سپریم کورٹ بقابلہ زرداری

سیموئیل بید
انٹرنیشنل فیڈ پریش آف ریڈ کراس کو اس بات سے تشویش ہے کہ اگر پاکستان کو اضافی امداد نہ ملی تو آنے والی سردیوں میں یہ ملک شدید غذائی بحران کا شکار ہوجائیگا۔ اس کے مطابق سیلاب سے متاثرہ 24 لاکھ افراد اب بھی کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے زرعی زمین کا 55لاکھ ایکڑ حصہ ناقابل کاشت ہوگیا ہے۔ لیکن پاکستان کی حکومت، اپوزیشن، عدلیہ اور میڈیا کو شاید اس سنگین صورتحال سے کوئی تشویش نہیں ہے۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ سیلاب نے انسان کی زبردست بدحالی اور تباہ کاری کو جنم دیا ہے اور ملک کی معیشت پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔ انہیں تو زیادہ دلچسپی حکومت اور عدلیہ کے درمیان ہونے والے ٹکرائو سے ہے گویا کوئی ٹیسٹ میچ چل رہا ہو۔ میڈیا جسے لبھانے کی کوشش حکومت اور عدلیہ دونوں کی طرف سے ہورہی ہے وہ کافی سرگرمی سے نہ صرف رپورٹنگ کررہا ہے بلکہ اپنے تبصرے بھی کررہا ہے۔ میڈیا کی وجہ سے کچھ ایسا ماحول بن گیا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے لوگوں کے سوا سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان کی بقا کا انحصار اسی میچ کے نتیجہ پر ہے۔ موجودہ صورت حال کا ایک مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ حکومت اس عہد کا اعادہ کرتی رہتی ہے کہ وہ آزاد اور مستحکم عدلیہ کے حق میں ہے لیکن عملاً ایسے احکامات جاری کرتی ہے اور میڈیا کے ذریعے ایسے مواد نشر کراتی ہے جن میں عدلیہ کی رسوائی کا عنصر شامل ہوتا ہے دوسری طرف عدلیہ جمہوریت کی قسمیں تو کھاتی ہے لیکن انتقام کے جذبہ میں چور پوری یکسوئی سے موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات پر توجہ دے رہی ہے۔ پاکستان کے چیف جسٹس افتخاد محمد چودھری جو صدر زرداری کے خلاف ذاتی نوعیت کے انتقام کا جذبہ رکھتے ہیں انہیں سیاسی طور پر اتنا سادہ لوح نہیں سمجھا جاسکتا کہ وہ اتنا بھی نہ سمجھ سکیں کہ اس لڑائی میں انہیں ممکنہ کامیابی مل گئی تو موجودہ جمہوری ڈھانچے پر اس کے کس قدر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور بطور خاص پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے گذشتہ ماہ یہ سوال اٹھایا تھا کہ جو لوگ موجودہ حکومت کو مقررہ مدت (2013) سے قبل گرانا چاہتے ہیں ، وہ ایسے لوگ کہاں سے لائیں گے جو ملک کو متحد رکھ سکیں؟ انہوں نے کہا کہ ’’ایسے لوگ ملک کو توڑ دیںگے‘‘۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس نے جس سنگین خطرے کی نشاندہی کی ہے اس سے بھی بڑا خطرہ اس بات سے لاحق ہے کہ پاکستانی سماج کمزور اور بدعنوان انتظامیہ کے ظلم کی چکی میں پس رہا ہے، عام آدمیوں کو انصاف نہیں ملتا اور جہاد کے نام پر لاقانونیت اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔پاکستان کی سول سوسائٹی تو اس صورتحال کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہے لیکن حکومت ، اپوزیشن اور عدلیہ کو کوئی فکر نہیں ہے۔ میڈیا جرائم سے متعلق جو رپورٹنگ کرتا ہے اس کی وجہ سے میڈیا کے لوگ بھی اکثر نشانہ بنتے ہیں کیونکہ جن لوگوں کو بے نقاب کیا جاتا ہے وہ بدلہ لینے کے لئے میڈیا والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
پچھلے مہینہ کراچی کے نیوز لائن میں انسانی حقوق کے کاز سے جڑی سرگرم کارکن ہما جیلانی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں تاریخی طور پر تشدد کو کلچر کے طور پر برتا گیا ، وہاں سرکاری مشینری یا مذہبی منافرت سے چور لوگوں کے ذریعہ سرعام پھانسی دینے،کوڑے برسانے، سنگسار کرکے ہلاک کرنے اور اس طرح کی دوسری ظالمانہ کارروائیاں کئے جانے کے باعث لوگوں میں انسانی قدروں کے تئیں بے حسی میں اور زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب میں یہ عالم ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر پولیس نے مبینہ مجرموں کو ماورائے عدالت سزائیں دی ہیں اور انہیں ہلاک کیا ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا کہ ان مبینہ مجرموں کی لاشوں کو سڑکوں پر پولیس کی ’’بہتر کارکردگی ‘‘ اور ’’بہادری‘‘ کی علامت کے طور پر گھمایا گیا ۔ انہوں نے اپنے مضمون میں پاکستان کے نظام عدل کو ’’ناکام‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بہتر نظام عدل کے لئے جس صلاحیت، آزادی اور دیانت داری کی ضرورت پڑتی ہے اس کے معیار پر پاکستانی عدلیہ پوری نہیں اترتی‘‘۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی قیادت میں سپریم کورٹ زرداری کو مرکز مان کر مریضانہ ذہنیت کا مظاہرہ کررہی ہے اور اس بات کو نظرانداز کررہی ہے کہ ملک ابتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پہلی بار جب 2007ء میں جنرل مشرف نے جسٹس چودھری کو معطل کیا تھا تو اس سے پہلے ہی وہ کافی سرگرم ہوچکے تھے اور یہ حکم جاری کیا تھا کہ گم شدہ لوگوں کو حاضر کیا جائے۔ اس کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ان کے اپنوں اور عزیزوں کو اب حاضر کیا جائے گا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کاآئی ایس آئی نے اغوا کیاتھا۔ بلوچستان کے لوگوں نے جسٹس چودھری کی دوبارہ بحالی کی تحریک چلانے والوں کا ساتھ بھی دیاتھا۔ لیکن جب گذشتہ سال وہ بحال ہوگئے تو انہوں نے گم شدہ لوگوں کے رشتہ داروں کی فریاد سننا بند کردیا کیونکہ پاکستان میں لوگوں کا عام خیال یہ ہے کہ وہ فوج سے دشمنی نہیں مول لیناچاہتے۔ حالیہ دنوں میں اغوا کئے گئے کچھ بلوچ لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ملی ہیں لیکن عدالت نے ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ دراصل صدر زرداری کے خلاف جو لڑائی وہ لڑرہے ہیں، اس میں انہیں فوج کی مدد کی ضرورت پیش آئے گی۔
پاکستان آج شخصیتوں کے ٹکرائو کا خطرناک اکھاڑا بن گیا ہے جہاں صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مابین مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ ان میں سے کسی کی بھی جیت پاکستان کی شکست کے مترادف ہوگی۔ 70کی دہائی میں معزول وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے آوردہ آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے درمیان شخصیتوں کا جو ٹکرائو ہوا اس کے سنگین نتائج سے پاکستان کو اس وقت بھی بھاری قیمت چکانی پڑی تھی اور آج بھی اس کے مضر اثرات نظر آتے ہیں۔ فوج اور سیاست دانوں میں جنرل ضیاء الحق کے جو حامی تھے (خاص طور سے جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ) ، ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور عوامی اخلاقیات کی بہتری کے لئے بھٹو کو راستے سے ہٹا یا جانا ضروری ہے۔ مسٹر بھٹو کو ختم کرنے کے لئے عدلیہ نے پورے طور پر جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا تھا۔ بھٹو کو کچھ اس طور پر ہلاک کیا گیا کہ گویا وہ کوئی اسلامی فریضہ ہو۔ ضیاء کے حامی ملائوں نے بھٹو کے لئے رحم کی درخواست کی بھی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نقطہ نظر سے بھٹو کی پھانسی ، پاکستان کے لئے کوئی بڑا المیہ نہیں ثابت ہوگی۔
اگر موجودہ صورتت حالات میں صدر زرداری ، افتخار محمد چودھری اور ان کے حامی ججوں کو ہٹانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی ایک لمبی مدت تک کے لئے ختم ہوجائے گی اور جمہوریت بھی مفلوج ہوگی۔ اس کے علاوہ افراتفری اور بڑھ جائے گی۔ دوسری طرف اگر عدلیہ کی جیت ہوتی ہے تو پاکستان تباہی سے دوچار ہوگا انیس بیس ماہ قبل سے یعنی جب سے چیف جسٹس دوبارہ بحال کئے گئے ہیں تب ہی سے وہ صدر زرداری پر حملہ کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اس کے لئے وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ زرداری کے خلاف ان کے غصہ کی اصل وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ زرداری ، ان کی بحالی میں پس وپیش کررہے تھے۔ انہیں اس وقت بحال کیا گیا جب زرداری پر زبردست دبائو پڑا۔ وکلاء نے زبردست احتجاجی تحریک شروع کی تھی جس میں بعد میں نواز مسلم لیگ بھی شامل ہوئی تھی۔
اپنی دوبارہ بحالی کے بعد چیف جسٹس چودھری نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازعہ آرڈیننس یعنی این آر او کے بارے میں پارلیمنٹ خود کوئی فیصلہ کرے لیکن یہ بات بھی سب کو معلوم تھی کہ پارلیمنٹ اس سوال پر بنٹی ہوئی ہے لہٰذا اس کی توثیق کی کوئی امید نہ تھی۔ این آر او جنرل مشرف نے 2007میں جاری کیاتھاجس کے تحت 8000افراد کو بدعنوانی کے الزامات سے نجات مل گئی تھی اور اس طرح سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار ہوئی تھی جو خود سے عائد کردہ جلاوطنی کی زندگی گزاررہی تھیں۔ اس آرڈیننس سے انہیں اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو بطور خاص فائدہ پہنچا تھا اس آرڈیننس کو مشرف کے دورِ اقتدار ہی میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔
جسٹس چودھری کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے مذکورہ آرڈیننس پر غور کیا  اور فوراً اپنا فیصلہ سنادیا یہ فیصلہ 16دسمبر2009 کو سنایا گیا۔ یہ وہ تاریخ ہے جس دن دہلی پاکستان اپنے دو لخت ہونے کا غم مناتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ وہ آرڈیننس غیرآئینی تھا لہٰذا حکومت ان تمام لوگوں کے خلاف مقدمات دوبارہ شروع کرے جنہیں معافی دی گئی تھی۔ عدالت کے اس حکم پر کہ سوئس بینک میں مالی گھپلوں کا زرداری کے خلاف جو مقدمہ تھا اسے دوبارہ کھولا جائے، بہت سے پاکستانی  مشاہدین کا ماتھا ٹھنکا تھا کہ عدالت کے فیصلہ کا اصل نشانہ صد ر زرداری ہیں جنہیں آئین کی زد سے یہ رعایت حاصل ہے کہ ان کے خلاف اس طرح کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ عدالت کا کہنا یہ ہے کہ وہی یہ طے کرے گی کہ صدر کو حاصل آئینی مراعات صحیح ہیں یا غلط۔
ادھر حکومت بھی اڑ گئی۔ اس نے نہ تو این آر او کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف دوبارہ مقدمات شروع کئے اور نہ ہی سوئیس بینک سے مقدمہ شروع کرنے کے لئے کوئی رابطہ قائم کیا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک اور حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے لئے نیا چیئرمین بحال کردیا۔ عدالت کا حکم یہ تھا کہ نیا چیئرمین اس کے مشورے کے بغیر بحال نہیں کیا جاسکتا۔ ادھر میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیئے بغیر یہ  خبر اچھال دی کہ حکومت اپنے اس حکم نامے کو واپس لینے پر غور کررہی ہے جس کے تحت گذشتہ سال مارچ میں ججوں کو بحال کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں الجھائو اور بڑھ گیا کیونکہ اس نوٹیفکیشن کو ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری نہیں ملی ہے۔ جج صاحبان میں کھلبلی مچ گئی۔ 17ججوں پر مشتمل بنچ نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ آئین کی دفعہ 6کے تحت غداری کے زمرے میں شامل ہوگا۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس خبر کی تردید کی لیکن اس کے باوجود عدالت نے کہا کہ ان کی حکومت اس بات کی جانچ کرائے کہ یہ خبر کن ذرائع نے دی تھی۔ عدالت کو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ خبر ایران صدر سے اڑائی گئی ہوگی۔ قوم کو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اعلیٰ ترین عدالت نے وزیر اعظم کے بیان کی بجائے ایک افواہ پر یقین کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعظم کے بیان پر ایک افواہ کو ترجیح دینا ان کے آئینی عہدے کی توہین کرنے کے مترادف ہے‘‘ تاہم حکومت  نے وزیراعظم کے دستخط کے ساتھ تحریری طور پر یہ یقین دہانی نہیں کرائی کہ حکومت اپنا نوٹیفکیشن واپس نہیں لے گی۔ حالانکہ عدالت نے اس سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا تھا۔
مسٹر گیلانی کے لہجہ سے یہی ظاہر ہوا کہ اگر عدالت صدر کو حاصل آئینی مراعات کو حذف کرکے اپنی حدود سے تجاوز کرے گی تو حکومت عدالت کے فیصلہ کا احترام نہیں کرے گی۔ اگر حکومت عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتی ہے تو عدالت اپنے فیصلہ پر عمل درآمد کرانے کیلئے آئین کی دفعہ 190 کے تحت فوج سے مدد مانگ سکتی ہے۔ کچھ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی پی پی حکومت کو منہدم کرنے کے بعد عدلیہ اور فوج مل کر ملک پر حکومت کریںگی۔
اگرچہ یہ بات دور از کار لگتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں ہے کہ پی پی پی حکومت گرنے کے بعد کون حکومت کرے گا؟ اصل پریشان کن سوال یہ ہے کہ سندھی اس ممکنہ صورتحال پر کیا ردّ عمل ظاہر کریںگے؟ سندھ کے دیہی علاقوں میں علیحدگی پسندانہ رجحان بلوچستان کے مقابلے کسی طرح کم نہیں ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو سندھی یقیناً پاکستان سے الگ ہونے کا نعرہ بلند کریںگے۔ ایسا انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بھی کیا تھا۔ یہ دونوں واقعات راولپنڈی میں پیش آئے تھے اگر حالات نے ایسی کروٹ لی تو بلوچستان میں آزادی کی مانگ کرنے والوں کے حوصلے اور زیادہ بلند ہوجائیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *