نیشنل آر ٹی آئی ایوارڈ:اطلاعات کے سپاہی اعزازت سے سرفراز

دہلی کے ایک ادارے پی سی آر ایف نے 2009 میں ایک ایوارڈ کی ابتدا کی۔مقصد تھا ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور اعزاز دینے کا جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر بھی بدعنوانی کے خلاف حملہ بولا۔حق اطلاعات قانون کا استعمال کر کے جن لوگوں نے سرکا ری سسٹم میں موجود بدعنوانی کو بے نقاب کیا۔2010کے لیے بھی کچھ ایسے ہی اطلاعات کے سپاہیوں کو اس قومی اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔دوسرے قومی حق اطلاعات ایوارڈ کے لیے پانچ ایسے لوگوں کو منتخب کیا گیا ہے جنہوں نے حق اطلاعات قانون کے تحت نہ صرف اطلاعات نکلوائیں بلکہ ان پر آگے کام بھی کیا۔اس کے علاوہ عوامی اطلاعات افسر کے زمرے میں ہماچل پردیش کے بلاسپور کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر (بی ڈی او) پردیپ کمار کو نوازا جائے گا۔انہوں نے عوامی اطلاع افسر رہتے ہوئے تمام درخواستوں کی صحیح اور پوری جانکاری درخواست دہندگان کو دستیاب کرائی۔ان کے پاس اطلاع مانگنے والے درخواست دہندگان میں سے صرف ایک درخواست دہندہ کو پہلی اپیل تک جانا پڑا تھا۔اس مرتبہ حق اطلاعات قانون کا استعمال کر کے اپنے اخبار اور میگزین کے لیے تفتیشی صحافت کرنے والے صحافیوں کے لیے بھی انعام رکھا گیا تھا۔اس زمرے میں دہلی کے ایک صحافی سیکت دتا کو جیوری نے اس انعام کے لیے منتخب کیا۔اس کے علاوہ جیوری نے دس ایسے سماجی کارکنان کے اہل خانہ کو شہری اعزاز دینے کا فیصلہ کیاجن کے لوگ گزشتہ دنوں اس لیے مارے گئے کیونکہ وہ حق اطلاعات کا استعمال کر تے ہوئے بدعنوانی کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ان سب لوگوں کے اہل خانہ کو اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپے کی رقم بھی دی جا ئے گی۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آر ٹی آئی کے استعمال سے منریگا،راشن اورزمین گھوٹالہ جیسی بدعنوانیوںکا پردہ فاش کیا تھا۔ان کے سامنے تھے ایسے طاقتور لوگ جن کے پاس پیسہ،پاور سب کچھ تھا۔پھر بھی اطلاع کے ان سپاہیوں نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کیا ،محض حق اطلاعات قانون کی درخواست کے سہارے۔سچ اور اطلاع کے یہ سپاہی بدعنوانی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے تھے۔احمد آباد میں آرٹی آئی کارکن امت جیٹھوا نے گیر کے جنگلوں میں غیر قانونی کانکنی کے معاملے کا پردہ فاش کیاتھا۔اس قتل کے پیچھے بی جے پی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ دینو بھائی سولنکی کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔پنے کے ستیش شیٹی بدعنوانی مخالف کمیٹی کے کنوینر بھی تھے۔آر ٹی آئی کا استعمال کر کے ستیش شیٹی نے مہاراشٹر میں کئی زمین گھوٹالوں اور ممبئی پنے ایکسپریس وے میں گھوٹالے کا راز فاش کیا تھا۔اسی وجہ سے ستیش زمین مافیا ؤں کے نشانے پر آگئے تھے۔آر ٹی آئی ایکٹ کی مدد سے ستیش نے غیر قانونی بنگلے کی تعمیر ، مٹی کے تیل کی فروخت ،راشن اور کالا بازاری کی مخالفت میں آواز اٹھا ئی تھی۔
مہاراشٹر کے ہی دتا پاٹل آر ٹی آئی کے ذریعہ بدعنوانی کے کئی معاملے سامنے لائے تھے جس کی وجہ سے ایک ڈی ایس پی اور ایک سینئر پولس انسپکٹر کو نوکری سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ نگر نگم کے افسران کے خلاف کارروائی بھی شروع ہو گئی تھی۔پاٹل نے ایک بلڈر کے خلاف بھی کئی معاملے پولس میں درج کرائے تھے ۔سچ اور ایمانداری سے کام کرنے والے پاٹل کو اس سب کی قیمت اپنی جان گنوا کر چکانی پڑی۔ مہاراشٹر کے ہی وٹھل گیتے کا قتل بھی اس لیے کر دیا گیا کیوں کہ انہوں نے آر ٹی آئی کے استعمال سے گاؤں کے ایک اسکول میں چل رہی دھاندلی کا پردہ فاش کیا۔آندھرا پردیش کے سولا رنگا راؤ کو سوال پوچھنے کی قیمت اپنی جان دیکر چکانی پڑی۔راؤ نے اپنے گاؤں میں نالے کی تعمیر کے لیے جاری کئے گئے فنڈ کے بارے میں سوال پوچھے تھے۔بہار کے بیگو سرائے کے ششی دھر مشرا نے کئی گھوٹالوں کا راز فاش کیا تھا۔نتیجتاً ششی دھر مشرا کا بھی قتل کر دیا گیا۔
بہر حال اطلاع اور سچ کے ان سپاہیوں کو سماج عزت تو دے ہی رہا ہے لیکن ان لوگوں کے تئیں ہماری سچی عقیدت یہی ہو گی کہ ہم بدعنوان لوگوں اور اداروں کے خلاف اپنی لڑائی تیز کریں ۔زیادہ سے زیادہ تعداد میں آگے آکر حق اطلاعات قانو ن کا استعمال کریں۔

انہیں ملے گا اعزاز

شہری زمرہ
ونیتا کامٹے،مہاراشٹر
منوج کروارسا،ہریانہ
رمیش ورما،ہریانہ
راجن گھٹے،گووا
اطہر شمسی،اتر پردیش
صحافی زمرہ
سیکت دتہ
پی آئی او زمرہ
پردیپ کمار،بی ڈی او،بلاسپور،ہماچل پردیش
مرنے کے بعد خصوصی اعزاز
امت جیٹھوا،گجرات
دتہ پاٹل،مہاراشٹر
ستیش شیٹی،مہاراشٹر
وٹھل گیتے،مہاراشٹر
سولا رنگاراؤ،آندھرا پردیش
ششی دھر مشرا،بہار
بسرام لکشمن،گجرات
وینکٹیش،کرناٹک
للت مہتا،جھارکھنڈ
کامیشور یادو،جھارکھنڈ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *