اگر نہ ملے اسکول ڈریس یا کتاب

سرکاری اسکولوں میں بچے پڑھنے آئیں، اس کے لئے بہت ساری سرکاری اسکیمیں بنائی گئی ہیں۔ جیسے یونیفارم اور کتابوں کی تقسیم۔ مذکورہ اسکیمیں دراصل ایسے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ہیں، جو غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کی تعلیم پر آنے والے اخراجات برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ’’سرو شکشا ابھیان‘‘ (سب کے لئے تعلیم مہم) کے تحت پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کو یونیفارم فراہم کرانے کا انتظام ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایس سی، ایس ٹی، دیگر پس ماندہ ذات اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات کو یونیفارم دیا جاتا ہے۔ اس کے لئے ’’سروشکشا ابھیان ‘‘ کو ہیڈرکوارٹر سے ایس سی ایس ٹی طالبات فنڈ سے بجٹ الاٹ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے تمام سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو مفت کتابیں دینے کا انتظام ہے، لیکن کئی بار افسران اور اساتذہ کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ سہولت بچوں تک نہیں پہنچ پاتی۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے۔ ظاہر ہے، ہم اپنے حقوق کو اپنی آنکھوں کے سامنے بدعنوانی کی بلی چڑھتے تو نہیں دیکھ سکتے۔ اگر آج آواز نہیں اٹھائی تو یقینی طور پر بدعنوانوں کا حوصلہ بڑھتا جائے گا۔ اس لئے اس بد انتظامی اور بے ایمانی کے خلاف لڑائی لڑنی ہوگی۔ اس کام میں آپ کا سب سے بڑا ہتھیار حق اطلاعات قانون ہے۔ اس کے تحت آپ ایک درخواست تیار کریں اور متعلقہ محکمہ میں جمع کریں۔ آپ یہ پوچھیں کہ یونیفارم اور کتابیں کب تقسیم کی گئیں۔ جنہیں یہ سہولت ملی، ان کے نام وغیرہ کے بارے میں معلومات طلب کریں۔ آپ تقسیم رجسٹر کی فوٹو کاپی بھی مانگ سکتے ہیں۔آرٹی آئی (حق اطلاعات قانون) کے پاس اتنی طاقت ہے ، جس سے بدعنوان، بے ایمان اور غیر سنجیدہ افسروں کو راستے پر لایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ آپ خود بیدار ہوجائیں اور زنگ آلود انتظامیہ سے سوال پوچھ کر انہیں اپنی طاقت کا احساس کرائیں۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ آپ کی لڑائی میںہر قدم پر آپ کے ساتھ ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ آرٹی آئی درخواست ڈالتے ہی افسران حرکت میں آجائیں گے۔ اگر کوئی اور مسئلہ پیش آتا ہے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

یونیفارم؍ کتابوں کی تقسیم کی تفصیل

مؤرخہ
بخدمت،
پبلک انفارمیشن افسر
دفتر کانام …………………..                پتہ………………………….
ریفرنس: حق اطلاعات قانون 2005کے تحت درخواست
عزت مآب،
………………….میں واقع اسکول کے تعلق سے مندرجہ ذیل معلومات فراہم کرائیں۔
-1کیا سال……..اور سال………..کے لئے مذکورہ اسکول میں طلبہ کو یونیفارم؍ کتابیں تقسیم کر دی گئی ہیں؟ اگر ہاں تو کتنے طلبہ اور طالبات کو تقسیم کی گئی ہیں؟ جن طلبہ کو یونیفارم ؍کتابیں دی گئی ہیں، ان کی فہرست درج ذیل تفصیل کے ساتھ دیں:
(الف)طلبہ؍طالبات کا نام            (ب) یونیفارم ؍ کتابیں کس تاریخ کو دی گئیں
(ج) ریسیونگ رجسٹر کی فوٹو کاپی
-2اگر یونیفارم ؍ کتابیں تقسیم نہیں کی گئی ہیں تو مندرجہ ذیل تفصیل فراہم کرائیں:
(الف) ابھی تک یونیفارم کیوں نہیں تقسیم کیا گیا؟    (ب) ضابطے کے مطابق سیشن شروع ہونے کے کتنے دنوںکے اندر یونیفارم تقسیم کردینی چاہئے؟
(ج) یونیفارم کی تقسیم کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کن افسران کی تھی؟ ان کے نام اور عہدے بتائیں۔
-3اسکولوں میں یونیفارم؍ کتابوںکی تقسیم کے تعلق سے جاری کئے گئے تمام احکامات؍ ہدایات کی فوٹو کاپی مہیا کرائیں۔
-4 اب تک یونیفارم ؍ کتابیں تقسیم نہ ہونے کے سبب طلبہ اور طالبات کو جو پریشانیاں ہوئی ہیں، ان کے لئے ذمہ دار افسران؍ اہلکاروں کے نام اور عہدے بتائیں؟ ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی اور کب تک؟
-5 طلبہ کو یونیفارم؍ کتابیں کب تک مل جائیںگی؟
میں درخواست فیس کے طور پر ………روپے الگ سے جمع کررہا ؍رہی ہوں
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے تمام قابل ادا فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر………………..ہے۔
اگر طلب کردہ اطلاعات آپ کے محکمہ سے متعلق نہ ہوں تو حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ6(3)کو ذہن میں رکھتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن افسر کو پانچ دنوں کی مقررہ مدت کے اندرسونپ دیں۔ ساتھ ہی قانون کی دفعات کے تحت اطلاعات مہیا کراتے وقت فرسٹ اپیل افسر کا نام اور پتا ضرور بتائیں۔
مخلص
نام……………………    پتہ…………………….         فون نمبر……………………..    منسلکات……………………

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *