ملک کے مستقبل کی خوفناک تصویر

آدتیہ پوجن
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے تازہ ترین اعدادو شمار ملک کے مستقبل کی خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پورے ملک میں جرائم کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ جرائم کا راستہ اختیار کرنے والے بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ 10سالوں یعنی 1998-2008کے درمیان بچوں کے ذریعہ کیے گے جرائم میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی جرائم کے مقابلہ میں بچوں کے جرائم کا تناسب دوگنے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق 1998میں بچوں کے جرائم کی مجموعی تعداد 9352تھی، جو 2008میں بڑھ کر 24,535ہو گئی۔ پورے ملک میں درج کیے گئے مجموعی جرائم کے معاملوں کو فیصد کے لحاظ سے دیکھیں تو 1998میں بچوں کے جرائم کا فیصد صرف 0.5تھا، جو 2008میں 1.2فیصد کے اعداد و شمار کو

Read more

بہار میں باہمی رسہ کشی عروج پر

سروج سنگھ
جے ڈی یو کے ناراض ممبران پارلیمنٹ نے آپس میں ہی ایک دوسرے کا دل ٹٹولنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع پر بھروسہ کریں تو اس مشن میں ایک دوسرے کے سخت مخالف للن سنگھ اور اوپیندر کشواہا بھی ساتھ آ سکتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کی کڑی نے بتایا کہ دونوں لیڈران سے بات چل رہی ہے اور مناسب وقت پر آپ دھماکہ دارخبر سن سکتے ہیں۔
انتخابات کے بعد اب نتیش کمار سے ناراض جے ڈی یو کے ممبران پارلیمنٹ پر ضابطہ شکنی کا ڈنڈا چلانے کی تیاریاں رفتار پکڑ رہی ہیں۔ انتخابات سے قبل اور انتخابات کے دوران پارٹی کے خلاف کام کرنے والے ممبران پارلیمنٹ، وزراء اور لیڈران کو سبق سکھانے کے لئے ہوم ورک تقریباً مکم

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
گزشتہ دنوں ’’غالب خستہ کے بغیر‘‘ کے حوالے سے ’’شگفتگی کی تلاش‘‘ کی جو داستان ہم نے آپ کو سنائی تھی، وہ لوگوں کو کچھ زیادہ ہی پسند آئی۔ کئی دوستوں نے فون کر کے، کئی نے نجی ملاقاتوں میں ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم اب انشائیہ نگار، فکاہیہ نگار اور مزاح نگار وغیرہ وغیرہ ہوگئے ہیں۔ ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ کی تعریف، تفصیل، تغیر اور انکار تو مشکل ہے، البتہ مزاح نگاری والی بات خلاف واقعہ ہے۔ (ادب میں جتنی بھی ’’نگاریاں‘‘ ہیں، ان میں سے مزاح والی نگاری میں یہ آسانی مہیا ہے کہ کسی بھی چیز کا انکار یا اقرار جو چاہو کرلو ، اگر مناسب نہ لگے تو بعد میں بلا جھجھک کہا جاسکتا ہے کہ ’’ہم تو مذاق کر رہے تھے۔‘‘) یقین مانیے ہمارا مقصد ادب کی کسی صنف میں در اندازی یا دخل بازی کا بالکل نہیں تھا اور نہ ہی ہم اپنے آپ کو اسی طرح کی دانشورانہ ادب ساز

Read more

بی جے پی کا مشن 2012

وجے یادو
یہ بات 1991کی ہے، جب اترپردیش میں بھگوا لہر چل رہی تھی اور ریاست کی انتخابی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ بی جے پی نے اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت بنائی تھی۔ تمام لیڈران اور کارکنان خوش تھے، کہیں کوئی گروپ بندی نہیں تھی۔ اختلافات تھے، لیکن دل صاف تھے۔ وقت کی تبدیلی کے ساتھ بی جے پی پر اقتدار کا نشہ چڑھا، سونیا-راہل کی سرزنش کرتے کرتے کانگریسی ثقافت حاوی ہوئی۔ آج بی جے پی اتر پردیش میں چوتھے پائیدان کی پارٹی بن گئی ہے۔ وجوہات اور بھی ہیں، لیکن مرکزی و ریاستی قیادت کے حالات پر قابو پانے کی دلچسپی نہیں نظر آتی ہے۔ اخبارات میں بیان بازی جاری رہ

Read more

اتر پردیش میں دہشت گردی کا خطرناک سایہ

شترونجے کمار سنگھ
نیپال میں جاری سیاسی غیر یقینی پر مرکزی اور اتر پردیش حکومت جلد ہی مستعد نہیں ہوئی تو ہندوستان ایک بار پھر سے سکھ دہشت گردی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔جموں وکشمیر سمیت ملک کی کئی ریاستیں پہلے ہی پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کے عذاب کو برداشت کر رہی ہیں۔اب پاکستان سے سکھ دہشت گردوں کو پوری مدد مل رہی ہے اور انہیں نیپال کے راستے ہندوستان بھیجا جا رہا ہے۔خفیہ افسران کا ماننا ہے کہ پاکستان اتر پردیش کو ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ہند، نیپال کی 550کلو میٹر لمبی کھلی سرحد دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں میں مدد گار ث

Read more

دبائو میں ہیں نوکرشاہ

دلیپ چیرین
آدرش ہاؤسنگ گھوٹالے نے ایک وزیراعلیٰ کی بلی لے لی، لیکن سوسائٹی کو گرین سگنل دینے والے نوکر شاہ بے داغ بچ نکلنے میں کامیاب رہے، البتہ اس ایشو کے حوالے سے جتنا شور شرابا مچا ہواہے، اسے دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ حکومت اس میں شامل افسران کو اتنی آسانی سے چھوڑ دے گی۔ وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالتے ہی پرتھوی راج چوہان نے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ میں اسے واضح کردیا۔ ریاست کے نوکرشاہوں کے لیے ان کا ایک ہی پیغام تھا، کام کرو یا دفع ہو جاؤ۔ لوگ اسے چوہان کا وقتی رد عمل یا گیدڑ بھبکی کا نام دے سکتے ہیں، لیکن ان کے کام کرنے کا جو طر

Read more