اے نئے سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

وسیم راشد
یہ کیا ہوگیا میرے قلم کو کہ نیا ’سال مبارک‘ لکھتے ہوئے ہاتھ تو میرا کانپ ہی رہا تھا۔ قلم بھی ساتھ چھوڑ گیا۔ جی ہاں! کئی بار کوشش کی مگر نیا سال مبارک لکھنے میں اس بال پین کی شاید ریفل ختم ہوگئی، لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا کہ 2010بے تحاشہ پریشانیوں اور دکھوں کا سال رہا۔ حکومت کے لیے بھی اور عوام کے لیے بھی، تو شاید قلم بھی ہمارے سیاست دانوں کی طرح ہٹ دھرم ہوگیا کہ جو الفاظ نہیں چاہتا انہیں لکھنے میں ڈھیٹ بن جاتا ہے۔ نیا سال جی ہاں! صرف ہندسوں میں نیا صرف ایک ہندسہ بدلنا ہے اور پوری دنیا میں سال نو کا ہنگامہ شروع ہوجانا ہے، مگر مجھے نہ جانے کیوں فیض احمد فیض کی ایک نظم یاد آرہی ہے:
اے نئے سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے؟
ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی
آسماں بدلا ہے، افسوس نہ بدلی ہے زمیں
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
بے سبب دیتے ہیں کیوں لوگ مبارک بادیں
غالباً بھول گئے وقت کی کڑوی یادیں
تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فیضؔ نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی

درحقیقت اس نئے سال میں کیا نیا پن ہے۔ سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہے۔ دن رات آسمان زمین سب کچھ وہی ہے اور وقت کی کڑوی یادیں بھی اسی طرح ہمارے ساتھ ہیں۔ جی ہاں! اس 2010میں سیاسی، سماجی، معاشی، ادبی اور ثقافتی ہر شعبہ میں بے شمار تبدیلیاں آئیں، جہاں دنیا بھر میں معیشت میں تھوڑی بہتری ہوئی اور کساد بازاری سے نجات ملی،و ہیں دنیا بھر کی سیاست میں بھی خوب خوب ہی اتھل پتھل رہی، مگر ان سب میں بازی مار لے گئی ہندوستان کی سیاست۔ جی ہاں! اس سال سیاسی طور پر کئی نئے ریکارڈ بنے اور ایسے ریکارڈ جنہوں نے دنیا کے تمام ریکارڈوں کو مات دے دی۔ سال ختم ہوتے ہوئے سچن تندولکر نے 50ویں سنچری بنا کر جہاں ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا، ثانیہ مرزا نے دبئی اوپن ٹینس میں قابل فخر کامیابی حاصل کی، وہیں ہمارے سیاست دانوں نے کرپشن اور گھوٹالوں کا ایسا ریکارڈ بنایا، جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ کون سے ایسے گھوٹالے ہیں جو اس سال نہ ہوئے ہوں۔ بار بار کیا ان کو دوہرانا کیوں کہ زخموں کو اگر بار بار کریدو تو وہ ناسور بن جاتے ہیں۔ لیکن یہ زخم تو وہ ہیں جو کسی ایک شخص پر کسی ایک جسم پر نہیں لگائے گئے، یہ تو پورے ہندوستان کے عوام پر، ان کی روح پر لگائے گے زخم ہیں۔ غریب عوام نے جو ٹیکس اپنے خون پسینے کی کمائی سے ادا کیے، وہ سارے کے سارے گھوٹالہ بازوں کی جیب میں گئے، کون کون سے گھوٹالوں کا ذکر کیا جائے، سب سے پہلے بات کرتے ہیں کامن ویلتھ گھوٹالہ کی، تو اس میں سریش کلماڈی ہی کیا نہ جانے کتنے سیاست داں، کتنے آئی اے ایس آفیسر، کمپنیاں، کتنے بڑے بڑے بزنس مین اس گھوٹالہ میں شامل ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز 2010میں ہو تو گئے، لیکن بدعنوانی کا ایسا داغ دئے گئے، جس کو چھڑانا تو دور ہلکا کرنا بھی مشکل ہوگا۔ اس گھوٹالہ نے ہندوستان کو بیرونی ممالک میں بری طرح شرمسار کیا۔ اس کے بعد آجائیے آدرش گھوٹالہ پر، آپ ہمیں یہ بتائیے کہ جس کا نام آدرش گھوٹالہ ہو، اس میں آدرش کیا رہ جاتا ہے۔ جی ہاں! ممبئی میں جو پلاٹ کارگل کے شہیدوں کی بیواؤں اور ان کے بچوں کے لیے لیا گیا تھا، اس کی جس طرح بندر بانٹ ہوئی، اس کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے۔ ہماری محترم سونیا جی نے اس گھوٹالہ میں وزیراعلیٰ تو بدل دیا، مگر وہ گھوٹالہ بازوں کو سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیج پائیں۔ ا س کے بعد آتے ہیں ہمارے یدورپا جی۔ جی ہاں! زمین گھوٹالہ میں یدورپا جی نے اپنے بیٹے کو بنگلہ، اپنی بیٹی کو بی پی او الاٹمنٹ کرا دیا اور ابھی تک وہ وزیراعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ پایا اور اب آجائیے سب کے باپ یعنی 2جی اسپیکٹرم پر تو راجہ جی جو یقینا گھوٹالوں کے راجہ ثابت ہوئے، ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ۔ کیا آپ یہ رقم لکھ سکتے ہیں؟ نہیں لکھ سکتے، کیوں کہ اس رقم کی گنتی لکھنے میں بڑے بڑے اکاؤنٹینٹ اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ فیل ہوگئے۔ اس گھوٹالہ نے نیرا راڈیا، پربھو چاؤلہ، ویر سانگھوی اور برکھا دت جیسے اعلیٰ قدآور شخصیات کی دلالی کا وہ راز افشا کیا کہ سب نے دانتوں تلے انگلی دبالی، مگر کیا ہوا؟ نیرا راڈیا کو ضمانت مل گئی، بے شک سی بی آئی جانچ کر رہی ہے، مگر راجہ جی آج بھی دندناتے ہوئے عوام کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں اور یہ تو ابتدائے عشق ہے ابھی تو اور نہ جانے ایسے کتنے ہی گھوٹالہ سامنے آنے ہیں۔ اسی 2010میں پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جے پی سی کی مانگ کو لے کر برباد ہوگیا۔ 23دن میں ساڑھے تین گھنٹے کا کام ہوا اور صرف 3معاملے ہی نمٹ پائے۔ ہاں سیاست کی بساط پر چالیں چلنے والے ہمارے لیڈران نے اتنا ضرور کیا کہ اس سال ممبران پارلیمنٹ نے تنخواہ اضافہ پر اپنے لیے بل ضرور پاس کرالیا۔ یعنی ان سیاست دانوں کی ہر طرف سے چاندی ہی چاندی ہے۔ گھوٹالوں سے بھی پیسہ کمائیںگے، حکومت سے بھی لیںگے۔ بس اب یہ کمی رہ گئی ہے کہ یہ سیاسی پہلوان خنجر لے کر راستے میں کھڑے ہوجائیں اور راہ چلتے غریب عوام کا خنجر مار کر خون نکال لیں اور اس کو بیچ ڈالیں۔
2010نے اور کیا دیا، مہنگائی دی۔ جی ہاں! مہنگائی کا یہ حال ہے کہ مہینوں یا ہفتوں کی بجائے دنوں کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ 2001سے 2010تک مہنگائی کی شرح لگاتار اتار چڑھا ئو ہورہا ہےتاہم آج بھی مہنگائی کی شرح  10فیصد سے اوپر ہے جو کہ باعث تشویش ہے 2008میں مہنگائی ریکارڈ سطح 13فیصد تک پہنچ گئی تھی پھر جون 2009 میں مہنگائی صفر سے نیچےنفی میں 1اعشاریہ 6 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔ لیکن خوردنی اشیا کی قیمتیں اس دوران بھی آسمان چھوتی رہیں۔حال ہی میں پیاز کی قیمت بھی آپ کے سا منے ہیں ۔بے شک پیاز نے ہمیشہ ہی حکومتوں کا تختہ پلٹنے کا کردار ادا کیا ہو، مگر عوام کو اس سے کیا مطلب۔ غریب عوام تو یہ جانتی ہے کہ خدا نہ کرے پیاز 500روپے کلو بھی ہوجائے تو اس کی مار امیروں پر نہیں، غریبوں پر ہی پڑے گی۔ امیروں کو تو آٹا دال کا بھاؤ تک نہیں معلوم۔ جن کا گھر نوکروں کے رحم و کرم پر چلتا ہو، جن کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں سردی، گرمی لو کا احساس نہیں ہوتا ہو، وہ پیاز کی مار کو کیا جانیں۔ پیاز، ٹماٹر، لہسن اور پھر ساتھ ہی ساتھ دوسری سبزیاں گوشت، مچھلی، انڈے سبھی کچھ اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ غریب عوام بس حسرت سے دکانوں پر یا تھوک منڈی میں جا کر کچھ سستی سی سبزیاں خرید کر چلے آتے ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، رسوئی گیس سبھی کچھ تو مہنگا ہوگیا ہے۔ اب تو آنے والے بجٹ سے ہی کچھ امیدیں وابستہ ہیں، مگر نہ جانے کیوں جس طرح سرمائی اجلاس تعطل کا شکار ہوگیا، کہیں بجٹ اجلاس بھی اسی طرح کسی ہنگامہ کی نذر نہ ہوجائے۔ ایسے میں سب سے زیادہ افسوس ہوتا ہے اپوزیشن پارٹی پر۔ کانگریس تو گلے گلے بدعنوانی اور گھوٹالوں میں دبی ہوئی ہے۔ اپوزیشن ایسے میں وہ رول ادا کرسکتی تھی جو مثالی ہوتا۔ اس مہنگائی پر اس کو تو سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کرنے چاہیے تھے، مگر وہ خود ہی اپنا کردار نہیں نبھا پارہی ہے اور جے پی سی کی مانگ پر اڑ کر اپنا بھی وقت ضائع کر رہی ہے اور کانگریس کو اور بھی مضبوط کر رہی ہے۔ کانگریس کی بات لے لیجیے، کانگریس کے سہ روزہ اجلاس میں سبھی مسئلوں پر بات کرتے ہیں، لیکن یہ بات نہیں کرتے کہ ان گھوٹالہ بازوں کو بس فوراً گرفتار کر کے جیل میں ڈال دو۔ کانگریس کے شہزادے راہل جی کو یہ نہیں معلوم کہ غریب عوام کی تعریف کیا ہے اور کن کو غریب عوام کی فہرست میں رکھیںگے۔ ایسے میں 2010میں بہار کا الیکشن کانگریس کے لیے سبق ہے۔ نتیش کمار نے جس طرح بہار کی تاریخ پلٹ دی، اس نے اس بات کی طرف واضح اشارہ کر دیا ہے کہ ذات پات، نسل، مذہب سب سے اوپر اٹھ کر عوام اب خود فیصلہ کریںگے ۔ 2010کا سال نتیش کمار کا سال رہا۔ 2010کانگریس کی طاقت کے زوال کا سال رہا، گھوٹالوں کا سال رہا۔ اب بس خدا سے یہی دعا ہے کہ:
خداکرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے ایک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *