کانگریس میٹھا زہر ہے

ڈاکٹر منیش کمار
کتاب لکھنا بڑے بڑے سیاسی لیڈروں اور نوکر شاہوں کا نیا شوق بن گیا ہے۔ جب ان دونوں میں سے کوئی کتاب لکھتا ہے تو تنازعہ کھڑ اہوجاتا ہے۔ نوکر شاہ کئی راز کھولتے ہیں۔ نوکری میں رہتے ہوئے جن باتوں کو وہ نہیں بول پاتے ریٹائر ہونے کے بعد کتابوں میں لکھتے ہیں۔ جب سیاسی لیڈر کتاب لکھتے ہیں تو اس کا مطلب سیاست کی نئی اننگ کا اعلان ہوتا ہے۔ قلم اٹھاتے ہی سیاست داں نظریاتی سطح پر طوفان کھڑا کرتا ہے۔ جب کوئی بڑا لیڈر کتاب لکھتا ہے تو اس سے سیاست کے نئے اشارے ملتے ہیں۔ نئی سمت کا اشارہ ملتا ہے۔ زیادہ تر مواقع پر لکھنے والے سیاست داں کی پارٹی کے اندر ہی طوفان کھڑا ہوجاتا ہے۔ جسونت سنگھ نے جب کتاب لکھی تو پارٹی سے نکال دئے گئے۔ پارٹی کی ناراضگی دور ہوئی تو واپس بھی آگئے۔ اڈوانی جی نے بھی اپنی سوانح لکھ ڈالی۔ شاندار تقریب میں کتاب کا اجرا ہوا۔ اس کتاب نے میڈیا میں بہت نام کمایا۔ ایسے موقع بہت ہی کم آتے ہیں، جب کوئی بڑا لیڈر کتاب لکھے اور لوگوں کو پتہ تک نہ چلے۔
رام ولاس پاسوان کی لکھی دو کتابیں آج کل بازار میں چوری چھپے فروخت ہورہی ہیں۔ چوری چھپے اس لیے کہہ رہا ہوں کیوں کہ ان دونوں کتابوں کی نہ تو باقاعدہ لانچنگ ہوئی اور نہ ہی بازار میں ان کے لیے کوئی شور شرابا۔ میڈیا سے بھی یہ بات چھپائی گئی۔ کتاب اسٹال پر ہے۔ قیمت 600 اور 500 روپے ہے۔ انہیں ملک کے سب سے بڑے پبلشر راج کمل نے شائع کیا ہے۔ دونوں کتابیں رام ولاس پاسوان کے ذریعہ لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہیں، جن میں سیاست کے ہر ایشو پر پاسوان کے نظریات موجود ہیں۔ پہلی کتاب کا نام ہے’’میری وچار یاترا، سماجک نیائے: انت ہین پرتیکشا‘‘ اور دوسری کتاب کا نام ہے ’’میری وچار یاترا- دلت مسلم سمان سمسیائیں سمان دھراتل‘‘ ان کتابوں میں ہندوستانی سیاست سے جڑے ہر ایشو پر رام ولاس پاسوان نے اپنے نظریات کو صاف صاف رکھا ہے۔ ان میں 80 کی دہائی سے لے کر 2003-04 میں وقوع پذیر سیاسی واقعات پر ان کے خیالات ہیں۔ بابا بھیم راؤ امبیڈکر سماجی انصاف، فرقہ واریت، پارلیمانی سیاست، جوہری پالیسی، خارجہ پالیسی، مقامی پارٹیاں، دہشت گردی، انتخابات اور میڈیا جیسے موضوعات پر الگ الگ باب ہیں۔ رام ولاس پاسوان کا بی جے پی سے نظریاتی اختلاف طشت از بام ہے۔ بی جے پی اورسنگھ پریوار کی سیاست پر تنقید کرنے سے رام ولاس پاسوان نہیں ہچکچاتے ہیں۔ یہ ان دونوں کتابوں میں ہر جگہ موجود ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ رام ولاس پاسوان نے جس طرح سے کانگریس پارٹی اور اس کی سیاست پر حملہ کیا ہے، وہ کسی بھی قاری کو حیران کر دے گا۔ یہ کتابیں دلتوں اور اقلیتوں کے درمیان کافی مقبول ہورہی ہیں۔
رام ولاس پاسوان کا پہلا الزام یہ ہے کہ کانگریس پر برہمن ازم پوری طرح حاوی ہے اور شمالی ہندوستان میں برہمن ازم کے کردار کی وجہ سے کانگریس کا صفایا ہوگیا۔ 1980 سے 1989 تک کانگریس (آئی) حکومت نے قومی اتفاق رائے کے نام پرمنڈل کمیشن کی سفارشات کو کس طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھا تھا، اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب نرسمہاراؤ حکومت نے قومی مورچہ حکومت کے ذریعہ عدالت عالیہ میں دائر حلف نامہ کو واپس لے کر نیا نوٹیفکیشن جاری کیا او ر اس میں اقتصادی پیمانے کی تجویز رکھی تو تمام منڈل مخالفین نے راحت کی سانس لی۔ ریزرویشن میں اقتصادی پیمانہ اس کی بنیادی پالیسی پر زبردست حملہ ہے۔ رام ولاس پاسوان نے اپنی کتاب میں ایسے کئی ناموں اور لیڈروں کا ذکر کیا ہے، جن کی وجہ سے کانگریس پارٹی اعلیٰ ذات کی ذہنیت سے باہر نہیں آسکی۔ اپنی دلیل کو ثابت کرنے کے لیے رام ولاس پاسوان نے یہاں تک لکھ ڈالا کہ جد و جہد آزادی کے قائدین زیادہ تر اعلیٰ ذات کے ہی تھے۔ اعلیٰ ذات میں کچھ تو بنیاد پرست ہندو تھے۔ کانگریس کی ایگزیکٹیو کمیٹی برہمنوں سے بھری ہوئی تھی۔ جنوب میں راما سوامی نائکر جنہیں لوگ عزت سے پیریار کے نام سے پکارتے ہیں، نے کانگریس سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس برہمنوں کی پارٹی ہے۔ اس وقت مدراس سے ایگزیکٹیو کمیٹی کے 18ممبران میں سے 17 صرف برہمن تھے۔ بابا صاحب امبیڈکر کے مطابق کانگریس ایک جلتی ہوئی بھٹی ہے، اس میں جو جائے گا جل کا راکھ ہوجائے گا۔
رام ولاس پاسوان بابری مسجد کی شہادت کے لیے کانگریس پارٹی کو برابر کا ذمہ دار مانتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کی مرکزی حکومت نے بڑی چالاکی سے رام مندر کی تعمیر کے لیے بی جے پی کو حمایت دی اور اجودھیا کے معاملے میں اس نے خاموشی اختیار کرلی۔ بابری مسجد کی شہادت سے پہلے کے واقعہ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ قومی اتحاد کونسل کی میٹنگ جنتادل اور بایاں محاذ کے ذریعہ مسلسل چلائی جارہی مہم کے نتیجے کے طور پر بلائی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ مرکز نے اپنا نظریہ اتحاد کونسل کی میٹنگ کے دوران بھی واضح کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تنازعہ کے تعلق سے مرکز اپنے قانونی کردار کو ادا کرے گا۔ وہ کردار کیا ہوگا، یہ واضح نہیں کیا۔ مرکزی حکومت اس طرح منہ چھپا کر زیادہ وقت تک اس تنازعہ کو نہیں ٹال سکی۔ رام ولاس پاسوان آگے لکھتے ہیں کہ اجودھیا میں قانون کی دھجیاں اڑا کر تعمیراتی کام چل رہا تھا، ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظر اس پر لگی ہوئی تھی اور حکومت ہند خاموش تماشائی بنی رہی۔ وہ حکومت کس منہ سے خود کو سیکولر حکومت کہہ سکتی ہے؟ دراصل کانگریس کی پالیسی ہمیشہ سے دو طرفہ رہی ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس نے 1984 کے نومبر میں پورے ملک میں سکھوں کا قتل عام کرایا اور جب بابری مسجد کو شہید کرنے کی پوری تیاری ہوچکی تھی تو اس نے فرقہ پرست طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیک دئے، جس طرح سے اجودھیا تنازعہ کو کانگریس حکومت نے لیا، اس سے اس کا ہندوفرقہ پرست چہرہ اجاگر ہوگیا ہے۔
’’میری وچار یاترا، سماجک نیائے: انت ہین پرتیکشا ‘‘کے صفحہ نمبر 219 پر ممبئی میں ہوئے فسادات کا ذکر کرتے ہوئے رام ولاس پاسوان لکھتے ہیں کہ ایک طرف ممبئی جلتا رہا اور دوسری طرف کانگریسی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست میں مشغول رہے۔ وزیراعلیٰ سدھاکر راؤ نائک کی دلچسپی ممبئی میں قانون کا راج قائم کرنے کی بجائے اپنی کرسی شرد پوار خیمے سے بچائے رکھنے میںرہی۔ مرکز میں بھی وزیراعظم کی دلچسپی شرد پوار گروپ کو حاوی نہ ہونے دینے میں رہی، یہاں تک کہ دیر سویر جب وہ ممبئی پہنچنے تب بھی انہوں نے نہ تو کھل کر شیوسینا کی مخالفت کی اور نہ ہی ایسے انتظامات کرنے کے احکامات دئے، جس سے مستقبل میں ان واقعات کو دوہرانے سے روکا جاسکے۔ رام ولاس پاسوان الزام لگاتے ہیں کہ کانگریس کی حکومت نے فساد پھیلانے والوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسی تنظیموں کے تئیں نرم رخ اپنانا ہندوستان میں خانہ جنگی کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ شیوسینکوں کی جگہ سڑک پر نہیں، بلکہ سلاخوں کے پیچھے ہے۔ مسلمانوں کے قاتلوں کو ایسے ہی چھوٹ دی جاتی ہے جیسے سکھوں کے قاتلوں کو 1984 کے بعد دی گئی تو ملک میں قانون کا راج قائم رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ رام ولاس پاسوان لکھتے ہیں کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 6 دسمبر 1992 کے سانحہ کے بعد انتظامیہ کے گٹھ جوڑ سے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے گئے، اس کے رد عمل میں بمبئی اور کلکتہ کے شیئر بازاروں میں بم پھٹے۔ ہندو کارڈ 1984 میں کھیلا گیا سکھوں کے خلاف، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پنجاب جلنے لگا۔ اندرا گاندھی بھی نہیں بچیں اور نہ کوئی ہندو راشٹر کا نعرہ لگانے والا پنجاب میں گھس سکا۔ ٹھیک اسی طرح دوبارہ مسلمانوں کے خلاف ہندو کارڈ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ رام ولاس پاسوان گجرات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر گجرات میں کانگریس نے دیگر سیکولر پارٹیوں کو ساتھ لیا ہوتا تو نظارہ کچھ اور ہوتا۔ کانگریس کے غرور کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ گجرات فساد میں اقلیتوں اور دلتوں کو آمنے سامنے کردیا گیا تھا، لیکن کانگریس کو سمجھ لینا چاہیے کہ سیکولر ازم کی خاطر قربانی کاجذبہ ایک طرفہ نہیں چل سکتا ہے۔ اترپردیش قانون ساز کونسل کے الیکشن میں کانگریس کے رویے سے جس طرح بی جے پی کا امیدوار جیتا تھا، اس سے سیکولرازم میں اعتماد رکھنے والوں کو بہت اٹ پٹا لگا تھا۔ کانگریس کو اپنا یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ کانگریس نے جس طرح سے گجرات میں سافٹ ہندوتو کا کارڈ کھیلا، اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیچڑ سے کیچڑ صاف نہیں ہوتا۔ سیکولرازم کا مطلب ہندو مخالف نہیں ہوتا۔ کانگریس کو سیکولرازم کے ساتھ ساتھ اپنی شبیہ دلتوں اور غریبوں کی مدد کی بنانی ہوگی۔ گجرات میں دلت قبائلی کیوں بی جے پی کے مہرے بنے؟ کانگریس ابھی تک دلتوں ، پچھڑوں اور سماج کے کمزور طبقات کے دلوں کو جیتنے میں کیوں ناکام رہی ہے؟ ان باتوں پر اسے سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
رام ولاس پاسوان کی شبیہ ایک دلت اور سیکولر لیڈر کی ہے۔ان کے حامیوں میں دلتوں کے علاوہ سب سے زیادہ اقلیت ہیں۔انھوں نے اپنی کتابوں میں کانگریس کے سیکولر کردا رپر سوال نہیں اٹھایا ہے، بلکہ کانگریس کے سیکولر کردا رکو تار تار کردیا۔ان کے حملے تیکھے ہیں۔ انھوں نے اپنے مضامین میں یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب معاملہ فرقہ واریت سے جڑا ہوتا ہے تو کانگریس اور بی جے پی میںکوئی فرق نہیں ہوتا۔ دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلوہیں۔ بابری مسجد پر دی گئیں دلیلیں مسلمانوں کو زیادہ سمجھ میں آئیںگی، جو کانگریس کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔رام ولاس پاسوان کانگریس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میڈیا میں سانٹھ گانٹھ کرکے اور رقم دے کرکانگریس پارٹی اپنی امیج بناتی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ میڈیا کو کانگریس پسند ہے، کیونکہ میڈیا جانتا ہے کہ کانگریس کی  پالیسی دوغلی ہے۔ باتیں کی جاتی ہیںسماجی انصاف اور سیکولر ازم کی، لیکن ذہن میں بھرا ہے فرقہ واریت اور ذات برادری کا زہر۔اخبار کے مالک کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں، بڑے بڑے تاجر ہیں۔ ان کو بھی تجارت کرنی ہے تو تھوڑا بہت سرکار کو تو خوش کرنا ہی پڑتاہے۔میڈیا کی وجہ سے ہی کانگریس لوگوں میں شک پھیلانے میں کامیاب رہتی ہیں۔ اسے عوام کو نعروں کے شک میں پھنسانے میں کئی بار کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے، لیکن آہستہ آہستہ لوگ اب سمجھنے لگے ہیں کہ کانگریس جب پریشانی میں ہوتی ہے تب غریبوں، محروموں اور اقلیتوں کی بات کرتی ہے اور جب اقتدار میں ہوتی ہے تب سرمایہ داروں اور سماج میں رسوخ رکھنے والے لوگوں سے گٹھ جوڑ کر کے غریبوں، دلتوں اور مظلوموں کو ستاتی ہے۔
رام ولاس پاسوان بہار کے بارے میں لکھتے ہیںکہ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی ذمہ داری جتنی لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل پر ہے اتنی ہی کانگریس پر بھی ہے۔لالو کے دور اقتدار میںکانگریس نے بہار کی موجودہ صورتحال پر اپنے آنکھ اور کان بند کر لیے تھے۔ سیاست کی ایک سمت ہوتی ہے۔ یہ لائن ایشوز پر ہو یا اصولوں پر، ہر جگہ اور ہر حالات میں ایک ہونی چاہئے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کا عوام کے درمیان بھروسہ اسی بنیاد پرقائم ہوتا ہے۔ موقع اور ذاتی مفادات کو ترجیح دے کر کہیں کچھ اور کہیں کچھ کا نظریہ اپنانے سے تھوڑا فائدہ ضرور مل جاتا ہے، لیکن دیر پا نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ کانگریس کی آج جو رفتار ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے۔رام ولاس پاسوان لکھتے ہیں کہ کانگریس کچھ ریاستوں میں ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ان ریاستوں میںجہاں عوام کے سامنے متبادل نہیں ہیں۔مطلب یہ کہ کانگریس پارٹی نظریات کے نقطۂ نظر سے بالکل ختم ہو گئی ہے۔ کانگریس اس لیے کچھ ریاستوں میں انتخاب میں کامیاب ہوتی ہے کیونکہ ان ریاستوں میں متبادل نہیں ہے۔
یہ دونوں کتابیں بہت پہلے لکھی گئیں ہیں ، لیکن بازار میں نہیں تھیں۔تب رام ولاس پاسوان کانگریس کے ساتھ تھے۔یو پی اے کی پہلی حکومت میں وزیر تھے۔آج کے حالات بدلے ہوئے ہیں۔بی جے پی اور جے ڈی یواتحاد کے ہاتھوں بہار میںرام ولاس پاسوان کی پارٹی بری طرح ناکام ہوئی۔ رام ولاس پاسوان کی شکست کے لیے کانگریس بھی ذمہ دار ہے۔مہنگائی اور گھوٹالوں کے درمیان پھنسی کانگریس پارٹی تنہا نظر آ رہی ہے۔یو پی اے میں شامل جماعتیں بھی اب گھبرا گئی ہیں۔حکومت کی پالیسوں پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ایسے میں رام ولاس پاسوان کی کتاب کا بازار میں چوری چھپے آنا کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا۔کہیں کوئی سیاسی کھچڑی پک رہی ہے۔کہیں یہ کتاب غیر کانگریس اور غیر بی جے پی اتحاد کی نئی دھری بننے کا اعلان تو نہیں ہے۔رام ولاس پاسوان کی دونوں کتابوں کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ انھوں نے کانگریس سے ہمیشہ کے لیے رشتے ختم کر لیے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ رام ولاس پاسوان کی دلیلوں کی کون حمایت کرتا ہے اور کون کانگریس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ویسے سیاست کا کھیل بڑا نرالا ہوتا ہے۔اس کھیل میں اچھی چال اسے کہا جاتا ہے جس میں چت بھی میری اور پٹ بھی میری ہوتی ہے۔رام ولاس پاسوان نے کتاب کو بازار میں لاکر ایک چال چلی ہے۔ سیاست اگر کوئی کروٹ لیتی ہے تو اس کا کریڈٹ ان کتابوں کو جائے گااور اگر کچھ نہیں ہو سکا تورام ولاس پاسوان یہ کہہ ہی سکتے ہیںکہ میں نے تو صرف ایک کتاب لکھی تھی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *