بہار میں صوفی ریسرچ سنٹر کے قیام کا اعلان

اشرف استھانوی
مختلف مذاہب کے پیشوائوں، دھرم گروئوں اور صوفی سنتوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے لوگ عام طور پر مذہبی رواداری کے قائل ہیں اور تمام مذاہب کے بزرگوں اور گروئوں کا احترام کرتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ریاست بہار میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کی مثالی فضا پائی جاتی ہے۔ لیکن سرکاری سطح پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عقیدت کے مراکز خصوصاً بودھ سرکٹ کے فروغ کے لئے جتنی کوششیں ہوئیں اتنی کوششیں صوفی سرکٹ کے فروغ کے لئے کبھی نہیں ہوئیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب صوفی سرکٹ کے فروغ کا وقت بھی آگیا ہے۔ کیوں کہ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے2 حکومت کی تشکیل کے بعد وزیر اعلیٰ نے اس جانب بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔
حکومت کی تشکیل ،مختلف محکموں کی ترجیحات کے تعین، کاموں کی تقسیم اور گذشتہ 5 برسوں کے دوران مختلف محکموں کی کارگزاریوں کے جائزہ سے فرصت پانے کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بزرگان دین اور صوفیائے کرام کے آستانوں، مزاروں اور خانقاہوں پر حاضری دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس کا مبارک آغاز انہوں نے مخدوم الملک حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری المعروف بہ مخدوم بہاری کی جائے ریاضت راجگیر سے کیا جہاں انہوں نے حضرت مخدوم کو عقیدت کا خراج پیش کرنے کے بعد مخدوم کنڈ کی حسن کاری کے لئے اپنے ایم ایل سی فنڈ سے 75 لاکھ روپے مہیا کرائی گئی رقم سے ہوئے تعمیری کاموں کا جائزہ لینے کے بعد اس کام کومزید آگے بڑھانے اور اس کے لئے فنڈ کی فراہمی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بزرگوں کے آستانے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، خیر سگالی اور بھائی چارہ کے ایسے مراکز ہیں جہاں پہنچ کر بھٹکے ہوئے راہ پاتے ہیں اور بے چین دلوں اور ذہنوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ خود انہیں بھی بزرگوں کے آستانوں پر جا کر قلبی سکون نصیب ہوتا ہے، اس لئے ان مقامات کی تعمیر، تزئین اور تمام تر ضروری سہولیات مہیا کرانا لازمی ہے۔ یہاں دلوں کو جوڑنے اور پُر امن رہنے کا نسخہ لوگوں کو مفت میں ملتا ہے اور امن و سکون کے بغیر کسی بھی ریاست اور ملک کی ترقی ممکن نہیں۔
اس لئے ترقیات میں دلچسپی رکھنے والی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان مراکز کو فروغ دے۔ حکومت نے اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت پیر جگجوتؒ کے جیٹھلی شریف، پٹنہ سیٹی میں واقع آستانہ، خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف میں واقع حضرت تاج العارفین کے آستانہ اقدس اور پٹنہ سیٹی میں واقع حضرت خواجہ رکن الدین عشقؒ اور خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ واقع حضرت مخدوم منعم پاکؒ کے آستانوں پر بھی حاضری دی۔ گلہائے عقیدت نذر کئے اور وہاں کے سجادگان کے ساتھ ریاست کی بے مثال ترقی اور امن و خوشحالی کی مثال قائم کرنے کے لئے دعاء کی۔ خانقاہ منعیمیہ میں اپنے ترقیاتی مشن اور امن کے پیغام کو عام کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ میزائیل مین ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کی خواہش کے مطابق بہار کو 2015 تک ترقی یافتہ ریاست بنانے کے مشکل ہدف کو حاصل کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کریں گے اور مادی وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ بزرگان دین کی دعائیں بھی لینا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کی مدد کے بغیر یہ نشانہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بزرگان دین عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ان میں تعمیری جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کی مدد اور اعانت کے بغیر ریاست میں ترقیاتی سفر جاری رکھنے کے لئے ضروری امن اور سکون کا ماحول قائم رکھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے گنگا ندی کے کنارے میتن گھاٹ واقع خانقاہ منعیمیہ میں 2 کروڑ روپے کے صرفہ سے صوفی ریسرچ سنٹر قائم کرنے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اس سلسلہ میں موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ہدایت بھی جاری کی۔
بزرگان دین سے اظہار عقیدت، ان سے بہار کی ترقی اور خوشحالی میں دعاء کی درخواست، صوفی سرکٹ کا فروغ یا صوفی ریسرچ سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ اپنی جگہ درست ہے مگر 2015 تک بہار کو ترقی یافتہ بنا کر ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کے لئے حکومت کوڈاکٹر عبد الکلام کے مذہب سے تعلق رکھنے والے ریاست کے تقریباً ایک کروڑ70 لاکھ مسلمانوں کو انصاف مہیا کراتے ہوئے انہیں مین اسٹریم میں لانے اور ان تک ترقیات کا فائدہ پہنچانے کے لئے قانون سازی کا عمل بھی شروع کرنا ہوگا۔ کیوں کہ ریاست کی اتنی بڑی اقلیتی آبادی کو پسماندہ اور مین اسٹریم سے باہر رکھ کر بہار کو ترقی یافتہ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے۔ سچر کمیٹی نے جن مسلمانوں کی حالت کو دلتوں سے بدتر قرار دیا ہے ان میں بہار کے ڈیڑھ کروڑ مسلمان بھی شامل ہیں جو گنتی کے اعتبار سے تو بہت زیادہ ہیں مگر بہار کی سیاست میں ، ریاست کے اقتدار میں اور ریاستی حکومتوں کی ملازمت میں ان کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ کوئی چونکنے یا چونکانے والی بات نہیں ہے۔ عام طور پر پورے ہندستان میں مسلمانوں کی یہی صورت ہے اور بہار کے مسلمانوں کی حالت بھی ویسی ہی ہے۔ اپنی موجودگی کا احساس تو ہر جگہ دلائیں گے لیکن آبادی کے تناسب میں اپنا حق حاصل کرتے ہوئے کہیں بھی نظر نہیں آئیں گے۔ قانون سازیہ اور انتظامیہ سے لے کر عدلیہ تک تناسب وہی آٹے میں نمک والا ہے ۔ آبادی کے تناسب میں اس سے بھی زیادہ کہیں نظر آئیں گے تو وہ جگہ جیل ہوگی اور وہ بھی صرف اس لئے ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ یا انہیں فقط الزام میں پھنسا کر ان کی زندگی کو تباہ کر دیا گیا۔ ریاست کی سابقہ تمام حکومتوں کی طرح این ڈی اے کی حکومت میں بھی وہی ہوا۔ مختلف محکموںمیں لاکھوں بحالیاں ہوئیں مگر مسلمانوںکوان کا حق نہیں مل سکا۔ اسکول میں اساتذہ کی بحالی کا معاملہ ہو یا سپاہیوں کی تقرری کا ۔ مسلمان محض آٹے میں نمک کے برابر ہی آسکے۔ کیوں کہ مسلمانوں کے لئے کہیں کوئی کوٹا مقرر نہیں ہے اور حکومت کوٹا مقرر کرنے کی بجائے محض اقلیتوں کو مفت کوچنگ حصول تعلیم اور روز گار کے لئے سرکاری زمرے کے بینکوں یا ریاستی اقلیتی مالیاتی کاپوریشن کے توسط سے قرض دلانے کی بات کرتی ہے۔ جس سے مسئلہ کے حل کی امید نہیں ہے۔ بلکہ مسلمانوں کے مزید پسماندہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ کیوں کہ وہ قرض کے جال میں پھنس جائیں گے جب کہ دوسرے لوگ جن کا ان سے مقابلہ ہے وہ سرکاری مراعات اور ریزرویشن کا سیدھا فائدہ اٹھاکر ترقی کی دوڑ میں مزید آگے بڑھ جائیں گے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سچر کمیٹی کی سفارشوں کے بعد مغربی بنگال اور کچھ دوسری ریاستوں کی طرح مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا نظم کرنے کا یہ سب سے سنہرا موقع ہے۔ نتیش حکومت کو زبردست عوامی حمایت حاصل ہے اور اس ایشو پر اسے اپوزیشن کا بھی بھرپور تعاون ملے گا۔ حکومت اگر پختہ سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے تو مسلمانوں کو ریاست میں 10 فیصد ریزرویشن کا فائدہ دے کر مرکزی حکومت اور شش و پنج میں پڑی دوسری ریاستوں کے لئے ایک قابل تقلید مثال پیش کر سکتی ہے اور ریاست کو حقیقی معنی میں ترقی یافتہ بنا سکتی ہے۔ ورنہ حکومت کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ کیوں کہ بہار میں مسلمانوں کی آبادی18 فیصد ہے اور اتنی بڑی آبادی کو نظر انداز یا پسماندہ کرکے کوئی بھی تاریخ ساز کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *