‘‘انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ اور’’بلیک جیل

محمود ایاز
آج سے پانچ سو سال قبل اٹلی کے سیاسی مفکر میکا ئولی نے اپنے پڑھنے والے کو یہ بات ہمیشہ ذہن نشین کرنے کو کہا تھا کہ کسی قوم پر غلبہ حاصل کر لینے کے بعد اس سے کسی قسم کا درگزر اور اچھا برتائو نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس سے پورا انتقام اس طرح کے سبق آموز واقعات سے لینا چاہیے کہ موجودہ نسل کو پوری طرح نیست و نابود کر دیا جائے تاکہ دشمن کی آئندہ نسلیں آپ پر حملہ آور ہونے سے پہلے ایک سے زیادہ بار سوچیں کہ کہیں انہیں بھی اپنے سے پہلی نسل جیسے انجام سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
یہ اقتباس امریکی سی آئی اے کے افسر’ مائیکل شویئر‘ کی کتاب’’ہیل مرچنگ ٹووارڈ‘‘  کے عنوان   ’’عراق آفٹر اسلام اینڈ امریکہ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ امریکا جو انسانی حقوق کا علمبردار ہے، اسکی ذہنیت کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔ اسی ذہنیت کے تحت امریکا نے دنیا بھر میں سیکڑوں جیلیں قائم کی ہوئی ہیں۔ نائن الیون کے واقعہ کو بنیاد بنا کر امریکا نے سامراجی طرز عمل اختیار کرتے ہوئے عالمی قوانین کو کیسے پامال کیا ہر کوئی جانتا ہے اور پھر پکڑے جانے والے قیدیوں کے لیے جیلیں تشکیل دیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کچھ جیلیں تو دستاویزی وجود رکھتی ہیں، مگر کچھ جیلیں خفیہ ہیں جن کا کوئی دستاویزی وجود نہیں ہے جہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک جیل کا نام ’’بلیک جیل‘‘ ہے۔
کابل سے 60 کلو میٹر کی دوری پرچاریکا شہر کے نزدیک پرانا اور تاریخی شہر بگرام واقع ہے۔ بگرام امریکا کی سب سے بڑی ملڑی ایئر بیس ہے۔ کابل پر قبضے کے بعد بگرام کو ملڑی ایئر بیس بنایا گیا جو کہ چاریکا سے گیارہ کلومیڑ کی دوری پر واقع ہے۔ بگرام میں بھی گوانتا ناموبے کی طرح ایک جیل واقع ہے، جہاں قیدیوں کو طرح طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اذیت ناک سزائیں دی جاتی ہیں اور ذہنی، جنسی اور جسمانی ہر طرح کی تکلیف دی جاتی ہے۔ بگرام کی اس جیل میں 670 افراد قید ہیں۔ ان قیدیوں کو وہ حقوق بھی نہیں دیے جاتے جو جنیوا کنونشن میں دیے گئے تھے اور جو خود مغرب نے بنائے تھے۔ عقل حیران رہ جاتی ہے کہ کیا انسان بھی انسان کے ساتھ ایسا سلوک کرسکتا ہے؟
بگرام ایئر بیس کی یہ جیل دستاویزی وجود رکھتی ہے مگر حال ہی میں ایک ایسی جیل کا انکشاف ہوا ہے جسکا وجود غیر دستاویزی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک ’ اوپن سوسائٹی فائونڈیشن‘  کی جانب سے سولہ سو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں افغانستان میں بگرام ایئر بیس میں قائم ایک خفیہ جیل کا انکشاف کیا گیا ہے اور اس جیل کو’’ بلیک جیل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس جیل میں قیدیوں کو خوراک میسر ہے نہ رہنے کے لیے چھت فراہم کی گئی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والا سلوک انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بی بی سی اور دوسرے نشریاتی اداروں نے اس خفیہ جیل میں اذیت ناک قید کاٹنے والے کئی قیدیوں کا انٹرویو کرنے کے بعد اس بلیک جیل کی تصدیق کی ہے جبکہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار امریکا اور اسکے دفاعی ادارے اس کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔’ اوپن فائونڈیشن سوسائٹی‘  کی رپورٹ میں 18 افغان قیدیوں کے انٹرویو ہیں۔ ان قیدیوں میں سے زیادہ تر کا کہنا یہ کہ انہیں 2009 اور 2010 کے دوران اس جیل میں رکھا گیا اور اس جیل کے حالات دوسری افغان جیلوں سے انتہائی سخت ہیں۔ وہاں سخت سردی،قدرتی روشنی سے محرومی، کم خوراک اور نیند کی کمی کے ساتھ ساتھ برہنہ میڈیکل معائنوں جیسی سزائیں دی جاتی ہیں۔ وہاں کی کوٹھریاں اتنی ٹھنڈی ہیں کہ ان کے دانت بجتے ہیںاور وہ سو نہیں سکتے۔ چوبیس گھٹنے انہیں تیزمصنوعی روشنیوں میں رکھا جاتا ہے، سردی روکنے کے لیے کچھ نہیں دیا جاتا تھا، سونا ایسے تھا جیسے فریج میں پڑے ہوں۔
یہ رپورٹ امریکی ادارے کی ہے جس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کوئی مبالغہ آرائی کی جاری ہے۔ ’ پینٹا گون‘ اور افغانستان میں امریکی جیلوں کی نگرانی کے لیے قائم ٹاسک فورس کی ترجمان ’ پامیلا کونز‘ نے بلیک جیل کے وجود سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام جیلیں عالمی ضابطہ اخلاق کے مطابق کام کر رہی ہیں اور قیدیوں کی عارضی اسکریننگ کے لیے قائم کیے گئے حراستی کیمپ بین الاقوامی قوانیں کے تحت کام کررہے ہیں۔ مگر عراق میں ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی ویڈیو کلپس اور تصاویر نے انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار امریکا کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے رکھ چکی ہیں۔
کہاں گئے انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور اقوام متحدہ؟ کیوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں؟ کیوں ایسے معاملات کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ ’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ آج رائج الوقت قانون ہے۔ بے گناہ کو  دشمن جنگجو کا نام دے کر پہلے قید کیا جاتا ہے اور پھر قیدیوں کے بینادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے، انہیں عدالت میں بے گناہی ثابت کرنے کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔  عالمی امن کے ٹھیکیداروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور دہشت گردی، دہشت گردی چلانے والوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ ان ہولناک مظالم پر چپی کیوں سادھے ہوئے ہیں؟
ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے، وہ قاتل کے ساتھ ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *