صرف آر پی یادو ہی کیوں دیگر جج کیوں نہیں؟

پربھات رنجن دین
اتر پردیش اسٹیٹ پبلک سروسیز ٹریبیونل کے چیئرمین جسٹس آر پی یادو کو ریاستی حکومت نے برخاست کردیا ہے۔ سیکڑوں کروڑ روپے کے پی ایف گھوٹالے میں داغی جج آر پی یادو کو اترپردیش کی حکومت نے پبلک سروسیز ٹریبیونل کا چیئرمین بنا دیا تھا،پھر ایسی کون سی قانونی پیچیدگی اچانک آ گئی کہ حکومت کو انہیں برخاست کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا؟ پی ایف گھوٹالے میں داغی ججوں کی لسٹ لمبی چوڑی ہے، پھر تنہا آر پی یادو ہی کیوں؟ اس راز سے بھی پردا اٹھے گا، لیکن ابھی یہی رنگ دینے کی کوشش ہے کہ پی ایف گھوٹالے میں داغ دار ہونے کی وجہ سے انہیں ٹریبیونل کے چیئرمین کے عہدہ سے ہٹایا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فرنانڈو انوکیو ربیلو لکھنؤ میں ہی تھے۔ حکومت نے ان سے براہ راست کہا کہ عدالتی نظام کے بھی چیف ہونے کے ناطے وہ جسٹس آر پی یادو کو استعفیٰ دینے کے لیے کہیں، ورنہ جسٹس یادو پر حکومت کی جانب سے ایکشن لینے کی کارروائی شروع کی جائے گی.. …اور جسٹس آر پی یادو کو استعفیٰ دے دینا پڑا۔ یکم دسمبر سے ان کا استعفیٰ نافذ مان لیا جائے گا۔ جسٹس یادو کا استعفیٰ بھلے ہی یکم دسمبر سے منظور مانا جائے گا، لیکن ٹریبیونل کے صدر کے طور پر ان کا کام پہلے سے ہی روک دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ پبلک سروسیز ٹریبیونل کے چیئرمین کے طور پر یادو کی مدت ملازمت 14جولائی 2011تک تھی، لیکن 8مہینے پہلے ہی ریاستی حکومت نے انہیں برخاست کردیا۔
ٹریبیونل کے سینئر افسر سنتوش کمار شریواستو کو بھی ریاستی حکومت نے برخاست کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ ٹریبیونل کے سینئر افسروں کی برخاستگی کے حکم سے ریاستی حکومت سوالوں کے گھیرے میں پھنس گئی ہے۔ جسٹس آر پی یادو کو اگر پی ایف گھوٹالے میں داغ دار ہونے کی وجہ سے برخاست کیا گیا تو ان افسران کو نکالے جانے کی آخر کیا وجہ ہے؟ ایسی کون سی گہری ناراضگی ہے، جس سے حکومت نے ٹریبیونل کے چیئرمین اور دو سینئر افسروں کو یکبارگی برخاست کرنے کا فیصلہ لے لیا؟ ان سوالوں کے جواب نظرانداز کیے جارہے ہیں۔ آپ کو یہ جانکاری دے دیں کہ اسٹیٹ پبلک سروسیز ٹریبیونل کے 13رکنی افسران کی ٹیم میں آر سی سنہا سب سے سینئر ہیں اور ٹیم کے انچارج بھی ہیں۔ سنہا 1998سے ہی ٹریبیونل کی قانونی سروس میں ہیں۔ دونوں پرزنٹنگ افسروں کو محکمہ انصاف کے چیف سکریٹری نے اپنے حکم(نمبر: اے-286/سات- انصاف- 8-10-24/28/88، تاریخ 11-11-2010) کے ذریعہ ملازمت سے برخاست کرنے کا فرمان جاری کیا۔ غور طلب ہے کہ پی ایف گھوٹالہ معاملے میں سی بی آئی نے تین جولائی 2010کو 78لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تین سابق ججوں آر پی یادو، آر این مشرا اور اے کے سنگھ اور غازی آباد کے تین ضلع ججوں آر پی مشرا، آر ایس چوبے اور ارون کمار ملزم بنائے گئے۔ سی بی آئی کی جانچ کے پہلے یوپی پولس نے اہم ملزم آشوتوش استھانا سمیت دیگر کئی ملزموں کو گرفتار کرنے اور ثبوت وغیرہ حاصل کرنے کا کام بہت حد تک مکمل کرلیا تھا۔ پی ایف گھوٹالے کے اہم ملزم استھانا کا اقبالیہ بیان تعزیرات ہند کی دفعہ 164کے تحت باقاعدہ غازی آباد کے جیوڈیشیل مجسٹریٹ دنیش کمار کی موجودگی میں درج کیا گیا تھا۔ بعد میں اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔ سی بی آئی نے جانچ کے بعد کہا کہ 41ججوں اور عدالتی افسران میں سے 17ملزمین کے خلاف ثبوت نہیں مل پائے اور باقی ماندہ 24ججوں کے خلاف کرمنل کیس نہیں بنتا، صرف محکمہ جاتی کارروائی کا معاملہ بنتا ہے۔ ان 24ججوں میں سپریم کورٹ کے ایک جج بھی شامل ہیں، جو اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔ سی بی آئی نے مجموعی طور پر 78لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں 6ریٹائرڈ جج شامل ہیں۔ سی بی آئی نے بتایا کہ پی ایف گھوٹالے کے دوران غازی آباد میں تعینات رہنے والے 17ججوں کے خلاف ثبوت نہیں ملے ہیں اور جن جج حضرات کو کلین چٹ دی گئی ہے، ان میں سے دو جج اب بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں تعینات ہیں اور گھوٹالے کے وقت ایک جج رجسٹرار جنرل تھے۔ جن لوگوں کو سی بی آئی کی طرف سے کلین چٹ ملی ہے، ان میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج سبھاش چند نگم، جج وشنو سہائے اور رجسٹرار جنرل پی کے گوئل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گھوٹالے کے وقت ایڈیشنل ضلع جج کے منصب پر فائز آر اے کوشک، حمید اللہ، سی کے تیاگی، سبھاش چند اگروال، نروکار گپتا، اشوک کمار چودھری، شری پربھو، اے کے اگروال، رمیش چند سنگھ اور غازی آباد میں تعینات رہے۔ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ رہے وی کے شریواستو، کوشلیندر یادو، اکھلیش دوبے، ہمانشو بھٹناگر اور وی ایس پٹیل شامل ہیں۔ سی بی آئی نے 24ججوں پر محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی تھی، لیکن اس کا شکار اکیلے آر پی یادو ہی کیوں بنے؟ یہ سوال سامنے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *