جتنی بڑی جیت اتنی بڑی ذمہ داری

وسیم راشد
بہار الیکشن، جی ہاں! جب بہار الیکشن کی ہر طرف بہار آئی ہوئی ہے تو ہم کیوں خزاں کی بات کریں حالانکہ اس بہار الیکشن کے نتیجے کے دوران ہی کئی اور اہم گھوٹالے، حادثے اور باتیں ہوئی ہیں جو بہار الیکشن کے نتیجے میں دبی تو نہیں ہیں، مگر پہلے صفحے کی سرخی نہ بن کر دوسرے تیسرے صفحے پر نظر آرہی ہیں۔ گھوٹالے یوں تو کامن ویلتھ گیمز، آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی، 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ اور اس سے پہلے تیلگی گھوٹالہ،ستیم گھوٹالہ، بوفورس گھوٹالہ، چارہ گھوٹالہ، حوالہ گھوٹالہ غرضیکہ ایک لمبی فہرست ہے، جس کو گنتے گنتے اور جس کے نام یاد رکھتے رکھتے آپ بھول جائیںگے، مگر ہم گناتے گناتے نہیں بھولیںگے اور پھر اب آیا ہاؤسنگ لون گھوٹالہ اور جیسا کہ اس گھوٹالہ میں 17کمپنیوں کو نوٹس بھی دیا جاچکا ہے، مگر جہاں اتنے بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے ہوں کہ آپ اس کے صفر لگاتے لگاتے تھک جائیں، تو پھر اس چھوٹے سے گھوٹالے کی کیا اہمیت۔ نہیں ایسا نہیں ہے  گھوٹالہ ،گھوٹالہ ہوتاہے،چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا اور پھر اس میں نقصان بھی تو صرف اور صرف غریب عوام کا ہوتا ہے۔ رہی بات حادثات کی تو اس دوران دہلی میں 5لوگوں نے کال سینٹر سے واپس لوٹ رہی ایک لڑکی کی ٹیمپو میں عصمت دری کی اور اس کو ایک سنسان جگہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے اور جب بات آئی شیلا جی تک تو انہوں نے اپنا پلہ یہ کہہ کر چھاڑ لیا کہ لیفٹیننٹ گورنر پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، دہلی سرکار پر نہیں۔ بات کسی حد تک ٹھیک ہے کہ پولس اور اس سے وابستہ محکمے ان ہی کے تحت آتے ہیں، مگر ایک سینئر لیڈر کا اور وہ بھی خاتون کا یہ کہہ کر دامن بچا لینا کہ یہ ذمہ داری ان کی نہیں ہے، نہایت غیرمناسب ہے۔ ان کو یہ کہتے وقت یہ احساس ہونا چاہیے تھا کہ ذمہ داری کسی کی بھی ہو، مگر وہ Ruling Partyکی سی ایم ہیں اور ان پر اخلاقی ذمہ داری تو عائد ہوتی ہی ہے۔ اب دوسری جانب رخ کرتے ہیں۔ دہلی اسمبلی میں دارالخلافہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دئے جانے کی قرار دار منظور کرلی گئی ہے، حالانکہ اگر قانونی طور پر دیکھا جائے تو شیلا جی اپنی جگہ درست ہیں، کیوں کہ ہر معاملہ میں حکومت دہلی سے جواب طلبی ہوتی ہے۔ مگرشیلا جی بھی توہمیشہ مکمل ریاست قرار دئے جانے سے زیادہ خصوصی ریاست پر زور دیتی رہی ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
چلیے اب آجاتے ہیں بہار کے سنسنی خیز نتائج پر، تو صاحب نتیش جی تو دوہری اکثریت سے کامیاب ہوگئے اور ایسے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے اپنے سامنے کیا آس پاس بھی کسی کو نہیں چھوڑا۔ نتیش کی کامیابی کا سہرا کس کو جاتا ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ حالانکہ تمام اخبار ات اور چینلز اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے سروے میں پہلے ہی یہ واضح کردیا تھا کہ نتیش کی ہی سرکار بنے گی اور ان کو بھاری اکثریت ملے گی۔ جب سب ہی یہ دعویٰ کرنے پر تل گئے ہیں کہ ان سبھی نے نتیش کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا ہے تو بہتی گنگا میں ہم بھی ہاتھ دھولیتے ہیں، کیوں کہ اب اگر ہم یہ کہیں کہ ’چوتھی دنیا‘ نے اپنے دو مہینے پہلے کے سروے میں ہی کئی اہم سوالات کیے تھے اور جس میں سبھی جوابات نتیش کے حق میں ملے تھے، اس وقت ہمیں یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ نتیش کمار کی جیت یقینی ہے تو آپ یہی کہیںگے کہ موقع کا فائدہ اٹھایاہے مگر ایسی جیت کہ تاریخ رقم ہوجائے یہ واقعی ناممکن کو ممکن کردینے والی بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ جی اور ہم لوگ بہار کے نتائج آنے سے پہلے بار بارکہہ رہے تھے کہ نتیش کے حق میں پورا سروے جارہا ہے تو بھارتیہ جی نے کہا تھا کہ لالو یادو کے وقت میں بہار میں ایسی تاریکی چھا گئی تھی، ایسا اندھیرا ہوگیا تھا کہ اب نتیش کمار اس اندھیرے میں روشنی کی نئی کرن بن کر چمکے ہیں۔ بہار کے عوام کو ان میں ایک نئی صبح کی علامت نظر آئی ہے۔ بہار کے نتائج اس بات کی دلیل ہیں کہ لالو یادو کے 15سال لوگوں کے دلوں میں زخم نہیں ناسور بن گئے ہیں اور ان 15سالوں نے بہار کے حالات بے حد خراب کر دئے تھے۔ غنڈہ گردی،لوٹ کھسوٹ، ڈاکہ زنی، اغواکاری اور عصمت دری کے واقعات عام تھے۔ لوگ دن میں بھی گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے تھے کہ نہ جانے کب وہ کس چلتی گاڑی میں گھسیٹ لیے جائیں اور ان کو لوٹ مار کے پھینک دیا جائے۔
پھروتی اور اغوا کا یہ عالم تھا کہ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں کو دیکھ کر ڈر جاتے تھے۔ خاص طور پر خواتین شام کے بعد سڑکوں پر نکلتی ہی نہیں تھیں۔ یہی نہیں تعلیمی نظام بے حد خراب تھا، اگر تعلیمی نظام خراب نہ ہوتا تو دہلی میں جس طرح ہر دوسرا آدمی بہار کا نظر آتا ہے اور گالی بھی سنتا ہے کہ ’ہونا بہاری‘ یہ دن بہار کے لوگوں کو دیکھنے کو نہ ملتے، مگر تعلیمی نظام اتنا خراب ہوا کہ گھر گھر سے نوجوان اور بچوں کو باہر پڑھنے کے لیے یا مزدوری کرنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ سڑکوں کی حالت انتہائی خراب تھی، یوں سمجھ لیجیے کہ لااینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز بہار میں نہیں تھی اور جب 2005میں اقتدار کی کمان نتیش کو سونپی گئی تو پہلی بار بہار کے عوام نے سکھ اور چین کے دن دیکھے۔ پہلی بار بہار کی سڑکوں پر روشنی نظر آنے لگی۔ پہلی بار بہار کی سڑکوں کی مرمت کا کام ہوا اور نئی سڑکیں بھی بننے لگیں۔ اس درمیان رام ولاس پاسوان اور لالو جی نے یہ سوچ لیا کہ وہ اپنے رشتے داروں اور گھر کے لوگوں کو سیاست میں لائیںگے تو زیادہ سے زیادہ سیٹیں ان کے قبضے میں آئیںگی، مگر شاید لالو جی سے یہیں چوک ہوگئی۔ ان کے بیٹے تیجسوی کو بہار کے عوام نے قبول ہی نہیں کیا۔ عوام کو یہ محسوس ہوا کہ اس طرح تو بھائی ، بھتیجہ واد کو بڑھاوا ملے گا اور لالو جی پارٹی کیا پورے بہار کا استعمال اپنے کنبہ کے لیے کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رام ولاس نے اپنے بھائی پشوپتی پارس کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کردیا اور خود لالو جی وزیراعلیٰ بنیںگے، یہ سب طے ہوگیا، یہ ایک اور بڑی غلطی ہوئی رام ولاس پاسوان اور لالو سے کہ انہوں نے سب کچھ گھر میں ہی طے کرلیا۔ مسلمانوں، دلتوں اور دوسری پسماندہ ذاتوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ ان کے لیے یہ کچھ نہیں کرنے والے۔ دوسری جانب نتیش کی شبیہ صاف تھی، ان کے رشتے دار یا بھائی بھتیجے کبھی سیاست میں نظر نہیں آئے، اس کے علاوہ بہار میں امن و سکون نظر آنے لگا۔ نتیش نے انتہائی پسماندہ، مہادلتوں اور خواتین کو ریزرویشن دیا، اس کے لیے اسکولوں میں پرائمری اساتذہ کی دو لاکھ تقرریاں ہوئیں، اس کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو سائیکلیں دی گئیں، وہ بہار جہاں خواتین اور لڑکیاں دن میں نکلتے ہوئے بھی ڈرتی تھیں، وہی خواتین الیکشن لڑنے کے لیے گھروں سے نکل پڑیں، وہ لڑکیاں جو اسکول کا خواب تک دیکھنا بھول گئی تھیں، وہ سائیکلوں پر اسکول جانے لگیں اور بہار میں ایک دم ترقی کی روشنی نظر آنے لگی۔ سب سے بڑی غلطی ہوئی لالو اور پاسوان جی سے مسلمانوں کو کوئی بھی اہمیت نہ دینے کی۔ دونوں نے سوچ لیا تھا کہ ان کی ذات برادری کے ساتھ جب مسلمان بھی شامل ہوجائیںگے تو پھر ان کی جیت یقینی ہے، مگر وہ یہ بھول گئے کہ مسلمان بھی ذات برادری سے زیادہ اس پر یقین رکھتے ہیں جو صاف شبیہ اور کھلے ذہن کا مالک ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بھی اب صرف ووٹ بینک بن کر نہیں رہنا چاہتے، ان کے پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے جو بھی پارٹی یا لیڈر سامنے آئے گا، وہ اس کی حمایت کریںگے۔ اس لیے اس 15ویں بہار اسمبلی میں 19مسلم ایم ایل اے ہیں، جن میں 2مسلم خواتین بھی شامل ہیں۔
بہار کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ 2مسلم خواتین ایم ایل اے ایک اسمبلی میں ہوں۔ ایک بات اور اس الیکشن میں اہم ہے، نتیش اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ مودی کو مسلمان سخت ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے یہ عقل مندی دکھائی کہ مودی کو بہار الیکشن سے دور ہی رکھا۔ دراصل مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کبھی کبھی ہی کوئی نظر آتا ہے۔ بہارکے مسلمانوں کو بھی نتیش کمار کی شکل میں ایک ایسا لیڈر نظر آیا جو صرف اور صرف اپنے بل بوتے پر کام کرسکتا ہے۔ اب صرف اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت میں اپوزیشن بہت ہی اہم رول ادا کرتی ہے، مگر نتیش نے تو اتنی سیٹیں حاصل کرلیں کہ کوئی مضبوط اپوزیشن ہے ہی نہیں، ایسے میں نتیش کے سامنے اور زیادہ چیلنجز ہیں۔اپوزیشن کا کردار اب میڈیا، عوام اور سماجی کارکنان کو کرنا ہے۔ نتیش جی یہ کامیابی آپ کو مل تو گئی ہے، مگر یہ کانٹوں بھرا تاج ہے، جس کو پہن کر آپ کو اس کی چبھن کے ساتھ ہی سارے کام کرنے ہیں، کیوں کہ بہار کے عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، سڑکوں کو بنوانا، اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دواؤں کا صحیح انتظام کرانا، اسکولوں کالجوں میں پڑھائی کا معیار قائم کرنا، نئے نئے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بنوانا، عورتوں اور لڑکیوں کے لیے تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرانا اور ساتھ ساتھ غنڈہ گردی، لوٹ مار، ڈاکہ زنی، اغوا اور عصمت دری جیسے واقعات پر سخت نظر رکھنا یہ سب چنوتیاں آپ کے سامنے ہیں، کیوں کہ جن کو آپ نے آسمان سے زمین پر پٹخ دیا ہے، جن کے عروج کو آپ نے زوال پر پہنچا دیا ہے، جن کی شبیہ عوام کے د ل و دماغ سے آپ نے مٹا دی ہے، وہ بھی خاموش نہیں بیٹھیںگے۔ سبھی اپنی چالیں چلیںگے اور آپ پر وار کریںگے، مگر آپ کو عوام کے معیار پر کھرا اترنا ہے، کیوں کہ عوام بھی ایک بار یا دو بار بھروسہ کرتی ہے، بار بار نہیں۔ ہم آپ کے لیے دعا کرتے ہیں کہ آپ بہار کے عوام پر ان کے دلوں پر اسی طرح حکومت کرتے رہیں۔


A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *