ناسا کا بلیوبیم پروجیکٹ

رضوان عابد
جس طرح سے آہستگی کے ساتھ پوری دنیا پر دجالی نظام قائم ہوتا جا رہا ہے۔ معاشی، سیاسی اور سماجی طور سے تقریباً پوری دنیا اس دجالی نظام کی لپیٹ میں ہے۔ اسی طرح ایک اور مہم پر کام ہو رہا ہے۔ جدید ایجادات کے ذریعہ عوامی طور پر دنیا کو نئے دجالی مذہب کا پیروکار بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نئے مذہب کا سربراہ دجال ہوگا،جو ایران کے ایک شہر اصفہان میں ظاہر ہوگا۔ اس کے ساتھ ستر ہزار علماء ہوں گے۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اصفہان میں کون سے علماء ہوں گے۔مصنوعی زلزلوں اور مفروضہ دریافتوں کے ذریعہ دنیا کے تمام مذہبی عقائد کو باطل قرار دیا جائے گا۔ سائنسی شعبدہ بازی کے ذریعہ دجال فضا میں ظاہر ہو کر ہر خطے کی زبان میں لوگوں سے خطاب کر ے گا۔ ناسا کے منصوبے پر اقوام متحدہ کی مدد سے کام جاری ہے۔ اس حوالہ سے تحقیق کرنے والے کنیڈین صحافیوں کو غائب کر دیا گیا۔
ایجوکیٹ یورسیلف کنیڈا کا ایک تھنک ٹینک ہے جو سائنسی اور معاشرتی موضوعات پر تحقیقی رپورٹس شائع کرتا رہتا ہے۔ یہ مضمون بھی اسی کنیڈین تھنک ٹینک کی رپورٹ کا ترجمہ ہے۔ یہ رپورٹ تھنک ٹینک کی ویب سائٹ http://educateyourself.orgپر دیکھی جا سکتی ہے۔
سرج موناسٹ (1945تا5دسمبر 1946) کنیڈا کا ایک صحافی تھا جو پروجیکٹ بیلوبیم پر تحقیقات کر رہا تھا۔ اس کی اور ایک دوسرے صحافی کی موت بظاہر حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ دوسرے صحافی کو ہارٹ اٹیک جب ہوا جب وہ آئر لینڈ کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ کنیڈین حکومت نے سرج موناسٹ کو’’پروجیکٹ بلیو بیم‘‘ پر ریسرچ سے باز رکھنے کے لئے اس کی بیٹی کو اغوا کروا لیا جو کبھی واپس لوٹ کر نہیں آئی۔ سرج موناسٹ اور اس کے ساتھی کی ریسرچ گمنامی میں دفن ہو جاتی ہے کہ اچانک 17فروری 2009کو ان دونوں صحافیوں کی ریسرچ کو ’’کین ایڈاچی‘‘ نامی شخص نے تازہ ترین معلومات سے آراستہ کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ یہ معلومات کین ایڈاچی کو اور سیاستدانوں، فوجیوں یا انٹیلی جنس سے متعلق لوگوں سے ملیں جو غائب ہو چکے تھے اور جن کے دل میں اب بھی ضمیر کی آواز کی کوئی رمق باقی تھی اور انسانیت کا درد بھی تھا۔ اس مضمون کا ایک مطلوبہ جزوحیرت میں ڈالنے والا پیشین گوئی پر مبنی مربوط کلام ہے۔ جو سرج موناسٹ نے 1994میں کنیڈین فری پریس آف کیوبک کنیڈا کو فراہم کیا تھا۔ 1994میں ناسا کے طے شدہ روحانی بصیرت پر مبنی مسودے کا انکشاف بھی سرج موناسٹ نے کیا تھا۔ جس میں اس نے بتایا کہ اس کے1994کے انکشاف کو آج براہ راست اخبارات کی شہ سرخیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس گفتگو کی نقل کو ایکجوکیٹ یور سیلف کی سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام نے سرج موناسٹ پر الزام لگایا کہ انھوں نے 8سالہ بیٹی اور 7سالہ بیٹے کو ایک سرکاری اسکول میں جانے سے روک کرناروا سلوک کیا اور سرج موناسٹ کو جیل بھیج دیا گیا اور بچوں کو اس بہانے سے اغوا کر لیا گیا۔ رات گزار کر جیل سے موناسٹ جب اگلے دن گھرآیاتو اس کو ہارٹ اٹیک ہوا اور اس وقت اس کی عمر 46سال تھی۔ سرج موناسٹ نے کئی سال پہلے ہی اپنی بیوی کو خط لکھ کر مطلع کر دیا تھا کہ اسے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور سے توقع نہیں کہ وہ زیادہ دن زندہ رہ پائے گا۔
ناسا کے رسوائے زمانہ پروجیکٹ بلیو بیم کے چار مختلف مراحل ہیں۔ اس آڈر پر عمل درآمد کا متعدد نئے دور کے مذاہب پر پوری دنیا کے لوگوں کو جمع کرنا ہے۔ اس نئے دور کے نئے مذہب کا سربراہ دجال ہوگا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اس نئے دور کے مذہب کی بنیاد پر ہی نئی عالمی حکومت قائم ہوگی اور اس نئے دور کے مذہب کے بغیر دنیا کا ہر کام ناممکن العمل بنا دیا جائے گا اوریہی پوری دنیا کی آمریت ہی نیا ورلڈ آڈر ہوگی۔
ایک بار پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ نئے دور کے اس مذہب پر عالمی سطح پر ایمان لائے بغیر نئے ورلڈ آڈر میں انسانوں کی بقا ناممکن ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک بلیو بیم پروجیکٹ اتنا اہم ہے کہ اس کی اہمیت کے پیش نظر ہی اسے اب تک مخفی رکھا گیا ہے۔
مصنوعی زلزلے اور ڈھونگ دریافتیں
ناسا بلیوبیم پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ میں آثار قدمہ کے حوالے سے نت نئے انکشافات کے علاوہ زمین کے مختلف حصوں میں زلزلے پیدا کئے جائیں گے ۔ نئے نئے طرح کے سمندری طوفان برپا کئے جائیں گے اور مفروضہ نئی دریافتوں کے حوالے سے خوشخبریاں دنیا بھر کے لوگوں کو سنائی جانے لگیں گی پھر انہیں بنیاد بنا کر تمام مذاہب کے عقائد کو غلط تسلیم کر لیا جائے گا اور ان تمام بے بنیاد معلومات کو تکذیب و تحریف کے لئے اس قدر شدت سے استعمال کیا جائے گا کہ دنیا بھر کی تمام اقوام یہ یقین کرنے لگیں گی کہ صدیوں سے وہ جن مذہبی ودینی عقائد کے حامل رہے ہیں ان کے تمام مذہبی عقائد اور نظریات غلط تھے اور ان کی جو تشریح کی جاتی رہی وہ بھی سراسر غلط تھی۔اس سے پہلے مرحلے کے لئے نفسیاتی ماحول کی تیاریاں پہلے ہی شروع کی جا چکی ہیں اور اس حوالے سے جن کاموں کو کیا جا چکا ہے ان میں2001میں’’شیئر ٹریک سیرنگ‘‘اور ’’یوم آزادی‘‘ نامی فلمیں بھی شامل ہیں۔ یہ تمام فلمیں انسانوں کو اس بات سے آگاہ کر تی ہیں کہ ان پر خلاء سے یلغار ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان حملہ آوروں کو پسپا کرنے کے لئے دنیا کی تمام اقوام کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ اس سیریز کی فلم جراسک پارک بھی تھی جس میں ڈارون کے ارتقائی نظریہ کی تائید کی گئی اور اس فلم کے ذریعہ اللہ تعلیٰ کے دعوں کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اڑن طشتریوں کے بارے میں اور یو ایف اوکے بارے میں بہت عرصہ سے ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ عجیب عجیب قسم کی روشنیاں لوگوں کو دکھائی دیتی ہیں وغیرہ۔
ڈھونگ دریافتیں: پہلے مرحلہ م میں سمجھنے کے حوالہ سے زلزلے سب سے اہم ہیں،جو دنیا کے مختلف حصوں میں ہوں گے۔ جہاں سائنسی اور آثار قدیمہ کے حوالے سے رازوں اور پر اسرار امور پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ان مصنوعی زلزلوں کے ذریعہ سائنسدانوں کے لئے یہ بات ممکن ہو جائے گی کہ وہ ان خفیہ اسرار کی تہہ تک پہنچ جائیں۔ ان خفیہ اسرار کو تمام مذہبی اور دینی نظریات کی بنیادوں کو مشکوک قرار دلوانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انسانیت کے لئے مرتب کئے گئے اس پلان کی ابتدائی تیاری ہی تمام عیسائی، تمام مسلمان اور تمام دنیا کے مذاہب کے عقائد کو غلط ثابت کرنا ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے انہیں ماضی سے بعض چھوٹے ثبوت دکار ہیں، جن سے دنیا بھر کی تمام اقوام پر یہ ثابت کیا جائے گا کہ انھوں نے جن مذاہب اور عقائد کو اختیار کر رکھا ہے۔ وہ سب غلط ہیں۔ ان کی غلط تفہیم کی گئی ہے اور ان کی تشریح و تعبیر بھی غلط کی گئی ہے۔
آسمان میں بڑا خلائی مظاہرہ: ناسا کے بلیو بیم پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں بہت بڑے پیمانے پر خلائی مظاہرہ یا اسپیس شو بھی شامل ہیں۔ جو تصویر پر یا عکسی شبیہہ، آواز کثیر، سو ہولوگرافک امیجز کے لیزر پروجیکشن پر مشتمل جہتی کاموں پر محیط ہوگا، جس کو دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جا سکے گا اور دنیا کے ہر حصے کو ان کے مذہبی اور دینی عقائد کے برعکس ایک مختلف امیج دیکھنے کو ملے گی۔ اس امیج کے ذریعہ دنیا کا یہ بزم خود خدا ، دجال اپنی دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی آواز سے دنیا کے لوگوں سے خطاب کرے گا ۔اس آڈر کی تفہیم کے لئے ہمیں گزشتہ پچیس برسوں کے دوران مختلف خفیہ سروسیز کی ریسرچ کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ سوویت ماہرین نے ایک ایڈوانسڈ کمپیوٹر کی تکمیل کی اور ان کو برآمد بھی کیا اور انسانی جسم کی ساخت کی تشریح سے لیکر اس کے میکانکی عمل پر برقیات کے اطلاق سے متعلق تمام اسٹڈیز کی بنیاد بے حد لطیف طبی نفسیاتی تفصیلات تک کو اس میں ثمودیا۔ انسانی دماغ کی برقیاتی، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات کی اسٹڈی بھی ممکن بنا دی۔ ان کمپیوٹرز میں تمام انسانی زبانیں، ان کے کلچرز، اراضی اور رسم و رواج کو بھی سمو دیا گیا اور سیٹلائٹ ٹرانسمیشن کے ذریعہ ان کمپیوٹرز میں تمام ثقافتوں کی مقامی بولیوں اور ان کے لہجے کو بھی سمودیا گیا ۔ روسیوں نے نئے دجال جیسے ایک معروضی پروگرام کو بھی کمپیوٹر میں سمونے کی کوشش شروع کر دی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ روسی ہی نیوورلڈ آڈر کے لوگ ہیں اور انھوں نے ہی خودکشی کے رجحانات کو تقویت دی ہے اور جو نیو ورلڈ آڈر کے نادری احکامات کی پابندی نہیں کرے گا ان لوگوں نے ایسے ہر شخص ہر سماج اور کلچر کو برقیاتی شعائوںکے ذریعہ ہلاک کر دینے کا طریقہ وضع کر دیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے دو مختلف پہلوئوں میں اولین پہلو اسپیس شو پر مشتمل ہے۔ یہ اسپیس شو کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ اسپیس شو ہو یا ہولوگرافک امیجز کو ان کے خاتمے تک ایک مصنوعی بہروپ کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور ان کے ذریعہ دنیا بھر کی تمام اقوام کو ایسے مناظر دکھائے جائیں گے جو دجال کی ہر خواہش کی تکمیل کرتے ہوں گے۔ نیز ان کے ذریعہ پیشین گوئیوں کے علاوہ مخالف و معاندانہ واقعات کی توثیق بھی کی جائے گی۔ ایسے تمام مناظر سوڈیم کی ایک تہہ کے ذریعہ سیٹلائٹس کے ذریعہ زمین سے 60میل اوپر آسمان سے دکھائے جائیں گے۔ ہم اب بھی ہر لمحہ بار بار ایسی آزمائشوں کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں لیکن ہمیں ابھی تک اس حوالے سے شعو رحاصل نہیں ہے اس لئے ہم اس کی توجیہہ نہیں کرسکتے۔ان کو ان نام نہاد دجال کے کرتا دھرتا لوگوں نے یو ایف اویا اڑن طشتریوں کا نام دے رکھا ہے، جو کبھی کبھار دیکھنے میں آجایا کرتی ہیں اور  جس کے بارے میں یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ یہ اجنبی خلائی سواریاں ہیں۔ دانستہ طور پر اسٹیج کئے جانے والے ایسے ہی واقعات کے دوران دجال کا دنیا میں ظہور ہوگا اور دجال کی آمد کے فوراً بعد فوری طور پر نئے عالمی مذہب پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔ یوں اس نقل کو اصل بنانے، گندم نما جو بیچنے، اللہ کی ملکیت(مالک الملک)میں گڑبڑ پیدا کرنے اور کسی کا جرم کسی کے سر منڈھنے کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کر دیا جائے گا اور ہر قسم کے دینی عقائد سے دنیا بھر کے لوگوں کو بزعم خود(چھٹکارہ) دلا کر جھوٹ اور ملمع سازی پر مشتمل ایک بہت بڑے جال میں پھنسا لیا جائے گا۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو جائے گی کہ مختلف مذاہب کے بڑے بڑے عالمی اسکالر اور دانشور کہلوانے والے لوگ بھی جوق در جوق اس جال میں پھنستے چلے جائیں گے۔ اس پروجیکٹ کے ذریعہ بعض ڈیوائسیز کی صلاحیتوں کو اس حد تک ترقی دی جا چکی ہے کہ وہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو ایک عالم کیف و مستی سے اٹھا کر ایک دوسرے ہی عالم کیف و مستی میں دوسرے مقام تک پہنچا دیں گے اور ایسے بڑے بڑے گروپ خوابوں کی دنیا میں پہنچنے کے بعد ان امر پرایمان لے آئیں گے ۔ آجکل بھی ہم ایسی ہی ڈیوائسیز کے آزمائشی سلسلوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور انسان کو دوسری دنیا کے حوالے سے باور کرائی جانے والی پر اسرار مخلوق کے ہاتھوں اغوا ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے واقعات اب عام ہو چکے ہیں کہ سوتے میں لوگوں کو ان کے بستروں سے یا کھڑکیوں کے راستے اغوا کر لیا گیا اور ان کو پہلے سے منتظر پر اسرار خلائی جہازوں یا اڑن طشتریوں کے ذریعہ لے جایا گیا اور پھر کبھی ایسے لوگوں کا پتہ نہیں چلا۔ اس لئے اس عالمی مذہب اور نئے مسیح الدجال کے خلاف پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مزاحمت اور مقدس جنگوں کے نتیجہ میں انسانی جانوں کا بڑے پیمانے پر خاتمہ کیا جائے گا، جس کا انسانی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی تصور ہی موجود نہیں۔
یوں بلیو بیم پروجیکٹ کے ذریعہ دنیا بھر کے انسانوں کو عظیم دھوکہ دیا جائے گا اور انہیں باور کرایا جائے گا کہ شروع سے جو بڑے بڑے واقعات اور حوادث ہوتے رہے ہیں اور جو قدیم زمانہ سے پیشگوئیاں کی جاتی رہی ہیں ان کی عالمی تکمیل اب نیو ورلڈ آڈر کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے مووی اسکرین کے طور پر فضا کو استعمال کیا جائے گا اور زمین سے 60میل اوپر فضا میں ایک سوڈیم کی تہہ لگائی جائے گی جس کے ذریعہ خلا سے آنے والی لیزر شعائوں سے چلنے والے سیٹلائٹس نقلی اور منصبوعی امیجز کو دنیا کے ہر خطے میں ہر زبان و لہجہ میں پہنچائیں گے اور یوں نیو ورلڈ آڈر کو منوایا جائے گا۔ کمپیوٹرز پہلے سے موجود سیٹلائٹس اور سافٹ ویئر کو ہم آہنگ کریں گے اور آسمانی شو کو ممکن بنائیں گے۔ ہولو گرافک امیجز تقریباً یکساں نوعیت کے سگلنلز کی بنیاد پر اشتراک سے ایک امیج یا ہولوگرام تیار کر ے گا۔ خاص طور پر یہ شو چونکہ دنیا کے مختلف حصوں کے مختلف قسم کے ہولوگرافک امیجز پر مشتمل ہوگا، اس لئے ہر ایک جگہ ان کے مخصوص قومی اور علاقائی مذاہب کے مطابق مختلف امیجز موصول ہوں گے اور خلاء سے آنے والے مظاہر یا تصویری خاکے اور ان ہی لوگوں کی زبان میں بات چیت کو اگرچہ کمپیوٹرز نے مربوط کر رکھا ہوگا لیکن اس حیرت انگیز سحر سے مختلف عقائد پر ایمان لانے والوں کے ایمان متزلزل ہو جائیں گے اور ان پر سختی سے کاربند لوگ حیرت زدہ رہ جائیں گے اور وہ اسے ہی اپنا حقیقی مسیح موعود تسلیم کر لیں گے۔ اس طرح سے دنیا بھر کے لوگوں کو باور کرایا جائے گا کہ سارے مذاہب کے بنی و رسول ایک دوسرے میں ضم ہوگئے۔اب جو آسمان سے وحی آرہی ہے وہی حقیقت ہے اور اصلی خدا دجال ہی ہے اور یہی ساری آسمانی کتابوں کی وضاحت کرے گا۔ قدیم زمانے کے تمام مذاہب نے ایک دوسرے کو لڑوایا اور انسانیت کا قتل کیا اس لئے تمام مذاہب کا خاتمہ ضروری ہے۔ اب نئے دور میں صرف ایک مذہب ہوگا جس کا خدا دجال ہوگا جس کو سب نظر بھی آ سکتے ہیں بات بھی کر سکتے ہیں۔اس عظیم پیمانے پر جھوٹ کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر سماجی اور مذہبی انتشار پیدا ہو جائے گا۔ دجال کے نئے مذہب کے جنونی بڑے پیمانہ پر مظاہرے کریں گے ۔ یہ واقعات ایسے موقع پر ہوں گے جس وقت دنیا سیاسی انارکی کی لپیٹ میں ہوگی۔ اگرچہ اس خلائی مظاہرے کا اسٹاروار کے پروگرام سے موازنہ کریں تو ان دونوں میں تابکاریت اور اثر پذیری کا اشتراک پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے زیر اثر افراد سے کوئی بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر 1974میں ریسرچر جی ایف شافٹس نے کہا تھا کہ ایسی ریسرچ تجاویز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک تنویم زدہ شخص کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو بھی الیکٹرو میگنیٹک توانائی میں براہ راست متقلب کیا جا سکتا ہے اور اس کو پیغام کی حصولیابی یا ٹرانس کوڈنگ کے لئے کسی مکینکل ڈیوائس کے بغیر انسانی دماغ کے لاشعور میں ڈالا جا سکتا ہے، لیکن اس شخص کو بھی یہ محسوس تک نہیں ہوگا کہ وہ ایسی صورت حال کے زیر اثر ہے ۔ اس کے لا شعور میں موجود یہ توانائی اسے کنٹرول کرتی رہے گی۔ اس کے ذریعہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ایسے انسانوں کو مرضی کے بغیر بھی ان کو عاقلانہ اور دانشمندانہ رویے سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

Share Article

3 thoughts on “ناسا کا بلیوبیم پروجیکٹ

  • June 1, 2014 at 9:57 pm
    Permalink

    Helpful info. Fortunate me I discovered your
    web site by accident, and I am stunned why this
    twist of fate did not came about in advance!
    I bookmarked it.

    Reply
  • April 9, 2014 at 4:10 am
    Permalink

    Hello there! This post could not be written any better! Reading this post reminds me of my good old room mate! He always kept talking about this. I will forward this page to him. Fairly certain he will have a good read. Thank you for sharing! gdaaeckcek

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *