محترم وزیر اعظم ابھی استعفیٰ مت دیجئے

پہلے آئی پی ایل گھوٹالہ، پھر کامن ویلتھ گیمز گھوٹالہ، پھر آدرش سوسائٹی گھوٹالہ اور پھر -2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ، ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے جمہوریت کی تعریف ہی بدل گئی ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت کے 60سالوں کے بعد ملک کے لوگوں کو احساس ہونے لگا ہے کہ ہماری سرکاری مشینری کا حال یہ ہے کہ لیڈر ہو، وزیر ہو، افسر ہو یا پھر کوئی اور، جسے جہاں بھی کچھ اختیار حاصل ہے وہ لوٹنے میں لگا ہواہے۔ -2جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں اپوزیشن نے جے پی سی کی مانگ کی تو حکومت نے اس مانگ کو ٹھکرا دیا۔ پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ رہی، پھر ڈی ایم کے کے لیڈر مارن کا خط میڈیا میں آیا تو وزیر اعظم خود نشانے پر آ گئے۔ اس دوران ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت کا ٹیپ عام ہوا تو معاملے کو نئی شکل مل گئی۔ دہلی کی سرگرمیوں کے درمیان کرناٹک سے ایک اور زمین کا گھوٹالہ اجاگر ہونے سے بی جے پی بھی کٹہرے میں آگئی۔ ’چوتھی دنیا‘ نے ملک کے کئی فوجی علاقوں میں اراضی گھوٹالے کا پردہ فاش کر کے پوری مشینری کے چہرے پر سیاہی پوت دی ہے۔ لگتا ہے گھوٹالے کے ذریعہ اور گھوٹالے کے لیے ہمارے ملک میں حکومت چل رہی ہے۔
پہلی بار حکومت چلانے کی مجبوری اور وزیراعظم کے بروقت صحیح فیصلہ نہ لینے کی وجہ سے 100کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ آزاد ہند میں پہلی بار سیاسی اقتدار کواس وقت شرمسار ہونا پڑا جب سپریم کورٹ نے وزیراعظم سے حلف نامہ مانگا۔ اب سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کے دفتر سے ویسے بھی اطلاعات مانگ سکتا تھا۔ حلف نامہ مانگنے کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ سپریم کورٹ کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر سے کوئی جھوٹا جواب بھی مل سکتا ہے۔ تبھی تو حلف نامہ مانگا گیا ہے۔ یہ حقیقتاًایک شرمناک حالت ہے۔ وزیراعظم کادفتر کتنا چست ودرست ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سبرامنیم سوامی کے ایک عام خط کا جواب دینے میں 15مہینے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔ سبرامنیم سوامی ممبر پارلیمنٹ اور وزیر رہ چکے ہیں۔ وزیراعظم کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہے، اگر سابق ممبر پارلیمنٹ اور وزیر کے خط کا جواب ملنے میں اتنی لاپروائی ہوئی ہے تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پی ایم او عام آدمی سے کتنا دور ہے۔ ویسے یہ کوئی عجوبہ نہیں ہے، ایسے کئی ممبران پارلیمنٹ ہیں جو یہ شکایت کرتے ہیں کہ پی ایم او کی یہ عادت سی بن گئی ہے۔ کسی ممبر پارلیمنٹ یا وزیر کے خط کا جواب دینا تو دور اکنالجمنٹ بھی نہیں بھیجتا ہے۔ پی ایم او کے بارے میں ہم یہ اس لیے لکھ رہے ہیں کیوں کہ یہ اقتدار کا سب سے اہم مرکز ہے، یہ اقتدار کا نیوکلیس ہے۔ اگر یہ خط جیسا نارمل کام بھی نہیں کرسکتا ہے تو ملک کیسے چلائے گا یا پھر ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ پی ایم او میں کام کرنے والے لوگ ہی لائق نہیں ہیں۔
-2جی اسپیکٹرم کا جو معاملہ ہے وہ 1.7لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہے۔ اتنا تو دنیا کے 80فیصد ملک کا جی ڈی پی نہیں ہے۔ اس درمیان ڈی ایم کے کے لیڈر دیاندھی مارن جو پچھلی یو پی اے حکومت میں وزیر مواصلات تھے، کا خط آگیا۔ جس سے یہ پتہ چلا کہ کس طرح ایک وزیر نے وزیراعظم کو یہ صلاح دینے کی ہمت کی کہ -2جی اسپیکٹرم سے دور رہیں۔ انتخابات کے بعد پھر سے یو پی اے حکومت بنی، جس میں اے راجہ کو وزیر بنانے کے لیے لابی ہوئی۔ یہ بڑے صحافی، وزیر اورصنعت کار کے درمیان کی ساز باز کا انکشاف ہے۔ صحافیوں کی کسی تنظیم یا صحافی نے اس بدنام ساز باز کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
اس کھیل میں ایک تیسرا پہلو بھی ہے۔ وہ پہلو افسران کا ہے، جس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا گھوٹالہ ملک میں افسران کی ساز باز کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ یہ پتہ لگانا بھی ضروری ہے کہ وہ کون آئی اے ایس افسر ہے، جس نے پورے گھوٹالے میں اہم رول ادا کیا؟ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں حکومت چلانے کا جو طور طریقہ ہے، اس میں کسی افسر کی ساز باز کے بغیر، کسی بھی گھوٹالے کو انجام دینا ناممکن ہے۔ عام طور سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ گھوٹالے کے سامنے آنے کے بعد سیاسی ہستیوں اور وزیروں پر تو بجلی گرجاتی ہے، لیکن گھوٹالے کے حقیقی کردار یعنی آئی اے ایس افسران بغیر کسی سزا کے چھوٹ جاتے ہیں۔ اس گھوٹالے میں بھی یہی ہوگا، لیکن ہمارے وزیر اعظم ایماندار آدمی ہیں، اس لیے امید ہے کہ اگر وہ بدعنوانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس بار اس اہم مرکز کو صاف کرنے کی شروعات کریںگے۔
بدعنوانی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوتا رہا، ممبران پارلیمنٹ نے کوئی بھی کارروائی نہیں چلنے دی، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممبران پارلیمنٹ ہیں، اپنے فرائض کے تئیں ان کا یہ کیسا رویہ ہے؟ سال بھر تک تو یہ کمبھ کرن کی نیند میں سوتے رہتے ہیں اور جب ان پر حالات کا دباؤ آجاتا ہے اور جب کوئی معاملہ میڈیا میں اٹھایا جاتا ہے تب ان کی نیند ٹوٹتی ہے اور پھر یہ پارلیمنٹ میں ہنگامہ شروع کردیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج کے ممبران پارلیمنٹ خود مطالعہ نہیں کرتے، معلومات اکٹھا نہیں کرتے، ملک میں کہاں کیا گڑبڑ ہورہی ہے، اس کی بھنک تک ان کو نہیں ملتی۔ ایسے حالات میں ہمیں بھوپیش گپتا، ہرین مکھرجی، ناتھ پائی، ایچ وی کامت ،پیلو مودی، راج نارائن اور چندرشیکھر کی یاد آتی ہے جو پارلیمنٹ میں ہمیشہ پوری تیاری وپورامطالعہ کرکے، ملک کے بنیادی سوال، عوام سے متعلق مسائل اور حکومت کی ناکامی پر ایسے بیان دیتے تھے، جس سے برسراقتدار جماعت کا کلیجہ کانپ جاتا تھا۔ میڈیا والے ان ممبران پارلیمنٹ سے مل کر معلومات حاصل کرتے تھے اور خبریں لکھتے تھے۔ آج کے ممبران پارلیمنٹ ہی اس معیار کے نہیں ہیں۔ اب گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ میٹھی نیند سونے والے ممبران پارلیمنٹ اس وقت جاگتے ہیں جب میڈیا میں کوئی رپورٹ آتی ہے۔ آج کے ممبران پارلیمنٹ کی معلومات کا واحد ذریعہ میڈیا میں شائع رپورٹ ہوتی ہے۔ حکومت چلانے والے وزیر یا افسر یا پھر دلال قسم کے لوگ حوصلہ مند ہوگئے ہیں۔
میڈیا میں ایک آڈیو ٹیپ کے عام ہونے سے ہنگامہ مچ گیا جب کہ یہ معاملہ پرانا ہے۔ اس ٹیپ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں کس طرح لیڈر، افسر، صنعت کاروں اور دلالوں نے پوری مشینری میں اپنا مایاجال پھیلا رکھاہے جو بڑے سے بڑے گھوٹالے کو انجام دینے میں مہارت حاصل کرچکا ہے۔ اس ٹیپ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک کی مشینری پر دلالوں کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی ہے کہ کابینی وزیر کون بنے گا یا کون نہیں اسے طے کرنے کا حوصلہ بھی وہ کرنے لگے ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ نے تقریباً 5 مہینے قبل دلالوں کی اس ٹولی کا پردہ فاش کیا تھا۔ ہم نے دلالی کے اس کھیل میں نیرا راڈیا، مشہور ٹی وی اینکر اور این ڈی ٹی وی کی منیجنگ ایڈیٹر برکھا دت اور ہندوستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ویر سنگھوی کی کرتوت کو اجاگر کیا تھا۔ اب ان لوگوں کے درمیان ہوئی بات چیت کا ٹیپ عام ہوا ہے۔ اس ٹیپ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اے راجہ کو وزیر مواصلات بنانے کے پیچھے کا راز کیا ہے؟ کیوں دلالوں کی یہ ٹولی اے راجہ کو وزیر مواصلات بنانے کے لیے کانگریس پارٹی اور ڈی ایم کے کے بیچ ثالث کا کردار ادا کر رہی تھی؟ کیوں بڑے بڑے لیڈر اس ڈیل میں شامل تھے اور وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے راجہ کو وزیر بنانے کے لیے دلالوں کی ٹولی سے یہ کام کرایا؟ دراصل -2جی اسپیکٹرم کا گھوٹالہ نہ صرف بڑا ہے بلکہ یہ ملک کی سرکاری مشینری میں موجود بدعنوانی کے کوڑھ کا آئینہ ہے۔

یہ بڑے صحافی ہیں یا بڑے دلال

پدم شری برکھا دت اور ویر سانگھوی، دو ایسے نام ہیں جنھوں نے انگریزی صحافت کی دنیا پر برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔آج یہ دونوں اقتدار کے دلالوں کے طور پر بھی جانے جا رہے ہیں۔برکھا دت اور ویر سانگھوی کی کار گزاریوں کے ذریعہ اقتدار، نوکرشاہ اور کارپوریٹ کی دنیا کاایک خطرناک اور گھنائونا اتحاد سامنے آیا ہے۔ملک کے عوام حیران ہیں کہ این ڈی ٹی وی کی گروپ ایڈیٹر و ا ینکر برکھا دت اور ہندوستان ٹائمس کے سابق ایڈیٹر، موجودہ ایڈوائزری ایڈیٹر و کالمنسٹ ویر سانگھوی نے صحافی ہونے کے اپنے رتبے اور وقار کو دولت کی اندھی چمک سے داغدار کر دیا ۔ایک سوال اور بھی ہے جو لوگوں کو پریشان کر رہا ہے کہ دلالی میں اتنے بڑے دو نام ایک ساتھ بھلا کیسے ہو سکتے ہیں۔ویسے میڈیا کے لوگوں کو کم و بیش اس کا علم ہے، کہ ویر سانگھوی اور برکھا دت کے درمیان کیا رشتہ ہے، لیکن عام لوگوں کو شاہد ہی معلوم ہو کہ ویر اور برکھا دونوں بے حد قریبی دوست ہیں۔جب ویر سانگھوی کو نیوز ایکس سے استعفیٰ دینا پڑا تھا تب کہا گیا تھا کہ اس کی وجہ بھی برکھا ہی بنی تھیں۔شاید اس لیے دلالی میں بھی دونوں نے ساتھ ہی ہاتھ کالے کئے۔
جنوری2006میں جب اے راجہ وزیر ماحولیا تھے تب ہوٹل تاج مان سنگھ میں برکھا دت، ویر سانگھوی اور نیراراڈیا کی ایک لمبی ملاقات ہوئی تھی۔نیرا کی راجہ سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ یہ کمرہ نیرا راڈیا کے نام سے بک تھا۔اس کے بعد ان کے ملنے کا سلسلہ چل نکلا۔سی بی آئی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ بات بھلے ہی چار کمپنیوں کی کی جا رہی ہے، لیکن کمپنیوں کی کل تعداد نو ہے، کل تین سو روز تک نیرا کی باتیں ٹیپ کی گئی ہیں،جو باتیں نکل کر سامنے آئی ہیں ان کی بنیاد پریہ انکشاف بھی ہو سکتا ہے کہ ان نو کمپنیوں میںبرکھا اور ویر کی بھی حصہ داری ہو۔
گزشتہ دنوں ایک تقریب میںپریس کونسل کے صدر جسٹس گجیندر نارائن رے نے تنقید کی تھی کہ آج کی صحافت طوائف کے پیشے میں بدل گئی ہے۔برکھا دت اور ویر سانگھوی نے اپنے فعل سے ان کی بات پر مہر بھی ثبت کر دی تھی۔صحافت کے پیشے کی آڑ میں کالی کمائی کر رہے ان دونوں مشہو رو معروف صحافیوں کے نامحکمۂ انکم ٹیکس اور سی بی آئی کی فہرست میں بطور دلال درج ہو چکے ہیں۔محکمۂ انکم ٹیکس اور سی بی آئی کے پاس ان دونوں کے خلاف ثبوتوں کی لمبی فہرست ہے۔سی بی آئی اور انکم ٹیکس ڈائریکٹوریٹ جنرل کے پاس موجود ٹیپوں میں ان دونوں معروف صحافیوں کو دلالی کی زبان استعمال کرتے ہوئے صاف طور پر سنا جا سکتا ہے۔سی بی آئی کی اینٹی کرپشن برانچ نے جب ٹیلی کام گھوٹالے کے سلسلے میںنیراراڈیا کے خلاف21نومبر2009کومعاملہ درج کیا اور چھان بین شروع کی تب پایا کہ نیراراڈیا اپنی چار کمپنیوں کے ذریعہ ٹیلی کام، ایوی ایشن، پاور اور انفرا اسٹرکچر سے وابستہ کارپوریٹ سیکٹروں کے فائدے کے لیے بچولئے کا کام کرتی ہے، جس کی بھر پور قیمت بھی نیرا ان صحافیوں کو دیتی ہے۔سی بی آئی کے اینٹی کرپشن بیورو کے ڈی آئی جی ونیت اگروال کو جب اس بات کے ثبوت ملے تو انھوں نے محکمۂ انکم ٹیکس کے انویسٹی گیشن آئی آر ایس ملاپ جین سے نیرا راڈیا سے وابستہ معلومات مانگیں۔انکم ٹیکس ڈائریکٹو ریٹ جنرل کے جوائنٹ ڈائریکٹر آشیش ایبرال کے ذریعہ سی بی آئی کو بھیجے گئے سرکاری مکتوب میں جواب آیا کہ نیرا راڈیا پہلے سے ہی مشکوک ہیں اور اس بنیاد پرداخلہ سکریٹری سے اجازت لیکر نیرا اور ان کے معاونین کا فون ٹیپ کیا جا رہا تھا۔اس درمیان ہی یہ کڑوی حقیقت سامنے آئی کہ ویشنوی کارپوریٹ کنسلٹینٹ ،نوئیسس کنسلٹنگ، وٹکام اور نیوکام کنسلٹنگ کمپنیوں کے ذریعہ سے ٹاٹا اور امبانی جیسے کارپوریٹ گھرانوں کوفائدہ پہنچانے کی خاطر نیرا راڈیا برکھا دت اور ویر سانگھوی جیسے با اثر صحافیوں کا استعمال کرتی ہیں۔برکھا اور ویر سانگھوی نیرا راڈیا جیسی بچولئے کے زر خرید بن کرسیاسی گلیاروں میں تول مول کا کھیل رچتے ہیں۔ صحافت کی بنیاد پر قائم کردہ وہ اپنے روابط کا استعمال کابینی جوڑ توڑ میں کرتے ہیں۔اپنے مطلب کے کارپوریٹ گھرانوں کی سہولت کے مطابق وزراء کو محکمے دلواتے ہیں اور بدلے میں بھاری بھرکم دلالی کھاتے ہیں۔ ثبوت کہتے ہیںکہ دلالی کا کھیل یہ دونوں بہت پہلے سے کھیلتے آ رہے ہیں، لیکن ان کا راز فاش ہوا اے راجہ کووزیر مواصلات بنوانے کے بعد۔وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی نہیں چاہتے تھے کہ الزامات سے گھرے اے راجہ کووزیر مواصلات بنایا جائے۔منموہن سنگھ نے اے راجہ کے نام پر غور کرنے تک سے منع کر دیا تھا۔منموہن سنگھ چاہتے تھے کہ ملک کوجدید ترین اطلاعاتی انقلاب سے جوڑ کرسماج کو مستحکم و خوشحال بنانے میں بے حد اہم رول ادا کرنے والی وزارت مواصلات ایسے شخص کے ہاتھ میں جائے ، جو کارپوریٹ گھرانوں کی کٹھ پتلی نہ ہو، اس کی شبیہ بے داغ ہو، لیکن نیرا راڈیا کے ہاتھوں فروخت ہو چکے برکھا دت اور ویر سانگھوی نے کانگریس کے پاور کوری ڈور میں ایسی گھیرا بندی کی کہ وزیر اعظم تو بے بس ہی ہو گئے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی بھی ایک نہیں چلی۔
سی بی آئی اور محکمۂ انکم ٹیکس کی فائلوں اور ٹیلی فون ٹیپوں میں برکھا اور ویر سانگھوی کے خلاف درج ثبوت ان کی دلالی کی ہولناک کہانی بیان کرتے ہیںکہ ملک کے مشہور صحافی ہونے کا ان دونوں نے کس قدر اوچھا فائدہ اٹھایا۔ نیرا راڈیا کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کردونوں نے ہی ٹاٹا اور امبانی جیسے ملک کے ٹاپ کارپوریٹ گھرانوں کومالی فائدہ پہنچانے کی غرض سے مسلسل پیروی کرکے حکومت کے کئی فیصلوں کو تبدیل کرا دیا۔ ایئر ٹیل کے مالک سنیل بھارتی متل کی زبردست مخالفت کے باوجود دیا ندھی مارن کی بجائے اے راجہ وزیر مواصلات بنے تو اسی سبب کہ برکھا دت اور ویر سانگھوی جیسے سفید پوش بڑے صحافی راجہ کی پیروی کر رہے تھے۔جانچ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نیرا راڈیا، برکھا دت اور ویر سانگھوی کی تکڑی پرانی ہے۔نیرا راڈیا کی چاروں کمپنیوں میں بطور افسر تمام ریٹائرڈ نوکر شاہوں کی بھر مار ہے۔ ان سبھی کو ویر سانگھوی اور برکھا کی تیار کردہ فہرست کی بنیاد پر ہی رکھا گیا ہے۔یہ وہ افسران ہیں جنھوں نے مختلف وزارتوں میں اعلیٰ عہدوںپر کام کیا ہے اور جنہیں وزارتوں کے اندرونی کام کاج کی مکمل جانکاری ہے۔انہیں معلوم ہے کہ کس طرح حکومت کو کروڑوں اور اربوں کا چونا لگایا جا سکتا ہے۔کس طرح غیر ملکی رقم کی سرمایہ کاری کرکے قانون کی دھجیاں اڑا کراربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔

لیڈر ، افسر، دلال اور حکومت

لوک سبھا میں جھارکھنڈ کے گونڈا کے ایک نوجوان ممبر پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے عام بجٹ کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کی جانب سلگتے ہوئے سوالوں کے کئی گولے ایک ساتھ داغ دئے تو یکبارگی حکومت بھی حیران رہ گئی تھی۔ بی جے پی کے اس نوجوان ممبر پارلیمنٹ نے حکومت سے پوچھا کہ ایک ٹیپ آیا ہے، ایک پی آر ایجنسی کے بارے میں۔ اس ٹیپ میں ملک کے بڑے صنعت کاروں سے لے کر حکومت تک کا ذکر ہے کہ کیسے مرکزی حکومت کے وزیر، وزیر اعظم نہیں، بلکہ باہر کے لابسٹ طے کر رہے ہیں۔ دوبے واضح کرتے ہیں کہ اسی ٹیپ کو بنیاد بنا کر جب ڈائریکٹر انویسٹی گیشن دہلی کو خفیہ کاغذات بھیجے جاتے ہیں تو وہ لیک ہو جاتے ہیں اور آناً فاناً میں حکومت ڈائریکٹر انویسٹی گیشن کو بدل دیتی ہے اور یہ طے کرتی ہے کہ اب اس معاملہ کو اسسمنٹ افسر نہیں، بلکہ سیٹلمنٹ کمیشن طے کرے گا اور سب کو معلوم ہے کہ سیٹلمنٹ کمیشن میں حکومت کی مہربانی سے ریٹائر افسروں کی بحالی ہوتی ہے۔ دراصل یہ پورا مسئلہ ملک میں پی آر اور لابنگ کی سپریمو نیرا راڈیا سے وابستہ ہے۔ یہ وہی راڈیا ہیں، جب این ڈی اے کے دور حکومت میں اننت کمار وزیر شہری ترقیات ہوا کرتے تھے تو میڈم ان کے سب سے قریبی لوگوں میں شمار ہوتی تھیں۔ بعد میں نیرا راڈیا ایک ایئر لائنس شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن چونکہ فنڈ کی شفافیت نہیں تھی، سمجھا جاتا ہے کہ شاید اس لئے  مرکزی وزارت داخلہ نے انہیں اپنا ایئر لائنس شروع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بعد کے دنوں میں راڈیامکیش امبانی اور رتن ٹاٹا جیسے ملک کے معزز صنعت کاروں کے ساتھ جڑ گئیں۔ جب مدھوکوڑا جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ تھے تو رتن ٹاٹا جھارکھنڈ حکومت کے ساتھ اپنے کان کنی لیز معاہدہ کو آگے بڑھانا چاہتے تھے اور اس کام کو پورا کرنے کے لئے ٹاٹا نے راڈیا کا انتخاب کیا اور سمجھا جاتا ہے کہ ٹاٹا نے راڈیا کی معرفت مدھو کوڑا کو 180کروڑ روپے کی ادائیگی کی اور اس پورے کام میں راڈیا کی فیس کیا تھی، اس کا ابھی انکشاف نہیں ہو پایا ہے۔
مگر ہاں، ٹاٹا نے ا س کام میں لگی پی آر کمپنی سے جڑے لوگوں کو ایک کروڑ روپے کا انعام ضرور دیا تھا۔ آئی بی نے اس ٹیپ کو بنیادبنا کر انکشاف کیا مگر اس معاملہ میں کچھ بڑے کانگریسی لیڈران کے نام سامنے آنے پر مرکزی حکومت مدھو کوڑا کو بچانے میں مصروف ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق، ہندوستانی خفیہ ایجنسی (آئی بی) نے وزارت خارجہ کی اجازت پر نیرا راڈیا اور ان کے ساتھیوں کی ٹیلی فون لائنوں پر مسلسل نظر رکھی۔ ظاہری طور پر نیرا راڈیا ملک کے کئی بڑے صنعت کاروں کا سیاسی انتظام کرتی ہیں۔راڈیا اپنے کارپوریٹ کلائنٹس کے کاروباری مفادات کے لئے سرکاری محکموں میں اعلیٰ سطح پر پالیسیوں میں مرضی کے مطابق ردوبدل کرانے کے ساتھ ساتھ وزراء کی تقرریوں میں بھی دخل اندازی کرتی ہیں۔ نیرا اپنی حکومت منصوبہ بند طریقہ سے اپنی چار کنسلنٹنگ کمپنیوں کے ذریعہ چلاتی ہیں۔ویشنوی کارپوریٹ اہم طور پر ٹاٹا گروپ سرکاری محکموں سے جڑے کاغذات دیکھتی ہے۔ نیرا نے نیو کام کنسلٹنگ کی شروعات نومبر 2008میں مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کا سیاسی مینجمنٹ دیکھنے کے لئے کی، جبکہ نیو سس کی شروعات کا مقصد اختیاری طور پر ریٹائر نوکرشاہوں کے ذریعہ ٹیلی کام، توانائی، ہوابازی اور انفراسٹرکچر سے جڑے کام دیکھنا بتایا جاتا ہے۔ نیوسس پر بھی پورا قابو میڈم راڈیا کا ہی ہے۔ حقائق کے مطابق، ٹاٹا گروپ کا سنگور پروجیکٹ جب فیل ہو گیا تھا تو نیرا اور ان کے ساتھیوں نے نینو پروجیکٹ کو اپنی مشنری کی مدد سے گجرات میں منتقل کروایا تھا۔ اس کے لئے انھوں نے کچھ اہم سی پی ایم لیڈران کو مینج کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نیرا کے لیفٹ اور سیٹو کے کئی لیڈران سے بے حد قریبی تعلقات ہیں۔
ایک اہم صنعتی گھرانے کو ایک نیوز چینل پر پوری طرح  قابو پانا تھا۔ اس لئے نیرا راڈیا اور جہانگیر پوچا نے ایک ہندی روزنامہ ’’ نئی دنیا‘‘ کے مالک ابھے چھجلانی سے بات چیت کی اور اس کام کو پورا کیا گیا۔ میڈیا مینجمنٹ میں نیرا اور ان کے ساتھیوں کا کام کرنے کا طریقہ کچھ مختلف ہے۔ وہ صحافیوں کو خوش کرنے کے لئے انہیں مع اہل و عیال بیرون ممال کی تفریح کراتے ہیں، قیمتی تحائف دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک انگریزی روزنامہ کے سابق مدیر اور ایک انگریزی نیوز چینل کی سینئر صحافی کو قیمتی کاریں نذرانہ میں پیش کی گئیں۔ بات چیت سے صاف ہوئے حقائق کے مطابق، مکیش امبانی اور ان کے چھوٹے بھائی انل امبانی کے کاروباری تنازعات خاص کر کے جی بیسن جھگڑے میں محترمہ راڈیا مکیش کی جانب سے زوردار لابنگ کر رہی ہیں۔ خفیہ ذرائع کے مطابق، مکیش امبانی کے اسسٹنٹ منوج مودی اور پریمل نیتھانی کے ذریعہ نیرا کے ساتھیوں کے ساتھ ہوئی بات چیت میں یہ ظاہر ہوا کہ کچھ این جی او کے ذریعہ دائر کی پی آئی ایل کو واپس لینے کیلئے اسٹنگ آپریشن بھی کروا کر دبائو ڈالا گیا۔ مکیش امبانی ہلدیا پیٹرو کیمیکلس کو اپنی بالادستی میں لینا چاہتے ہیں، لیکن ہلدیا پیٹروکیم کے چیئر مین حکومت کے ذریعہ نامزدفکی چیف ترون داس ہیں۔ امبانی کے اس مفاد کو پورا کرنے کے لئے نیرا راڈیا ترون داس کے رابطہ میں رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے ترون داس نے سی پی ایم لیڈر نروپم سین کو راضی کیا اور نروپم نے پرکاش کرات سے راڈیا کی ملاقات بھی کروائی۔ پرکاش کرات اور نروپم سین یہ پورا پروجیکٹ مکیش امبانی کو دلانے کے لئے ہمیشہ تیار ہیں، مگر انہیں ڈر تھا کہ ایم سی پی کے ایک دیگر سینئر لیڈر اس میں الجھنیں پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس لیڈر کو مینج کرنے کی ذمہ داری مکیش امبانی پر چھوڑدی گئی۔ ریٹائر نوکر شاہ پردیپ بیجل، جو نیرا کے لئے کام کرتے ہیں، پائپ لائن ریگولیٹری ایجنسی اور ریلائنس کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں۔ حقائق کے مطابق وزارت خزانہ کے ساتھ لابنگ کی جا رہی ہے کہ ریلائنس گیس کو خام تیل کے ادارے کی شکل میں سات سال تک ٹیکس سے آزاد کیا جائے۔ علاوہ ازیں ریلائنس نے وی کے سبل جو ہائڈرو کاربنس کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، کو عالیشان گھر خرید کر دیا ہے۔ آر کام کے چار افسران کے خلاف سی وی سی کے ذریعہ تفتیش چل رہی ہے۔ جانچ 53,000کروڑ روپے کے گھوٹالے سے جڑی ہے۔ ایک دوسرے معاملہ میں نیرا راڈیا کے ذریعہ بھارتیہ اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ افسران کو ریلائنس کے لئے بینک گارنٹی کے لئے مینج کیا گیا۔ یہ گارنٹی ریزرو بینک کے ذریعہ مذکورہ اطلاع کے خلاف دی گئی، جس میں کمپنی کی مالی بدعنوانیوںکا ذکر تھا۔بھارتی ایئر ٹیل کمپنی کے مالک سنیل متل نے بھی نیرا کی خدمات اپنی کمپنی کے لئے غیر رسمی طور پر لیں۔ متل نے نیرا کی خدمات ٹیلی کام میں تین وجوہات کے لئے لیں۔پہلی وزارت مواصلات کا اسپیکٹرم معاملہ میں سی ڈی ایم اے لابی کے تئیں رجحان دیکھتے ہوئے جی ایس ایم لابی کے لئے لابنگ کرانا۔
دوسری متل نے نیرا کے ذریعہ دیا ندھی مارن کو وزیر بنوانے کے لئے لابنگ کروائی۔ ذرائع کے مطابق، سنیل متل کو نیرا سے سہیل سیٹھ نے ملوایا تھا۔ نیرا راڈیا نے متل کو اپنی خدمات دیتے وقت اس بات کا خیال رکھا کہ ان کے اس کام سے کہیں بھی ٹاٹا کے کاروباری مفادات کا نقصان نہ ہو۔ نیرا اور رتن ٹاٹا کے درمیان ٹیپ ہوئی بات چیت میں ایک حقیقت اور اجاگر ہوئی کہ ٹاٹا دیا ندھی مارن کو وزیر مواصلات بننے کے کسی بھی حالت میں طرفدار نہیں تھے۔ ذرائع کے مطابق نیرا کے تعلقات اے راجہ سے کافی نزدیکی ہیں اور اپنے انہی تعلقات کے سبب نیرا نے وزیر مواصلات کے ذریعہ اپنے کلائنٹس سوان ٹیلی کام، ایئر سیل، یونی ٹیک وائر لیس اور ڈاٹا کام کو لائسینس دلوائے۔ غور طلب ہے کہ ڈاٹا کام میں ریلائنس گروپ کے ملازم منوج مودی کا پیسہ لگا ہے۔
سیاسی مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ محترمہ راڈیا بیرون ممالک سے بھی چندہ جمع کرنے کے کام میں ملوث ہیں۔ انھوں نے اپنے کلائنٹ یونی ٹیک کے ممبئی پروجیکٹ میں لہمن برادرس سے تین قسطوں میں پیسہ کی سرمایہ کاری کرائی تھی۔ پہلی قسط تقریباً740کروڑ روپے کی، شیوا لک وینچر پرائیویٹ لمٹیڈ جو یونی ٹیک کی ہولڈنگ ہے اور روہن ڈیولپرس ممبئی کو دی گئی۔ شیوالک میں یونی ٹیک کے پچاس فیصد شیئر ہیں۔ بقیہ رقم دو قسطوں میں تقریباً550ملین ڈالر کی شکل میں دی گئی۔ آئی بی کی اس رپورٹ میں اور بھی کئی اہم انکشافات ہوئے ہیں، مگر نیرا کے اونچے سیاسی رسوخ کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایسے معاملوں سے ان کا کچھ نہیںبگڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *