وزیر اعظم جی، ملک بک رہا ہے اب تو خاموشی توڑ دیجئے

وسیم راشد
خدا بھلا کرے ان بڑے بڑے گھوٹالہ کرنے والوں کا۔ کم سے کم ان کی بدولت میڈیا کو چٹ پٹی خبریں تو مل جاتی ہیں، ورنہ وہی مہنگائی، بے روزگاری کی خبریں پڑھتے پڑھتے تو منہ کا مزہ ہی خراب ہوجاتا ہے۔ ہم نے بھی جب اخبار اٹھا کر دیکھا تو پورے صفحہ پر گھوٹالے ہی گھوٹالہ کی خبریں تھیں۔ آدرش گھوٹالہ تھا، جس کی بنا پر ایک ’چوان‘ کی واپسی ہوئی تو دوسرے ’چوان‘ کی آمد ہوئی۔ کامن ویلتھ گھوٹالہ تھا، جس کی وجہ سے کلماڈی اینڈ کمپنی کو بھی آخر کار مستعفی ہونا پڑا۔ کلماڈی جی اور اشوک چوان نے اتنا تو کما کھا لیا ہوگا کہ سات پشتیں اطمینان سے بیٹھ کر کھاسکتی ہوںگی اور گھوٹالوں کا سردار -2جی اسپیکٹرم تو نہ جانے کتنوں کی نسلیں پشتیں سنوار دے گا۔ اے راجہ ہی نہیں بڑے بڑے صحافی برکھا دت، ویر سانگھوی جیسے نام بھی سامنے ہیں اور نیرا راڈیا بھی جو کارپوریٹ Jobbyist ہے۔ یوں سمجھئے کہ بوفورس اسکینڈل سے لے کر چارہ گھوٹالہ تک اور اب کامن ویلتھ، آدرش گھوٹالہ اور -2جی اسپیکٹرم تک اس ملک کا ہر وزیر، ہر سیاسی لیڈر گلے گلے تک بدعنوانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ دراصل جب بھی کوئی گھوٹالہ سامنے آتا ہے تو پورا میڈیا جیسے جاگ جاتا ہے اور اپوزیشن بھی خوب الزام تراشی کرتی ہے۔ خوب لے دے مچتی ہے پھر اس کے بعد سب کچھ پرسکون ہوجاتا ہے، لیکن اس بار آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کچھ تھوڑا الگ ہوا ہے۔ جی ہاں! اتنے بڑے گھوٹالے پر ہمارے وزیراعظم کی خاموشی کو سپریم کورٹ نے توڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ آخر ایسی نوبت کیوں آئی؟ یہ بہت ہی شرمناک بات ہے کہ کسی ملک کے وزیراعظم سے سپریم کورٹ حلف نامہ کا مطالبہ کرے۔
جب مورخ ہندوستان کی تاریخ لکھے گا تو یہ بھی لکھے گا کہ ایک ایسا وزیر اعظم بھی ہندوستان میں ہوا ہے جو صرف ’ببوا‘ بنا بیٹھا رہتا ہے، جس کی آنکھ ناک کان ہاتھ سب کچھ سونیا جی کے اشارے پر ہلتے جلتے ہیں، جو خود بہت بڑا ماہر معاشیات ہے، مگر ملک کی معاشی حالت سدھارنے میں اس نے کچھ حصہ نہیں لیا۔ ہندوستان جیسے سیکولر ملک کے وزیراعظم جو سب سے اونچے عہدے پر بیٹھنے والے ایگزیکٹیو ہیڈ ہیںاور ان ہی کے اصول و ضوابط پر حکومت چل رہی ہے، مگر وہ ایک طرح سے خاموشی سادھ کر بدعنوانوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ اتنا بڑا گھوٹالہ کہ اگر اس کو لکھنے بیٹھ جائیں تو اس کے صفر بھی بھول جائیںگے۔
اب بات کرتے ہیں سپریم کورٹ کی تو سپریم کورٹ کا یہ کہنا ہے کہ یہ معاملہ کافی سیریس ہے، اس بات کی علامت ہے کہ سپریم کورٹ کو خود آگے آنا پڑا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ -2جی اسپیکٹرم پر CAGکی جو رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہے وہ بہت سے انکشاف کرتی ہے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ نے مرکز کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیے بھی تب وقت دیا جب سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم نے کہا کہ وہ اس ایشو پر سارے ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ اس پوری خبر میں ایک بات اور اہم ہے کہ سوامی کی عرضی میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کو یہ ہدایت دی جائے کہ ڈی ایم کے کے لیڈر اور سابق وزیر مواصلات راجہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت بھی دی جائے، لیکن اس پوری خبر میں ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ -2جی کا معاملہ کوئی آج کا نہیں ہے۔ 2008سے یہ مسئلہ چل رہا ہے، لیکن ابھی تک اس پر کوئی بھی نہ تو فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی مرکزی حکومت نے کوئی رخ اپنایا۔ ایسے میں ہمیں نہ جانے کیسے چیف ویجلنس کمشنر ’پرتیوش سنہا‘ کی یاد آرہی ہے، جب وہ ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو غیر معمولی طور پر بدعنوان ہیں، جب کہ آدھی آبادی ان لوگوں کی ہے جو بدعنوانی سے آلودہ اور بدعنوانی سے پاک زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آبادی کا ایک تہائی حصہ بدعنوان ہونے کا مطلب آپ جانتے ہیں۔ جی ہاں! اس کا مطلب ہے کہ ملک کا ہر تیسرا شخص بدعنوان ہے۔ اس وقت پرتیوش سنہا پر بہت تنقید ہوئی تھی، لیکن اب اگر اس بات کو مان لیا جائے تو بھی یہ واضح ہوجائے گا کہ اس وقت بھی ہندوستان کے کسی بھی شعبہ میں کوئی بھی کام بنا کسی رشوت کے نہیں ہوتا۔ نرسری کے بچے کے ایڈمیشن سے لے کر بڑی بڑی نوکریوں تک میں جب تک آپ رشوت نہیں دیںگے، تب تک آپ کے بچے کا مستقبل نہیں سنور سکتا۔ ہاسپیٹل میں اگر آپ مریض کو لے کر جاتے ہیں، وہ بھی سرکاری ہاسپیٹل میں تو بھی آپ کو چپراسی سے لے کر نرس تک سب کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی یہ رشوت خوری عام ہے۔ پولس کا محکمہ تو خیر ہے ہی بدنام۔ وہاں تو کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہاں تو بڑے بڑے شاطر کو بھی دھول چٹا دی جاتی ہے، تو جس ملک میں قدم قدم پر رشوت کا بازار گرم ہو، اس ملک کے عوام کو تو سہنا ہی پڑتا ہے۔ اس وقت تو یو پی اے حکومت مسلسل پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ وزیراعظم ایماندار ہیں، مگر ان کے نیچے بدعنوانیوں کا بسیرا ہے، ابھی رتن ٹاٹا نے ایک انکشاف کیا تھا کہ ان سے بھی رشوت طلب کی گئی تھی۔ یہ ہمارے وزراء جو سرکاری گاڑیوں میں نیلی، لال بتی کے ساتھ گزرتے ہیں، جن کی بتی کی روشنی برقرار رکھنے کے لیے نہ جانے کتنے غریبوں کا خون پسینہ لگتا ہے، وہ غریب عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ ابھی لکشمی نگر میں ایک پانچ منزلہ عمارت کے منہدم ہو جانے سے تقریباً 70سے 75لوگ مارے گئے، اس عمارت میں حالیہ سیلاب کے بعد اس کی بیسمینٹ میں پانی بھرا رہ گیا تھا، جس کے بارے میں بار بار ایم سی ڈی کو اطلاع دی گئی، مگر کوئی حل نہیں نکلا۔ شیلاجی نے تو بڑے ہی آرام سے معاوضہ کا اعلان کردیا، مگر کوئی ان سے پوچھے کہ معاوضہ کیا کسی کی جان کا بدل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کیا مجرموں کو پکڑوانے میں کوئی رول ادا کیا؟ نہیں انہوں نے ابھی تک کچھ نہیں کیا؟ بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے ’بابا رام دیو‘ نے بھی کہا ہے کہ خود ان سے بھی رشوت کے نام پر 2لاکھ روپے طلب کیے گئے تھے۔ یہاں کس کس کا نام لیجیے آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
میڈیا جس کا نام واچ ڈاگ کا ہے، کہیں بھی کوئی گڑبڑ ہو صحیح خبر دینا اس کا ایمان ہے، مگر نہایت شرم کی بات ہے کہ این ڈی ٹی وی کی مشہور جرنلسٹ برکھا دت کا نام بھی -2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں شامل ہے۔ برکھا دت جرنلزم کا وہ ستون ہے، جس کو دیکھ کر نوجوان لڑکیاں جرنلزم میں داخل ہوتی ہیں۔ دیکھیے ہمارے ملک کے آئیڈیل کیسے ہیں؟ ویرسانگھوی جو ہندوستان ٹائمز کے کالم نگار ہیں، جن کے نام کا پورے ملک میں ڈنکا بجتا ہے، ان کا نام بھی اس گھوٹالہ میں آیا ہے، خود نیرا راڈیا نے جو کہ ایک کارپوریٹ Jobbystہے، نے ویرسانگھوی کو فون کر کے پوری طرح Dictateکیا ہے کہ انہیں اپنے کالم میں کیا لکھنا چاہیے، لیکن ہمیں شرم کس بات کی ہے؟ یہاں تو ایک حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *