ناسا کا بلیو بیم پروجیکٹ

گزشتہ سےپیوستہ
ترجمہ:رضوان عابد
آج تک رابطوں کے ان تمام ذرائع اور وسیلوں کی اگر کوئی شخص تحقیقات کرے جس کے ذریعہ معلومات پہنچائی جاتی ہیں اور ریڈیائی لہروں کی تعداد ارتعاش سے ترتیب دی ہوئی پٹی سے ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ انہیں نشریات میں استعمال بھی کیا جاتا ہے تو اس پر یہ حقیقت بخوبی ظاہر ہو سکتی ہے کہ اگر ریسرچ کے اس شعبہ پر غیر معمولی توجہ دی جائے تو ایسے وسیلوں اور رابطوں میں بڑی تیزی سے اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اسے پیغامات پر مافوق الفطرت اور پر اسرار ہونے کا گمان کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ خواہ اس کے لئے جس شخص کا بھی دعویٰ کیا جائے اور اسے ابہامی رہنمائی کا ایک ذریعہ قرار دیا جائے تو عام ذہن اس بات کو قبول کر لیتا ہے اور جب نیو ورلڈ آڈر کے ایسے سارے پیغامات ہی خاص طور پر انسانوں کے لئے سودمندہوں گے تو آپ عام انسان ان پیغامات کو من و عن تسلیم کر کے مسیح الدجال کو خدا اور اس کے پیغامات کو خدائی پیغامات کا درجہ دے دیں گے ۔21مارچ 1983کو سڈنی سے صبح کے وقت شائع ہونے والے اخبار سڈنی میں ایک خبر چھپی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ روسی سائنسداں انسان کے دماغ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دراصل یہ اس مضمون کا ایک حصہ تھا جس میں کہا گیا تھا کہ روسیوں نے ایک ایسا سو پر کمپیوٹر ( جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے) تیار کر لیا ہے اور یہی نام نہاد دجال کا ایک بڑا حربہ ہوگا۔ ایسے کمپیوٹر چونکہ خلاء میں موجود سیٹلائٹس سے ہی چلتے ہیں، اگرچہ اس کی ابتداء روسیوں نے کی تھی لیکن اب تو یہ کام اقوام متحدہ کے تحت ہو رہا ہے جو نیو ورلڈ آڈر کا ادارہ ہے اور یہی ادارہ اب ان سوپر کمپیوٹرز میں ضروری معلومات فیڈ کر رہا ہے۔
مصنوعی سوچ، تخیلات اور ان کا ابلاغ
ٹیکنالوجیز کی زبردست ترقی نے ہمیں بلیو بیم پروجیکٹ کے تیسرے مرحلہ کی طرف دھکیل دیا ہے اور یہ ترقی ٹیلی پیتھی اور الیکٹرانک کے امتزاج سے دورویہ پروجیکٹ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس میں ابلاغ وی ایل ایف، ای ایل ایف اورایل ایف ویوز کے ذریعہ ہوتا ہے، جو اس خاص شخص یا عورت کے ذہن سے مربوط ہوتی ہے اور ان کے ذریعہ ایسے افراد کو اس بات کا قائل کیا جاتا ہے کہ جو بھی شخص ان سے مخاطب ہے دراصل وہی ان کا خدا ہے جو ان کی داخلی روح سے مخاطب ہے۔ سیٹلائٹ سے خارج ہو نے والی ایسی شعائیں کمپیوٹر کی میموری کے ذریعہ ان کے دماغوں میں سرائیت کرتی ہیں اور ان کمپیوٹرز میں زمین پر موجود ہر انسان کے بارے میں تفصیلی کوائف اور ان کی زبانوں کے کوائف پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں۔ اب یہ شعائیں ایسے افراد کی قدرتی سوچ کے ساتھ باہم مل کر ان کی قدرتی سوچ کو منقطع اور مصنوعی سوچ کو ان پر محیط کر دیتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی پر 1970سے 1990کی دہائیوں میں بے پناہ ریسرچ کی گئی اور انسانی دماغ کا موازنہ ایک کمپیوٹر سے کیا گیا۔ کمپیوٹر میں معلومات کو فیڈ کیا گیا اور ان کے پروسیسنگ ڈیوائس مربوط کر نے کے بعد ایک ردعمل اور علامات سے ظاہر ہونے کی بنیاد پر اصول بنائے گئے اور ان پر عمل کیا گیا۔ ذہن اور دماغ کو قابو میں کرنے والے اس طرح سے معلومات کو ہنر مندی سے اپنے موافق منشا بناتے ہیں جس طرح کہ ایک کمپیوٹر کے لئے گرامر کو موافق بنانے کا کام کیا جاتا ہے۔
جنوری 1991میں یونیورسٹی آف ریری زونا نے ایک کانفرنس کی جس کا حقیقی مقصد ان حقیقی مقاصد کا یقین کرنا تھا جس کی مسیح الدجال کی خدائی کے لئے ضرورت تھی اور دراصل اس کانفرنس میں شریک سائنسدانوں کو ایک وارننگ دینا تھی کہ وہ اس مقصد کے علاوہ اپنا کوئی مقصد سامنے نہ رکھیں ورنہ نتیجے بھگنے کے لئے تیار رہیں۔
ان تحقیقات کے نتیجہ میں امریکہ نے پہلے ہی ایسے کمیونکیشن اکیوپمنٹ تیار کر لئے ہیں جن کے ذریعہ اندھے دیکھ سکتے ہیں۔ بہرے سن سکتے ہیں اور لنگڑے چل سکتے ہیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ میں کوئی سائنس فکشن کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ان طریقوں کو اپنا کر کوئی بھی شخص اپنی موت تک اپنی مورثی ذہنی یا جسمانی قوت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس کمیونکیشن اکیوپمنٹ کا انحصار مکمل طور پر دمانی اعصابی نظاموں اور انسانی دماغ اور  ’’الٹرا لو‘‘فریکونسی پر ’’میگنیٹک ریز‘‘کی صورت میں طوانائیکے اخراج پر غور وخوض کے بعد بنایا گیا ہے ۔ ان اکیوپمنٹ سے اب CIAاور FBIوالے بھی کام لے رہے ہیں لیکن اب تک ان کو اس مقصد کے لئے کہ نابینا دیکھ سکھیں اور بہرے سن سکیں کے لئے ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا اس لئے کہ یہ ’’سینٹرل انٹرنل پولیٹیکل ایجنڈا‘‘کے کام ہیںاور ان کا تعلق امریکہ کے صدر اور نیو ورلڈ آڈر کے کٹھ پتلی آقائوں کی خارجہ پالیسی سے رہا ہے۔ اس وقت امریکہ میں اور دوسری جگہوں پر اس نئے کمیونکیشن اکیوپمنٹ و تشدد اور لوگوں کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے شہریوں جو نیو کلیئر ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف ہیں اور ان لوگوں کے خلاف بھی جو دنیا بھر سے دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند ہیں ان سب پر ان کمیونکیشن اکیوپمنٹ ا استعمال تشدد کے لئے تجربہ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹرز کے برطانوی سائنسدانوں میں خود کشیوں کا ایک طویل سلسلہ بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ایک ایسی نفسیاتی دہشت گردی اور خوف کے اس ماحول سے پہلے کیا اقدامات ممکن ہو سکتے ہیں؟ جبکہ ہر حکومت کا رپوریشن یا ماہر نفسیات دیدہ و دانستہ آج خوف و ہراس کے ایسے ہی ہتھکنڈوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ ہاں اب یہی بات ممکن ہے۔ اس لئے کہ حکومتوں کی تمام ایجنسیاں، تمام کارپوریشنز جو ان کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ دراصل نیو ورلڈ آڈر کے احکامات کی تکمیل کرتی ہیں اور ایسے ہر کام کو فروغ دینے کو تیار ہیں جس سے انہیں دنیا کے ہر سماج پر مکمل کنٹرول کا مقصد حاصل ہونے میں مدد ملے۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ساری دنیا پر مکمل سماجی کنٹرول کا مقصد کیا ہے؟ تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر پوری دنیا کے عوام کو خوف و ہراس اور دہشت میں مبتلا کر دیں اور وہ اس حد تک مایوس ہو جائیں کہ انہیں اپنے تحفظ کا بھی خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ آپ کو ڈراکیولائی قانون لاگو کرنے اور اس پر عمل کی اجازت بھی دے دیں گے۔ایسی صورت حال میں دنیا بھر کے عوام کو نہتہ کر کے ان کے ریکارڈز تیار کرنا ہوں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ صرف ان کی ہی حفاظت کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یہی صورتحال موجودہ سیاسی نظام کے خاتمے کا سبب بھی بنے گی اور معاشرے میں پولیٹیکل انٹرنیٹو ی تلاش کریں گے اور نیو ورلڈ آڈر کے کرتا دھرتا لوگوں نے اس کی پہلے ہی سے پلاننگ کر رکھی ہے اور اسے ہی نیو ورلڈ آڈر قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عوام کی حفاظت بالکل نہیں بلکہ وہی ہے جو جارج بش نے اس طرح کیا تھا’’میرے ہونٹوں کو پڑھئے پوری دنیا پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے طاقتور رہنما کو ہمیشہ خوف و ہراس اور دہشت کے ہتھیار بے دریغ استعمال کرنا پڑیں گے اور ساری دنیا کے لوگوں کو بالجبر مطیع فرمان رکھا جائے۔‘‘
’’ڈیوائڈ اینڈ رول‘‘ پوری دنیا میں عمل کیا جائے گا۔ اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ ہر شخص دوسرے سے مشکوک رہے۔ یہ مقصد دماغ اور ذہن کو کنٹرول کر کے بھی حاصل کیا جائے گا۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے حوالہ سے مزید پیش رفت کی بنیاد ناسا کے بلیو بیم پروجیکٹ نے رکھ دی ہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں ماہر نفسیات جمیز وی میک کونیل کے اس بیان پر غور کرنا چاہئے کہ سائکولوجی ٹڈے نے 1970کے ایک شمارے میں شائع ہوا۔ اس میں اس نے کہا تھا کہ اب جلد ہی وہ دن بھی آنے والا ہے جب ہم مصنوعی طور پر بھی نیند طاری کر کے اسے بیرونی ایماء پر ترغیب کے ذریعہ جو بھی چاہیں گے کام لے سکیں گے۔ عضو میں ادویات کے استعمال کے نتیجہ میں لوگوں کو قدرتی حس سے محروم کر کے ان کے رویوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا اور ان سے جو چاہے کام لیا جا سکے گا۔ اس کے نتیجہ میں فوری اور انتہائی موثر برین واشنگ بھی ممکن ہو جائے گی اور ایسے فرد میں ایسی ڈرامائی تبدیلیاں نظر آئیں گی کہ اسے جس طرح سے چاہو اسی طرح سے کام کرتا رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی وہ بنیادی سبق ہے جو اقوام متحدہ دیتی ہے کہ کسی بھی مرد یا عورت کا ذاتی تشخص کا لعدم ہو جائے گا۔ پھر یہی ماہر نفسیات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کا کوئی مرد یا عورت اپنے ذاتی تشخص کے بارے میں کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں ہوگا اور جو تشخص انہیں دیا جائے گا اسے خوشی سے قبول کریں گے۔ اس اعلان کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیو ورلڈ آڈر پرانے طور طریقوں کو اکھاڑ پھینکے گا اور ایک نیا نظام قائم کرے گا اور یہی نیا ’’دین‘‘ اس نیو ورلڈ آڈر کی بنیاد ہوگا اور دنیا کے تمام لوگ UNOکے ایسے’’ ایکسپلوئی سیشن کیمپس‘‘یں سے کسی بھی کیمپ میں اس نیو ورلڈ آڈر کے مطابق ڈھائے جائیں گے اور انہیں سماج اور روایات کے خلاف اس نئے نظام کو مکمل طور پر اپنانا ہوگا تاکہ نیو ورلڈ آڈر کے ایجنڈے کی تکمیل ہو سکے ۔ کیا یہ ہمہ گیر نوعیت کی سب سے بڑی تبدیلی دماغ اور ذہن کو ہمیشہ کے لئے کنٹرول کر کے اس پروجیکٹ سے حاصل ہو سکتی ہے؟ سرج ناموسٹ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ناسا کا بلیو بیم پروجیکٹ پوری دنیا کی آبادیوں پر مکمل کنٹرول کے حوالہ سے سب سے بڑا اساسی وسیلہ ہے اور اپنے قارئین سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ اس بات کو ایک مجنونانہ دیوانگی قرار دے کر مسترد کر دینے سے پہلے نہایت تدبر اور احتیاط سے ان معلومات کی تحقیقات پر توجہ دی جائے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم ذہن اور دماغ کو کنٹرول کرنے کے دوسرے کاموں اور اس حوالہ سے ٹیکنالوجی کا جائزہ لیں تو اس میں ایک ٹرانسمیٹرکی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے جو اسی فریکوینسی پر کام کرتی ہے جس فریکوینسی پر انسان کا اعصابی نظام کام کرتا ہے۔ ایسے ٹرانسمیٹر کیلیفورنیا میں ’’لورل الیکٹرو اوپٹیکل سسٹم ‘‘ے تیار کئے ہیں۔ لوریل ایک بڑا دفاعی سامان کا ٹھیکیدار رہا ہے۔اس نے امریکی فضائیہ کے لئے ریڈیائی لہروں کو مخصوص سمت میں رواںرکھنے کے حوالہ سے انرجی ہتھیاروں پر بھی ریسرچ کی تھی۔ہیونارڈ ایک ایسے ہتھیار کی تلاش میں تھا جو دشمن کے دماغ پر اپنے پیغامات کو نقش کر سکے اور خود اپنے زیرکمان دستوں کو بہادری کے انسانی طاقت سے بالاکام کرنے پر آمادہ کر سکے۔ اس ریسرچ کے نتیجہ میںdevice تیار کی گئی تھی ۔ اس میں’گیگا ہارٹز فریکوینسی‘(مائکروویوز) کی ’الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن ‘کو استعمال کیا گیا تھا۔ اس میں انتہائی کم طاقت کی فریکونسی (ELF)کو استعمال کیا گیا تھا۔اس ہتھیار کو دور بیٹھے بیٹھے لوگوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔1970کے دوران ’گرین ہیم کمون ایئر بیس ‘امریکی کروز میزائلوں کی موجودگی پر احتجاج کرنے والی ایک برطانوی خاتون پر اس طرح کے ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا تھا۔ELFکی اس ٹیکنالوجی کا بہت سے امریکی دفاعی محکموں کے جریدوں میں ذکر موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسری پیس مائیکرو ڈیوائس کے ذریعہ براہ راست کسی بھی فرد کو قابل سماعت سگلنلز دئے جا سکتے ہیں جبکہ دوسرے کو اس کی بھنک تک نہیں پڑ سکتی۔ ایسی ہی متعدد ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا کے ناسا نے اپنے پروجیکٹ بلیو بیم کو ناقابل تسخیر بنانے کی کوشش کی ہے اور اس نے محسوس طور پر لاشعور میں یہ دورویہ ابلاغ اور امیجز خلاء سے براہ راست افراد کے ذہنوں میں منتقل کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ اس ساری صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہم نئی دنیا کے مسیح الدجال کی آوازیں سنیں گے جو کہ خلاء سے دنیا بھر کے لوگوں سے خطاب کر رہا ہوگا جو دنیا کے تمام باشعور (حالانکہ وہ سب مسمرازم ہوں گے) لوگوں کو احکامات دے گا تو سب کے سب مذہبی جنونیوں کی طرح ان ہدایات اور احکامات کی پیروی کریں گے اور ہمیں لوگوں کی ہسٹریائی کیفیت اور پورے سماج کی مکمل یا جزوی معذوری کا وہ منظر دیکھنے کو ملے گا جو کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔نیو ورلڈ آڈر کا چوتھا مرحلہ الیکٹرانک ذرائع سے عالمی پیمانہ کے مافوق الفطرت جادوئی طاقتوں کے مظاہرہ پر مشتمل ہوگا ۔ یہ تین مختلف رویوں پر مبنی ہوگا۔
اس میں سب سے پہلے پوری دنیا کے انسانوں کو باور کرایا جائے گا کہ دنیا کے ہر بڑے شہر پر اجنبی خلائی مخلوق کا حملہ ہونے والا ہے اور اسکے نتیجہ میں اقوام متحدہ ساری دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں کریں گی ۔ حالانکہ یہ حملہ صر یعنی حوا ہی ہوگا۔ عیسائی دنیا کو یہ یقین دلایا جائے گا کہ یہ خلائی مخلوق کے حملہ کا وقت ہی حضرت عیسیٰ کے ظہور پذیر ہونے کا وقت ہے۔
اس چوتھے حملے کا تیسرا پہلو الیکٹرانک اور مافوق الفطرت قوتوں اور جادوئی قوتوں کا سنجوگ ہوگا۔ اس مقصد کے لئے اس وقت جو لہریں استعمال کی جائیںگی ان میں آپٹیکل فائبرز، ایکل کیبلز ٹی وی، الیکٹریکل اور فون لائینوں کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت جادوئی قوتوں کا بھی اطلاق کیا جائے گا اور جادوئی منتروں اور قوتوں سے آلودہ چپیں بھی استعمال کی جائیں گی اور پوری دنیا میں شیطانی بھوت پریت اور آسیبوں کا دوردورہ ہوگا جو پوری پوری آبادیوں کو جنون اور پاگلپن سے دوچار کر دیں گے اور دنیا خودکشیوں ، قتل و غارت گری اور مستقل قسم کے نفسیاتی امراض کی آماجگاہ بن جائے گی۔ یوں‘نائٹ آف تھائوزینڈ اسٹارس‘کے فوری بعد دنیا کی آبادیاں نئے مسیح الدجال کو خوش آمدید کہنے، اس نیو ورلڈ آڈر کو قائم کرنے اور ہر قیمت پر امن قائم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گی ۔ چاہے انہیں اپنی آزادی سے ہی محروم کیوں نہ ہونا پڑے۔ یوں اس چوتھے مرحلہ میں جو طریقے استعمال کئے جائیں گے وہ بالکل ویسے ہی ہوں گے جو سوویت یونین میں عوام کو کمیونزم اختیار کرنے کے لئے مجبور کرنے پر اپنائے گئے تھے اور اس نیو ورلڈ آڈر کے لئے وہی سارے طریقہ اقوام متحدہ اپنا ئے گی اور نیاعالمی مذہب اور نیو ورلڈ آڈر قائم کیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *