سپریم کورٹ نے ملک کو خبر دار کیا

ڈاکٹر منیش کمار
ہردن ایک نہ ایک نیا گھوٹالہ عوام کے سامنے اجاگر ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب ایسے وزیر اعظم کی مدت کار میں ہو رہا ہے جو خود ایماندار اور شریف النفس شخص ہیں۔ جس طرح ہر دن ایک کے بعد ایک گھوٹالے روشنی میں آ رہے ہیں، سرکاری مشنری میں پھیلی بدعوانی کی اصلیت سامنے آ رہی ہے،دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر آج گاندھی زندہ ہوتے تو کیا کرتے؟شاید ستیہ گرہ یا پھر بھوک ہڑتال کی بجائے شرم سے خود کشی کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔ یہ صرف گاندھی کی ہی بات نہیں ہے۔ وہ تمام عظیم شخصیات جنھوں نے جدوجہد اور قربانی دے کر ملک کو آزاد کرایا۔ انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں ملک کی یہ حالت کریں گی۔
سپریم کورٹ نے 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں سرمایہ داروں، لیڈران، افسران اور دلالوں کی ملی بھگت کے انکشاف کو دماغ ہلانے والا قرار دیا۔ ایک جج نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے آج تک ندیوں کی آلودگی کے بارے میں سنا تھا لیکن یہ ماحول آلودگی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔مطلب یہ کہ ہماری پوری سرکاری مشنری ہی سڑ چکی ہے۔ سوال چیف وجیلنس کمشنر پی جی تھامس کے استعفیٰ دینے یا نہ دینے کا نہیں ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جب ان پر بدعوانی کا معاملہ چل رہا ہے تو انہیں سی وی سی کیوں بنایا گیا۔ اتنا ہی نہیں جب لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے ان کے نام پر سوال کھڑا کیا تو ویسے ہی انہیں سی وی سی نہیں بننا تھا۔ باوجود اس کے حکومت نے یہ فیصلہ لیا تو حکومت کو اب یہ جواب دینا چاہئے کہ پی جے تھامس میں حکومت نے وہ کیا خوبیاں دیکھیں جو ملک میں دوسرے کسی افسر کے پاس نہیں ہیں؟ کیا اسے یہ سمجھا جائے کہ حکومت کو لگتا ہے کہ پوری مشنری میں ایک بھی ایماندار افسر نہیں بچا ہے؟ سب سے شرمناک صورتحال تو تب پیدا ہوئی جب سپریم کورٹ نے پی جے تھامس پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے یہ کہہ دیا کہ پی جے تھامس جیسے شخص کا سی وی سی بننا مناسب نہیں ہے تو اس کے بعد حکومت کس کے حکم کا انتظار کر رہی تھی۔ بے شرمی کی حد تو تب ہو گئی جب چاروں جانب سے پی جی تھامس کے نام پر مذمت ہونے کے باوجود وہ ٹی وی کیمرے کے سامنے یہ کہنے کی ہمت کر پائے کہ حکومت نے مجھے سی وی سی بنایا ہے اور میں آج بھی سی وی سی ہوں۔ اب اس کے بعد پی جے تھامس زندگی بھر سی وی سی بنے رہیں یا پھر وہ استعفیٰ دے دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وجیلنس کمیشن کو جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو گیا، جو داغ لگنا تھا وہ تو لگ گیا۔
جب سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ پی جے تھامس سوال کے گھیرے میں ہیں تو ان کے ذریعہ منتخب کئے گئے سی بی آئی کے نئے چیف کی تقرری پر بھی سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اب پی جے تھامس معاملہ میں دخل دیں یا نہ دیں لیکن اس معاملہ کی تفتیش وہی افسر کرے گا جسے تھامس نے سی بی آئی کا چیف بنایا ہے۔ قانون اپنا کام کرے گا، سپریم کورٹ اپنا فیصلہ کرے گا لیکن ملک کے عوام کے سامنے تو سرکاری مشنری کی ساکھ ختم ہو گئی۔ خطرہ اسی بھروسہ کے کھونے سے پیدا ہوتا ہے۔ اب کسی بھی دلیل یا شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی جب سپریم کورٹ نے ہی یہ کہہ دیا کہ پوری مشنری ہی سڑ چکی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ الٹی میٹم ہندوستان کے لئے آخری الٹی میٹم ہے، اگراس الٹی میٹم کو لوک سبھا، راجیہ سبھا، اسمبلی اور سیاسی جماعتوں نے نہیں سنا تو یہ ملک کے لئے سب سے خطرناک ثابت ہونے والا ہے۔ خطرہ اس بات کا بھی ہے کہ کہیں سپریم کورٹ کی باتوں کو فوج نے سن لیا تو ہندوستان کو پاکستان بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہ بات اچھی نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعیں عوام کی نظروں میں اتنی گر چکی ہیں، لوگوں کا بھروسہ افسران اور سرکاری مشنری سے اتنا اٹھ چکا ہے کہ اگر ملک میں فوج اقتدار پر اتر جائے تو لوگ اس کا خیر مقدم کریں گے۔ یقین مانئے خطرہ اتنا ہی گہرا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو عوام نے بدعوانی سے لڑنے کے لئے اختیار دیا ہے انہیں کے دامن آج کالے ہو گئے ہیں۔ باوجود اس کے ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ سیاسی جماعتیں کسی الٹی میٹم کو نہیں سنیں گی۔
ایک اندازہ کے مطابق 2009کے لوک سبھا انتخابات میں10,000کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ جس میں1300کروڑ روپے الیکشن کمیشن نے خرچ کئے۔ وہیں ریاستی اور مرکزی حکومت نے 700کروڑ روپے خرچ کئے۔ باقی 8000کروڑ روپے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے خرچ کئے۔ اب سوال یہ ہے کہ 8000کروڑ روپے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے پاس کہاں سے آئے؟ یہ پیسہ سیاسی جماعتوں کو بڑے بڑے صنعت کار دیتے ہیں۔ صنعت کار کسی نظریہ یا حب الوطنی کے نام پر پیسہ نہیں دیتے، وہ حکومت چلانے والی پارٹی اور اپوزیشن دونوں کو ہی پیسے دیتے ہیں۔ یہ پیسہ اس لئے دیا جاتا ہے کہ حکومت بننے کے بعد وہ ان کے لئے منافع کمانے کا راستہ صاف کریں گے۔ حکومت کی مدد سے صنعت کار جتنا پیسہ سیاسی جماعتوں کو دیتے ہیں اس سے دس گنا زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔ الیکشن جیتنے کے لئے سیاسی جماعتیں صنعت کاروں سے پیسہ لیتی ہیں اور حکومت بنانے کے بعد ان کی سانٹھ گانٹھ سے عوام اور حکومت کے خزانہ کو لوٹتے ہیں۔ ملک میں بڑے بڑے گھوٹالہ کو انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب حمام میں سب ننگے ہیں تو سرکاری ادارے کسے پکڑیں اور کسے چھوڑیں؟ نتیجہ سامنے ہے، آج تک کسی بھی لیڈر کو کسی گھوٹالہ کے تحت سزا نہیں ملی ہے۔ ملک کی سیاسی مشنری اپنے ہی جال میں پھنس چکی ہے۔ اس لئے یہ بات بالکل طے ہے کہ بدعوانی کے خلاف ملک کی سیاسی پارٹیاں دکھاوے کا شور شرابہ اور ٹی وی کیمرے کے سامنے ہنگامہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گی۔ ان سے امید کرنا بیکار ہے۔ پندرہ دنوں تک پارلیمنٹ میں جو ہنگامہ ہوتا رہا وہ سیاست سے متاثر ہے ۔ بی جے پی مرکزی حکومت سے آدرش گھوٹالہ اور 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں جے پی سی کا مطالبہ تو کرتی رہی لیکن جب یدی یورپا کا معاملہ سامنے آیا تو اس کی زبان بند ہو گئی۔ کانگریس اور بی جے پی میں اس بات کی مسابقت شروع ہو گئی کہ کون کس سے کتنا کم بدعنوان ہے؟ اب تو سیاسی جماعتیںبھی خود کو بدعنوان بتانے پر شرم محسوس نہیں کرتیں۔سیاسی جماعتیں بدعنوانی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانے والی ہیں۔
سپریم کورٹ کی اس بات کی ستائش ہونی چاہئے، کیونکہ ججوں کی بدعنوانیوں کی کہانیوں کے درمیان سپریم کورٹ کا بیان ڈوبتی ہوئی کشتی کے سامنے ایک جزیرے کے مترادف ہے۔ آخری امید کی کرن کی طرح ہے۔ اس پر بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے اس الٹی میٹم کو ملک کے نوجوانوں کو سننا ہوگا۔ نئی نسل اور نوجوان ہندوستان کو بدعنوانی کے خلاف آگے آنا ہوگا۔ نہیں تو یہ ملک آنے والی نسلوں کے لئے بددعا ثابت ہونے والا ہے۔
جب ہم نئی نسل یا نوجوان ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو اس میں راہل گاندھی، ورون گاندھی اور راہل مہاجن جیسے لوگوں کو اس زمرے سے الگ رکھتے ہیں۔ راہل گاندھی کا نوجوان بھارت کا بہترین لیڈر بننے کا خواب ہے۔ یہی ان کی اور ان کی پارٹی کی خواہش ہے۔ ان کے ایجنڈے میں پارٹی کو مضبوط کرنا زیادہ ضروری ہے لیکن بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کو متحد کرنا ان کی حکمت عملی میں نظر نہیں آتا ہے۔ راہل گاندھی کانگریس کے دوسرے سب سے طاقتور لیڈر ہیں۔ ان کے ایک اشارے پر گھوٹالہ باز سلاخوں کے پیچھے جا سکتے ہیں لیکن راہل گاندھی خاموش ہیں۔ راہل گاندھی میڈیا میں زیادہ تر انتخابات میں تقریریں کرتے نظر آئے ہیں، کبھی گائوں میں غریبوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو کبھی نریگا کے مزدوروں کے ساتھ مٹی اٹھاتے نظر آئے ہیں۔ راہل نریگا کے مزدوروں سے ملتے ہیں، اتر پردیش سے ممبئی کی ٹرین میں عام لوگوں کی پریشانی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گائوں میں جا کر رات گزارتے ہیں، غریبوں کے یہاں کھانا کھاتے ہیں۔ کیا وہ یہ سب سیاحت، یا پھر موج مستی کے لئے کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا آج تک انہیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ مرکز کی نریگا جیسی اسکیم ہو یا پھرریاستی حکومت کی کوئی اسکیم، وزارت سے لے کر پنچایت تک بدعوانی کا بول بالا ہے۔کیا اب تک انہیں یہ پتہ نہیں چل پایا کہ بنا رشوت اور کمیشن کے سرکاری دفتروں میں کام نہیں ہوتا ہے؟ کیا انہیں پتہ نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں دو ہندوستان ہیں۔ ایک جو بدعوانی اور گھوٹالہ کرتا ہے اور دوسرا ہندوستان وہ ہے جو ان کے برے کاموں کا پھل بھگتتا ہے۔جب تک گھوٹالوں کا پردہ فاش نہیں ہوا تھا تو راہل یہ بھی بولا کرتے تھے کہ دہلی میں بھیجا گیا ایک روپیہ گائوں تک پہنچتے پہنچتے 15پیسہ بن جاتا ہے۔ پچاسی پیسے غائب ہو جاتے ہیں۔ جب سے گھوٹالوں کے سامنے آنے کا دور شروع ہوا ہے تب سے راہل نے بدعنوانی کے خلاف بولنا بند کر دیا ہے۔
بی جے پی کے نوجوان لیڈر ورون گاندھی سے بھی امید نہیں ہے، کیوں کہ ان کی نظر میں غریبوں اور عوام کے پیسے کو لوٹنے والے لیڈروں و افسروں کے خلاف آواز اٹھانے کا کوئی مقام ہی نہیں ہے۔ پارٹی لائن کی تعمیل کرتے ہوئے یا پھر اس سے ہٹ کر ورون گاندھی جب منہ کھولتے ہیں تو نفرت اور تشدد کی بات کرتے ہیں۔ جذبات کو بھڑکانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورون گاندھی نے جو بات لوک سبھا انتخابات کے دوران کہی تھی اگر وہی بات بدعنوانی کرنے والوں اور گھوٹالے بازوں کے لیے کہی ہوتی تو وہ عوام کے ہیرو بن گئے ہوتے۔ ایک ہی جھٹکے میں ان کی مقبولیت راہل گاندھی سے کافی زیادہ ہوجاتی۔ ملک کے عوام ان سے کچھ امید بھی کرتے ہیں، لیکن راہل گاندھی کی طرح ورون گاندھی بھی خاموش ہیں۔ ہمیں سیاسی پارٹیوں کی کھال اوڑھے ایسے نوجوان لیڈروں سے بچنا ہوگا جو صرف عمر کے اعتبار سے نوجوان ہیں۔ ذات اور مذہب کی آڑ میں سیاست چمکانے والے ان نوجوان لیڈروں سے بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑنے کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ ملک کے عوام کو راہل مہاجن جیسے نوجوانوں سے بھی بچنا ہوگا، جو اپنی زندگی سے اتنے پریشان ہیں کہ سماج اور ملک کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں مل پاتا۔ ایسے نوجوانوں سے امید نہیں کرنی چاہیے جن کی زندگی کا صرف ایک مقصد ذاتی مفاد ہے۔ ایسے نوجوان لیڈروں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جو اپنے والد یا خاندان کی بدولت سیاست میں ہیں، کیوں کہ یہ اسی بدعنوان مشنری کی پیداوار ہیں جس سے پوری مشینری کھوکھلا ہوچکی ہے۔
بدعنوانی سے لڑنے کے لیے ان نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا جن کا مستقبل داؤں پر ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبا کو سڑکوں پر اترنا ہوگا جو پڑھ لکھ کر اور محنت کر کے اپنے مستقبل کو سنوارنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ سڑک پر نہیں اترتے ہیں تو بدعنوانی کا بھوت ان کی محنت پر پانی پھیر دے گا اور خواب سچ نہیں ہو پائیں گے۔ مزدوروں اور کسانوں کو اس بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانی ہوگی، کیوں کہ جو گریٹر نوئیڈا، دادری، نندی گرام اور سنگور میں ہوا وہ بد عنوانی کا ہی ایکسٹینشن ہیںاگر اب یہ نہیں روکا گیا تو ملک میںکئی دادری اور نندی گرام پیدا ہو جائیں گے۔ سرکاری مشینری میں پھیلی بدعنوانی کا سب سے زیادہ اثر متوسط طبقہ پر پڑتا ہے۔ ان میں وہ لوگ ہیں جو نوکری پیشہ یا بزنس کرتے ہیں۔ یہ بدعنوانی کی سب سے عریاں شکل سے واقف ہیں، اسے آئے دن جھیلتے ہیں، لیکن یہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتے ہیں، بدعنوان لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس بار انہیں بھی بدعنوانی کے خلاف یکجا ہونا ہوگا۔ ملک کے اقلیتوں کو اس لڑائی میں اہم کردار اداکرنا ہوگا۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سماج کسی عوامی تحریک یا تبدیلی کے لیے آگے آتاہے تو سیاسی پارٹیوں اور ان سے ملحق تنظیموں نے ملک میں مذہبی خبط پھیلایا ہے۔ اس بار بھی بدعنوانی کے خلاف لوگوں کا غصہ پھوٹے گا تو مندر مسجد اور ہندو مسلمان کے نام پر سماج کو بانٹنے کی کوشش ہوگی۔
ایک بات اور سمجھنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو بازار کاری اور لبرلزم کو فروغ دینے والے ہیں وہ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں، بدعنوانی کو اگر کم کرنا ہے تو ملک میں حکومت کے رول کو ہی کم کرنا پڑے گا۔ لیکن 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے سے یہ دلیل چاروں خانے چت ہوگئی۔ پرائیویٹ کمپنیوں نے ایک ہی جھٹکے میں سارے گھوٹالوں کے ریکارڈ کو تہس نہس کردیا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں بدعنوانی سے لڑنے کے لیے سرکاری مشینری کی ہی صفائی کرنی ہوگی۔ اگر اس موقع کو گنوا دیا گیا تو پھر دیر ہو جائے گی۔ بدعنوانی کو روکنے کا سب سے کارگر طریقہ حکومت کے کام کاج میں شفافیت، سیلف گورنینس، معینہ وقت کے منصوبے اور اکاؤنٹبلیٹی وغیرہ ہیں۔ حکومت کے ہر کام پر لوگوں کی نظر رہے، ایسا انتظام ضروری ہے اور اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ بدعنوانی کے معاملے میں سخت ا ورفوری کارروائی ہو، جس طرح سے لیڈروں سے الیکشن کے دوران پراپرٹی کی تفصیل مانگی جاتی ہے، ویسی ہی تفصیل سرکاری افسران اور سرکار سے وابستہ لوگوں سے سالانہ طور پر لی جائے۔
1947سے قبل ہم انگریزوں کے غلام تھے، آج ہم سبھی ایک بدعنوان نظام کے غلام بن گئے ہیں۔ گاندھی کو سیاسی جماعتوں نے آبسلیٹ کردیا ہے تو ان کے ذریعہ بنائے گئے جد و جہد کے راستے بھی آبسلیٹ ہوگئے ہیں۔ ملک کے عوام کے سامنے یہ بھی طریقہ نہیں بچا ہے کہ وہ رشوت ادا کرنے سے انکار کر کے کوئی مثال پیش کریں۔ اگر انصاف نہ ہوتو امن بھی ممکن نہیں ہوسکتا اور انصاف تب تک ممکن نہیں ہے، جب تک ایماندار لوگوں کو ایمانداری سے زندگی بسر کرنے کی اجازت نہ مل جائے۔ بدعنوانی کے خلاف اگر ملک میں پرتشدد تحریک کی شروعات ہوجائے تو عوام اس کا خیرمقدم کریںگے اور اس کی ذمہ داری بھی سیاسی جماعتوں اور ملک کو کھوکھلا کرنے والے افسران کی ہوگی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

One thought on “سپریم کورٹ نے ملک کو خبر دار کیا

  • December 20, 2010 at 4:42 pm
    Permalink

    میں شکر گزار ہوں ،اس طرح کی خبروں کے لئے ٹی، ایم ،ذیل حق،نی دلھ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *