دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کا رواج یا حکم!

اسد مفتی
فرانسیسی حکومت نے فرانس کے ایک مسلم شہری کو ’’وارننگ‘‘ دی ہے کہ وہ تعداد ازدواج پر عمل پیرا ہے اور فرانس کے قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اس لئے اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جائے گا۔ اس مسلم شخص نے کہا ہے کہ وہ صرف ایک بیوی رکھتا ہے اور باقی سب داشتائیں ہیں۔ الجیریائی نژاد مسلمان ہباج (جو ایک قصاب ہے )نے 1999میں ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کی اور فرانس کا شہری بن گیا۔ ہباج کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس کی ایک بیوی نے شکایت کی کہ اس کو حجاب پہن کر کار چلانے کی پاداش میں جرمانہ کیا گیا ہے، ہباج پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ چار بیویاں رکھتا ہے۔ ہباج نے جواب میں کہا ہے کہ اس کی قانونی طور پر صرف ایک بیوی ہے اور باقی سب داشتائیں ہیں اگر داشتائیں رکھنے سے فرانس کی شہریت ختم ہو سکتی ہے تو کئی فرانس کے لوگ شہریت سے محروم ہو جائیں گے۔ ہباج نے بیوی کی موجوگی کو چھپا کر فرانس کی خاتون سے شادی کی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا ہے کہ وہ اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر سعودی عرب میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہونے کے باوجود ملک میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق90لاکھ خواتین میں صرف 29لاکھ دوہزار 15خواتین شادی شدہ جبکہ 30سال تک کی وہ خواتین جن کی عمر شادی سے گزر چکی ہے ان کی تعداد 18لاکھ 13ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان غیر شادی شدہ خواتین کی اکثریت مکہ اور ریاض میں ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں غیر شادی شدہ عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لئے سعودی نوجوانوں کے ایک گروپ نے ایک سے زیادہ شادیوں کی وکالت کی ہے اور ہرمجاز سعودی مرد سے درخواست کی ہے کہ وہ چار عورتوں سے شادی رچائے۔ اس گروپ نے فیس بک (FACE BOOK) پر اس کے لئے ایک مہم شروع کر دی ہے جس کا عنوان ہےWe Want Them Four(ہمیں چار کی ضرورت ہے)۔ اس مہم کا مقصد غیر شادی شدہ عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانا بتایا جاتا ہے۔ ہر چند کہ سعودی عرب میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد کا شمار نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سعودی معاشرہ میں شادی مالی اعتبار سے اکثر بڑے مہنگے سودے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مہم چلانے والوں نے اپنی اشتہاری مہم میں کہا ے کہ ہر سعودی مرد کو جو مالی اور جسمانی اعتبار سے ایک سے زیادہ شادیوں کا متحمل ہے وہ اس معاملہ میں ہرگز ہچکچاہٹ سے کام نہ لے ۔ اس طرح معاشرے میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے جو شادی کے مہنگے اخراجات کا نتیجہ ہے۔ فیس بک میں عرب گھرانوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ شادی کو ایک دشوار مرحلہ نہ بنائیں اور لڑکے والوں پر جہیز اور دوسرے مالی تقاضوں کا بوجھ نہ ڈالیں کہ اکثر نوجوان یہ ’’قیمت‘‘ چکانے کے متحمل نہیں ہیں۔ فیس بک پر یہ عجیب و غریب انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا نظریہ کوئی اسلامی ایجاد نہیں ہے۔ اسلام نے صرف اس کی شکل درست کی ہے۔ اس لئے اہل عرب ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے مسلمانوں کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ فیس بک کے آرگنائزرز کے مطابق اب تک جتنی درخواستیں آئی ہیں ان میں سے بیشتر تیسری یا چوتھی بیوی کے لئے ہیں۔ مسلمانوں میں دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کا حکم، رواج یا ضرورت صرف سعودی عرب میں نہیں بلکہ بہت سے مسلم ممالک میں یہ ’’شوق‘‘ پایا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں زندگی ایک اور ’’خوشگوار‘‘ موقع سے دو چار ہو جائے گی اور یہ بات اس وقت اور بھی یقینی ہو جاتی ہے جب یہ دوبارہ یا سہ بارہ شادی کا موقع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں عقد ثانی کے خواہش مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں ایسے کئی پاکستانیوں کو جانتا ہوں جو عقد ثانی کے خواہش مند ہیں۔ ایک مسلم شادی بیوروکادعویٰ ہے کہ ان کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ارکان ہیں جن میں ہر ماہ پانچ تادس ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جو اکثر یہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ وہ ضرور رشتہ پورٹل سے بہتر انتخاب کرتے ہوئے اپنے لئے بہتر فیصلہ کریں گے۔ عقد ثانی کے بارے میں جھجھک اور ہچکچاہٹ کا تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ مسلم ممالک میں طلاق کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شادی کے خواہشمندوں (دوسری، تیسری، یا چوتھی) میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ طلاق شدہ افراد کا اتفاق ہے کہ تلخ تجربہ کے بعد بھی وہ دوسری بیوی کے ساتھ بہتر شادی شدہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ سماج میں بھی اب دوسری شادی یا طلاق کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ 50سے ساٹھ سال کے افراد بھی عقد ثانی کی دوڑ میں برابر کے شریک ہیں اور یہ بات ذہنوں میں جگہ پا گئی ہے کہ طلاق مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ دوسری یا تیسری شادی خوشگوار زندگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
پہلی بیوی کی موجودگی میں عقد ثانی کا معاملہ اب صرف بڑے شہروں تک ہی محدود نہیں رہا۔ آہستہ آہستہ یہ چھوٹے شہروں اورقصبوں تک پہنچ رہا ہے۔ ایک مسلم ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس یوروپ، ایشیا، افریقہ اور یو ایس اے کے پانچ سو سے زائد شہروں کے افراد کے رجسٹریشن ہیں۔ جن میں سے بیشتر دوسری یا تیسری شادی کے خواہشمند ہیں۔
دوسری شادی کے مسئلے پرشرعی حوالے سے علماء کرام میں اختلاف پایاجاتا ہے۔ بہر حال اس خیال پر زوردینا شاید غلط نہ ہوگا کہ دنیا میں ہونے والی پیش رفت اور اسلام کے درمیان کوئی تعلق ہے، لیکن یہ خطرہ ابھی موجود ہے کہ اسلام کو الزام دھرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ جس کی وجہ سے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں یا مسلم ممالک اور غیر مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمی بڑھتی جا رہی ہے، لیکن اس بات سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ایسی عادات و روایات جو اسلام سے متصادم نہیں تھیں، انہیں نہ صرف قبول کر لیا گیا بلکہ بعد ازاں مقامی باشندوں نے بعض روایات کو بعض اوقات اسلام کا جز نہیں تو کم از کم اسلام کے عین مطابق ضرور قرار دے دیا اور پھر بتدریج کہنے اور سمجھنے لگے کہ یہ روایات درحقیقت اسلام کا جز ہیں۔اس کی ایک اور مثال حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب کے ایک انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی ماہر نے سعودی نوجوانوں کو بیرونی خواتین کے ساتھ شادی کرنے کے خلاف انتباہ دیا ہے۔ اس سعودی دانشور کا اندیشہ ہے کہ مملکت میں کئی سعودی نوجوان لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر سعودی خواتین کے ساتھ شادیوں کے نتیجہ میں کئی سماجی اور مالی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان مسائل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جو سعودی نوجوان غیر سعودی خواتین سے یا یہودی خاتون سے شادی کے خواہشمند اور خواہاں ہیں انہیں سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔جیسے اسرائیل یا یہودی خاتون سے شادی کے لئے سرکاری طور پر اجازت لینی پڑتی ہے۔شاہ محمود یونیورسٹی کے سنیٹر برائے تحقیقات نوجوان کے معاون جنرل سکریٹری نظارہ الصالح نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بعض سعودی شہری بیرونی ممالک کا محض اس لئے سفر کرتے ہیں کہ عارضی طور پر شادیاں کریں جسے’’معیادی شادی‘‘ بھی کہا جاتا ہے(یہاں یہ بات یاد رہے کہ سعودی مردوں اور مصری خواتین سے پیدا ہونے والے ان’’ان سفری مصری بچوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے)۔
سعوی شہری بیرونی ممالک میں قیام کی مہلت یا معیاد ختم ہو جانے کے بعد وہ اپنی غیر سعودی بیویوں کو طلاق دے دیتے ہیں۔نظارہ الصالح نے کہا ہے کہ سعودی شہری عارضی طور پر لطف اٹھانے کی خاطر اس طرح کے اقدامات کرتے ہیں۔ جو خاندانی اقدار کے مغائرہے جو افراد بیرونی خواتین کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں وہ بیرونی ممالک میں ہی اپنی بیویوں اور بچوں کو بے سہارا اور بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے کئی سعودی خاندان مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔ بالخصوص کئی سعودی دوشیزائیں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت، بیرونی خواتین کے ساتھ شادیوں کے معاہدات کو ہرگز قبول نہیں کرتی اور نہ ہی بیرونی خواتین (بیویوں) کو مملکت میں داخلہ کی اجازت دیتی ہے۔ میں کچھ لوگوں کو جانتا ہوں جو بجلی گل ہو جانے پر الماری میں رکھی موم بتی نہیں جلاتے بلکہ نزدیک کی دوکان سے مزید موم بتی خرید کر الماری میں رکھ لیتے ہیں۔

Share Article

One thought on “دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کا رواج یا حکم!

  • December 21, 2010 at 9:04 pm
    Permalink

    یہ مضمون اچھا لگا.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *