شاید لفظ راز کا مطلب کچھ اور ہی ہوگا

عفاف اظہر ،کناڈا
خفیہ دستاویزات سامنے لانے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے مختلف ممالک میں امریکی سفارتی عملے کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈھائی لاکھ سے زائد پیغامات شائع کیے ہیں جب سے وکی لیکس کی دستاویزات سامنے آئی ہیں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں ۔ کوئی وکی لیکس کے ہاتھوں امریکی حکومت کی ڈھائی لاکھ خفیہ دستاویزات کی اشاعت کو سفارتکاری کا نائن الیون قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دوغلے پن کا پردہ فاش سمجھ رہا ہے۔ کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کی سی آئی اے اور یہودیوں کی سازش ہے تو کوئی اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر یکسر مسترد کر رہا ہے، لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی وکی لیکس نے شائع کر کے ہفتہ بھر سے ایک عارضی سنسنی پھیلا رکھی ہے۔ اگر یہ سنسنی  ڈرامہ نہ بھی چلایا جاتا تو کیا کوئی فرق پڑتا ؟
ایک اہم ترین انکشاف یہ ہے کہ امریکی فوجی پاکستان آرمی کے ساتھ مل کر قبائلی علاقوں میں آپریشن کررہے ہیں اس حقیقت سے اب تک کون بے خبر تھا یا پھر یہ کوئی ایسی بات ہے جس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔چاہے پاکستان آرمی اب تک ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے لاکھ انکار کرتی رہی ہے لیکن یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی ملک بنا آپ کی اجازت کے آپ کے ملک میں داخل ہو کر فوجی آپریشن کیوں کر کر سکتا ہے ؟ وہ  چاہے ڈرون حملے ہوں یا پھر فوجی آپریشن کے نام پر قتل و غارت گری۔ ہمارے حکمرانوں کی رضامندی کے بنا ممکن نہیں اور پھر اس حقیقت سے کون بے خبر ہے کہ یہ کون سا قرض ہے جس کا سود ہم ادا کر رہے ہیں پاکستان کے جنگجو جب بلا ضمانتیں حاصل کیے بلا اپنی سا  لمیت کا تحفظ کیے دوسروں کے مقاصد کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں تو پھر بیرونی مداخلت ترقی کی آڑ میں آپ کے سیدھے چلتے ہوئے پہیے کو بھی ٹریک سے اتار کر آپ کو عملًا غلامی کا سنہرا طوق گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیاقت علی خان اس پٹے کو گلے میں ڈالنے پر راضی نہ ہوئے تو غلام محمد نے چوم کر پہن لیا اور یہ پٹہ روائتی انداز سے کئی گلوں سے ہوتا ہوا زرداری سے گیلانی کے گلے میں آ گیا ہے۔اسکا مالک جب چاہتا ہے کھیچ لیتا ہے جب چاہتا ہے کسی کے پیچھے لگا دیتا ہے۔ لیکن ہڈی بڑی شاندار دیتا ہے جس میں گوشت خوب ہوتا ہے تو پٹہ کیوں گلے سے اتارے۔ قوم تو چیختی ہی رہتی ہے اس کی پروا کون کرتا ہے۔
یہ جہادی کس نے بنائے کس کے لئے انہوں نے جنگ کی کس نے یو ایس ایس آر کو زخم چاٹتے ہوئے بھاگنے پر مجبور کیا پھر انعام میں سی ون تھرٹی کا ملبہ، تحقیقات بھی نہ ہونے دی گئیں۔ دوسری طرف اپنی انٹیلی جنس کے خلاف کارروایاں کس بات کا عندیہ دیتی ہیں۔ ملک میں جب ماورائے آئنی اقدامات کیے جائیں گے اور جنہیں بیرونی اشارے پر کام کرنے ہوں تو پھر قانون ،عدلیہ اور سول ایڈمنسٹریشن سب بے اختیار اور انصاف ناپید لوگ قانون ہاتھ میں لے کر گروہی سیاست کے فروغ میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ یہ ملک میں سول وار کی طرف ایک قدم ہوتا ہے۔ حکومتی رٹ کمزور کر دی جاتی ہے۔ بلوچستان اس کی حالیہ مثال ہے-کراچی میں ٹارگٹ کلنگ مساجد میں خود کش دھماکے تو بازاروں گلی محلوں حتی کہ ہسپتالوں اور اسکولوں میں بم دھماکے سیکورٹی ایجنسیوں پر حملے کچھ اور ہی خبریں دے رہے ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کا بڑھتا ہوا گراف عام آدمی کو اشتعال دلانے کا باعث ہے ،اسکی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
اصل قوتوں کا نام لینے سے گریزاں ہمارے ادارے لرزاں ہیں۔ مداخلت کا دروازہ بند کرنے کا حوصلہ نہیں دوستی کی آڑ میں ہمارے ہاں آئے روز نت نئے المیے جنم لے رہے ہیں مگر ہم ان بھیانک چہروں کو بے نقاب کرنے سے ہمیشہ کی طرح اب بھی گریزاں ہی ہیں ۔آج بھلے یہ وکی لیکس کے انکشافات ہماری ان متعلقہ شخصیات کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں لیکن افسوس کہ اس بات کے بھی تو کوئی امکانات موجود نہیں کہ پاکستان کا میر جعفر و میر صادق نما حکمراں طبقہ اس شرمندگی کو محسوس کرے، کیوں کہ ہماری قوم ہو یا سیاستداں سب ہی ایسے شرم پروف ہیں کہ جن پرشرمندگی نام کی کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی اور رہی بات امریکی سفارتکاری کی، جس پر یہ شور اٹھا ہے کہ وہ مروجہ اخلاقیات پر نہیں بلکہ مفادات کی بنا پر استوار ہوتی ہے تو اس میں حیرانی کس بات کی کیا یہ بات ہمیں آج معلوم ہوئی ہے ؟ صرف امریکی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی سفارتکاری آج اخلاقیات پر نہیں مفادات پر مبنی ہے تو پھر ظاہر سی بات ہے کہ امریکا جیسی ایک عالمی  طاقت کے مفادات بھی تو اتنے ہی وسیع اور گھمبیر تو ہونگے ہی ۔ بلکہ اب تو جب راز ہر زبان عام پر آ ہی گیا ہے تو ہمارے راہنماؤں کو جو امریکی سفیر کی پرتکلف ضیافت کرکے ان سے امریکہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی وزارت عظمٰی کے درخواست گزار ہوتے ہی یعنی یہ کام امریکی سفارت خانے سے ہو رہا ہے۔ انکا ایک بڑا احسان ہو گا اس قوم پر اگر ایک مہربانی اور ہو جائے کہ پارلیمنٹ پر تالا لگا کر تمام وزراء کوگھروں کو بھیج دیا جائے۔ تاکہ اس ڈرامے پر اٹھ رہا خرچہ کہیں اور کام آ جائے اور پھر یہ بات کس نظر سے پوشیدہ ہے کہ ہم بھلے آج ہم ایٹمی قوّت ہیں مگر وہ بم ہماری حفاظت کے لئے نہیں بلکہ ہم اْس کی حفاظت کے لئے ہیںاور یہ کہ ہمارے حکمراںکرپٹ ہیں جو امریکی فوج اور بلیک واٹر کو پاکستان میں خود اختیارا ت دے کر بدلے میں بہت سے ذاتی مفادات حاصل کر چکے ہیں ۔کیا ایران کی سرگرمیوں سے اکثر عرب ممالک خار نہیں کھاتے؟ اور کیا  عرب اور ایران کی دشمنی صدام اور خمینی کے دور کی نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں تو صدیوں تک پھیل ہوئی ہیں۔ کیا یہ بات وکی لیکس نے آج ہمیں سمجھائی ہے کہ پاکستان سے سعودی عرب سمیت تیل سے مالامال برادر اسلامی ممالک کا رشتہ برابری کا نہیں بلکہ یہ ایک امیری اور غریبی کا بندھن ہے۔ ایک شاہ خرچ شیخ اور ایک بھکاری کا جو بخشیش پر دعائیں دیتا نہیں تھکتا اور استہزائیہ طعنوں کو پیشانی پے بل لائے بغیر سننے پربھی مجبور ہوتا ہے۔ تو پھر آخرایسا کیا کہ عرب شاہ نے ہمارے لیڈروں کے بارے میں کہ جو ہمیں پہلے سے پتہ نہ تھا ؟ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کے پاس تمام ممالک خصوصا مسلم ممالک کے سربراہوں کے راز ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے مسلمان بدمست بادشاہ امریکہ کے سامنے ہی دل کے جلے پھپھوڑتے ہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ حکومت اور فوج کے درمیان بداعتمادی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں ہمارے کچھ لوگوں اور طالبان کے درمیان فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے، طالبان کی فنڈنگ عرب کرتے ہیں، عرب ممالک مسلکی بنیادوں پر ایران کو مٹا دینا چاہتے ہیں، ہم یہ سب کچھ تو پہلے سے جانتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ امریکہ کو ڈر ہے کہ کہیں پاکستانی ایٹم بم شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائے، اگر یہ باتیں راز تھیں تو پھر شاید  لفظ راز کا مطلب کچھ اور ہی ہوگا۔
وکی لیکس ایک نہایت عمدہ ڈرامہ ہے ، جس کے بانی جولین اسانش جوعراقی سابق صدر  صدام حسین جنہیں چوہے کے بل سے بھی ڈھونڈ نکالا گیا کیوں کہ وہ فقط ایک ہی  ملک کے مطلوب نظر تھے سے قطعاً برعکس ایک سو چھیاسٹھ ممالک کی جرائم کی ہٹ لسٹ میں  مطلوب ہیں مگر پھر بھی ایک عرصی دراز سے کبھی برطانیہ اور کبھی امریکا میں ہی روپوش  اپنے کرتب دکھا تے ہی چلے جا رہے ہیں مناسب کردار اور شاندار معیاری ا سکرپٹ۔ کہانی کے جھول کہیں دور چھپ کر رہ گئے اور تماشائیوں سے داد و تحسین بھی توقعات کے عین مطابق ہیں۔ مگر اب سوال یہ نہیں کہ وکی لیکس سہی ہے یا غلط اسکے انکشافات سچے ہیں یا جھوٹے بلکہ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے پس پردہ کون سے عوامل کارفرما ہیں  کون سے مکروہ عزائم پوشیدہ ہیں اور آخر وہ کون سی طاقتیں ہیں جو دور بیٹھی اس وکی لیکس نامی کٹھ پتلی کو نچا رہی ہیں ؟
زندوں کو زندہ گاڑ کے کہتا ہے خوش رہو
مردے گڑے اکھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو
کہتا ہے بستیوں کو بسانا ہے اس کا کام
ساری زمین اجاڑ کے کہتا ہے خوش رہو
آئین لکھتا رہتا ہے امن و امان کاقرطاس
امان پھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو
کہتا ہے اب فضا پہ فقط اس کا راج ہے
اور پنکھ سب کے جھاڑ کے کہتا ہے خوش رہو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *