وکی لیکس کے کچھ انکشافات درست تو کچھ گمراہ کن

وسیم راشد
وکی لیکس نے دنیا بھر کے حوالے سے بے شمار انکشافات کیے ہیں۔بالخصوص امریکہ کی حقیقی ڈپلومیسی سے اس نے عالمی رہنمائوں کو روشناس کرایا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنے سفارتخانوں کے ذریعہ دوست ممالک کی بھی جاسوسی کرتا ہے۔ وکی لیکس تقریباً ڈھائی لاکھ امریکہ کی خفیہ سفارتی دستاویزات کو منظرِ عام پر لایا ہے جن میں سے بیشتر پچھلے تین سال کے عرصے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان خفیہ سفارتی دستاویزات میں سے کچھ دستاویزات رواں سال فروری کی بھی ہیں۔اس ادارے نے ان خفیہ  دستاویزات کو قسطوں میں اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔
وکی لیکس کا یہ قدم لائق ستائش ہے کہ اس نے امریکہ کے اس شیطانی چہرے کو دنیا کے سامنے رکھا ہے،جس نے کبھی اپنے قریبی دوست کو بھی نہیں بخشا۔ یوں تو امریکہ کا دوغلہ پن دنیا پر واضح طور پر عیاں ہے، لیکن وہ کس درجہ دوغلہ ہے یہ ہم سب کو بتا یا ہے ولی لیکس نے۔تاہم اس ویب سائٹ کے کچھ انکشافات ایسے ہیں جو ہضم نہیں ہوتے۔ ہندوستان کے حوالے سے منظر عام پر آئے بیشتر انکشافات جھوٹ کا پلندہ ہی محسوس ہوتے ہیں۔انہیں گمراہ کن بھی کہا جا سکتا ہے۔ دراصل وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق ہندوستان ایک کمزور ملک ہے ، اس میںدشمن پر حملہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ ہندوستان کا ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ منصوبہ محض کاغذوں تک ہی محدود ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ ممبئی حملو ںکے لیے ذمہ دار پاکستان کو منہ توڑ جواب دیتا۔آپ کی معلومات کے لیے یہ بتا دیں کہ ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ وہ منصوبہ ہے جس کے تحت ملک میں دہشت گردانہ حملہ ہونے پر72گھنٹوں کے اندر دشمن ملک پر حملہ کرکے اس کے دہشت گردانہ ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔
وکی لیکس کے اس انکشاف سے ملک کے فوجی سربراہ  جنرل وی کے سنگھ نہ صرف مایوس ہیں بلکہ حیران بھی ہیں۔وی کے سنگھ کے مطابق پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے ہندوستان کے پاس’’کولڈ اسٹارٹ ‘‘نام کا کوئی منصوبے سرے سے ہے ہی نہیں۔ جنرل وی کے سنگھ نے وکی لیکس کے اس انکشاف کی بھی مذمت کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ہندوستانی فوج کمزور ہے اور اس میں دشمن پر جوابی حملہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔وکی لیکس کے اس انکشاف سے کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہی نہ کہ وہ دو ملکوں کو باہم لڑانا چاہتا ہے۔جب ہمارے پاس’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ نام کا کوئی منصوبہ ہے ہی نہیں تو وہ کس بنیاد پر اس طرح کے جھوٹے اور گمراہ کن انکشافات کر سکتا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ وکی لیکس ہندوستان کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر ہا ہے اور وہ اسے پاکستان کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس نے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے امکانات کے حوالے سے بھی انکشاف کیا ہے۔یعنی وہ دونوں ملکوں کو لڑانے کے لیے وہ جنگ کی ابتدائی تیاری کرر ہا ہے اور ہندوستان کو بھر پور طریقے سے اکسا رہا ہے۔خیر ایسے وقت میں دونوں ملکوں کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم عالم اسلام کے حوالے سے ولی لیکس کے انکشافات کی بات کریں تو وہ بھی کم چونکانے والے نہیں ہیں۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو ایران سے گویا پیدائشی دشمنی ہے۔ یہ ممالک باالخصوص امریکہ اور اسرائیل ایران کو دنیا کے نقشے پر ہی دیکھنا نہیں چاہتے، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسے صفحۂ ہستی سے مٹانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ایران جہاں ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے وہیں ٹکنالوجی کے معاملے میں بھی وہ تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔مشرق وسطی میں بھی اس کی طاقت اور دبدبہ سے کسی کو انکار نہیں، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کو کسی بھی قیمت منظور نہیں ہے۔امریکہ طاقت کے زور پر تو ایران کو تباہ و برباد نہیں کر سکا۔کیا ممکن ہے کہ وہ اب ڈپلومیسی کو ہتھیار بنا کر ایران کی تباہی کا خواب دیکھ رہا ہو۔ وکی لیکس نے ایران اور سعودی عرب کے حوالے سے جو انکشاف کیا ہے وہ اسی ڈپلومیسی کا حصہ نظر آتا ہے۔دراصل وکی لیکس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنا کر سعودی عرب کے کنگ شاہ عبداللہ کے موقف کو شائع کیا ہے ، جس کے مطابق عبداللہ نے باربار امریکہ پر یہ دبائو ڈالا کہ وہ ایران پر حملہ کر کے اس کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ساتھ ہی شاہ عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ سانپ کا سر اٹھنے سے پہلے ہی کچل دیا جائے۔وکی لیکس کے اس انکشاف کی نہ صرف شاہ عبداللہ اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے مذمت کی ہے بلکہ پورے عالم اسلام نے اس کی مذمت کی ہے اور اسے عالم اسلام کے خلاف ایک سازش بتایا نیز کہا کہ اس طرح کے انکشافات اسلامی ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ ایران نے اسے امریکہ کی سنگین سازش قرار دیا اور وکی لیکس کو دنیا میں بد امنی پھیلانے والی ویب سائٹ قرار دیا۔
وکی لیکس نے یوں تو بے شمار انکشافات کیے ہیں، لیکن عالم اسلام اسے اپنے خلاف سازش مانتا ہے۔ کچھ عالمی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کا مقصد صرف اور صرف ایران کو تنہا کرنا ہے۔یعنی ایران کو تنہا کرکے اسے ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دو۔ اگر ان رہنمائوں کی باتوں میں وزن ہے( جس کے امکانات قوی ہیں) تو امریکہ یا اس کے حلیف یہ سوچ لیں کہ ایران کو مٹانا بہت آسان نہیں ہے، کیونکہ ایران آپ کی سوچ سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور اس پر حملہ دنیا میں ایک نئی جنگ کو جنم دینے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
ایک دلچسپ بات اور ہم آپ کو یہاں بتانا چاہیں گے، دراصل وکی لیکس نے دنیا بھر کے ممالک کے تعلق سے انکشافات کئے ہیں،لیکن شیطانیت و شر پسندی کے مرکز اور دہشت گردی کے جنم داتا اسرائیل کا کہیں ذکر تک نہیں ہے۔ ایسا کیوں؟ خیر یہ ابھی تو راز ہی ہے لیکن اس راز سے بھی پردہ ضرور اٹھے گا۔
بہر حال ! ہم آپ کو وکی لیکس کے مزید کچھ انکشافات سے بھی روشناس کرانا چاہتے ہیں۔اس ویب سائٹ کے مطابق دنیا بھر میں امریکی سفارتخانے سفارتی امور میں نہیں بلکہ جاسوسی امور میں ملوث اور مشغول ہیں ۔لندن میں امریکی سفارتخانہ نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کو انتہائی خراب وزیراعظم قرار دیا تھا۔ امریکی سفارتخانوں نے پاکستان، افغانستان، ہندوستان، روس، بلاروس، اٹلی، برطانیہ ، فرانس، سعودی عرب، خلیجی عرب ممالک سمیت اقوام متحدہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں وسیع پیمانے پر جاسوسی کا کام انجام دیا ہے اور مذکورہ ممالک کے رہنماؤں کی دل کھول کی توہین اور تذلیل کی ہے۔ ان میں امریکہ کے دوست ممالک کے رہنما بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے بھی وکی لیکس نے حیران کن انکشافات کیے ہیں، ساتھ ہی افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو خبطی قرار دیکر امریکہ کے اس دوغلے پن سے پردے اٹھایا ہے جو فریب کاری کا زندہ جاوید نمونہ ہے ،کیونکہ حامد کرزئی امریکہ کے اہم حلیف سمجھے جاتے ہیں۔ بہر حال وکی لیکس کے کچھ انکشافات ذہن میں فوراً اتر جاتے ہیں تو کچھ کو گمراہ کن ہی کہا جا سکتا ہے اور وکی لیکس پر تبصرہ، تجزیہ یا تنقید کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ضروری ہے، وگرنہ سبھی مسلم ممالک باہم لڑ پڑیں گے اور تیسری جنگ عظیم جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کی تیاری ہو۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *