دو ہزار دس تجھے ہم یاد رکھیں گے

سنتوش بھارتیہ
دو ہزار آٹھ میں ہم خوش گمانیوں میں مبتلا تھے کہ شدید عالمی مالی بحران نے ہماری معیشت کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔جہاں یوروپ، امریکہ اور جاپان جیسی دنیا کی بڑی معیشتوں کے بڑے بڑے ادارے دیوالیہ ہو گئے، وہیں ہندوستان مسلسل ترقی کی قابل ذکر شرح درج کرتا رہا۔دنیا بھر کے اداروں نے ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے دستبردار کرنا شروع کر دیا یعنی چھنٹنی شروع کردی۔یکایک لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے، لیکن ہمارے ہندوستان میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔نہ لوگوں کی ملازمتیں گئیں اور نہ ہی ہمارے بینک دیوالیہ ہوئے۔عوام نے منموہن جی کو خوب شاباشی دی اور انہیں ایک سلجھا ہوا سیاستداں اور دور اندیش ماہر اقتصادیات گردانا، لیکن اس کے پیچھے کی اصل تصویر کچھ اور ہی تھی۔ جناب وزیر اعظم اور جناب وزیر خزانہ کی پالیسوں نے شرح ترقی میں تو کمی درج نہیں ہونے دی، لیکن امیری اور غریبی کے فرق کو یہ پالیساں تیزی سے بڑھاتی گئیں۔ آیا2009، اس سال نے ملک میں مہنگائی کے ریکارڈ بنائے اور خوردنی اشیا کی شرح تیزی سے بلندی کی جانب بڑھنے لگی۔انہی پالیسوں کے سبب جنوری 2010 میں خوردنی اشیا کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، یعنی اشیائے ضروریہ بھی غریب آدمی کی رسائی سے دور ہو گئیں۔یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ان تین برسوں میںسرکاری طور پر افراط زر کی شرح میں تو نشیب و فراز رہے ہیں، لیکن خوردنی اشیا کی شرح میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے پیاز کی قیمتیں بھی ہمارے سامنے تھیں۔
ایک سال قبل یعنی جنوری2010 میں ملنے والی پیاز دسمبر تک آتے آتے80 روپے کلو ملنے لگی۔دودھ35اور پٹرول60روپے تک پہنچنے کو بیتاب۔ جنوری میں سونا 16ہزار فی دس گرام تھا تو دسمبر تک اس کی چمک بڑھ کر 20ہزار روپے سے زیادہ ہو گئی۔چاندی24سے بڑھ کر45ہزار روپے فی کلو کے نرخ کو پار کر گئی۔ ظاہر ہے وہ عام آدمی جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 20روپے میں اپنی زندگی بسر کرتا ہے، نئے سال کا استقبال کیسے کرے گا؟یہ غور کرنے کی بات ہے۔لیکن اس سب کی فکر کسے ہے؟ اگر فکر ہوتی تو کیا ایک لاکھ76ہزار کروڑ روپے کا2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ہوتا؟فکر ہوتی تو کیاپارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس بنا ایک بھی دن کام کئے ختم ہو جاتا؟فکر ہوتی تو کیا کارگل شہیدوں کے لیے ایکوائر زمین پر فوج کے سابق افسران اور لیڈروں کی ملی بھگت سے قبضہ ہو پاتا؟ شاید نہیں۔2010کئی ایسی تلخ یادیں ہمیں دے گیا جو بہت جلد بھلائی نہیں جا سکیں گی۔مثال کے لیے ٹیپ کیس سے میڈیا، دلال اور کارپوریٹ کے گٹھ جوڑ کا پردہ فاش ہوا۔معلوم ہوا کہ لیڈروں اور صنعتکاروں کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی آواز سمجھا جانے والا میڈیا ایک سپر دلال نیرا راڈیا کے ذریعہ سے کارپوریٹ گھرانوں کی آواز بن گیا۔آئی پی ایل میں بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا۔اس گھوٹالے میں لیڈر، صنعتکار،فلم اسٹارس ، افسران اور انڈر ورلڈ ڈان کے نیکسس کا نکشاف ہوا۔ اس گھوٹالے میں ہزاروں کروڑ روپے خرد برد ہوئے۔کامن ویلتھ گیمز کامن مین کی دولت کی مہالوٹ کا کھیل بن گیا۔افسران ،بلڈر اور لیڈروں نے 80ہزار کروڑ روپے کی بندر بانٹ کی۔آدرش گھوٹالہ ہوا۔یو پی اے حکومت کو بدعنوانی کے الزام میںاپنے کئی وزرا مثلاً راجا اور تھرور سے استعفیٰ لینا پڑا،لیکن متنازعہ سی وی سی  پی جے تھامس کی تقرری پر حزب اختلاف کے سوالوں کا جواب نہیں دے پائی۔تھامس کے کردار پر سپریم کورٹ کے ذریعہ خدشہ ظاہر کرنے کے بعد بھی سرکار کوئی کارروائی کرنے سے بچتی رہی۔بدعنوانی کے معاملے میں سیاسی پارٹیوں کے در میان کوئی فرق نظر نہیں آیا۔کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے سربراہ وی ایس یدیورپا زمین الاٹمنٹ گھوٹالے میں پھنسے لیکن بی جے پی چاہتے ہوئے بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی۔حد تو تب ہو گئی جب فوج پر بدعنوانی کے الزامات لگے۔ہم نے آپ کو بتاتا تھاکہ کس طرح سینٹرل کمانڈ میں اراضی گھوٹالہ انجام دیا گیا؟کیسے چھاؤنی کی زمینوں پر مال اور رہائشی علاقے بن رہے ہیں۔سکنا زمین گھوٹالے میں خود فوجی عدالت نے فوج کے دو افسران کے ملوث ہونے کی بات کہی۔لیفٹیننٹ اور میجر جنرل سطح کے ان دو افسرن کے خلاف فوجی عدالت نے کارروائی کے احکامات دئے۔عام آدمی کا عدلیہ پر سے بھروسہ اٹھتا ہوا نظر آیا ،جب سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الہ آباد میں کہیں کچھ سڑ گیا ہے اور یہاں بھائی بھتیجہ واد اپنے عروج پر ہے۔چاہے پارلیمنٹ ہو ، انتظامیہ،عدلیہ یا پھر میڈیا۔2010میں جمہوریت کے سارے ستونوں کی ساکھ پر حرف آیا ہے۔حکومتی نظام میں بڑھتی غیر یقینی کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں یہ سال گھوٹالوں کے سال کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا۔
2010دوسری جانب کئی طاقتور ممالک کے سربراہ ہندوستان آئے۔ان میں امریکہ کے صدر براک اوبامہ،فرانس کے صدر نکولس سرکوزی،چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ اور روس کے صدر دیمتری میدویدیف ہندوستان آئے۔طاقتور ممالک کے کئی لیڈر اپنے اپنے ملک کے عوام کے لیے ہندوستان سے کئی سوغات لے کر واپس گئے۔اس حساب سے ہندوستان کو وہ کامیابی نہیں ملی۔سلامتی کونسل میں مستقل سیٹ کے معاملے پر امریکہ کا رخ واضح نہیں تھا۔کشمیر کے لوگوں کے لیے نتھی ویزا کا مسئلہ اور سرحدی تنازعہ پر جیا باؤ کا بیان بھی عام آدمی کی سمجھ میں نہیںآیا۔ہاں فرانس نے سلامتی کونسل میں ہند کی مستقل سیٹ کی کھل کر حمایت کی اور ہندوستان میں دو ایٹمی ری ایکٹر لگانے پر بھی اتفاق ہوا۔روس چونکہ ہندوستان کا سب سے پرانا دوست ہے ،اس ناطے میدویدیف نے اپنے ہندوستانی سفر کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تیل ،گیس، خلا اور تکنیک کے شعبوں میں معاہدے کیے۔ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف بھی جم کر بولے۔بین الاقوامی سطح پر 2010کا آخری مہینہ کچھ زیادہ ہی چرچا میں رہا ۔وجہ وکی لیکس کے انکشافات تھے ۔وکی لیکس اور جولین اسانج کے انکشافات نے امریکہ سمیت ہند وستانی لیڈروں کے دوہرے کردار کو بھی بے نقاب کیا ۔امریکی سفیر ہندوستان اور دیگر ممالک کے بارے میں کیا سوچتے ہیںیہ بھی دنیا پر عیاں ہوا۔سفیروں کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کی اصلیت بھی سامنے لانے میں وکی لیکس نے اہم کرادار ادا کیا۔
بہر حال2010نے ملک کے ہر شعبے میں جو افرا تفری مچائی وہ انتہائی پریشانی کا باعث ہے۔خدا کرے2011میں ایسا نہ ہو،تاہم امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *