کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں

عفاف اظہر
عیسائیوںکے مذہبی پیشوا پوپ بنیڈ کٹ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ آسیہ بی بی کو رہا کریں جنہیں توہین رسالت کے جرم میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے ۔ پوپ بنیڈکٹ نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ پاکستان میں عیسائی برادری کو اکثر تشد د اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے آسیہ بی بی کی رہائی کی اپیل کی جو پانچ بچوں کی ماں ہیں جنہیں نومبر میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی جاچکی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے ہر شخص کے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا احترام ہو ۔ پاکستان میں عیسائی خاتون آسیہ گزستہ ڈیڑھ برس سے قید ہیں، جن کا سزائے موت کے اس فیصلہ  پر کہنا ہے کہ وہ تمام الہامی کتب اور انبیاہ کا دل سے احترم کرتی ہے اور کسی کی توہین کرنے کی توسوچ بھی نہیں سکتیں۔ یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے جس پر انھیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گئے ہیں، جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں جنہیں ایک طویل عرصہ سے اقلیتی لوگوں کے خلاف ذاتی جھگڑوں میں استعمال کیا جا تا آ رہا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے حسب معمول مذمت کی جا رہی ہے اور ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی انسانی حقوق کے قوانین کے ضابطوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے اور اس پر اس طرح کے فیصلے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتے ہیں ۔ پاکستان خصوصاً پنجاب میں توہین رسالت کے مقدمات عام ہیں جن مقدمات پر لوکل عدالتیں اکثر ملزمین کو موت کی سزا سنا دیتی ہیں بلکہ اس سے قبل تو بے شمار ایسے واقعات بھی ہو چکے ہیں جن میں توہین رسالت، توہین قران اور توہین اسلام کے جیلوں میں قید ملزمین کو  جیل میں ہی جوشیلے عاشقین اسلام کے حملوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور  بے شمار ایسے ہندو بھی ہیں جن کو ذاتی عناد کی بنا پر توہین رسالت کے اس قوانین کی آڑ لے کر طاقتور عناصر نے راستے سے ہٹا دیا تو ایسے عیسائی بھی جنہیں فقط ان کے عقائد سے   تعصب کی بنا پر اسی قانون کا شکار بنایا گیا اور بیچارے احمدی وہ تو ہیں ہی ہمیشہ سے قربانی کے ایسے بکرے جن کی گردنوں پر فتوۂ کفر کی تیز دھار چھریاں ہاتھوں اور پاؤں  میں فتوہ واجب القتل کی بیڑیاں اور لبوں پر توہین رسالت کے قفل ہیں ۔ایسے بے زبان جانور ہیں کہ جن کی لاشوں کو قبروں سے اس لئے نکا ل پھینکا جاتا ہے کہ قبرستان کے باقی مردوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں جن کی عبادت گاہوں کو اس لئے تحفظ حاصل نہیں کہ ان کی عبادتیں دوسرے مسلمانوں کا دل دکھانے کا سبب بنتی ہیں ، جن کے  طالب علموں کو تعلیم سے محروم تاجروں کو تجارت سے محروم اور سائنس دانوں اور  ڈاکٹروں کو زندگیوں سے محروم صرف اور صرف اسلئے کر دیا جاتا ہے کہ ان کے عقائد سے مسلمانوں کے شیشے سے بھی نازک جذبات کو ٹھیس جو پہنچتی ہے۔ توہین رسالت کا لفظ زبان پر آتے ہی بے اختیار ذہن کی سوئی رسول خدا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر اٹک جاتی ہے، وہ رحمت انسانیت جو بلا شبہ رحمت تھے تمام جہانوں کے لئے جس کا ثبوت فتح مکہ کا دور ہے جب اکرمہ بن جہل جیسے شر پسند و بد ترین دشمنوں کو بھی معاف کر دیا گیا تھا ۔ توہین رسالت کا مطلب ہے ہر وہ چیز جس سے رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو چاہے وہ ہماری زبان ہاتھ یا پھر ا عمال ہی کیوں نہ ہوں ۔ ایک مسلمان  ہونے کے ناطے اگر ہمارے افعال و اقوال قران و سنت کے منافی ہیں تو یہ بھی توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ باالکل اسی طرح جیسے ایک طالب علم کلاس میں بیٹھ کر استاد کی بات ماننے سے منکر ہو ، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم رسول اللہ سے محبت کا   دعویٰ تو رکھیں مگر ہمارے افعال ان کی سنت و احادیث کو رد کر رہے ہوں ۔ کیا ہمارے قانون ساز ادارے سنت رسول سے لا علم ہیں ؟ کیا ہمارے احکام ا علی خلفا ئے راشدین کے دور حکومت سے نا واقف ہیں ؟ یا پھر ہماری ہمیشہ سے مظلوم و معصوم مگر اسلام کی محبت میں سرشارپاکستانی قوم اسلام اور قران کی تعلیمات سے کلی طور پر بے بہرہ ہیں ؟ اور  مذہبی علما سے تو شکوہ ہی فضول ہے کیوں کہ ان کے یہ غیر انسانی فتوے ، بغض و عناد سے بھرے دل و دماغ اور نفرتوں کا پرچار کرتے اقوال و افعال اس حقیقت کو ثابت کر رہے ہیں کہ اسلام آج انکے لئے دین و مذہب نہیں بلکہ فقط کمائی کا ذریعہ اور طاقت کے حصول کا زینہ بن چکا ہے ۔ گویا کہ
ہر بات پہ دے دیتے ہو کفر کے فتوے
یہ اسلام ترے باپ کی جاگیر ہے کیا ؟
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ توہین رسالت کا قانون بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اقلیتوں کی گردنوں میں پھندا ڈالا جا سکے ورنہ یہ حقیقت کس نظر سے پوشیدہ ہے کہ ایسے غیر انسانی  قانون تو خود ہی تعلیمات اسلامی اور سنت نبوی کے منافی ہیں جب کہ رسول اللہ کی  سنت تو خود پر کیچڑ پھیکنے والی مکہ کی عورت کو بھی معاف کر دینا اور اس سے انسانیت و محبت کا سلوک کرنا تھی۔ آپ کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان کر دینے والی بد بخت وادی طائف کے حق میں بھی دعا کرنا تھی اور اسلامی تعلیمات جو کہ ہیں ہی سر ا سر امن اور انسانیت سے پیار پر مبنی تو پھر اس طرح انسانی حقوق کی پامالیوں انسانی جانوں کی   بے حرمتوں پر مبنی قوانین جو کہ بذات خود توہین رسالت اور توہین اسلام کے سوا اور  کچھ نہیں بھلا اسلام اور رسول اللہ کی عزت و ناموس کی حفاظت کیسے اور کیوں کر کرسکیں گے ؟ اور پھر انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ اسی طرح کا ایک اور قانون اقلیتوں کے لئے بھی بنایا جانا چاہیے جو کہ ان تمام نام و نہاد مسلمانوں پر اسی طرح سے لاگو ہو جو دوسرے مذاہب کی ہتک کرنا اور دوسرے مذاہب کی شخصیات اور مذہبی پیشواؤں کی توہین و تذلیل کرنا اپنا ذاتی حق اور فرض اولین سمجھتے ہیں تاکہ انھیں خود بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کاموقع دیا جائے اور جن کی محبت فقط نعروں تک محدود ہے ، کیوں کہ  مذہبی غیرت تو سب کی برابر ہے کہ قرآن پاک کی سورہ الا نعام کی آیت نمبر ایک سو نو  میں ارشاد خدا وندی ہے کہ ” اور تم انکے جھوٹے معبودوں کو گالیاں مت دو تاکہ وہ دشمن ہو کر جہالت کی بنا پر تمھارے سچے معبود کو گالیاں نہ دیں ”  مگر افسوس کہ ہمارے اپنے جذبات تو شیشے سے بھی نازک ہیں کہ اقلیتوں کے سانس لینے سے بھی مجروح ہو جاتے ہیں مگر خود نہ صرف سر عام دوسرے عقائد کی تعلیمات کو برا بھلا کہتے بلکہ دوسرے عقائد کے خلاف نفرت اور غلاظت سے بھرپور کتب و جرائد بازاروں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہم تو واجب القتل کے فتوے دے کراقلیتوں کے خون سے  ہولی تک کھیلنے کو مسلمانیت کا فرض اولین گردانتے چلے آ رہے ہیں ۔
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں
آج یہ توہین رسالت کا قانون انتہا پسند ملاؤں کے ہاتھوں میں ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو نہ صرف انکی طاقت کا دائرہ وسیع کرتا چلا جا رہا ہے بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ پاکستانی  تعلیم و ترقی سے محروم معاشرے میں ایسے قوانین کی موجودگی کو ذاتی بغض و عناد کے لئے استعمال کرنا یقینی امر بن جاتا ہے ۔ انبیا کی توہین و ہتک ہر معاشرے میں ہی نا پسندیدہ ہوتی ہے مگر اس کے لئے قوانین سازی یا سزا کی ضرورت نہیں، خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں شدت پسندی کا دور دورہ ہو اور مولوی حضرات نے مذہب کا مذاق بنا رکھا ہو ۔ ورنہ وہ کیا بات تھی کہ نہ تو محمد رسول اللہﷺ کے دل میں خود تو گالیاں سننے پر، کیچڑ پھینکنے پر اور لہو لہان کر دینے پر بھی اس طرح سے اپنی توہین کا احساس نہ جاگا کہ موت کی سزائیں دینے کی نوبت آئے اور نہ ہی ان کے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ نے اپنے بے مثال عشق رسول کے باوجود کوئی بھی ایسی مثال چھوڑی کہ جن سے انسانی  جانوں کی بے حرمتیوں کا درس ملے اور نہ ہی خلفائے راشدین کے سنہرے دور حکومت میں کسی بھی ایسے واقعہ کی بھنک بھی پڑتی ہو کہ انھیں توہین رسول اللہ سے محبت و عقیدت جتانے کے لئے توہین رسالت کے نام پر قوانین سازی کر کے انسانی حقوق کی پامالیوں کی تلقین کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو ۔ کیا خلفا ئے راشدین یا اصحابہ اکرم کو رسول اللہ کی عزت و ناموس کی پرواہ نہیں تھی یا پھر آج ان مولوی حضرات کو توہین رسالت کا مطلب زیادہ اچھی طرح سے سمجھ آنے لگا ہے ؟ یا کہ پھر رسول اللہ کو خود اپنی ہتک کا احساس نہ تھا جو مکہ کی تاریخ میں عفو و درگزر انسانیت سے بے لوث محبت کی ایسی سنہری مثالیں قائم کرتے رہے کہ غیر مسلم بھی بے اختیار کہ اٹھے کہ
عشق ہو جائے کسی سے چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پر اجارہ تو نہیں
یقینا رسول اللہ سے محبت و عقیدت جز و ایمان ہے اور کوئی شخص بھی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے والدین عزیز و اقارب سے بڑھ کر رسول اللہ کی ذات پاک سے محبت نہ کرے اور ایک مسلمان کے لئے رسول اللہ کی ذات اقدس اس محور کی مانند ہے جس کے ہالے میں گردش ہی اس کی پہچان ہے اور آپ کے وجود مقدس سے عشق و محبت اور عقیدت کا صرف یہی تقاضہ ہے کہ آپ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، آپ کی سنت پر عمل پیرا ہوا جائے، آپ کی قائم کی ہوئی مثالوں سے سبق اندوز ہوا جائے اور اس محسن انسانیت کے چاہنے والوں کی حیثیت سے خود کو انسانیت سے بے لوث پیار کے سانچے میں ڈھالا جائے ۔ اگر ایک نظر اس رسالت کی تعلیمات پر ڈالیں جس کی توہین کے نام پر ایسی حیوانی قوانین سازی کی گئی تو شرم آتی ہے اس معاشرے کو اسلامی معاشرہ کہتے ہوئے ۔ اگر لمحہ بھر کو رسول خدا کی سنت اور ان کی اقوال و احادیث کی دیکھا جائے تو شرم آتی ہے اپنے جنگل کے قوانین پر مبنی انسانی حقوق کی پامالیوں، انسانی جانوں کی بے حرمتیوں کی، آے روز زندہ مثالیں پیش کرتے حیوانیت سے بھرپور معاشرے پر…….. شرم آتی ہے کہ آج ہم عقل فہم رکھتے ہوئے بھی ان انسانی حقوق کی بے دریغ ہوتی پامالیوں پر خاموش ہیں ………شرم آتی ہے کہ آج ہم اسلام زندہ باد کے نعرے لگانے میں اس قدر محوہیں کہ اسلامی تعلیمات ہی کو نظر انداز کرتے چلے جارہے ہیں …….شرم آتی ہے کہ ہم آج  توہین رسالت کے شور مچانے میں اسقدر  مصروف ہیں کہ رسول اللہ کے اقوال و سنت کی نفی کرتے انسانیت کی توہین و تذلیل کرتے خود ہی متواتر توہین رسالت کے مرتکب ہوتے چلے جا رہے ہیں …شرم آتی ہے کہ آج ہم دوسروں کو کافر و ملحد ثابت کرنے میں اسقدر مصروف ہیں کہ اسکے لئے  خود ہی کفر کی تمام تر حدیں پھلانگتے چلے جا رہے ہیں ……..شرم آتی ہے کہ امریکا، یورپ، اسرائیل و ہندوستان میں انسانی حقوق کے تمام قوانین ہمیں ازبر ہیں اور انکی آنکھ کا تنکا بھی ہماری نظر سے پوشیدہ نہیں مگر اپنی آنکھ کا شہتیر مسلسل نظر انداز کرکے اپنے ہی ملک میں اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کے ساتھ ہوتے مظالم ان بد سلوکیوں اور اسلام کے نام پر کلنک اور رسول اللہ کی ذات مقدس پر کیچڑ اچھالنے کے مصداق  وحشیانہ غیر انسانی  قوانین پر بھی  خاموش ہیں……کیوں ؟؟؟نجانے کیوں ؟؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *