!یوروپ ترکی کوپرے ہٹا کر بہت بڑی غلطی کر رہا ہے

اسد مفتی
ترکی کے آرمی چیف اور جرنیلوں نے صدر عبد اللہ گل کی اہلیہ کے حجاب پہننے پر صدارتی محل میں ہونے والی ایک سرکاری تقریب کا بائیکاٹ کر دیا۔ واقعات کے مطابق ترکی کے صدر عبد اللہ گل کی جانب سے 1929میں جدید سیکولر ترکی کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر ایک عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن اس میں اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت نہیں کی جس پر مختلف قسم کے شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ فوج نے عین اس وقت الگ سے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا تاکہ جنریل صدر کے دعوت نامے کو قبول نہ کرنے کا جواز پیش کر سکیں۔ سیکولر اپوزیشن کی مرکزی سیاسی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی نے بھی صدر عبد اللہ گل کی جانب سے دئے گئے اس عشائیے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے صدارتی محل میں منعقدہ اس تقریب کا بائیکاٹ کرنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
میرے حساب سے یہ اس چپقلش اور رسہ کشی کا نتیجہ ہے جب حال ہی میں ترکی کے صدر عبد اللہ گل نے فوج کے نئے اعلیٰ عہدیداروں کے ناموں کی منظوری دی تھی۔ فوج جو خود کو سیکولر ترک ری پبلک کا محافظ سمجھتی ہے اور حکومت جو اپنے آپ کو ’’سنٹر رائٹ‘‘ کی پارٹی قرار دیتی ہے کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کے دوران صدر گل نے فوج کے نئے عہدیداروں کے ناموں کی توثیق کر دی تھی۔ صدر نے بری فوج کے کمانڈر جنرل اسک کوسانر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا اور چیف آف اسٹاف جنرل الکر بازگ کو تبدیل کر دیا۔ بری فوج کے نئے کمانڈر جنرل اردل سلالعگو ہوں گے، قبل ازیں وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے کہا تھا کہ حکومت اور فوج کے درمیان فوج کے نئے اعلیٰ عہدیداروں کی تقرری کے سلسلہ میں مفاہمت ہوگئی ہے جبکہ حکومت نے ابتداء میں فوج کے نامزد عہدیدار کو مسترد کر دیا تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ اقتدار کی رسہ کشی میں حکومت کو فوج پر بالادستی حاصل ہو رہی تھی۔ فوج خود کو سیکولر ترکی کا محافظ تصور کرتی ہے ،یہ سب کچھ اس کی برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔ بظاہر برسر اقتدار پارٹی (اے کے پی)کا پلڑا بھاری ہے۔ اس کا اکثر فوج سے تصادم ہو تا رہتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج حکمرانوں (عبد اللہ گل و رجب طیب اردگان) کو ان کے اسلام پسند، حجاب پسند اور مخالف سیکولررجحانات کی وجہ سے پسند نہیں کرتی۔
ترکی ایک سیکولر مسلم ریاست ہے، وہ ترکی جس کی مٹی اور روح میں سیکولرازم رچا بسا ہے کمال اتا ترک کی موت کے 73سال بعد بھی سیکولرازم اور قوم پرستی کی بنیاد پر قائم ملک کو دوبارہ مذہب کے رنگ میں رنگنے کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ سیکولرازم کے محافظین ،مسلح افواج، دستور، سیاستدان، عدالتیں، آئین اور میڈیا ان تمام نے یک جان ہو کر سیکولرازم میں کسی قسم کا نقب لگانے کو روکنے کی کوشش کی۔ ترکی کی حکمران پارٹی اے کے پی اپنے آپ کو نیک و صالح لوگوں کا گروہ قرار دیتی ہے۔ یہ پارٹی بھی سابقہ رضا پارٹی، ملی سلامت پارٹی اور فضیلت پارٹی کے بطن سے ہی نکلی ہے اور یہ خود کو سنٹر رائٹ کی پارٹی کہتی آ رہی ہے۔ اس سے قبل نجم الدین اردگان کی ملی گورش تحریک اور اس کی پارٹیاں ملی سلامت پارٹی(1972-80)رضا پارٹی (1983-97)اور فضیلت پارٹی(1997-2001)بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پائی تھیں کہ یہ سب سیاسی پارٹیاں سخنے در مے دامے قدمے سیکولرازم کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ حکمران جماعت کی 80صفحات پر مشتمل پالیسی ترکی کے سیکولرازم کے خلاف ایک سوچے سمجھے انداز میں کام کرتے ہوئے اپنی سیاست کو بظاہر اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایک ڈچ نامہ نگار کو صدر عبد اللہ گل سے اپنے انٹرویو کے دوران یہ سوال بھی کرنا پڑا’’جس طرح دنیا بھر کے اسلامی رہنمائوں اور اسلامی جماعتوں کا طریقہ کار اور ہدف ہوتا ہے کیا آپ بھی ایسا سوچتے ہیں کہ حکومت کی مضبوطی کے بعدآپ ترکی میں شریعت اور اسلامی قوانین نافذ کر دیں گے؟’’ اس پر عبد اللہ گل نے مختصر سا جواب دیا تھا‘‘ ترکی میں شریعت کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ترکی اسلامی حجاب اوڑھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افواج کے عہدیداروں نے صدر عبد اللہ گل کے دئے ہوئے استقبالئے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا کہ جرنیل اسکارف یا حجاب کو ریاست کی سیکولر روایات کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں اس لئے وہ اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفتروں میں کسی قسم کی رعایت دینے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس پر حکمران جماعت فوج پر مختلف الزامات لگا کر پکڑدھکڑ کا کھیل بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کچھ عرصہ قبل حکومت نے فوج کے 25حاضر سروسز جرنیلوں اور نیوی کے ایڈمرلز سمیت ایک سو دو ملزمان کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کئے تھے۔ ان افسروں پر الزام تھا کہ انھوں نے 2003میں موجودہ حکمران جماعت کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی۔ سازش میں196افراد کو ملزم قرار دیا گیا تھا جس کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سابق آرمی کمانڈر جنرل دوگان کو بھی گرفتار کیا تھا۔ تاہم انھوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کے الزام کی تردید کی تھی جس پر وہاں کی عدالت نے حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ سازش میں ملوث جرنیلوں سمیت ایک عدد افسروں کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دئے تھے۔
ترکی عرب خطہ اور وسطی ایشیا میں بڑی اقتصادی طاقت ہے جو مضبوط جمہوری سیکولرنظام کا حامل ملک ہے ۔اس کا سیاسی نظام بخوبی جانتا ہے کہ اپنے مفادات تک کس طرح پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ ان ملکوں میں معدوم ہے جن کی وابستگی دوسری یا تیسری دنیا سے ہے مگر ترکی کی یوروپی یونین میں شمولیت اور رکنیت سے یوروپ کے انکار کے باوجود اس کے تعلقات یوروپ سے یکسر منقطع نہیں ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کا سیکولر معاشرہ ہے جس نے اردگان کی اے کے پی (اسلامی پارٹی )کو دل سے قبول نہیں کیا ۔اس کے علاوہ ترک سیکولرافواج، عدلیہ اور میڈیا سیکولرازم کے لئے ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ترک سیکولرمیڈیا کا اہم اخبار’’ملت‘‘ اس وقت کھل کر حکمران جماعت اور وزیراعظم رجب طیب کی مخالفت کر رہا ہے جبکہ اسلامی اخبار’’زبان‘‘ نے اپنی رپورٹ میں امریکہ اور اسرائیل کو ترکی میں تمام گڑبڑ ی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن میرے حساب سے یوروپی یونین کے غیر ہمدردانہ رویے کے تناظر میں ترکی کی سیکولرجمہوریت اور اقتصادی خوشحالی کی منزل دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یوروپ ترکی کی مدد کو نہ آیا تو ترکی کے مقدر میں مسلم بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور بے معیار قوم پرستی کی آماجگاہ لکھا ہوا صاف پڑھا جا سکتا ہے۔
ترکی پر یوروپین یونین کے اثر ورسوخ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی ایک حالیہ مثال ’’یو ٹیوب‘‘ پر پابندی تھی۔ ترکی کی حکومت نے دو سال قبل یو ٹیوب پر عائد پابندی یونین کے کہنے پر ہٹا دی ہے، دو سال قبل مصطفی کمال اتاترک کی شان میں گستاخی والی ویڈیو جاری ہونے کے بعد یہ پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ موجودہ حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ اس پابندی کو جاری رکھنے کا اب کوئی مقصد و جواز نہیں کہ یو ٹیوب نے وہ منتازعہ ویڈیو ہٹا دی ہے۔ یو ٹیوب کو سخت انتباہ کیا گیا ہے کہ جس ویڈیو کی وجہ سے یو ٹیوب کو نشانہ بنایا گیا اور اس پر پابندی لگائی گئی تھی اس کو یوروپ کے بعض ناظرین نے یوٹیوب پر نشر کیا تھا اس میں کمال اتاترک اور ترکیوں کو ہم جنس بتایا اور دکھایا گیا تھا چونکہ یوروپی ممالک میں ہم جنس پرستی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس لئے انھوں نے اپنی ’’کامن سینس‘‘ کو کام میں لاتے ہوئے وہ سب کچھ عریاں کر دیا جو مسلم معاشرہ میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کی یو ٹیوب نے اپنی غلطی سے بہت کچھ سیکھا ہوگا اور اب یہ ترکی میں اپنی نشریات یہاں کی قانونی حدود کے اندر کرے گا۔یاد رہے کہ موجودہ اسلام پسند حکومت نے 2007میں ایک قانون بنایا تھا جس میں عدلیہ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی ویب سائٹ پر پابندی عائد کر سکتے ہیں، جس میں جسم فروشی، جوا اور کمال اتاترک کی شان میں گستاخی ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *