نتیش کہیں بے لگام نہ ہو جائیں

ڈاکٹر منیش کمار
بہار کے عوام کو جھک کر سلام کرنا ہوگا۔ بہار انتخابات کے نتائج نے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ پہلی بار بہار کے لوگوں نے یہ بتایا کہ جمہوریت میں انتخابات کا مطلب لیڈران اور ان کی سیاسی جماعتوں کی ہار جیت نہیں بلکہ عوام کی امیدوں کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار بہار کے انتخابات میں سیاسی اونچ نیچ ختم ہو گئی، مذہب کی زنجیریں ٹوٹ گئیں۔ نتیش کمار نے عوام کے سروکار کو انتخابی ایشو بنایا، وہیں لالو یادو اور رام ولاس پاسوان نے مذہب اورسیاسی اونچ نیچ پر بھروسہ کیا۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہیں۔ کانگریس نے راہل گاندھی کو آگے کر کے نوجوانوں اور مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا لیکن وہ ہر امتحان میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کا راستہ بہار انتخابات میں الجھ گیا۔ کانگریس پارٹی یہ بھول گئی کہ بہار الیکشن دوسری ریاست کے الیکشن سے مختلف ہے، کیونکہ یہاں کے عوام سیاستدانوں کے اشاروں کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔
بہار انتخابات میں نتیش کی آندھی یا لہر نہیں بلکہ سمندری طوفان نظر آیا، جو سیاسی جماعتیں عوام کو بے وقوف سمجھتی ہیں ۔بہار انتخابات نے ان لیڈران کو سبق سکھا دیا ہے۔ یہ ان سیاسی جماعتوں کے لئے سبق ہے جو بنا ایجنڈے کے، بنا پالیسی، بنا ترقی کے کسی روڈ میپ کے، برادری اور مذہب کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر انتخابات جیتتے آئے ہیں۔ ایسے ہی لیڈران اور سیاسی جماعتوں کو عوام نے نکار دیا ۔ لوگوں نے نتیش کمار کو ووٹ اس لئے دئے کہ بہار کے تمام مسائل ختم ہو گئے۔بہار ترقی یافتہ ریاست بن گیا ہے یا پھر جرائم ختم ہو گئے ہیں۔ نتیش کمار کو اس لئے ووٹ ملا کیونکہ لوگوں کو لگا کہ یہی ایک لیڈر ہے جو بہار کو ترقی کی راہ پر لے جا سکتا ہے۔
کسی بھی تجزیہ نگار کے لئے بہار کا الیکشن ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے۔ چوتھی دنیا نے بہار میں ایک انتخابی سروے کیا تھا۔ یہ سروے 20سے 29ستمبر،2010کے درمیان کیا گیا، جسے ہم نے 11اکتوبر سے 17اکتوبر کے شمارہ میں شائع کیا تھا۔ چوتھی دنیا کا سروے جس وقت کیا گیا، اس وقت اہم امیدواروں کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ انتخابات میں لوگ اپنے حلقہ کے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، جس میں مقامی ایشوز، امیدوار کی شخصیت اور فطرت وغیرہ جیسے نکات بہت معنی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں بہار کے انتخابات کو پڑھ پانا اس لئے بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں ایشو زسے زیادہ طبقاتی سطح پر ووٹنگ ہوتی ہے۔ اس وقت کئے گئے سروے کے مطابق جے ڈی یو اور بی جے پی کے اتحاد کو 130سیٹیں اور آر جے ڈی اور ایل جے پی کے اتحاد کو 95سیٹیں ملنے کی امید تھی۔ اب یہ سوال ہے کہ 29ستمبر کے بعد ایسا کیا ہو گیا کہ تمام سیاسی کھیل ہی الٹ  گیا۔نتیش کمار نے جادو کی وہ کون سی چھڑی گھمائی کہ انہیں تاریخی فتح حاصل ہوئی اور لالو یادو اور رام ولاس پاسوان سے کیا غلطی ہوئی جس سے ان کی سیٹیں95سے25پرپہنچ گئیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جتنے ووٹ سے این ڈی ا ے کی جیت ہوئی ہے کانگریس پارٹی کو اتنا ووٹ بھی نہیں ملا۔
جے ڈی یو اور بی جے پی اتحاد کی ایسی فتح اس لئے ہوئی کیونکہ بہار کے عوام یہ مانتے ہیں کہ نتیش کمار کی حکومت لالو یادو کی حکومت سے کافی بہتر ہے۔ چوتھی دنیا کے سروے میں73فیصد لوگوں نے اس بات کو مانا اور صرف 12فیصد لوگوں کو یہ لگتا تھا کہ لالو یادو کی حکومت نتیش حکومت سے بہتر تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب ووٹ دینے گئے تو ان کے ذہن میںبرادری اور مذہب سے زیادہ حکومت کی کارکردگی اہم رہی۔علاوہ ازیں لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جرائم میں کمی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش حکومت کو لوگوں کی زیادہ حمایت ملی۔ چوتھی دنیا کے سروے میں56فیصد لوگوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں اطمینان بخش ترقی ہوئی ہے۔ 28فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ترقی نہیں ہوئی ہے۔ جن لوگوں نے کہا کہ ترقی نہیں ہوئی ہے، وہ ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ نتیش حکومت ہی بہتر حکومت ہے۔ لالو یادو نے خود کو وزیر اعلیٰ کادعویدار بتا کر لوگوں کا فیصلہ آسان کر دیا۔ انہیں نتیش کمار اور لالو یادو میں سے ایک کو منتخب کرنا تھا۔لالو یادو کے چہرے کے ساتھ ساتھ 15سال کا بدترین اقتداربھی انہیں یاد آیا اس لئے لوگوں نے نتیش کو منتخب کیا۔
انتخابات کے نتائج آنے سے قبل تک یہ مانا جا رہا تھا کہ بی جے پی اور جے ڈی یو کو ووٹ نہیں ملے ہیں، لیکن چوتھی دنیا کے سروے سے یہ پتہ چلا کہ 23فیصدی مسلمانوں کا بھی ووٹ جے ڈی یو، بی جے پی اتحاد کو ملے گا۔ اردو ٹیچروں کی بحالی کی وجہ سے مسلمانوں میں نتیش کمار کی مقبولیت میں اضافہہوا ہے لیکن جو مسلمان لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کے حامی تھے، انہیں جھوٹے وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔بہار میں54سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان سیٹوں میں سے 43سیٹیں جے ڈی یو، بی جے پی اتحاد کو ملیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس اتحاد کو حاصل شدہ سیٹوں میں سے 30 بی جے پی کے پاس اور 13جے ڈی یو نے جیتی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے پہلی بار بی جے پی کو جم کر ووٹ دیا۔ بی جے پی سے صبا ظفر نے جس سیٹ(امور) سے الیکشن جیتا وہاں پر مسلمانوں کی تعداد 70فیصد ہے۔ پہلی بار مسلمانوں نے اپنے مذہبی اور جذباتی ایشوز سے باہر نکل کر بہار کی سیاست کی مین اسٹریم میں آکر ووٹ دئے۔ مسلمانوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ بہار میں انہیں بابری مسجد، اردو کی ترقی، نوکری میں ریزرویشن، مدرسوں کے تعاون سے پہلے بجلی، پانی، سڑک اور قانونی نظام چاہئے۔یہ پیغام ان سیاسی جماعتوں کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے جو سیکولرازم اور کمیونزم کو ایشو بنا کر مسلمانوں کا ووٹ تو لے لیتے ہیں لیکن ان کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ بہار کی یہ ہوا اگر پورے ملک میں پھیل گئی تو کئی پارٹیوں کی ٹوپی اڑ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی سیٹیں 55سے 91ہو گئیں اور لالو یادو اور رام ولاس پاسوان اپنے روایتی ووٹروں کو بھی کھو بیٹھے جس سے شدید نقصان ہوا۔ ’چوتھی دنیا‘ کے سروے میں یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انتخابات میں راہل فیکٹرکا اثر ہوگا تو صرف 36فیصد لوگوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا بہار میں اثر ہوگا۔ لیکن جس طرح سے کانگریس پارٹی نے مہم چلائی، جس طرح بنا کسی منصوبہ اور بنا کسی روڈ میپ کے درمیان گئے لوگ راہل گاندھی سے بھی مایوس ہو گئے۔ یہ بات نتائج سے حقیقت ثابت ہوتی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بہار کا الیکشن راہل گاندھی کے وژن، تنظیمی لیاقت،مقبولیت اور انتخابات جتانے کی قابلیت کی سخت آزمائش تھی۔ بہار میں کامیابی کا مطلب راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کا راستہ صاف ہونا تھا۔ بہار میں راہل گاندھی فیل ہو گئے ہیں یہ جاننے کے لئے انتخابات کے نتائج کا انتظار نہیں کرنا پڑا۔نتائج آنے سے دو ہفتے قبل کے چوتھی دنیا کے شمارہ میں ہم نے یہ لکھ دیا تھا کہ راہل گاندھی فیل ہو گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے بہار کے انتخابات میں پہلی بار بڑھ چڑھ کا حصہ لیا ہے۔ تنظیم کو مضبوط کرنے میں پوری طاقت لگا دی۔ راہل کے کئی نزدیکی صلاح کار بہار میں کئی ماہ پہلے سے کیمپ کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی اور ان کی چمک کے ارد گرد کی تمام تیاریوں نے ان کی نوجوان بھارت کا بہترین لیڈر بننے کی حکمت عملی کو کامیابی سے انجام دیا۔سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ نے بھی بہار میں مہم چلائی۔ کانگریس کی یہ حالت اس لئے ہوئی کہ بہار کے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ معاملہ کسانوں کا ہو یا پھر اڑیسہ کے نیم گری کے قبائلیوں کا، راہل گاندھی کے نظریہ اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں میں اختلاف ہے۔ راہل گاندھی، غریبوں، کسانوں اور قبائلیوں کے ساتھ نظر آنے کی تشہیر کرتے ہیں، لیکن وزیر اعظم کی لائن دوسری ہے۔ راہل گاندھی کی کتھنی اور مرکزی حکومت کی کرنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہار کے مسلمانوں کو بھی یہ سمجھ میں آ گیا کہ کانگریس پارٹی رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو دبا کر اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے کی خواہاں نہیں ہے۔ اس لئے راہل گاندھی جہاںگئے وہاںبھیڑ تو ہوئی لیکن لوگ انہیں صرف دیکھنے آئے۔ کسی نے انہیںسنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس لئے راہل گاندھی کے نام پر لوگوں نے ووٹ نہیں دیا۔ دلت ہندوستان میں ایسی قلا بازیاں چھپ جاتی ہیں۔بہار میں یہ کھیل کانگریس پارٹی کو مہنگا پڑ گیا۔جو ووٹ کانگریس کو ملنا تھا وہ بھی نتیش کی جھولی میں چلا گیا۔
ایسا نہیں ہے کہ بہار میں گزشتہ پانچ سالوں میںسب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ کچھ ایشو زایسے بھی ہیں، جنہیں لے کر بہار کے عوام حکومت سے ناراض ہیں۔ جیسے بجلی کا مسئلہ۔ بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں بجلی کا مسئلہ بد سے بدتر ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی بدعنوانی کو لے کر بھی لوگ مایوس ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ نتیش حکومت کے دوران افسر پہلے سے زیادہ بدعنوان ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومتی اسکیموں میں اب گائوں کے لوگ بھی بدعنوانی کے مایاجال کے حصہ دار ہو گئے ہیں۔ جس ایشو کو لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان کو اٹھانا تھا اس ایشو کو نتیش کمار نے اٹھا دیا۔ انتخابی تشہیر کے دوران اپنی خامیوں کے لئے عوام سے انھوں نے معافی بھی مانگی۔ وہ جہاں گئے یہی کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں انھوں نے جرائم میںکمی کی ہے اور آئندہ پانچ سال میں وہ بدعنوانی کا خاتمہ کر دیں گے۔ لوگوں نے نتیش کمار کی باتوں پر بھروسہ کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار رفتہ رفتہ اپنی سیٹ 130سے بڑھاتے چلے گئے۔
انتخابی تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب ایوان میں اپوزیشن لیڈر کی کرسی خالی ہوتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر بننے کے لئے 10فیصدی سیٹیں پانا ضروری ہیں۔ بہار میں کسی بھی پارٹی کے پاس 10فیصدسیٹ نہیں ہیں۔ اس بار بہار میں اپوزیشن لیڈر کی کرسی خالی رہے گی۔ اب نتیش کمار اس صورتحال کا استعمال کیسے کرتے ہیں یہ ان پر منحصر کرتا ہے۔ خطرہ اس بات کا ہے کہ نئی حکومت کہیں بے لگام نہ ہو جائے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *