آروشی قتل کیس: سی بی آئی کی ناکامی تشویشناک

وسیم راشد
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
آروشی تلوارولادت( 24مئی 1993،وفات 15مئی 2008 )ایک معصوم بچی جس کے قتل کو ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی حل نہیں کرپائی اور 2010کے اختتام کے ساتھ ہی ساتھ اس کا کیس بھی بند کردیا گیا۔
2010کے ختم ہونے اور 2011کے شروع ہونے کے ساتھ اس معصوم بچی کا قتل معمہ ہی بنا رہا۔ جل وایو وہار، نوئیڈا(اترپردیش) میں ایک مشہور دانتوں کے ڈاکٹر باپ اور ماں کی یہ لاڈلی اپنے ہی گھر میں مردہ پائی گئی اور ہیم راج جو اس گھر کا نوکر تھا اس پر شک کی سوئی اس طرح گھومی کہ فوراً ہی اس کی اطلاع دینے والے پر انعام کا اعلان بھی کردیا گیا اور پولس اس کی تلاش میں نیپال تک چلی گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 17مئی 2008کو آروشی کے جسد خاکی کو نذر آتش کردیا گیا اور تب تک پولس یہ پتہ نہیں لگاپائی کہ گھر میں ایک اور لاش بھی پڑی ہوئی ہے، وہ تو بھلا ہو ایک ریٹائرڈ پولس آفیسر کا جو ڈاکٹر تلوار کے رشتہ دار کے ساتھ تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا اور اس نے دیکھا کہ جو سیڑھیاں چھت پر جارہی ہیں، اس پر خون لگا ہوا ہے اور اس طرح چھت پر ہیم راج کو جس کو نیپال تک تلاش کرلیا گیا، اس کی لاش اسی گھر کی چھت پر پائی گئی۔ پولس کو کچھ نظر نہیں آیا اور 23مئی کو فوری طور پر ڈاکٹر تلوار کو گرفتار کرلیا گیا اور ان پر دوہرے قتل کا کیس لگادیا گیا۔آروشی کی ماں ڈاکٹر نوپور تلوار نے اپنے شوہر کے دفاع میں یوپی کی وزیراعلیٰ مایاوتی سے درخواست کی کہ یہ کیس سی بی آئی کو سونپ دیا جائے۔ یہاں دوباتیں بہت اہم ہیں کہ جس گھر میں قتل ہوا، کیا پولس کو اس گھر کے چپے چپے کی تلاشی نہیں لینی چاہیے تھی؟ کیا پولس کو چھت تک جا کر شواہد تلاش نہیں کرنے چاہیے تھے؟ پولس نے اتنی بھی زحمت نہیں کی کہ ایک بار پورا گھر چیک کیا جاتاا ور دوسری بات یہ کہ آروشی کے والدین کو فوری طور پر کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ آروشی کے والدین قاتل نہیں ہیں یا نہیں ہوسکتے، کیوں کہ جب ملک کی سب سے بڑی، ذمہ دار اور قابل اعتماد تفتیشی ایجنسی اس کا پتہ نہیں لگا پائی تو ہماری کیا بساط؟ مگر جب کچھ شواہد ہی نہیں بچے جیسا کہ سینئر کرمنل لائر سشیل کمار کا کہنا ہے کہ اس کیس کے ثبوت ابتدائی مرحلے میں ہی مٹا دیے گئے تھے تو پھر کس بنیاد پر دو نوکروں، مسٹراور مسز تلوار کو گرفتار کیا گیا؟ اور اگر لیکھی کے بیان پر جاتے ہیں تو ان کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور حالات سے ایسا لگتا ہے کہ واردات کے وقت کوئی بہت ہی طاقتور شخصیت وہاں موجود تھی اور یہ سب صرف ایک ڈراما تھا اور اس طرح سے کیس بند کردیا گیا۔ سی بی آئی نے جس طرح سے ’مرڈر مسٹری‘ کہہ کر ہاتھ اٹھا دیے ہیں، اس سے سی بی آئی کسی بھی طرح اپنی ناکامی کے الزام سے بچ نہیں سکتی۔ ایک بند کمرے میں ایک بند فلیٹ میں ایک بچی کا قتل ہوا ہو۔ کوئی باہر کا آدمی نہ اندر آیا اور نہ ہی کوئی آسکتا تھا۔ ماں باپ بچی اور تین نوکر۔ ماں باپ کو بچی کی چیخ سنائی نہیں دیتی اور یہ جواز کہ اے سی کی آواز میں سنائی نہیں دی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ راجیش تلوار کے کمپاؤنڈر کرشنا کو صرف شک کی بنیاد پر حراست میں لیا جانا بھی ایک معمہ ہے۔ حالانکہ کرشنا کا لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ بھی ہوا اور ایک بات یہاں ہمیں اور کہنی ہے،وہ ہم صرف انسانیت کے ناطے کہہ رہے ہیں کہ پولس کی تفتیش کے مطابق نوکر قاتل ہیں اور سی بی آئی کے پاس کوئی بھی پختہ ثبوت اس بات کے نہیں تھے کہ ان دونوں نوکروں ہی نے قتل کیا ہے، اس کے باوجود نارکو ٹیسٹ کیا گیا۔ آپ جانتے ہیں کہ نارکوٹیسٹ کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ایک انجکشن Truth Serumکے نام سے لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دماغ کام کرتا رہتا ہے۔ آدمی بولتا رہتا ہے، لیکن وہ سوچ نہیں پاتا، یعنی یہ ٹیسٹ انسان کو سوچنے کی مہلت نہیں دیتا۔ یہ ٹیسٹ بہت زیادہ اذیت ناک اور Scientificہے۔ یوروپ میں یہ ٹیسٹ ماہرین نفسیات کسی شخص کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگانے کے لیے کیا کرتے تھے۔ اگر یہ ٹیسٹ کسی سے سچ اگلوا سکتا ہے تو پھر یہ ٹیسٹ کلماڈی، اے راجا، یدورپا، نیرا راڈیا، برکھا دت پر بھی کیا جانا چاہیے تھا۔ چونکہ یہ غریب تھے، نوکر تھے، اس لیے ان پر یہ ٹیسٹ کیا گیا اور یہ ملک کو بیچنے والے، اربوں کھربوں روپے کا گھوٹالہ کرنے والے ان پر یہ ٹیسٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ سارے گھوٹالہ بازوں کا نارکوٹیسٹ، لائی ڈیٹیکٹرٹیسٹ یعنی اس طرح کے جتنے بھی ٹیسٹ ہوں، کیے جائیں، کیوں کہ یہ اتنے سخت لوگ ہیں کہ خود سے تو اگلیںگے نہیں۔ جب ایک دن میں آروشی کے قتل کے شواہد مٹائے جاسکتے ہیں تو ان گھوٹالوں کو تومہینوں گزر گئے۔ اب کیا ثبوت ہاتھ لگیںگے۔ ہمیں یاد آرہا ہے وہ منظر جس وقت آروشی قتل کیس میں نوکروں کا نارکوٹیسٹ کیا جارہا تھا اور سوالات پر سوالات کیے جارہے تھے تو ان کے گال پر تھپڑ مار مار کر پوچھا جارہا تھا کہ بولو تم نے قتل کیا ہے۔ وہ اس انجکشن کی حالت میں بھی کہہ رہے تھے کہ ہم نے نہیں کیا۔ ہم کیوں کریںگے؟
خیر جو بھی ہوا ہے۔ 16مئی 2008سے لے کر 29دسمبر 2010تک ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی فیل ہوگئی۔ اب آروشی قتل کے ثبوتوں اور میڈیکل رپورٹس کی بات کریں تو آل انڈیا میڈیکل سائنس کے ڈاکٹرس جو سی بی آئی کے ساتھ کام کر رہے تھے، انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ 16مئی کو جو رپورٹ سنیل ڈور نے نوئیڈا پولس کو سونپی تھی، اس میں بھی ایمس کے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ کچھ اہم ٹیسٹ کی رپورٹ پر تفتیش نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ بتائیے کہ یہ کس کی ڈیوٹی ہے کہ جو بھی ٹیسٹ یا پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی ہو، اس پر پوری طرح سے چھان بین ہو، یہ کام ڈاکٹرس اور تفتیش کار کا ہے کہ تمام بائیلوجیکل شواہد کو جمع کر کے سی بی آئی کے سپرد کرے اور قانون کے مطابق یہ ضروری ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سب کچھ لکھا جائے۔
یہی بات سدھیر گپتا جو ایمس کے فارنسک ڈپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پر جو پوری طرح چھان بین کر رہے تھے، ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ شواہد جو ملے ہیں، ان پر بھی پوری طرح کام نہیں ہوا۔ قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرمین محترمہ گرجا ویاس نے بھی آروشی قتل کیس کی فائل بند کرنے پر سی بی آئی کے فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ آروشی کے والدین نے بھی سی بی آئی کے ہاتھ کھڑے کردینے پر اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آروشی کی ماں کا کہنا ہے کہ ہمیں شدید صدمہ پہنچا ہے، جب کہ ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تمام ٹیسٹ اور جانچیں کروائیں۔ اس کے باوجود سی بی آئی کا اس طرح فائل بند کر دینا اور ہار مان لینا شدید تکلیف کا باعث ہے۔ سشما سوراج نے بھی اپنے ٹیوٹر میں لکھا ہے کہ سی بی آئی کی معاملہ بند کرنے کی رپورٹ پوری طرح سے مایوس کن ہے۔
ہم بھی بہت مایوس ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ معمولی سے گھر میں ہوئے قتل کو جب اتنی بڑی ایجنسی حل نہیں کر پائی تو پھر باقی بڑے بڑے قتل کیسوں اور معاملوں کا تو اللہ ہی مالک ہے۔ یہ سی بی آئی کی بری طرح ناکامی ہے، جس کے لیے ایک جمہوری ملک پوری طرح شرمسار ہوا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *