پہلے کا ٹرائل تھا، جس کی بنیاد تعصب، بھرم ، بدنامی اورجھوٹ  پر مرکوز تھی۔پروپیگنڈہ کی مہم چلانے والے اخباروں میں بڑے سمجھے جانے والے نام بھی شامل تھے۔مئی میں ’’نئی دنیا‘‘ لکھتا ہے’’نکسلی فہرست میں کئی بڑے لوگ‘‘۔ یہ خبر کسیبھی زاوئے سے حقیقت پر مبنی  نہیں تھی بلکہ ایک مہم کا حصہ تھی۔ آگے جون میں اسی اخبار نے لکھا ’’این جی او‘‘کی دولڑکیاں لاپتہ۔یہ ڈاکٹر سین کی شبیہ کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش تھی۔ پولس نے اسے زبردستی ایک سنگین معاملہ بتایا تھا اور کہا تھا کہ اس بنیاد پر الینا سین کے خلاف بھی جرم ثابت کیا جا سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ جس این جی او(روپانتر)میں کام کرنے کے لئے دونوں لڑکیاں دہلی گئی تھیں، اسے الینا سین چلاتی تھی اور حقیقت یہ ہے کہ دونوں لڑکیوں کو جنہیں لاپتہ بتایا جا رہا تھا ، وہ بالغ تھیں اور اگر وہ روپانتر چھوڑکر کہیں دیگر جگہ چلی گئی تھیں تو یہ خود ان کا فیصلہ تھا مگر اس خبر کو جس طریقہ سے بنائک سین اور ان کے کنبہ کے خلاف تیار کیا گیا ،وہ شرطیہ طور پر پروپیگنڈہ کا حصہ تھا۔
مئی میں ہی ’’ہری بھومی‘‘ کی خبر تھی’’نکسلی حامیوں کی خیر نہیں‘‘اس میں خبر جیسا کچھ بھی نہیں تھا۔ خبر کے اندر ایک کہانی تھی جس میں سلوا جڈوم کی شروعات کو اس دن سے مانا گیا تھا، جب بستر میں بھگوان گنیش کی مورتی کو نکسلیوں نے توڑا پھوڑا تھا اور گنیش بٹھانے کی مخالفت کرکے ہندو مذہب پر حملہ کیا تھا اور اپنے خلاف خود ہی ماحول تیار کر لیا تھا۔ سلوا جڈوم کے قیام کی یہ ایک مضحکہ خیز کہانی تھی۔خبر میں آگے سفید پوش نکسلیوں پرقومی سلامتی قانون کے تحت کارروائی کی بات کہی گئی تھی۔ یعنی اخبار بھی صاف طور پر اپنی رائے کا اظہار کر رہا تھا کہ ڈاکٹر سین پر قومی سلامتی قانون کے تحت غداری کا مقدمہ چلے۔ اس سے مقامی اخباروں کا منشا سمجھا جا سکتا ہے اور ان کے ذریعہ غیر جانبداری کے امکان کے فیصد کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔اسی طرح جولائی میں’’ دینک بھاسکر‘‘ نے لکھاتھا کہ ’’،تبدیلی مذہب کے الزام میں نوجوانوں کی پٹائی‘‘۔ یہ خبر بھی برا ہ راست پروپیگنڈہ کے تحت پلانٹ کی گئی تھی۔ اس خبر میں لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹر سین اپنے اثر والے گائووں میں مذہب تبدیل کروارہے تھے۔ اس کے لئے انھوں نے کئی لوگوں کو پیسے دئے تھے۔ ساتھ ہی بگروم نالا میں کلینک چلانے کے پیچھے بھی تبدیلی ٔمذہب ہی ان کا اہم مقصد تھا۔ مسلسل مختلف گائووں میں علاج، تالاب کھدائی اور پیسے کا لالچ دیہاتیوں کو دیا جاتا تھا۔ اس خبر کی کوئی بنیاد  نہیں تھی۔ ظاہر ہے، اس خبر کو ڈاکٹر بنائک سین کی ڈاکٹر اور سماجی کارکن والی شبیہ کو مسخ کرنے کے لئے شائع کیا گیا تھا۔
پروپیگنڈہ کی اس کڑی میں ’’نو بھارت ‘‘نے اگستمیں خبر بنائی ’’بستر میں بجلی ٹاوروں کو اڑانے کی سازش سانیال نے جیل میں رچی‘‘۔ اس خبر کے درمیان میں ایک پاسپورٹ سائز تصویر ڈاکٹر بنائک سین کی لگی تھی۔ خبر میں اس سرخی سے متعلق صرف ایک لائن لکھی گئی تھی اور تقریباً چار کالموں میں پوری بات ڈاکٹر سین پرمرکوز تھی جس میں لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹر سین اور محترمہ سین نکسلیوں سے ملے ہوئے ہیں۔ان کے درمیان ان کا سرگرم تعلق ہے۔خبر میں ڈاکٹر سین کے ڈاکٹر ہونے کو بھی جھٹلایا گیا تھا۔ خبر کے بیچ میں ان کی تصویر کچھ اس طرح چسپاں کی گئی تھی جیسے ٹاور ڈاکٹر سین نے ہی اڑایا ہو۔ یعنی کہ سرخی کچھ، خبر کچھ اور تصویر کچھ۔مقامی اخبار ات شروع میں ہی ڈاکٹر سین کو فرار اور بھگوڑا قرار دے چکے تھے۔جبکہ وہ کولکاتہ کے پاس کلیان میں اپنی ماں سے ملنے، بچوں کے ساتھ گئے ہوئے تھے۔انہیں اپنے دوستوں سے یہ معلومات فراہم ہوئی کہ پولس کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی انہیں فرار بتا رہا ہے۔اس پر انھوں نے فوراً اخباروں سے رابطہ کر کے اپنی موجودگی کی وضاحت کی تھی۔ اپنا موبائل نمبر بھی شائع کروایا تھا کہ جنہیں کوئی شک ہو، وہ بات کر لیں۔اس قسم کی خبروں سے مقامی اخباروں کا منشاء صاف ظاہر ہوتاہے کہ کس طرح ڈاکٹر بنائک سین کے خلاف شروعاتی دور سے ہی ماحول بنایا جا رہا تھا۔ ’’ہری بھومی‘‘ اپنی خبروں میں ایک قدم آگے بڑھ کر یہ ماحول تیار کر رہا تھا کہ الینا سین کو بھی گرفتار کر لیا جانا چاہئے۔ کیونکہ یہ سب  خطرناک ہیں۔
پولس اور حکومت کے لئے کسی بھی شخص کو مجرم قرار دینا بے حد آسان ہوتا ہے۔اس پورے عمل میں اگر میڈیا کی پوری ساز باز ہو تو مرضی کے مطابق نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بنائک سین کے کیس میں ریاستی پولس اور ریاستی حکومت نے میڈیا کی مدد سے یہی کام کیا۔پروپیگنڈہ کے لئے ایسی بے بنیاد خبریں پلانٹ کی گئیں، جن سے ڈاکٹر سین کی شخصیت، شبیہ اور عوامی خدمات کونہ صرف زبردست نقصان پہنچے، بلکہ انہیں براہ راست نکسلی ثابت کر کے عدالت پر بھی مکمل دبائو بنایا جا سکے اور آج ساڑھے تین سال بعد جب ڈاکٹر سین کو عمرقید کی سزاعدالت نے سنائی ہے تو اسے ریاستی حکومت ، پولس اور وہاں کی بیورو کریسی کی سازش کے  ساتھ مقامی میڈیا کے ٹرائل، پروپیگنڈہ کے تناظر میں بھی دیکھاجانا چاہئے اور جہاں تک عدالت کے کردار کا سوال ہے، عدالتیں سیاست اور میڈیا کے اثر سے مستثنیٰ  نہیں ہوتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *