عالمی سیاست اور بالی ووڈ

رتیکا سونالی
بالی ووڈ فلموں کا بازار دوسرے ممالک کے فلمی بازاروں سے زیادہ وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان فلموں کے شوٹنگ مقامات کی تشہیر بھی کافی ہوتی ہے۔ ایک بات جو سب سے اہم ہے، وہ یہ ہے کہ جن مقامات پر فلموں کی شوٹنگ ہوتی ہے ان مقامات کی سیاحت میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات کئی ملک تسلیم کرچکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے سیاحتی مقامات پر خاص کر بالی ووڈ فلموں کی شوٹنگ ہو۔ اس بات پر کسی اور نے نہیں بلکہ رومانیا کے ایک وزیر نے مہر لگائی ہے۔حالانکہ ہمارے ملک میں یہ بالکل الٹا ہے۔یہاں کسی بھی مانیومنٹ یا ٹورسٹ ڈیسٹی نیشن پر شوٹنگ کی اجازت لینا فلم میکرس کے لئے فضیحت کا کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے ملک میں بہترین لوکیشن اور سیاحتی مقامات ہونے کے باوجود یہاں فلموں کی شوٹنگ کم ہی ہوتی ہے۔
رومانیا کے ایک وزیر برابی کیرلی نے حال ہی میں بالی ووڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ تجارت کا بہت شاندار وسیلہ ہے۔کیرلی نے بالی ووڈ کے فلم میکرس کو شوٹنگ کے لئے اپنے ملک میں مدعو کیا ہے۔ان کی مانیں تو اگر بالی ووڈ ان کے ملک میں شوٹنگ کرے گا تو جہاں ایک جانب ان کے ملک کی تشہیر ہوگی، وہیں جن مقامات پر فلم کی شوٹنگ ہوگی، ان مقامات پر سیاحت کو کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ بات صرف کیرلی نے ہی نہیںبلکہ مالدیپ کے وزیر سیاحت توحید محمد نے بھی تسلیم کی ہے۔توحید نے بالی ووڈ کی پذیرائی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بالی ووڈ کے فلم میکرس ان کے یہاں آ کر شوٹنگ کریں تو وہ مالدیپ کے بیشتر مقامات کو شوٹنگ کے لائق بنا دیں گے۔صرف 6.5لاکھ کی آبادی والے مال دیپ کی معیشت سیاحت پر منحصر ہے۔یہاں کی آبادی کا 13فیصد حصہ یعنی 85000ہندوستانی ہیں، یہاں بالی ووڈ کی فلمیں اور ٹی وی سیریل بچوں سے لے کر بزرگوںتک میں بے حد مقبول بھی ہیں۔یہاں کے ٹریول ایجنٹس مانتے ہیں کہ یہاں کی سیاحت کو بالی ووڈ کے فلم سازوں کی وجہ سے بہت فروغ ملتا ہے۔ حال ہی میں رتک روشن کی فلم ’’کائٹس‘‘ کی شوٹنگ مالدیپ میں ہوئی تھی، اس سے مالدیپ کی سیاحت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔بی ٹائون کے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے مصر ٹورزم نے اپنا برانڈ امبیسڈر بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی کو بنایا ہے۔حالانکہ مصر کے پرامڈ میں پہلے سے ہی بالی ووڈ کی فلموں کی شوٹنگ ہوتی آ رہی ہے لیکن ان دنوں مصر کی مقبولیت بالی ووڈ میں بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ سلینا جیٹلی کی مصر کے پرامڈ کے پاس کروائی گئی فوٹو شوٹ نے فن کاری کی دنیا کے کئی لوگوں کو متوجہ کیا ہے۔صرف بالی ووڈہی نہیں بلکہ عام لوگوں کے درمیان بھی مصر کو مقبول بنانے کے لئے وہاں کی حکومت نے یہ کوشش شروع کی ہے ۔ ایشوریہ رائے اور پرشانت کو مصر کے پرامڈ کے ارد گرد گھوم کر فلم جینس کے نغمہ عجوبہ ہے ۔۔۔کو خوب پسند کیا گیا۔ علاوہ ازیں فلم ’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘ میں شاہ رخ خان اور کاجول پر فلمایا گیا رومانی نغمہ’’ سورج ہوا مدھم‘‘ بھی بے حد مقبول ہوا، اس کے بعد فلم سنگھ از کنگ میں ’’جی کردا‘‘ اور’’ تیری اور‘‘ نغمہ میںبھی مصر کے پرامڈ کو خوب تشہیر ملی۔
یہ فارمولہ صرف غیر ممالک پر ہی نافذ ہوتا ہے۔ سیاحت میں فروغ کے پیچھے دلیل یہی ہوتی ہے کہ ایک تو لوگ شوٹنگ کے دوران ہی پہنچ کراداکاروں اور مقامات کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد بیشتر لوگوں میں فلم دیکھنے کے بعد مقام دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ مثال کے لئے فلم ویر کی زیادہ تر شوٹنگ جے پور میں ہوئی تھی۔ فلم کی شوٹنگ کے بعد اس لوکیشن کو خوب مقبولیت ملی اور اس کی سیاحت پہلے سے کافی بہترہو گئی تھی اور ایسی مثالیں کم نہیں ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دوسرے ملک بالی ووڈ کی شوٹنگ کو لے کر تاب ہیں تو پھر ہماری حکومت ایسا کیوں نہیں سوچ پاتی۔۔۔۔۔کیوں نہیں وہ بالی ووڈ کو اتنی اہمیت دیتی ہیں۔ کیوں نہیں وہ اپنے ملک کی سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

رتیکا ایس برنوال

نوجوان طبقہ کی نبض کو پڑھنے اور ان کی امنگوں کو بیان کرنے میں ماہر رتیکا ایس برنوال ہمیشہ کچھ الگ کرنےکو کوشاںرہتی ہیں۔

Latest posts by رتیکا ایس برنوال (see all)

Share Article

رتیکا ایس برنوال

نوجوان طبقہ کی نبض کو پڑھنے اور ان کی امنگوں کو بیان کرنے میں ماہر رتیکا ایس برنوال ہمیشہ کچھ الگ کرنےکو کوشاںرہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *