آر ٹی آئی ترمیم : یہ عوام کو کمزور کرنے کی سازش ہے

Share Article

ششی شیکھر
بات 2006کی ہے۔آر ٹی آئی کو نافذ ہوئے ابھی کچھ مہینے ہی ہوئے تھے۔بہار کے جھنجارپورم کا ایک رکشا پلرمظلوم اندرا آواس یوجنا کے تحت درخواست دیتا ہے۔اب بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر اس کی درخواست کو پاس کرنے کے لیے5ہزار ورپے کی رشوت مانگتا ہے۔ناخواندہ اور غریب مظلوم تین سال سے بی ڈی او کے دفتر میں دھکے کھا رہا تھا، کیو نکہ5ہزار روپے کی رشوت دینا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔اسی درمیان وہ ایک سماجی کارکن اشوک سنگھ سے ملا جس نے اسے آر ٹی آئی قانون کے تحت اطلاع مانگنے کی درخواست بنا کر دی۔ درخواست ڈالنے کے ایک ہفتے کے اندر مظلوم کو15ہزار کا چیک مل گیا۔ایک ماہ بعد جب مظلوم باقی رقم لینے بی ڈی او کے دفتر پہنچا تو ایک بار پھر اس سے رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔ اس بار ناخواندہ مظلوم نے بی ڈی او سے کہا کہ اگر میراپیسہ نہیں دوگے تو پھر سے آر ٹی آئی کی عرضی لگا دوں گا، نتیجتاً بغیر رشوت دئے مظلوم کو پوری رقم مل گئی۔ناخواندہ مظلوم کی عرضی نے ثابت کر دیا کہ ایک خاموش انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج ملک بھر میں مظلوم جیسے ہزاروں لوگ جو ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے ہیں آر ٹی آئی قانون کی وجہ سے اس خاموش انقلاب کو شکل دینے میں منہمک ہیں، لیکن انتظامیہ میں بیٹھے لیڈروں اور نوکر شاہوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ کل تک جن لوگوں کے لیے ہم مائی باپ ہوا کرتے تھے وہی آج ہم سے آنکھ ملا کر سوال پوچھ رہے ہیں۔ اس ملک میں آج بھی انگریزوں کے بنائے ہوئے کئی قانون غلامی کی یاد دلاتے ہیں۔ آزادی کے64برس بعد بھی ایسے قوانین کو ہٹانے، بدلنے یا ان میں ترمیم کرنے کی ضرورت ملک کے رہنمائوں کو محسوس نہیں ہوتی، لیکن5سال پرانا آر ٹی آئی قانون ان کی آنکھوں میں ایسے چبھ رہا ہے کہ جسے دیکھو وہی اس میں ترمیم کی بات کر رہا ہے۔ لیڈر، نوکرشاہ اور جج بھی۔
ابھی مرکزی حکومت کے لیبر ڈپارٹمنٹ میں آر ٹی آئی ضوابط میں ترمیم کی بات چل رہی ہے۔ ترمیم ایسی جس سے اس ملک کے غریب، ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لیے یہ قانون بے معنی ہو جائے۔مجوزہ ترمیم کے مطابق ایک آر ٹی آئی درخواست کو250الفاظ میں ہی محدود رکھنا ہوگا اور ایک درخواست میں ایک ہی مضمون کو شامل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اطلاعات فراہم کرانے کے لیے جو ڈاک خرچ ہوگا وہ بھی درخواست دہندہ کو ہی دینا ہوگا۔ ساتھ ہی کسی ایسی اطلاع جس کے لیے کسی محکمے کو باہر سے کوئی مشین یا آلات کرائے پر لینے پڑتے ہیں تو اس کا خرچ بھی درخواست دہندہ کو ہی اٹھانا پڑے گا۔مثلاً کسی سڑک کے معیار سے متعلق جانچ میں کوئی درخواست دہندہ اطلاع چاہتا ہے تو اس میں جو مشینی خرچہ آئے گا اسے درخواست دہندہ کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔یہی نہیں کوئی درخواست دہندہ اپیل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کے لیے ایک خاص خاکہ کا ہی استعمال کرنا ہوگا اور کئی ساری دستاویز لگانی ہونگی۔ظاہر ہے اگر یہ ترامیم قبول کر لی جاتی ہیں تو ایک ایسا درخواست دہندہ جو غریب ہے یا کم پڑھا لکھا ہے یاناخواندہ ہے اس کے لیے یہ قانون کسی کام کا نہیں رہ جائے گا۔ چاہے وہ سونی پت ضلع کے سلارپور مہتا گائوں کی60سالہ سمترا دیوی ہو، جنھوں نے آر ٹی آئی کی مدد سے غریب اسکولی لڑکیوں کے لیے سائیکل کی تقسیم کی ایک سرکاری اسکیم کا فائدہ طلبا و طالبات تک پہنچایا، یا الہ آباد کے سدور گلر ہائی اور چتر کوٹ کے بھر تھول کے عام لوگ، جن کی درخواست سے پرائمری اسکول کے طلبا و طالبات کو اسکول ڈریس اور کتابیں ملیں۔
دراصل آر ٹی آئی قانون کے ضوابط میں مجوزہ ترمیم کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔ستمبر 2009میں تب کے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے ایک خط وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لکھا۔ اپنے خط میں انھوں نے عدلیہ کوآر ٹی آئی قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی گزارش کی تھی۔ دلیل یہ ہے کہ اس قانون کی وجہ سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ حالانکہ اب بالا کرشنن این ایچ آر سی کے صدر ہیں اور وہ اب بھی اس ترمیم کی وکالت کر رہے ہیں۔اکتوبر2010میں دئے گئے ایک بیان میں وہ کہتے ہیں کہ اس قانون میں کچھ خامیاں ہیں، جس کا بڑے پیمانے پر بے جا استعمال ہو رہا ہے۔یہ آر ٹی آئی قانون میں کئی تبدیلیوں کا وقت ہے۔
ممکن ہے یہ بل پارلیمنٹ میں جلد بازی میں پاس کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کافی وقت سے اس ترمیم کی تیاری کر رہی ہے۔واضح ہو کہ آر ٹی آئی کی وجہ سے ہی آہستہ آہستہ عام آدمی نے عدلیہ سے بھی سوال پوچھنے شروع کر دئے تھے۔ آر ٹی آئی کے استعمال سے ہی معلوم ہوا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنی بیوی کے ساتھ بیرون ملک کا سفر کیا تھا، جبکہ قانون کے مطابق اس سفر کے دوران چیف جسٹس اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے۔ معاملے کے روشنی میں آتے ہی حکومت نے کئی ہدایات جاری کی تھیں، جس میں ججوں کے بیرون ملک کے دوروں میں30فیصد تک تخفیف کی بھی بات تھی۔
بہر حال2009میں بالا کرشنن کے ذریعہ وزیر اعظم کو بھیجے گئے خط کی بھنک جب کچھ  غیر سرکاری اداروں کو لگی تب ان لوگوں نے سونیا گاندھی سے اس معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کیا۔سونیا گاندھی9نومبر2009کو اپنے خط کے ذریعہ سے وزیر اعظم کے سامنے یہ وضاحت کرتی ہیں کہ وہ اس قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم کے خلاف ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ صرف چار سالوں میں ہی اس قانون نے عام آدمی کو بہت کچھ دیا ہے۔ میری رائے میں قومی حفاظت جیسے حساس ایشو ابھی بھی اس قانون سے باہر ہیں اور ایسی صورت میں اس قانون میں کسی بھی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ وزیر اعظم کو بتاتی ہیں کہ حکومت کا اصل مسئلہ ملازمین کی تربیت کی کمی اور سرکاری اعداد و شمار کے بے ترتیب رکھ رکھائو سے ہے۔ باوجود اس کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سونیا گاندھی کو جواب دیا کہ وہ ان کے خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسے ایشوز بھی ہیں، جس کے لیے اس قانون میں ترمیم کرنی ضروری ہو گئی ہے۔ یعنی پی ایم بھی عام آدمی کو طاقتور بنانے والے اس قانون میں ترمیم کی حمایت میں پہلے سے ہی کھڑے تھے اور ہو بھی کیوں نہیں۔ جب یہ قانون ان لیڈروں کی اصلیت کو سامنے لا رہا ہو۔ ایک مثال پر غور کریں۔ آر ٹی آئی کی بدولت ہی عام آدمی یہ جان سکا کہ چار سال میں ہمارے ملک کے وزراء نے چائے پانی پر عام آدمی کی گاڑھی کمائی میں سے تقریباً26کروڑ روپے خرچ کر دئے۔ جتنی تیز پیاس انہیں لگتی ہے اتنی ہی تیز پیاس ان کی گاڑیوں کو بھی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ سال2003سے سال2008کے درمیان 44وزارتوں اور ان کے ما تحت مختلف محکموں کے وزیروں اور افسران نے صرف مقامی دوروں پر58کروڑ 54لاکھ روپے اڑا دئے ۔
مرکزی حکومت کا لیبر ڈپارٹمنٹ جو اس قانون کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرتا ہے، شروع سے ہی اس قانون کے کچھ ضوابط میں تبدیلی کرنا چاہتا تھا۔ آر ٹی آئی قانون بنانے سے قبل ہی سال میں کچھ بیورو کریٹس کے مشورے پر حکومت نے اس میں ترمیم کرکے فائل نوٹنگ جیسے اہم پرووژن کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ سول سوسائٹی بایاں بازو کی جماعتوں اور کچھ تنظیموں کی شدید مخالفت کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ پھر بھی بار بار مرکز و ریاستی حکومتیں اس قانون کے ضوابط میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کے چکر میں لگی ہی رہتی ہیں۔جس سے عام آدمی کی طاقت روز بہ روز کمزور ہوتی جائے۔کوئی سوال نہ پوچھ سکے،کوئی تبدیلی نہ ہو سکے، تاکہ بہار کے مدھوبنی ضلع کا کوئی دوسرا چندر شیکھر آر ٹی آئی کی وجہ سے پنچائت اساتذہ تقرری میں ہوئی دھوکے بازی کا انکشاف نہ کر سکے،یا اڑیسہ کی70سالہ کبناک لتا ترپاٹھی کی13سال سے لٹکی پنشن آر ٹی آئی ڈالنے کے بعد ایک مہینے میں نہ مل سکے۔ یا بہار، بیگو سرائے کے وشنو دیو شرما کی ایک درخواست ڈالتے ہی ان کی پنشن بقایا بینک والوں کو ان کے اکائونٹ میں ڈالنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
آر ٹی آئی میں مجوزہ ترمیم کے ایشو پر جب ’چوتھی دنیا‘ نے ریمن میگسیسے ایوارڈ یافتہ آرٹی آئی کارکن اروند کیجریوال سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہمارے مطالبات دکھائی نہیں دیتے۔ ہم سالوں سے کہتے آر ہے ہیں کہ انفارمیشن کمشنر کی تقرری کے لیے ایک شفاف پروسیس بنایا جائے تاکہ اچھے لوگوں کو انفارمیشن کمشنر بنایا جاسکے، لیکن اس جانب دھیان دینے کی بجائے مرکزی حکومت عام آدمی کے اس قانون کو مزید کمزور بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ دراصل سابق نوکرشاہوں کو حکومت انفارمیشن کمشنر مقرر کرتی رہی ہے۔ چند موجودہ انفارمیشن کمشنر تو ڈی او پی ٹی میں ہی سکریٹری رہ چکے ہیں۔دراصل انفارمیشن کمشنروں کی تقرری کے لیے ذمہ دار محکمہ، ڈی او پی ٹی کے پاس تقرری کے سلسلہ میں کوئی واضح ضابطہ و قانون نہیں ہے۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اپنے بھروسہ مند اور وفادار بیوروکریٹس کو انفارمیشن کمشنر بنا دیتی ہے۔ یہ بھروسہ مند اور وفادار بیوروکریٹس ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی قیمت پر اپنے آقاؤں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ کچھ ریاستی حکومتوں نے آر ٹی آئی فیس 10روپے کی بجائے 100 روپے، فوٹو کاپی فیس 2کی بجائے 5روپے کر دی۔ جون 2009میں حکومت اترپردیش نے ایک نوٹس جاری کر کے 14اہم موضوعات کو اس قانون کے دائرے سے باہر نکالنے کا تغلقی فرمان جاری کیا تھا۔ ظاہر ہے ایسے احکامات کا مقصد غریبوں کو ان کے حق سے محروم اور ان کی طاقت کو کم کرنے کے برابر ہی مانا جائے گا، کیوں کہ آر ٹی آئی ہی وہ قانون ہے، جس نے غریبوں کو راشن تک دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دہلی میں تو ایسی سیکڑوں مثالیں ہیں۔ پوری کی اناسارا گاؤں کی 68سالہ جنت بیگم اور ان کے شوہر کو انتیودے اسکیم کے تحت ملنے والا اناج آر ٹی آئی کی وجہ سے دوبارہ ملنا شروع ہوا تھا۔ جہان آباد ضلع کے کتائی بگہا گاؤں میں دیہی باشندوں کو صحیح مقدار میں راشن اور مٹی کا تیل ملنے لگا تھا۔ صرف یہی نہیںبلکہ حق اطلاعات قانون نے پولس کی تانا شاہی کو بھی کافی حد تک کم کیا ہے۔ مثال کے طور پر پٹنہ میں سگنا کے باشندے امت آنند کی زمین کوئلور تھانہ انچارج کے قبضے سے خالی ہوئی۔ دیوریا ضلع کے دھنیسر یادو کی بیٹی کا جب گاؤں کے کچھ لوگوں نے اغوا کرلیا تھا اور پولس نے کوئی کارروائی نہیں کی تب دھنیسر یادو نے حق اطلاعات قانون کے تحت پولس کپتان کے دفتر میں درخواست دی، جس میں اپنی شکایت پر کی گئی کارروائی کے بارے میں پوچھا۔ درخواست ملتے ہی پولس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے دھنیسر کی مغویہ بیٹی کو برآمد کیا اور ملزم بھی گرفتار کرلیے گئے۔
لیکن اس بار مرکزی حکومت آرٹی آئی کے قوانین میں ترمیم کے حوالے سے جس طرح سے سنجیدہ نظر آرہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ عام آدمی کے جینے اور جاننے کے حق سے متعلق یہ قانون معذور بن جائے گا۔ پھر عام آدمی سوال نہیں پوچھ سکے گا، ایسے سوال جو اسے طاقت اور عزت دیتے ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن راہل گاندھی یا سونیا گاندھی کے مشورے کو ہی کانگریس پارٹی حکم مانتی رہی ہے، کیا وہ بھی اس ایشو پر خاموش رہیںگے؟ کیا عام آدمی کے ساتھ کانگریس کے پنجے کا ان کا نعرہ محض نعرہ ہی بن کر رہ گیا ہے؟ اب چاہے جو بھی بات ہو، عوام ان سے یہ ضرور معلوم کرنا چاہیںگے کہ اب کانگریس کا ہاتھ کس کے ساتھ ہے؟

این اے سی اور آر ٹی آئی

قومی مشاورتی کونسل کے ایک ضمنی گروپ کی 13دسمبر کو میٹنگ ہوئی۔ یہ ضمنی گروپ جواب دہی اور شفافیت کے لیے بنا ہے، جس کی صدر این اے سی کی رکن اور سماجی کارکن ارونا رائے ہیں۔ میٹنگ کا ایجنڈا ڈی او پی ٹی کے ذریعے آر ٹی آئی قانون کے ضابطوں میں مجوزہ ترمیم تھا۔ ضمنی گروپ کی صدر ہونے کے ناتے ارونا رائے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ میٹنگ میں کچھ باہری لوگوں کو بھی بلاسکتی ہیں۔ چنانچہ اس میٹنگ میں حق اطلاعات کی تحریک سے متعلق لوگ جیسے شیکھر سنگھ، نکھل ڈے اور اروند کیجریوال کو بھی بلایا گیا۔ ان تینوں لوگوں نے مجوزہ ترمیم کی مخالفت کی اور اسے عام آدمی کے خلاف بتایا۔ بہرحال اس میٹنگ کی رپورٹ این اے سی کی صدر سونیا گاندھی کو سونپی جائے گی۔ اگلی میٹنگ دسمبر کے آخری ہفتے میں ہونی ہے۔ اس بات کا انتظار مبینہ تینوں آر ٹی آئی کارکنان کے علاوہ ملک کے عوام کو بھی رہے گا کہ سونیا گاندھی اس ایشو پر کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔

آر ٹی آئی

250الفاظ کی حد مقرر کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس ملک کی ایک بڑی آبادی ناخواندہ ہے۔ وہ اتنے کم الفاظ میں اپنی بات کس طرح رکھ پائے گی؟ اطلاع کی فیس میں جو تبدیلی کی بات ہو رہی ہے تو اسی طرح سے تو پی آئی او اطلاعات کی فراہمی میں لگے وقت اور محنت کی فیس بھی مرضی کے مطابق وصول کرنا شروع کردیںگے۔ ماضی میں بھی اطلاعات کی دستیابی کے نام پر درخواست گزار سے پی آئی او کی تنخواہ مانگی جاتی رہی ہے۔ حکومت کو ہمارے مطالبے دکھائی نہیں دے رہے ہیں، بلکہ وہ اس قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اروند کیجریوال

ریمن میگسیسے ایوارڈ یافتہ اور آرٹی آئی کارکن

میں سمجھتا ہوں کہ 250الفاظ کی حد درست ہے۔ا کثر لوگ 15صفحات کی درخواست روانہ کردیتے ہیں، پارلیمنٹ میں پوچھے جانے والے سوال کی بھی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔ وہ 150الفاظ سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ ہاں ایک موضوع طے کردینے سے مشکل یہ ہوگی کہ پھر پی آئی او اپنے حساب سے موضوع طے کرنے لگیںگے۔ جہاں تک ڈاک خرچ درخواست گزار سے لینے کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جائز ہے، کیوں کہ حکومت ابھی جو خرچ کر رہی ہے، وہ بھی تو عوام کا ہی پیسہ ہے۔
شیلیش گاندھی
سینٹرل انفارمیشن کمشنر

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *