جی! یہ آپ ہی کے چنے ہوئے نمائندے ہیں

وسیم راشد
یہ لیجیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد اب رسوئی گیس کی باری ہے۔ جی ہاں! آپ کا چولہا جلے نہ جلے آپ کو لہسن 150روپے کلو اور پیاز 60روپے کلو ملے۔ آپ کے گھر ایک وقت ہی کھانا پکے، مگر حلق تک بھرے ہوئے یہ گھوٹالہ باز اسی طرح آزادانہ پھرتے رہیںگے۔ آدرش گھوٹالہ سامنے آیا، سبھی تفصیلات سامنے آگئیں، مگر چوان صاحب ابھی تک دندناتے پھر رہے ہیں۔ 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ جی ہاں! ہندوستان کی تاریخ کا گھوٹالوں کا راجا اور اس کا گھوٹالہ باز بھی کسی راجا سے کم نہیں۔ وہ بھی اے راجا ہے۔ یعنی جیسا نام ویسا کام۔ اے راجا صاحب نے اپنے نام کو ہندوستان کا نمبر ون گھوٹالہ کر کے یہ ثابت کردیا کہ وہ نام کے ہی نہیں کام کے بھی راجا ہیں اور وہ بھی ابھی تک اپنے اے سی ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہر ٹی وی چینل پر خود کو دیکھ کر یقینا خوش ہورہے ہوںگے کہ چلو بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوا؟ اور پھر کون سا انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا، وہ بھی ہشاشبشاش عوام کا پیسہ کھا کر آرام سے اپنے دن و رات بتا رہے ہیں۔ نیرا راڈیا جی وہ تو غضب کی عورت نکلیں، یوں کہیے کہ انہوں نے تو 10شاطر مردوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اب بتائیے ان کا کسی نے کیا بگاڑ لیا۔ اب آئیے یدورپا جی پر تو وہ تو پھر ٹھہرے اعلیٰ منصب والے، ان پر کوئی کیسے آسانی سے ہاتھ ڈال لے گا۔ یہ سب کچھ ہورہا ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، مگر ہم کچھ نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمیں آٹا، دال، آلو، پیاز کے داموں میں ایسا الجھا دیا گیاہے کہ ہمارا دماغ باورچی خانہ سے آگے کی سوچتا ہی نہیں۔ ہمیں تو صبح دودھ، ڈبل روٹی کھا کر اپنے بچوں کو ایک پراٹھا اور سبزی دے کر اسکول چھوڑ کر آنا ہے۔ ہمیں تو پھر جلدی جلدی سوکھی بریڈ اور چائے کے گھونٹ زہرمار کر آفس پہنچنا ہے۔ وہاں سارا دن فائلوں میں سر کھپانا ہے اور بیچ بیچ میں بیوی کے احکامات بھی فون پر سننے ہیں کہ ’’آتے ہوئے آلو لیتے آنا، پیاز لیتے آنا اور ہاں سنو اگر سبزی منڈی جا سکو تو چلے جاؤ کیوں کہ وہاں تھوڑی سستی سبزی مل جائے گی۔‘‘ اب آپ جب تھکے ہارے گھر پہنچتے ہیں تو دال سبزی کھا کر ایک آدھ اچھا سا ٹی وی پروگرام دیکھ کر بچوں کے جھگڑے نمٹا کر تھک کر سوجاتے ہیں اور دیکھیے آپ سو رہے ہیں اور پورا ملک بک رہا ہے۔ جاگیے خواب غفلت سے بیدار ہوئیے، کیوں کہ یہ سب آپ کے ووٹوں سے چنے ہوئے نمائندے ہیں، جن کو اگر آپ نے ووٹ نہ دیا ہوتا تو یہ کسی لائق نہ ہوتے۔ آج آپ کی بدولت یہ پارلیمنٹ میں کھادی پہنے یا سوٹ پہنے ٹائی لگائے گردن اکڑائے بیٹھے ہیں۔ ان کو شرم نہیں آتی کیوں کہ یہ حرام کی کمائی کھاتے کھاتے اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ آپ کی پریشانی اور تکالیف پر پارلیمنٹ میں بات کرنے کی ان کے پاس فرصت ہی نہیں ہے۔ چاہے پورا سرمائی اجلاس ہی حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی کا شکار کیوں نہ ہوجائے۔ پورے اجلاس میں جے پی سی کو لے کر جس طرح اپوزیشن کا رخ رہا اور حکومت بھی ہٹ دھرمی پر قائم رہی، اس سے کس کا نقصان ہوا۔ اپوزیشن تو جیسے طے کر کے بیٹھی تھی کہ پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دے گی۔ سیشن شروع ہوتا تو سب صبح سج دھج کر آجاتے اور پھر جے پی سی کی مانگ کو لے کر گرما گرم بحث چھڑ جاتی۔ حکومت لاچار بنی سب کچھ دیکھتی رہتی اور پھر یوں ہوا کہ پورے کا پورا اجلاس ہی اسی خرافات کی نذر ہوگیا اور یہ مت سمجھیے کہ سیشن نہیں چلا تو اس سے عوام کا نقصان نہیں ہوا۔ نہیں یہ صرف اور صرف آپ کا نقصان ہے، کیوں کہ آپ کی گاڑھی کمائی سے یہ کھدر پوش سفید کرتا پائجامہ اور سیاہ دل والے لیڈران یوں چاق و چوبند اور موٹی موٹی توندیں لیے نظر آتے ہیں،ان کے پیٹوں میں آپ کے خون پسینہ کی کمائی ہے اور جس طرح اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پارلیمانی تعطل کی بنا پر تقریباً ڈیڑھ سو کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے تو وہ کسی اور کی نہیں آپ کی جیبوں سے ٹیکس کی شکل میں ادا کی ہوئی رقم ہے۔ اندازہ لگائیے کہ 23دنوں تک ایوان میں لیڈران  آئے چائے پانی چلا۔ پورے سیشن کی تنخواہ اور دوسرے الاؤنس بھی ان سبھی ڈھیٹ بنے ہمارے رہبروں نے ضرور لیے ہوںگے یا لے لیںگے اور کام ہوا صرف اور صرف 3گھنٹے اور صرف 2بلوں کی منظوری دی گئی، حالانکہ اپوزیشن کی یہ مانگ ہے کہ صرف جے پی سی ہی اتنے بڑے جہازی سائز گھوٹالے کی جانچ کرسکتی ہے، مگر حکومت کا یہ کہنا ہے کہ سی بی آئی اور دوسری اہم تفتیشی ایجنسیاں جانچ کر رہی ہیں۔ ہنسی آتی ہے، ہمیں اس بیان پر سی بی آئی یعنی ملک کی سب سے بڑی سب سے طاقتور اور سب سے اہم تفتیشی ایجنسی، مگر کیا آپ سی بی آئی پر بھروسہ کرتے ہیں؟ جو سی بی آئی ایک معصوم بچی آروشی مرڈر کیس کو نہ حل کرسکی جو سی بی آئی روچیکا کے ملزم راٹھور کے گھناؤنے چہرے کو سامنے نہ لاسکی، وہ سی بی آئی اتنے بڑے اربوں، کھربوں کے گھوٹالے کی جانچ کرے گی؟ چلیے تفتیش کرلیتے ہیں کہ سی بی آئی جانچ کرے گی، مگر اگر جے پی سی کا مطالبہ حکومت تسلیم کرلیتی تو اس میں کیا نقصان تھا۔ جہاں تک میری ناقص عقل کام کرتی ہے، راجا کی بے ایمانی، نیرا راڈیا کے ٹیپ، ویر سانگھوی کی راڈیا سے بات چیت، پربھوچاؤلہ کی نیرا راڈیا سے بات یہ سب ایک سرکاری ایجنسی کے ذریعہ سامنے آیا تھا اور وزیراعظم سے سپریم کورٹ نے براہ راست جواب مانگا تھا۔ ایسے میں یہ تو حکومت کو معلوم ہی تھاکہ پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوتے ہی مخالف پارٹیاں جانچ کی مانگ کریںگی۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی مانگ بھی شاید اس لیے کی گئی کہ اس طرح کی کمیٹی میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شامل ہوںگے اور جانچ میں آسانی ہوجائے گی۔ حالانکہ اب یہ بات فضول ہی ہے، جب کہ سپریم کورٹ نے پوری جانچ ہی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور 2001سے جانچ کرنے کی بات بھی کہی جارہی ہے، مگر پارلیمنٹ کے چلتے چلتے تو یہی مسئلہ درپیش تھا۔ اگر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنا بھی دی جاتی تو اس میں کیا نقصان تھا؟ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا، اس کمیٹی میں کسی بھی وزیر اعلیٰ، افسر اور وابستہ افراد میں سے کسی کو بھی کسی بھی وقت بلا کر پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ہرشد مہتا کے شیئر گھوٹالہ کی بھی جے پی سی سے جانچ کی مانگ رکھی گئی تھی۔ لیکن اگر اس 2جی کی جانچ کے لیے جے پی سی بنا دی جاتی تو کیا نقصان تھا؟ کپل سبل نے ایک رکنی کمیٹی بنائی جو صرف ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جے پی سی جانچ کرتی تو شاید جلد ہی کچھ نہ کچھ نکل کر سامنے آتا۔ خیر! اب جب ملک کا سب سے بڑا عدالتی نظام اس گھوٹالہ کی جانچ کا بیڑا اٹھا رہا ہے تو یہ یقینا لائق تحسین ہے اور اس بات کی علامت بھی کہ جمہوری اقدار اب بھی ہندوستان میں زندہ ہیں۔ جانچ اب پوری طرح سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوگی اور اب ظاہر ہے کہ جے پی سی سے کرانے کی مانگ بے معنی ہے، مگر جو سیشن بے کار ہی چلا گیا، اس سیشن کی بھرپائی تو ہونا مشکل ہے۔ مگر یہ خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ جب اپنی نگرانی میں تحقیق کرائے گی تو یقینا یہ جانچ ہر طرح سے جے پی سی سے بہترنہیں بہت بہتر ہوگی۔ جسٹس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی بنچ نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ تفتیش کی اسٹیٹس رپورٹ سماعت کی اگلی تاریخ 10فروری 2011کو بند لفافے میں سونپے جانے کی ہدایت کی ہے۔ خدا کرے کہ یہ بند لفافے کی رپورٹ بند لفافے میں ہی پیش ہو، جس طرح نریندر مودی کی تفتیش کرنے والی ایجنسی کی رپورٹ لیک ہوگئی تھی خدا کرے یہ لیک نہ ہو۔ اس پوری جانچ میں ایک بات اور بہت اہم اور سکون کا باعث ہے کہ سپریم کورٹ نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ کسی شخص کے عہدے اور کسی بھی دباؤ کے بغیر یہ جانچ ہو۔
جو کام سپریم کورٹ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ اس جمہوری ملک کا پندار بچانے کی یقینی طور پر آخری کوشش ہے، ورنہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ کے اس تعطل پر سبھی اہم جماعتیں اور مختلف ادارے ملک گیر سطح پر مہم چلاتے اور بحث و مباحثہ کرتے کہ اس طرح اگر جمہوری ملک کا نظام چلے گا تو پھر غریب عوام کے حق کے لیے کون لڑے گا۔ مگر یہاں ہم ایک بات ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ عوام کو اپنے حقوق کا ضرور پتہ ہونا چاہیے اور اس کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ وہ اس پوری بدعنوانی پر حکومت سے جواب طلب کرسکتی ہے۔ ایک واحد طریقہ ہے آر ٹی آئی۔ یعنی حق اطلاعات جس کے ذریعے اگر عوام اس پوری بدعنوانی پر ایک ساتھ کھڑے ہوجائیں تو پھر بدعنوانوں کے یہ سمجھ میں ضرور آجائے گا کہ یہ اندھے، لولے، لنگڑے، بہرے اور کانوں کا دیس نہیں ہے، یہ اندھیر نگری چوپٹ راج نہیں ہے۔ یہاں کوئی ان سے سوال بھی کرسکتا ہے اور ایک بات اور یاد رکھیے یہ خوش پوش سیاسی لیڈر آپ کے مرہون منت ہیں، اگر آپ نہ ہوتے تو یہ بھی مکلف کالر کے ساتھ اکڑائی ہوئی گردن سے سینٹرل ہال میں نہ نظر آتے۔ آپ ان کو وہاں بھیجنے والے ہیں۔ آپ کو ہی ان سے نمٹنا ہے اور اکیلے نمٹنا ہے۔ یہ آپ کو سیکھنا ہوگا، کیوں کہ جس رفتار سے بدعنوانی بڑھ رہی ہے، اسی رفتار سے مہنگائی، غریبی، بیروزگاری بھی ایک عفریت کی طرح آپ پر نازل ہوتی جارہی ہے۔ اس سے بچنا، نکلنا اور اس کا سامنا کرنا ہے۔ یہ آپ کو ہی سیکھنا ہے۔ ایک اشتہار یاد آرہا ہے کہ ’جاگو گراہک جاگو‘ ہم کہتے ہیں ’جاگو میرے ملک کے عوام جاگو‘، ’جاگو اس ملک کی تقدیر سنوارنے والوں جاگو‘ یہ اب سونے کی نہیں جاگنے کی گھڑی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “جی! یہ آپ ہی کے چنے ہوئے نمائندے ہیں

  • December 31, 2010 at 5:57 pm
    Permalink

    bahut khub aap ne likha hai.2010 ko ghhotalon ka year kana behtar hoga.khuda kare 2011 ham sab ke liye ghotale aur mahngai se pak ho.ghotala dar ghota ke liye zimmadar woh log bhi hai jo in luteron ko apna nomainda muntakhb karte hai.ab bhi hosh ke nakhun lena zaruri hai.warna in ki maar se gareeb log marte rahenge.
    khuda hafiz
    new year bahut baut mobark ho
    phoolon ki tatah hans ke guzarti rahe hayat
    gham aap ke qareeb na aiye khuda kare
    Dr.Shahbudin Saqib
    sub editor
    hindustan express
    9891763977

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *