یو پی میں کروڑوں کا اناج گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
وہ دن دور نہیں جب حکومت اور عدالتی نظام سے پریشان ملک کے عام لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ قتل عام شروع ہوجائے اور ملک پھر سے منقسم نہ ہوجائے۔ ایسے سنگین خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ملک کے سرکاری اور عدالتی نظام کی کمزور نبض پر ہاتھ رکھ کر ملک کی دھماکہ خیز صورت حال کو جیسے روشنی دکھا دی۔ ہائی کورٹ نے یہ واضح کر دیا کہ بدعنوانی میں ملوث عوامی خدمت گاروں پر مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دے کر اقتدار میں بیٹھے لیڈر ہی بدعنوانی کی پرورش کرتے ہیں۔ سی بی آئی یا دوسری کوئی بھی جانچ ایجنسی جانچ کا کام پورا کر کے بدعنوانی میں ملوث لیڈروں یا افسروں کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری کے لیے حکومت کو درخواست دیتی ہے اور حکومتیں اسے دبائے بیٹھی رہتی ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا بھی یہی حال ہے۔ مقدمہ چلانے  کی منظوری کے سیکڑوں معاملے زیر التوا پڑے ہیں، لیکن بدعنوانی کے خلاف سیاست دانوں کی ذرا تقریر تو سنیے۔ اترپردیش کے اناج گھوٹالے پر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست کے انتظامی سسٹم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک بڑا سوال ملک کے سامنے کھڑا کر دیا ہے، لیکن بحث اس پر نہیں ہو رہی ہے۔ بحث برگد کی مانند بدعنوانی کی شاخوں پر ہے، پتیوں پر ہے، لیکن بڑھتی ہوئی اور گہرائی میں سماتی ہوئی اس کی جڑپر نہیں ہے۔اناج گھوٹالے پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے مقدمہ کی منظوری کے حوالے سے حکومت کے ذریعہ اپنائے جانے والے التوا کے ہتھکنڈے کے خلاف ایک معیاری فیصلہ کیا ہے، جو سپریم کورٹ سے لے کر ملک کی تمام عدالتوں کے سامنے نظیر ہونا چاہیے۔ ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ جانچ ایجنسی کے ذریعہ داخل مقدمہ چلانے کی منظوری کی درخواست پر حکومت نے اگر تین مہینے کے اندر فیصلہ نہیں لیا تو وہ خود بخود منظور مان لیا جائے گا اور اس میں ملوث افسر کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جج دیوی پرساد سنگھ اور ایس سی چورسیا کا یہ فیصلہ بھلے ہی ایک معاملے کے تحت  آیا، لیکن اس فیصلے نے ملک کے پورے عدالتی نظام کو دور رس پیغام دیا ہے۔ اس فیصلے پر پورے ملک کی عدالتیں قائم رہیں تو ہم واقعی بدعنوانی کے خلاف ایک ٹھوس قدم آگے بڑھاپائیںگے۔
ہائی کورٹ نے اترپردیش کے اناج گھوٹالے پر تلخ تبصرہ کیا کہ پوری انتظامی مشینری بدعنوان ہوچکی ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایک حکومت جاتی ہے تو دوسری حکومت اپنے سے پہلی حکومت کی مدت کار کے گھوٹالوں پر سختی برتنے کا عزم کرتی ہے۔ ابھی اترپردیش کی مایاوتی حکومت ایسا ہی کر رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت کی مدت کار میں ہوئے اناج گھوٹالے کے حوالے سے ہائی کورٹ کی تلخی پر مایاوتی حکومت بھی سخت کارروائی کے ڈائیلاگ دوہرا رہی ہے۔ پھر دوسری حکومت آئے گی تو بی ایس پی حکومت کی مدت کار کا پتھر گھوٹالہ سامنے آئے گا اور اس پر تلخ عدالتی، سیاسی بیان جاری ہوںگے اور اسی طرح بدعنوانی اور گھوٹالے ہوتے رہیںگے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ملک میں جیٹ-اسپیڈ سے بڑھتی بدعنوانی کے مدنظر انسداد بدعنوانی قانون(پریوینشن آف کرپشن ایکٹ- 1988) کو عمل کی کسوٹی پر پرکھنیکی حمایت کی ہے۔ ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی دستاویزوں کی گہرائی میں جائیں تو ان کی سطروں کا مفہوم سمجھ کر آپ ضرور چونکیںگے۔ ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ دن اب دور نہیں جب  بدعنوانی، غیرسماجی عناصر اور مافیاؤں سے متاثر عام لوگ حکومت اور عدالتوں کے ناکارہ پن سے پریشان ہو کر ہتھیار نہ اٹھالیں۔ لہٰذا قانون بنانے والی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ بدعنوانی کے خلاف قانون کو زیادہ سے زیادہ سخت بنائے۔
جیمس بونڈ کی فلم لائسنس ٹوکل کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو اگر یہ کہنا پڑا کہ پبلک سروسز لائسنس ٹو کرپٹ ہو کر رہ گئی ہے اور انتظامیہ میں ایمانداری ایکسیپشن اور بدعنوانی قانون بن گئی ہے، تو آپ حالات کی سنگینی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے ملک کے سامنے صاف چیلنج دیا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ بدعنوانی کا راکشس گاندھی-نہرو-پٹیل-امبیڈکر کے اصولوں کو نگلنے جا رہا ہے تو ایسے میں کیا عدالتوں کو خاموشی اختیار کیے رہنا چاہیے؟ لیکن ملک کی عدالتیں، میڈیا اور دیگر سماجی اسٹیج خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ کتنی بے بسی ہے کہ ہائی کورٹ کو بھی آخر یہ کہنا پڑا کہ اے ایشور راستہ دکھاؤ… مدد کرو…
جس گھوٹالے کے حوالے سے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اپنی تکلیف اور ناراضگی ظاہر کی ذرا اسے بھی دیکھتے چلیں۔ بہار کے چارہ گھوٹالے اور اترپردیش کے اناج گھوٹالے میں بہت یکسانیت ہے۔ دونوں گھوٹالوں کے طور طریقوں کو اگر غور سے دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ چارہ گھوٹالے کے طور طریقوں کو قاعدے کے ساتھ سیکھا گیا اور اسے اناج گھوٹالے میں آزمایا گیااور یہ بھی محض اتفاق ہی ہے کہ چارہ گھوٹالے کے وقت بہار میں لالو پرساد یادو کی حکومت تھی اور جب اترپردیش میں اناج گھوٹالہ پروان چڑھا تو اس وقت یوپی میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت تھی۔ بی ایس پی-بی جے پی اتحاد کی حکومت کے دور اقتدار سے شروع ہوا اناج گھوٹالہ ملائم سنگھ یادو کے مدت کار میں جوان ہوتا ہوا مایاوتی کے دور اقتدار تک پہنچا ہے۔ اناج گھوٹالہ مسلسل جاری ہے اور سختی سے اس کی جانچ ہوئی تو لیڈر، نوکرشاہ، ملازمین اور دلال بڑی تعداد میں سلاخوں کے پیچھے جائیںگے۔ بہار میں چارہ ہضم کرنے میں جن ٹرکوں پر ڈھولائی دکھائی گئی تھی، ان کے نمبر اسکوٹر اور موٹر سائیکلوں کے پائے گئے تھے۔ اترپردیش میں بھی اناج کا نقل و حمل جن ٹرکوں پر دکھایا گیا ان کے نمبر اسکوٹر اور موٹر سائیکلوں کے پائے گئے۔ اناج گھوٹالہ کرنے والے افسر شاطر چور نکلے کیوں کہ انہوںنے یوپی کا اناج بنگلہ دیش، نیپال اور افریقہ کے بازاروں تک فروخت کرڈالا۔ ابھی اترپردیش کے 31اضلاع میں 50ہزار کروڑ کے اناج گھوٹالے کا خدشہ ہے، لیکن جس طرح ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو جامع جانچ کا حکم دیا ہے، اس سے گھوٹالے کی رقم مزید بڑھ سکتی ہے، اس کے زیادہ امکانات ہیں۔ حکومت کی جتنی بھی اسکیموں میں اناج کی فراہمی ہوتی ہے، سرکاری مشینری اور مافیاؤںنے سب کھلے بازار میں فروخت کرکے کھا لی۔ بی پی ایل اسکیم سے لے کر مڈ ڈے میل، انتیودے سمیت دیگر کئی سرکاری اسکیموں کے تحت آنے والے گیہوں اور چاول کو نہ صرف ملک کی دیگر ریاستوں میں چوری چھپے بھیجا گیا، بلکہ اس کی کثیر تعداد میں بنگلہ دیش، نیپال اور افریقی ممالک میں اسمگلنگ کی گئی۔ اس چوری میں ریاست سے لے کر مرکزی حکومت کے افسر-ملازم تک شامل رہے ہیں، تبھی تو ریلوے کی ریکوں میں بھر بھر کر چوری کا اناج سرحدی صوبوں تک گیا اور وہاں سے لوڈ ہو کر بیرون ملک تک پہنچ گیا۔ آپ گھوٹالے کی نوعیت کو سمجھیں کہ یوپی کے 31اضلاع میں 2002-07کے درمیان 5کروڑ 10لاکھ 62ہزار 792میٹرک ٹن گیہوں کی پیداوار ہوئی، لیکن اس سے زیادہ 15کروڑ 41لاکھ 89ہزار 678میٹرک ٹن مال منڈیوں میں پہنچ کر کھلے بازار میں فروخت ہوگیا۔ ان اعداد و شمار سے صاف ہوجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف اسکیموں کے تحت ملنے والا اناج ان اسکیموں تک نہیں پہنچا اور بازار میں فروخت کردیا گیا۔ ابھی تک جو آدھی ادھوری جانچ ہوئی ہے، اس کے مطابق اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ سمیت شاہجہانپور، کانپور، کانپور دیہات، فرخ آباد، قنوج، الٰہ آباد، فتح پور، پرتاپ گڑھ، للت پور، چترکوٹ، جونپور، چندولی، مہراج گنج، کشی نگر، اناؤ، رائے بریلی، ہردوئی، فیض آباد، گونڈہ، بہرائچ، سلطان پور، بلیا، مرزا پور، سنت روی داس نگر، سون بھدر، بستی، بلرام پور، شراوستی، سیتاپور اور لکھیم پور کھیری مجموعی طور پر 31اضلاع میں 50ہزار کروڑ کے اناج گھوٹالے کا پتہ چلا ہے۔ عدالت کے تازہ حکم کے بعد یوپی کے اناج گھوٹالے کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کے ظاہر ہونے کا انتظار کیجیے۔

حمام میں سب ننگے ہیں

اناج گھوٹالے میں خود کو گھرتا دیکھ کر سماجوادی پارٹی نے بی ایس پی حکومت پر گھوٹالوں کا الزام تیز کردیا۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے خوردنی اناج گھوٹالے کا ٹھیکرا بی ایس پی-بی جے پی اتحاد کی حکومت کے ماتھے پر پھوڑا تو ان کے بھائی شیوپال سنگھ یادو نے مایاوتی حکومت کے تازہ گھوٹالوں کی جانچ کا مطالبہ کردیا۔ شیوپال یادو نے کہا کہ حکومت کا ایک تازہ گھوٹالہ ہزار کروڑ کا ہے، جس میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر خفیہ طریقے سے اترپردیش سڑک پریوہن نگم(یوپی ایس آر ٹی سی) کی صاحب آباد(غازی آباد) میں واقع تقریباً نو ایکٹر زمین ایک کارپوریٹ گھرانے کو اونے پونے داموں میں بیچنے کی تیاری چل رہی ہے، جب کہ اس زمین کی مارکیٹ ویلیو ایک ہزار کروڑ روپے ہے�۔ اس بیش قیمت زمین کو رفع دفع کرنے کے لیے غازی آباد کے ڈی ایم نے آناً فاناً دو دن میں کمیٹی تشکیل کی اور اس کمیٹی نے بھی مذکورہ زمین سے بس اڈا اور ورک شاپ ہٹانے کی فوراً سفارش جاری کردی۔ وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کے افسران روڈ ویز انتظامیہ پر مذکورہ زمین کو واپس کرنے کے لیے زور لگا رہے ہیں۔ 900کروڑ کا مالی خسارہ برداشت کرنے والے یوپی روڈ ویز کو صاحب آباد کی وہ زمین 2003میں یوپی اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 90سال کی لیز پر بسوں کے چلانے کے لیے دی تھی۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ مایاوتی سرکار ایک ایک کر کے ساری کارپوریشنوں کو نگل رہی ہے۔ اترپردیش اسٹیٹ شوگر کارپوریشن کی ملیں فروخت کردی گئیں۔ اسٹیٹ کو آپریٹیو شوگر ملیں اور ڈسٹیلری بیچنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خود تاج کوریڈور اور آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں پھنسی ہوئی ہیں اور بدعنوان لوگوں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔ پبلک کمشنر نے دو وزیروں کو بدعنوانی کا قصوار پایا، لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ امبیڈکر ادیان، رمابائی پارک دیگر میموریلز اور نوئیڈا میں تعمیراتی کام میں زبردست گھوٹالے ہوئے، جس کا حصہ سیدھا وزیراعلیٰ تک پہنچ رہا ہے۔

کئی جانوں کو نگل گیا گھوٹالہ

اناج گھوٹالہ کرنے والے لیڈر، افسران اور مافیاؤں نے قانونی رکاوٹ بننے والے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ لکھیم پور کھیری میں اکاؤنٹ افسر اور جانچ کمیٹی کے رکن ڈی کے شکلا پر محکمے کے افسروں نے شدید تشدد کیا اور انہیں معطل کرکے جانچ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش کی، لیکن جب یہ لوگ شکلا کی مہم روکنے میں ناکام رہے تو انہیں موت کے گھاٹ اتار کے ان کی لاش غائب کرا دی ۔ بہرحال شکلا کی لاش لکھیم پور کی بجائے رائے بریلی کے گرونجش گنج تھانہ علاقے میں پائی گئی۔ اس قتل کی واردات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، لیکن اب ہائی کورٹ نے اس قتل کیس پر سنگین رخ اختیار کرلیا ہے۔ خیال رہے یہ وہی لکھیم پور کھیری ضلع ہے، جہاں مختلف نوع کے مافیا، لیڈروں کے اتحاد سے پروان چڑھتے ہیں۔ یہیں پر بدعنوانی کی مخالفت کرنے والے انڈین آئل کارپوریشن کے افسر پی منجو ناتھ کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
اناج کا گھوٹالہ کرنے والے مافیا، انتظامیہ اور سیاسی پشت پناہی کے سبب اتنے حوصلہ مند ہوگئے تھے کہ وہ اناج کے گودام تک لوٹ لیا کرتے تھے۔ سیتاپور ضلع میں تو چوکیدار کا قتل کر کے سرکاری گودام میں بھرا اناج لوٹ لیا گیا اور انتظامیہ کچھ بھی نہیں کرپایا۔ اس واقعہ کا اندازہ آپ یوں لگاسکتے ہیں کہ چوکیدار کا قتل کر کے مجرم ٹرکوں پر لوٹ کا اناج لادتے رہے اور پولس چین کی نیند سوتی رہی۔

لکھنؤ میں جمے بیٹھے ہیں بدعنوان نوکرشاہ

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں گھوٹالے باز افسران اکٹھا ہیں۔ ان افسروں کا لکھنؤ سے باہر کہیں تبادلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اقتدار کی کرسی پر کوئی بھی پارٹی براجمان ہو، لیکن ان افسروں پر تبادلے کا کوئی ضابطہ یا قانون کام نہیں کرتا۔ برسوں سے یہ لوگ لکھنؤ میں مختلف محکموں کو آلودہ کرکے خود کو مہکا رہے ہیں۔ محکمہ خوراک اس کی سب سے اذیت ناک مثال ہے۔ آپ دیکھیں کہ راجدھانی لکھنؤ میں ایسے خوراک افسروں کی مہربانی سے اناج گھوٹالے نے کیسی شکل اختیار کی۔ 2002سے 2007کے درمیان لکھنؤ میں 10لاکھ 26ہزار 614میٹرک ٹن گیہوں کی پیداوار ہوئی، لیکن سرکاری دستاویزات بتاتی ہیں کہ اس دوران منڈی میں 32لاکھ 40ہزار 440میٹرک ٹن گیہوں فروخت ہوا۔ محکمہ خوراک کے ان بدعنوان افسروں سے کوئی پوچھے کہ پیداوار سے زیادہ 22لاکھ 13 ہزار 826 میٹرک ٹن گیہوں منڈی میں کیسے پہنچ گیا؟ مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت غریب بچوں کے کھانے کے لیے آیا اناج کہاں گیا؟ بی پی ایل کارڈ ہولڈروں اور انتیودے اسکیموں کا اناج کس کے پیٹ میں چلا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *