عالم اسلام میں گزرےسال کی کچھ کھٹی میٹھی یادیں

وسیم احمد
سال2010  گزر چکا ہے اور نئے سال نے دستک دے دی ہے ۔خدا کرے یہ سال ہم سب کے لئے ڈھیر ساری خوشیاں لے کر آئے۔ گزرا ہوا  سال بے پناہ نشیب و فراز کا سال رہا۔ عالمی سطح پر کئی ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں جو آنے والے برسوں کے خد و خال کو سنوارنے میں مہمیز ثابت ہوں گی۔سال 2010 عالم اسلام اور عالم عرب کے لئے بڑی اہمیت کا حامل رہا۔ اس ایک برس میں ترکی ، ایران، افغانستان ، عراق اور دیگر عالم اسلام میں کئی ایسے سیاسی فیصلے ہوئے جو آنے والے وقتوں میںعالمی معاشی اور معاشرتی رخ کو سمت عطا کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اگر ہم ترکی کی بات کریں تو یہاں کی حکومت کا مزاج بقیہ اسلامی ملکوں سے کچھ الگ تھلگ نوعیت کا ہے۔یورپین زمرے میں شمولیت ان کا دیرینہ خواب ہے اور اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ان کے اسی مزاج نے گزرے ہوئے چند برسوں میں انہیں عالم اسلام سے الگ تھلگ کردیا تھا ،لیکن گزشتہ برس کچھ نئے اقدامات نے اسے دوبارہ مسلم ملکوں میں سرخرو بننے کا بہترین موقع فراہم کردیا۔ترکی نے پاکستان سے قربت پانے کے لئے ہندوستان کو نظر اندازکرنا شروع کردیا تھا ۔ جبکہ ہندوستان کے ساتھ اس کے تجارتی و سفارتی ، معاشی اور فوجی تعلقات برسوں سے قائم ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات رہے ہیں۔لیکن فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے کی مخالفت اور فلسطینیوں کے لئے امدادی کھیپ پہنچانے کے عمل نے ترکی کو عرب عوام میں ہیرو بنا دیا۔ ترکی کے اس عمل کی وجہ سے عربوں کے دل میں برسوں کی خلش ایک جھٹکے میں ختم ہوگئی۔ ترکی کے اس عمل نے عرب کی نئی نسل کے جذبات کو اپنے حق میںکرلیا۔ غالباً اسی سبب  بیرو ت میں مظاہروں کے دوران عرب جوانوں کے ہاتھوں میں ترکی جھنڈے لہراتے ہوئے دیکھے گئے۔فلسطین کے تقربا 43 فیصد عوام ترکی کی خارجہ پالیسی کو اسلام دوست سمجھنے لگے۔عربوں میں ترکی کی اس بڑھتی مقبولیت نے اسرائیلیوں کو بوکھلا کر رکھ دیا ۔
اگر ایران کی طرف ایک نظر ڈالی جائے تو سال گزشتہ اس جمہوری ملک کے لئے بڑی اتھل پتھل کا سال رہا۔ یہ جمہوری اسلامی ملک ایک طرف اپنے ایٹمی منصوبوں کی افزودگی کے سبب یورپ اور کچھ عرب ملکوں کی طرف سے تنقید کی زد میں رہا تو دوسری طرف اس کے اندرونی سیاسی بحران نے آگ میںگھی کا کام کیا۔مستزاد یہ کہ وکی لیکس میں سعودی فرمانرواں کے ایران کے تئیں منفی نظریے کی تشہیر نے عربوں کے دل میں مزید کھٹاس پیدا کردی۔ اگرچہ ایرانی رہنما احمدی نزاد نے وکی لیکس کی باتوں کو نا قابل توجہ قرار دے کر اس تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی، مگر ارباب خرد کو یہ اشارہ تو مل ہی گیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
اگر دیکھا جائے تو 2010  ایران کے لئے کھٹا میٹھا سال رہا۔ جہاں ترکی، شام اور لبنان سے اس کے تعلقات میں بہتری آئی۔عراق میں نوری المالکی کی  حکومت کے قیام کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ عراق کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ، لیکن یہ تمام چیزیں مالکی حکومت میں استحکام کے بعد ہی طے ہونگی۔ اسی سال عالمی توانائی ایجنسی نے ایران سے اپیل کی تھی کہ وہ عالمی منشا کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے  low-enriched uraniumمنصوبے کو nuclear fuel میں تبدیل کردے ، لیکن ایران نے اس اپیل کو ٹھکرا کر عالمی ناراضگی مول لے لی۔یہی نہیں اس واقعہ کے تقریبا تین ہفتے بعد صدر احمدی نزاد نے ایران کو ایک نیو کلیر ملک ہونے کا اعلان کردیا۔ ابھی اس اعلان کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی ختم بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ایران نے اسرائیل کو ایک زبردست دھمکی دے ڈالی۔
اگر عرب ملکوں میں لبنان کو دیکھیں تو یہاں رفیق الحریری کے قتل کے ملزم شام کو سعد الحریری کی طرف سے بری کئے جانے کی توثیق 2010 میں ہوگئی ۔ اس طرح لبنان اور شام میں برسوں سے جو فضا مکدر تھی  ،خوشگوار ہوگئی۔البتہ مصرکے اندر سال 2010 میں سوائے عام انتخاب کے کوئی بڑی سیاسی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اگرچہ یہاں کا عام انتخاب اپنے آپ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ، کیوں کہ اس انتخاب کو مصر میں آنے والے دنوں میں جمہوریت کے خد و خال کو طے کرنے  کے لئے مقدمے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حسنی مبارک نے جو  طوالت  عمر کی وجہ سے  اپنے بیٹے جمال مبارک کو  اپنا جا نشیں بنانے کا ارادہ رکھتے تھے،عوامی  حمایت نہ ملنے کی وجہ سے انہیں خود الیکشن میں حصہ لینا پڑا۔ حزب مخالف کے مطابق مبارک خاندان نے ووٹنگ میں زبردست دھاندلی کی اور 30 سال سے مصر کے اقتدار پر حاوی خاندان نے ایک مرتبہ پھر حکومت کے سنگھاسن کو اپنے نام کرلیا۔ عراق کا حال بھی بہت اچھا نہیںرہا۔ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد عام انتخاب میں کسی ایک پارٹی کو مکمل سیٹیں نہ مل سکیں، جس کی وجہ سے ملک کی سیاست ہچکولے کھاتی رہی۔ اگرچہ اب مالکی حکومت کے قیام کے لئے راستے صاف ہوچکے ہیں لیکن ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیںکہا جا سکتا کہ آنے والا وقت عراق کی جبیں پر کیا لکھنے والا ہے۔
جہاں تک فلسطین کی بات ہے تو گزرا ہوا یہ سال فلسطین کے لئے مایوسیوں ، ناامیدیوں اور  الجھنوں کا سال رہا۔ اس سال وہاں کی دو بڑی سیاسی پارٹی حماس اور الفتح کی باہمی رسہ کشی ،دوسری طرف امریکہ کا  اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے اعلان نے فلسطینیوں کو بڑی مایوسیاں دی ہیں۔ دوسری طرف عالم اسلام کا فلسطین کے موضوع پر ایک پلیٹ فارم پر نہ جمع ہونا بھی مصیبتوںکا باعث  بنتا رہا۔ یہ سال فلسطین کے لئے اس لئے بھی بہتر نہیں رہا کہ اس  برس اس کے کئی بڑے لیڈروں کا قتل ہوا ۔ ان میںحماس کے محمود عبد الرئوف المبحوح کا قتل،انہیں دبئی کے ایک ہوٹل میں 19 جنوری کو قتل کیا گیا۔اسی طرح 26 مئی کی تاریک رات میں اسرائیلی حکومت نے غزہ پر  200 کلو گرام ایکسپلوزیو سے ہوائی حملہ کیا۔ اس حملے نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن بات چیت کو زبردست جھٹکا دیا۔31 مئی کو ترکی کے امدادی جہاز پر اسرائیلی حملے میں کئی افراد کی جانیں گئیں اور لاکھوں کی املاک تباہ ہوئیں۔حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ جہاز انسانیت کی بنیاد پر غزہ والوں کے لئے راحت رسانی کی خدمت پر مامور تھا لیکن اسرائیل نے نہ صرف اس کو نقصان پہنچایا بلکہ وہ اپنے اس عمل کو جائز ٹھہرانے کی ضد پر اڑارہا۔غرض معاملے کی سنگینی پر نظر رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سال گزشتہ فلسطین کے لئے بے چینیوں کا سال رہا۔ دعا ہے کہ نیا سال اس ملک کے لئے امن و سلامتی کا سال ثابت ہو۔
تقریبا یہی حال دیگر عرب ملکوں کا رہا ۔ سال 2010 کے اندر کچھ ایسا نہیں ہوا جس کو خوشی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ بہر کیف ، جو وقت گزر چکا ، وہ گزر چکا، خدا کرے آنے والے سال کا ہر پل ، ہر لمحہ عالم اسلام کے لئے اور ہم سب کے لئے خوشی و شادمانی کا سال ثابت ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *