اور بھی گل کھلا سکتے تھے قطروچی

جن دنوں راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ ان دنوں اخباروں میں اوٹاویو قطروچی کا نام اکثر آتا تھا، جو لوگ وزیر اعظم کی رہائش پر جاتے تھے انہیں بھی قطروچی وہاں گاہے بگاہے دکھائی دے جاتا تھا۔راجیو گاندھی کی سسرال بھی اٹلی اور قطروچی بھی اٹلی کا تھا۔ اس لیے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اٹلی کا کوئی رابطہ تلاش کرلیا ہو، جس کے سبب راجیو گاندھی نے اسے وزیر اعظم کی رہائش میں آنے کی چھوٹ دے رکھی ہو۔قطروچی جس فرم ’اسنیم پروگیتی‘‘کا ریجنل ڈائریکٹر تھا، اس فرم کو ملک کی سب سے بڑی پائپ لائن، جگدیش پور ہجیرا پائپ لائن بچھانے کا ٹھیکہ بھی مل گیا تھا۔
سی بی آئی کی فائلوں میں جو تفتیشی رپورٹ ہے، وہ بتاتی ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے کنبہ اور اوٹاویو قطروچی کے درمیان بہت ہی گھریلو ، نزدیکی اور گہرے تعلقات تھے۔ وہ جلدی جلدی ملتے تھے۔ اوٹاویوقطروچی اور ان کے کنبہ کا دخل وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں تھا۔ بے تکلفی اور نزدیکی ان تصویروں میں صاف جھلکتی ہے جواس وقت سی بی آئی کے پاس ہیں۔ اوٹاویو قطروچی خود کو بہت با اثر شخص کی شکل میں پیش کرتا تھا۔ جب تک قطروچی ہندوستان میں رہا، مسلسل فون سے اہم سیاستدانوں اور نوکرشاہوں سے رابطہ کرتارہتا تھا۔
غور طلب ہے کہ بوفورس کمپنی نے کمیشن کے نام پر سیک 50,463,966,00 اے ای سروسیز کو 3ستمبر 1986کو دئے تھے۔ اس ساری رقم کو اے ای سروسیز نے اوٹاویو قطروچی کی کولبر انویسٹمنٹ لمیٹڈ، انک کے اکائونٹ میں جو جنیوا میںواقع یو بی ایس بینک میں تھا،16ستمبر 1986اور 29ستمبر 1986کو ٹرانسفر کر دیا۔ اے بی بوفورس اور حکومت ہند کے درمیان ہوئے سودے کی شرط کے مطابق حکومت ہند نے سودے کی 20فیصد ایڈوانس رقم سیک 1,682,132,196.80تاریخ2مئی 1986کو بوفورس کمپنی کو دے دی۔ اے ای سروسیز نے کمیشن کے طور پر جو رقم سیک 50,463,966.00بوفورس کمپنی سے موصول کی وہ اس وقت کی 3فیصد بنتی ہے جو حکومت ہند نے بوفورس کمپنی کو ایڈوانس رقم کے ناطے ادا کی تھی۔ یہ رقم اس معاہدہ کی شرط کے مطابق تھی، جو بوفورس اور اے ای سروسیز کے درمیان 15نومبر 1985کو ہوا تھا۔حکومت ہند اور ہندوستان کو توپ بیچنے کی خواہشمند کمپنیوں کے درمیان اس سودے کے بارے میں 1984میں بات چیت ہوئی۔ مذاکراتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ 7جون 1984کو ہوئی۔ اس کے بعد مختلف مواقع پریہ کمیٹی 17بار ملی۔ فوج کی پہلی ترجیح اس وقت سوفما توپ تھی۔ مگر 17فروری 1986کو فوجی ہیڈکوارٹر نے پہلی بار اپنی دلچسپی بوفورس توپ میں دکھائی اور اسے سوفما پر ترجیح دی۔ اس کے بعد تو بوفورس توپ میں غیر ضروری دلچسپی دکھائی جانے لگی۔ اچانک مذاکرات کا عمل تیز ہو گیا۔
17فروری 1986کو فوجی ہیڈکوارٹر نے اپنی رپورٹ میں بوفورس توپ کو باقی سب پر ترجیح دی۔اس کمیٹی نے پر اسرار جلد بازی کی۔ اس نے ایک ہی دن 12مارچ 1986کو میٹنگ کر کے لیٹر آف انٹینٹ بوفورس کمپنی کے حق میں جاری کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ لے لیا۔ اسی دن، یعنی 12مارچ 1986 کو جوائنٹ سکریٹری (او)نے ایک نوٹ بنایا تاکہ وزیر مملکت برائے دفاع ارجن سنگھ ،  وزیر مملکت برائے دفاع سکھرام، وزیر مالیات وشو ناتھ پرتاپ سنگھ اور وزیر اعظم راجیو گاندھی کو بھیجا جا سکے۔ یہ نوٹ اسی دن متعلقہ افسران اور وزراء کو بھیجا گیا اور انھوں نے اسی دن اس پراتفاق رائے بھی دے دیا۔ اس نوٹ پر کس نے کب دستخط کئے، وہ منسلک ٹیبل سے صاف ہو جائے گا۔
(1)دفاعی سکریٹری (مسٹر ایس کے بھٹنا نگر)12مارچ 1986، (2)سکریٹری برائے دفاعی پیداوار اور سپلائی (مسٹر پی سی جین)، 13مارچ 1986 (3)وزیر مملکت برائے دفاع ( مسٹر سکھرام) 13مارچ 1986،(4) وزیر مملکت برائے دفاع (مسٹرارجن سنگھ)13مارچ 1986،(5)مالیاتی مشیر ( مسٹر سی ایل چودھری)13مارچ 1986، (6)سکریٹری اخراجات ( مسٹر گن پتھی) 13مارچ 1986، (7)مالیاتی سکریٹری (مسٹروی وینکٹ رمن )13مارچ 1986،(8)وزیر مالیات (مسٹر وشو ناتھ پرتاپ سنگھ )13مارچ 1986، (9)وزیر اعظم جنھوں نے وزیر دفاع کے ناطے دستخط کئے (مسٹر راجیو گاندھی ) 14-3-1986۔ یہ ٹیبل بتاتی ہے کہ جوائن سکریٹری (او) نے 12مارچ 1986کو نوٹ تیار کیا اور اس کے بعد بہت ہی زیادہ دلچسپی لے کر جلد بازی دکھائی گئی۔ یہ فائل چھ مختلف محکمات کے افسران کے پاس بھیجی گئی ۔ صرف 48گھنٹوں کے اندر 11افسران اور وزراء کے دستخط کروائے گئے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اتنی جلد بازی کی ضرورت کیوں تھی؟
اس جلدبازی کا جواب تلاش کرنا چاہیں تو وہ ہمیں بوفورس کمپنی اور اے ای سروسیز کے درمیان ہوئے معاہدہ میں درج شرط سے مل جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 15نومبر 1985کو ہوا تھا۔معاہدہ کی اس اہم دفعہ میں لکھا ہے کہ اے ای سروسیز کو کمیشن تبھی ملے گا جب بوفورس کمپنی کو یہ سودہ مارچ 1986سے پہلے مل جائے گا۔ اس معاہدہ کی روشنی میں فائل کی تیزی اور کمیشن کا تعلق واضح ہو جاتا ہے، جسے اوٹاویو قطروچی اور دیگر نے حاصل کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اوٹاویو قطروچی کا تعلق ان لوگوں سے بھی تھا، جو اس فیصلے کے عمل میں شامل رہے ہیں۔ آگے کے واقعات بھی، کہانی اپنے آپ بناتے ہیں۔ 12مارچ 1986کے بعد کے 48گھنٹوں میں 11افسروں اور وزرا کے دستخط فائل پر کراکر وزیراعظم راجیو گاندھی نے خود اپنے دستخط 14مارچ 1986کو کیے۔ 14مارچ 1986کو ہی انہیں سویڈن کے سفر پر جانا تھا، وہ گئے بھی۔ اس دن سویڈن پہنچتے ہی انہوں نے سویڈش وزیراعظم اولیف پالمے کو مطلع کیا کہ حکومت ہند نے توپوں کی خرید کا سودا بوفورس کمپنی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو لینے کے لیے جو کارروائی چلی، ان کے کاغذات یہ بتاتے ہیں کہ فیصلہ صرف بوفورس کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کرنے کا تھا۔ یہ فیصلہ اپنے آپ میں غیرفطری تھا کیوں کہ تب تک دو مقابلہ جاتی کمپنیاں بوفورس اور سوفما بہت ہی کم رعایتیں دینے کی بات کر رہی تھیں۔ جلد ی میں یہ فیصلہ لیا گیا، ورگر نہ مقابلہ جاتی کمپنیاں مقابلہ جاتی ریٹ دیتیں۔ لیٹر آف انٹینٹ جاری کرنے کے اس فیصلے نے سودا کرنے کے عمل کی خلاف ورزی کی۔ شاید اس کے پیچھے نیت تھی کہ سویڈن کو یہ بتانا تھا کہ سودے کا فیصلہ ان کی حمایت میں لیا جاچکا ہے۔  اس کیس میںاوٹاویو قطروچی کے نام کا انکشاف پہلی بار 23مارچ 1993 کو ہوا۔ جب انٹرپول سوئٹزرلینڈ نے حکومت ہند کو مطلع کیا کہ جن 7لوگوں نے سوئس سپریم کورٹ میں جانچ کی کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی، وہ سپریم کورٹ نے خارج کردی ہے۔ ان 7 لوگوں میں ایک نام قطروچی کا بھی ہے۔
اس اطلاع کے انکشاف کے 6 دن کے بعد قطروچی نے 29 جولائی 1994کو جلد بازی میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان چھوڑ دیا اور وہ آج تک ہندوستان واپس نہیں آیا۔ سی بی آئی نے قطروچی کے اس طرح ہندوستان چھوڑنے کو جو کہ اس کے نام کی جانکاری آنے کے بعد جلد بازی میں اس نے کیا اور اس کے ذریعہ سوئس سپریم کورٹ میں حکومت ہند کے ذریعہ جاری لیٹرروگیٹری پر عمل رکوانے کی کوشش میں پہلا قدم یا اس جرم میں اس کی شرکت مانی ہے۔حکومت ہند کی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی جو اس سارے معاملے کی جانچ کر رہی ہے، سوئس افسران سے جنوری 1997میں سارے کاغذات حاصل کرپائی اور تبھی وہ جان پائی کہ اے ای سروسیز کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی رقم کا فائدہ اٹھانے والے قطروچی ہیں۔ موصول شدہ رقم کی پہلی قسط بھی 7.34 ملین ڈالر تھی۔ قطروچی کو بوفورس نے اپنا ایجنٹ ہی اس لیے بنایا تھا تاکہ وہ نہ صرف حکومت پر دباؤ ڈال سکے، بلکہ اسے 1437.72 کروڑ کا توپ سودا دلاسکے۔ پہلے مرحلہ میں فرانس کی سوفما کو پسند کیا گیا، لیکن بعد میں اچانک ڈرامائی تبدیلی آگئی۔  اے ای سروسیز کو کمیشن تبھی ملتا جب سودا 31مارچ 1986سے پہلے ہوجاتا۔ ہندوستانی وزیراعظم راجیوگاندھی نے 15 مارچ 1986کو سویڈن کا سفر کر کے وہاں اعلان کیا کہ توپ خرید کا سودا بوفورس کے ساتھ ہوگیا ہے۔ قطروچی نے سودے کو بوفورس کمپنی کے ذریعہ معینہ وقت 31مارچ 1986کے اندر پورا کردیا۔حکومت ہند نے 25مئی 1986کو پیشگی رقم کی پہلی قسط بوفورس کمپنی کو دی۔ اگست 1986میں اے ای سروسز کا اکاؤنٹ مائلس اسٹاٹ نے کھولا۔ سی بی آئی کا ماننا ہے کہ یہ سب اتفاق نہیں ہے۔
آخر اوٹاویو قطروچی کو بوفورس کمپنی نے اپنا ایجنٹ کیوں بنایا؟ جب کہ قطروچی کو ہتھیاروں و دفاعی معاملوں کا کوئی علم نہیں ہے۔ قطروچی ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہے اور 1968سے 1993کے درمیان وہ سنیم پروگیتی کا چیف ایگزیکٹیو افسر تھا۔ اس کا علم صرف کیبل پائپ لائن بچھانے اور ٹرانسپورٹیشن تک ہی محدود تھا۔ قطروچی کے ساتھ یہ مبینہ مشاورتی معاہدہ دراصل بوفورس کمپنی کے ذریعہ کیا گیا ایسا معاہدہ تھا، تاکہ وہ توپ سودے کی دوڑ میں جیت سکے اور اسے حاصل کرنے کے لیے قطروچی کا دباؤ جو کہ نوکرشاہوں و سیاست دانوں پر تھا، استعمال کیا جاسکے۔ یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بغیر اس طرح کے دباؤ کو بنائے، بوفورس کمپنی یہ توپ سودہ حاصل نہیں کر سکتی تھی۔حکومت ہند کے ذریعہ دی گئی پہلی قسط کی رقم کا 3فیصد کمیشن کی شکل میں دیا جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اوٹاویو قطروچی نے سودے پر بات چیت کی اور اے بی بوفورس کے حق میں پلڑا جھکا دیا۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ یہ عمل آگے بھی جاری رہنے والا تھا اور قطروچی اس حیثیت میں تھا کہ وہ آگے بھی ہندوستان کے اس وقت کے وزیراعظم اور وزیردفاع اور دوسرے پبلک ملازمین کے ساتھ کامیابی سے سودے کرا سکتاتھا، جس کے بدلے میں اسے کافی منافع اور کمیشن ملتا۔ یہ ساری باتیں پروینشن آف کرپشن ایکٹ اور انڈین پینل کوڈ کے خلاف ہیں۔

بوفورس کمپنی نے بھی حکومت کو اندھیرے میںرکھا

راجیوگاندھی نے وزیراعظم بننے کے ساتھ کئی معجزاتی کام کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اقتدار دلالوں کو پاس نہیں آنے دیںگے، کیوں کہ یہ گمراہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہلی سے ترقی کے لیے جانے والے ایک روپے کا 85پیسہ دلالوں اور نوکرشاہوں کی جیب میں چلا جاتا ہے، صرف 15پیسہ ہی ترقی پر خرچ ہوتا ہے۔ راجیوگاندھی نے اکیسویں صدی میں ملک کوجانے کے لیے تیار رہنے کے لیے بات کی تھی۔ اسی اثناء میں انہوں نے اچانک کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ آج سے ملک کے ساتھ ہونے والے کسی بھی سودے میں کوئی ثالث نہیں ہوگا۔ اسے انہوں نے ملک کی ایکسپریس پالیسی کہا، ان سے ان کے ساتھیوں نے بھی کہا کہ دنیا کی تجارت بغیر ثالث کے نہیں چلتی، تب ہم کیسے چلائیںگے؟ راجیو گاندھی نے اسے نہیں مانا اور کہا کہ ثالثوں کو ملنے والا پیسہ دراصل ملک کا ہی ہوتا ہے، اس لیے انہیں ہٹانے سے ملک کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے وزرا اور مرکزی حکومت کے سبھی سکریٹریوں کو اس پر سختی سے تعمیل کرنے کا حکم دیا۔ اس لیے جب ہندوستان کے لیے توپیں خریدنے کی بات طے ہوئی تب حکومت ہند نے بات چیت کے دوران بوفورس کمپنی کے اس وقت کے صدر مارٹن اورڈیبو اور دوسری کمپنیوں کے سامنے یہ واضح کردیا تھا کہ کسی بھی ایجنٹ یا ثالث کو کوئی بھی کمپنی توپ خرید سودے میں نہیں رکھے گی۔ مئی 1985میں اس وقت کے دفاعی سکریٹری مسٹر ایس کے بھٹناگر نے اے بی بوفورس کے صدر اور دوسرے ٹینڈردہندگان کو خاص طور پر لکھ دیا تھا کہ 155ہووتجر توپ سودے میں کسی بھی ثالث کو نہ بلایا جائے۔ اتنا ہی نہیں، اگر پہلے بھی کسی نے کسی کو ایجنٹ بنایا تھا تو اس کمیشن کی رقم کو توپ سودے کی رقم سے گھٹایا جائے۔ بوفورس کمپنی کے صدر مارٹن اورڈیبو نے 10مارچ 1986کو ایک مکتوب دفاعی سکریٹری ایس کے بھٹناگر کو لکھا۔ اس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ انہوں نے کسی کو ایجنٹ نہیں بنایا ہے اور اسے تو باکل نہیں جو کہ ہندوستان میں اس پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔
حکومت ہند کی اس واضح پالیسی کی بنیاد پر کہ سودے کے درمیان کوئی ایجنٹ یا ثالث نہیں ہوگا اور اگر بوفورس کمپنی نے کسی کو رکھا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومت ہند اور بوفورس کمپنی کے درمیان اس مقصد کا ایک معاہدہ ہوا۔ معاہدہ جو دونوں فریقوں کے درمیان ہوا، اس کی تاریخ تھی 24مارچ 1986۔
اس کے ایک سال بعد وزارت دفاع کو اطلاع ملی کہ سویڈش ریڈیو نے اپنی نشریات میں کہا کہ بوفورس توپ سودے میں کک بیک (رشوت) دی گئی ہے۔ وزارت دفاع نے ہندوستانی سفیر سے اس کی حقیقت کا پتہ لگانے کو کہا۔ اس وقت وزیر دفاع وشوناتھ پرتاپ سنگھ تھے۔ سفیر نے بوفورس کمپنی کو خط لکھا اور سویڈش ریڈیو کے الزام پر وضاحت کی خواہش ظاہر کی۔ بوفورس کمپنی اور حکومت ہند کے درمیان جس تاریخ کو دلال نہ رکھنے کا معاہدہ ہوا تھا، اس کے ٹھیک ایک سال بعد 24اپریل 1987کو بوفورس کمپنی نے سفیر کو ان کے خط کا جواب بھیجا۔ خط میں بوفورس کمپنی نے لکھا کہ سویڈش ریڈیو نے جس رقم کو دئے جانے کی بات کہی ہے، وہ بالکل آئینی ہے اور سویڈش کرنسی ریگولیشن اور دوسرے سویڈش قوانین کے مطابق ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم کسی ہندوستانی کمپنی کو نہیں دی گئی ہے۔  اس رقم کا رشتہ 1986کے بوفورس توپ سودے سے نہیں ہے۔
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی جانچ شروع ہونے سے قبل بوفورس کمپنی کا نمائندہ ہندوستانی افسران سے آکر ملا اور اس نے تسلیم کیا تھا کہ مجموعی طور پر سویڈش کرنسی میں سے 319.40ملین ان کمپنیوں کو دیا گیا جو ہندوستان سے باہر رجسٹرڈ ہیں۔ ان کمپنیوں میں سوینسکا انک پناما او ر اے ای سروسیز لمیٹڈ یوکے شامل ہیں۔ انہیں یہ رقم وائنڈنگ اپ چارج کی شکل میں دی گئی ہے۔
اس کے بعد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے جانچ شروع کی تو بوفورس کمپنی نے تسلیم کیا کہ اس نے تین کمپنیوں کو پیسہ دیا، لیکن اس نے کمیٹی کو ان کا نام بتانے سے انکار کردیا۔ سویڈش نیشنل آڈٹ بیورو یہ جانچ کر رہا تھا کہ کیا اس سودے میں کمیشن دیا گیا ہے؟ جانچ کے دوران سویڈش نیشنل آڈٹ بیورو کو معلوم ہوا کہ مئی 1986سے مارچ 1987کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں اے بی بوفورس کمپنی نے پیسہ بھیجا ہے۔ تجارتی رازداری کے نام پر بوفورس نے اب بھی ان کمپنیوں کا نام نہیں بتایا اور سویڈش نیشنل آڈٹ بیورو کو زیادہ جانکاری دینے سے منع کردیا۔ آڈٹ بیورو کو اس بات کا پتہ چلا کہ بوفورس کے ذریعہ دئے گئے بیانوں میں یکسانیت نہیں ہے۔ بالخصوص ان میں جن کا تعلق ایجنٹوں کی پہچان اور پیسہ دیا کیوں گیا؟ جیسے سوالوں سے تھا۔
ادھر 7فروری 1990کو دہلی کے خصوصی جج کے ذریعہ سوئس افسران کو لکھے گئے لیٹر روگیٹری کے بعد جس میں درخواست کی گئی تھی کہ سوئس افسران جانچ کا عمل پورا کریں اور ثبوت اکٹھا کریں۔ سوئس افسران نے جانچ کی اور رپورٹ اور کچھ دستاویز ہندوستان کو دسمبر 1990اور جنوری 1997کو سونپی۔ سوئس افسران کی جانچ نے یہ ثابت کیا کہ بوفورس کمپنی نے اس سودے میں ایجنٹ بنائے تھے اور دو کمپنیوں کو جن میں ایک اے ای سروسیز لمیٹڈ اور دوسری سوینسکا ان کارپوریٹیڈ تھی، انہیں سودا کرانے کے بدلے میں رقم دی گئی۔ اوٹاویو قطروچی اٹالین شہری تھا اور اٹالین پاسپورٹ پر اٹالین کمپنی اسنیم پروگیتی کے ریجنل ڈائریکٹر کے عہدہ پر کام کر رہا تھا۔ 15نومبر 1985کو اوٹاویو قطروچی اور بوفورس کمپنی کیمائلس ٹویڈیل اسٹاٹ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا کہ اگر یہ سودا بوفورس کمپنی کو حکومت ہند سے 31مارچ 1986سے پہلے مل جاتا ہے تو 3فیصد کمیشن اے ای سروسیز کو بوفورس کمپنی دے گی۔ یہ رقم کل سودے کی تین فیصد ہوگی۔ حکومت ہند جیسے جیسے بوفورس کو پیسے دے گی، بوفورس اس کا 3فیصد اے ای سروسیز کو دیتی جائے گی۔یہاں سے اس کیس میں باب جڑنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان کے لیے توپ خریدنے کا فیصلہ لینے والوں کے سامنے 15نومبر 1986تک بوفورس کمپنی کے ساتھ دوسری کمپنی کی تجاویز بھی تھیں، لیکن تب تک کسی کو یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ ان سب تجاویز پر بوفورس گن سسٹم کو ترجیح دی جائے گی۔ دراصل اس وقت فرانس کے سوفما گن سسٹم کو تکنیکی طور پر زیادہ پسند کیا جارہا تھا، لیکن چارمہینوں میں سوفما کے اوپر بوفورس کو ترجیح دلا دینا اور بوفورس کے ذریعہ دئے گئے وقت متعینہ میں کنٹریکٹ پورا کردینا اس شخص کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے جو اے بی سروسیز کے پیچھے تھا، اسی شخص نے اپنی طاقت اور رسوخ کی بنیاد پر حکومت ہند کے عوامی خدمتگاروں کو دباؤ میں لاکر بوفورس کمپنی کے ساتھ معاہدہ کو پورا کرایا۔
سوئس افسران کی جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بوفورس کمپنی نے اسٹاک ہوم میں واقع اسکانڈیناوسکا اینسکلڈا بانکین سے 3ستمبر 1986کو 50,463,966,00سیک (امریکی ڈالر 7,343,941,98کے برابر) نکالے اور انہیں اکاؤنٹ نمبر 18051-53جو کہ اے ای سروسیز لمیٹڈ کے نام تھا، میں جمع کرایا۔ یہ اکاؤنٹ جیورخ کے نورڈفینانج بینک کا ہے۔ اس اکاؤنٹ کو، جو کہ اے ای سروسیز لمیٹڈ کیئر آف مایو ایسوسی ایٹس ایس اے جنیوا کا ہے، صرف 15دن قبل 20اگست 1986کو مائلس ٹویڈیز اسٹاٹ نے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کھولا تھا۔
اے ای سروسیز کے اس اکاؤنٹ سے دو قسطوں میں 7,123,900 امریکی ڈالر نکالے گئے۔ اس میں 70,00,000,00 امریکی ڈالر 16 ستمبر 1986 کو اور 1,23,900,00 امریکی ڈالر 29ستمبر 1986کو نکالے گئے۔ نکالی گئی اس رقم کو کولبر انسویسٹمنٹ لمیٹڈ انک پناما کے جنیوا میں واقع یونین بینک کے اکاؤنٹ نمبر 254,561,60 ڈبلیو میں ٹرانسفر کیا گیا۔
کولبر انسویسٹمینٹ لمیٹڈ انک کے اس اکاؤنٹ سے دوبارہ 7,943,000,00 ڈالر 25جولائی 1988کو اکاؤنٹ نمبر 48832060 آف ایم/ایس ویٹیلسن اوورسیز ایس اے میں ٹرانسفر کیے گئے۔ یہ اکاؤنٹ بھی جنیوا کے یونین بینک میں ہی ہے۔ ایم /ایس ویٹیلسن اوورسیز کے اسی اکاؤنٹ سے دوبارہ 21مئی 1990کو 9,200,000,000 ڈالر ٹرانسفر کیے گئے۔ اس بار یہ رقم اکاؤنٹ نمبر 123893 میں ٹرانسفر کی گئی۔ یہ اکاؤنٹ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کمپنی کا ہے، جو انواشیر (سی آئی) لمیٹڈ سینٹ پیٹر پورٹ، گوئرنسے(چینل آئس لینڈ) میں واقع ہے۔
یہ اکاؤنٹ ایم/ ایس کولبر انسویسٹمینٹ لمیٹڈ انک اور ویٹیلسن اوورسیز کو اوٹاویو قطروچی اور ان کی بیوی ماریہ قطروچی کنٹرول کرتی تھیں۔ جب چینل آئس لینڈمیں جانچ ہوئی تب پتہ چلا کہ یہ ساری رقم دس دنوں کے اندر (جب وہ گوئرینسے میں آئی اس کے بعد) دوبارہ سوئٹزرلینڈ اور آسٹریلیا لے جائی گئی۔
سوئس افسران اور سویڈش افسران کی جانچ نے یہ ثابت کردیا کہ بوفورس کمپنی سے حاصل شدہ کمیشن کو پانے والی کمپنی اے ای سروسیز کا فاٹدہ اٹھانے والا اوٹاویوقطروچی ہے۔ سنیم پروگیتی سے ملے کاغذات نے یہ بھی ثابت کردیا کہ اوٹاویو قطروچی اور اس کی بیوی اس وقت جنیوا ہی میں تھے، جب یہ اکاؤنٹ کھولے گئے۔انہوں نے ہی بینک اکاؤنٹ اور دیگر دستاویزوں پر دستخط کیے تھے۔ جب سوئس افسران نے قطروچی اور ان کی بیوی کے پتے، جو انہوں نے اکاؤنٹ میں لکھے تھے، حکومت ہند کو دئے تو حکومت حیرت میں پڑ گئی۔ دونوں نے پتہ دیا تھا کالونی ایسٹ، نیودہلی(انڈیا)۔ یہ پتہ پورے ہندوستان میں کہیں ہے ہی نہیں۔ دونوں نے ہی محتاط انداز میں جعل سازی کرنے کے چکر میں غلط پتہ لکھوایا تھا۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ ہوا کیسے؟ کیوں کہ سوئٹزرلینڈ میں بینک اکاؤنٹ کھولتے وقت لکھا ہوا پتہ دیکھا جاتا ہے اور وہی لکھا جاتا ہے۔ تب کیا اوٹاویو قطروچی اور ان کی اہلیہ کے پاس دیگر پاسپورٹ بھی تھا، جس پر کالونی ایسٹ، نئی دہلی کا پتہ لکھا تھا۔

قطروچی کی ان سے بھی قربت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اطالوی تاجر اوٹاویو قطروچی جس کا نام بوفورس گھوٹالے میں کافی اچھلا، کے گاندھی کنبے سے کافی نزدیکی تعلقات تھے اور ان کے گھر میں بے روک ٹوک آنا جانا تھا۔ یہ نیا انکشاف آئی بی کے ایک افسر نریش چندر گوسائیں اور قطروچی کے ڈرائیور ششی دھرن نے سی بی آئی کے سامنے کیا تھا۔ گوسائیں آنجہانی وزیراعظم راجیوگاندھی کی ایس پی جی سیکورٹی میں تھا اور بعد میں 1987سے 1989 کے درمیان سونیا گاندھی کا پرسنل سیکورٹی آفیسر بھی رہا تھا۔ انکشاف کے مطابق راجیوگاندھی کے دفتر میں قطروچی اور ان کی اہلیہ ماریہ کا وزیراعظم کی رہائش گاہ میں بے روک ٹوک آنا جانا تھا۔ 1993 میں ہندوستان سے بھاگنے سے پہلے تک گاندھی کنبے کے گھر پر قطروچی کا آنا جانا برقرار رہا۔ ششی دھرن کا بیان قطروچی کی کار کی لاگ بک پر مبنی ہے، جو کہ اسنیم پروگیتی نام کی اطالوی کمپنی کے ذریعہ رکھی جاتی تھی اور جس کا ریجنل ڈائریکٹر قطروچی تھا۔ گوسائیں کے بیان کے مطابق قطروچی اور ان کی اہلیہ ماریہ راجیو اور سونیا گاندھی کے بہت ہی نزدیکی تھے۔ تب قطروچی اور گاندھی کنبے کا ایک دوسرے کے یہاں آنا جانا ہوتا تھا۔
گوسائیں کے مطابق وزیراعظم کی رہائش پر نجی گاڑیوں کے آنے پر سخت پابندی ہے۔ بس قطروچی اور اس کی اہلیہ کے لیے ہی کوئی قانون و ضابطہ نہیں تھا۔ گوسائیں کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے گھر کے اندر جانے کے لیے پاس بنوانا ضروری ہوتا ہے، لیکن قطروچی اور اس کے کنبے کے اراکین کے لیے پہلے سے ہی ہمیشہ ایک پاس تیار رہتا تھا تاکہ وہ کبھی بھی آ جا سکیں۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ پر تعینات تمام ایس پی جی افسران قطروچی اور اس کے اہل کنبہ کو پہچانتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی پہچان کی جانچ کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔
گاندھی کنبے سے قطروچی کی نزدیکی بوفورس کیس میں اس کا نام آنے کے بعد بھی برقرار رہی۔ ششی دھرن کے بیان کے مطابق 1985میں اوٹاویو اور ماریہ قطروچی راجیواور سونیا کے گھر دن میں دو تین بار آتے تھے۔ ششی دھرن قطروچی کی ڈی آئی اے 6253نمبر کی مرسیڈیز چلاتا تھا۔ ششی کہتا ہے کہ جب کبھی بھی سونیا گاندھی کے والدین ہندوستان آتے تھے، تب وہ انہیں قطروچی کے گھر لے جاتا تھا۔ وہ دن بھر وہیں رہتے تھے اور ماریہ قطروچی انہیں خریداری کے لیے گھمانے لے جاتی تھی، وہ سال میں چار یا پانچ بار ہندوستان آتے تھے۔ ششی دھرن کی کار لاگ بک کے ریکارڈ کے مطابق قطروچی 1989 سے 1993 کے درمیان سونیا اور راجیو سے 41بار ملا۔ واضح ہو کہ قطروچی اور سونیا گاندھی 1991 میں راجیو گاندھی کی موت کے بعد بھی ایک دوسرے سے پہلے کی  ہی طرح ملتے رہے۔ششی کہتا ہے کہ مئی 1991 کے بعد قطروچی 21 بار دس جن پتھ گیا۔
ششی کہتا ہے کہ جب قطروچی ہندوستان چھوڑ رہا تھا تب اس نے خود 29 جولائی 1993 کو اسے ایئر پورٹ تک پہنچایا تھا۔ اس وقت قطروچی کے پاس ایک بریف کیس کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور اس نے ششی سے کہا کہ وہ ایک ضروری میٹنگ کے لیے جارہا ہے۔ ایک عجیب بات تھی کیوں کہ عموماً جب بھی قطروچی کو کار چاہیے ہوتی تھی، وہ پہلے ششی کو بتا دیتا تھا، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *