اتر پردیش میں دہشت گردی کا خطرناک سایہ

شترونجے کمار سنگھ
نیپال میں جاری سیاسی غیر یقینی پر مرکزی اور اتر پردیش حکومت جلد ہی مستعد نہیں ہوئی تو ہندوستان ایک بار پھر سے سکھ دہشت گردی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔جموں وکشمیر سمیت ملک کی کئی ریاستیں پہلے ہی پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کے عذاب کو برداشت کر رہی ہیں۔اب پاکستان سے سکھ دہشت گردوں کو پوری مدد مل رہی ہے اور انہیں نیپال کے راستے ہندوستان بھیجا جا رہا ہے۔خفیہ افسران کا ماننا ہے کہ پاکستان اتر پردیش کو ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ہند، نیپال کی 550کلو میٹر لمبی کھلی سرحد دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں میں مدد گار ثابت ہو رہی ہے۔
نیپال کی سرحد سے دہشت گردوں کو اتر پردیش میں داخل کر کے انہیں ترائی کے علاقوں میں پناہ دلائی جاتی ہے۔ یہاں سے دہشت گردوں کو ملک کے مختلف حصوں میں وارداتیں انجام دینے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔پاکستان کی یہ سازش اس لحاظ سے بھی خطرناک ہے کہ اب سکھ اور مسلم دہشت گرد تنظیمیں ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔ نیپال میں پاک سفارتخانہ سے ان دہشت گردوں کو ہر طرح کی مدد مل رہی ہے۔ سدھارتھ نگر کے بڑھنی بارڈر سے سکھ دہشت گرد ماکھن سنگھ عرف دیال سنگھ کی گرفتاری سے پاکستان کے ناپاک منصوبوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ماکھن سنگھ سے ملی معلومات کے مطابق دہشت گرد تنظیم ببر خالصہ انٹرنیشنل پاکستان کی مدد سے اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے میںعمل پیرا  ہے۔ماکھن ببر خالصہ انٹر نیشنل کا سیکنڈ لیفٹیننٹ ہے جو درجنوں سکھ نوجوانوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ٹریننگ دلا کر انہیں نیپال کے راستہ ہندوستان بھیج چکا ہے۔اس کے کٹھمنڈو میں سرگرم آئی ایس آئی ایجنٹوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ نیپال میں وہ اپنی تمام تر سرگرمیوں کو پاکستانی سفارتخانہ کی پشت پناہی میں انجام دے رہا تھا۔ ماکھن نے جو حیرت زدہ کرنے والا انکشاف کیا ہے، وہ اور بھی زیادہ تشویشناک اور حساس ہے۔اس کے مطابق آئی ایس آئی کی پشت پناہی میں ببر خالصہ انٹر نیشنل کے خالصتانی موومنٹ کو امریکہ کے کچھ سکھوں سے اقتصادی مدد مل رہی ہے۔سدھارتھ نگر اور اس کے پڑوسی ضلع مہراج گنج ضلع کی سرحد نیپال سے ملحق ہے۔
سال 1997میں بڑھنی بورڈ پر سب سے پہلے دہشت گردوں بھاگ سنگھ اور اجمیر سنگھ کو بی ایس ایف نے گرفتار کیا تھا۔ دونوں ہی دہشت گرد پنجاب میں قتل اور لوٹ کی درجنوں وارداتوں کے ملزم تھے۔چار ماہ قبل اے ٹی ایس انچارج ابھے پرتاپ مل نے بٹلہ ہائوس معاملہ کے ملزم اور پانچ لاکھ کے انعامی دہشت گرد سلمان کو گرفتار کیا تھا۔سلمان دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کا سرگرم ممبر ہے۔ بڑھنی سرحد پر ہی پانچ سال پہلے شکیل نامی دہشت گرد کواے کے 47-کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے مہراج گنج کے سنولی بارڈر پر ممبئی بم حادثہ کے ماسٹر مائنڈ یعقوب مینن، ہارڈ کور دہشت گرد راجو کھنہ کو پولس نے گرفتار کیا تھا۔ مینن سال 1992میں ہوئے ممبئی بم دھماکہ کا نہ صرف ماسٹر مائنڈ تھا بلکہ اس نے دھماکے کرانے کے لئے دہشت گردوں کو رقم بھی مہیا کرائی تھی۔ ہند، نیپال کی 550کلو میٹر لمبی سرحد پوری طرح سے کھلی ہے۔ یہ دہشت گردوں کے لئے بے حد محفوظ ہے۔ اہم شاہراہوں پر ہی بیرئر لگا کر چیکنگ ہوتی ہے، کھلے  ہوئے کچے راستوں پر چیکنگ کر پانا ممکن بھی نہیں ہے۔ماکھن سنگھ کی گرفتاری کے بعد اتر پردیش کے ایڈیشنل پولس ڈائریکٹر جنرل برج لال نے انکشاف کیا کہ کیلیفورنیا میں تارا سنگھ نے ماکھن سنگھ کی بات چیت بدھاوا سنگھ عرف چاچا سے کرائی تھی۔ بدھاوا سنگھ دہشت گرد تنظیم ببر خالصہ انٹر نیشنل کا سربراہ ہے، جس نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ ماکھن سنگھ نے پاکستان میں آر ڈی ایکس شدہ بم بنانے  میں مہارت حاصل کی۔ نومبر 2009میں وہ پاکستان سے پانچ دیگر دہشت گردوں کے ساتھ ندی کے راستہ گرداسپور سرحد سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ یہ لوگ اپنے ساتھ تین AK-47، تین پسٹل، دو ہینڈ گرینیڈاور چار سو کارتوس لائے تھے۔ماکھن نے کرنویر کے ساتھ مل کر پنجاب میں میاداس ڈیرا کے مہنت کا قتل کیا تھا۔ ان دونوں نے ہی پنجاب میں ماچھی واڑہ برج اڑانے کی بھی کوشش کی تھی۔
خفیہ مشنری کی مانیں تو نیپال میں جاری سیاسی غیر یقینی کا فائدہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کو مضبوطی اور ٹریننگ دینے میں اٹھا رہا ہے۔ مائونوازوں کے ساتھ دہشت گردوں کے رشتوں کا پہلے ہی انکشاف ہو چکا ہے۔ نیپال میں پاکستانی سفارتخانہ ان کے لئے کئی سہولیات کے ساتھ ہی ٹریننگ کے لئے محفوظ ٹھکانے بھی مہیا کراتا ہے۔ دہشت گردانہ وارداتوں کو انجام دینے کی تربیت پوری ہونے کے بعد، دہشت گردوں کے گروہ نیپال کے راستہ ہی اتر پردیش ہوتے ہوئے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پہنچادئے جاتے ہیں۔ نیپال کے راستے پاکستان نے ہندوستان کی معاشی حالت کو کمزورکرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ جعلی نوٹوں کی کھیپنیپال کے راستہ ہندوستان پہنچائی جا رہی ہے۔گزشتہ تین ماہ میں جعلی نوٹوں کے اسمگلروں کو اے ٹی ایس گرفتار کر چکی ہے۔ یہاں دہشت گردوں اور جعلی نوٹوں کے اسمگلروں کی گرفتاری اے ٹی ایس ہی کرتی ہے۔لوکل پولس کو ان کی سرگرمیوں کی بھنک تک نہیں لگ پاتی، وجہ کیا ہے، یہ توپولس محکمہ کے اعلیٰ افسران ہی بہتر جانتے ہوں گے۔
نیپال سے ملحق ہندوستانی علاقوں میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی پکڑ سے لوکل پولس، خفیہ مشنری اور انتظامیہ بھلے ہی انکار کرے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستان اتر پردیش کو ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ نیپال کے سرحدی اضلاع سے اب تک قریب ساڑھے تین سو لوگوں کی گرفتار اس کی تصدیق کرتی ہے ۔ وہ بھی ان حالات میں جب ان گرفتار ہوئے لوگوں میں بیشتر کی شناخت جیش محمد اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ممبران کی شکل میں کی جا چکی ہے۔ 550کلو میٹر لمبی ہند ، نیپال سرحد پوری طرح سے کھلی ہوتی ہے اور دونوں ممالک کے لوگ بے روک ٹوک ایک دوسرے کے یہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ اسی کا فائدہ اٹھانے میں لگی ہے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی۔ بی ایس ایف کو حفاظتی انتظام پختہ کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کو اس بات کی پختہ اطلاع ملی ہے کہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیم نیپال کی سرحد کے ذریعہ ہندوستان میں داخل ہونے کی فراق میں ہے۔
نیپال کے روپندیہی، وراٹ نگر، پرسا، مکوانپور، جھانپا، سنسری، ایلام، میچی وغیر علاقوں میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنے ناپاک منصوبوں کو انجام دینے میں لگی ہوئی ہے۔ کاٹھمنڈو نیپال پولس کے ترجمان ہری کرشن کھنال کے مطابق سال 2009میں فرضی پاسپورٹ کے ذریعہ نیپال آنے والے تقریباًڈیڑھ سو پاکستانی شہریوں کو نیپال کے مختلف اضلاع سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سال ابھی تک ساڑھے تین سو پاکستانیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
کچھ دن قبل جھانپا ضلع سے ہندوستانی سرحد میں گھسنے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو حفاظتی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا، جس کے پاس فرضی نیپالی پاسپورٹ ملا۔ نیپالی زبان کا ایک بھی لفظنہ بول پانے والا یہ شخص خود کو نیپال کا شہری بتا رہا تھا۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ پاکستانی شہری ہے اور اس کا نام اشرف ہے۔ اشرف کی گرفتاری کے لئے انٹر پول نے بھی الرٹ جاری کر رکھا تھا۔ مارچ ماہ میں ہند، نیپال سرحد پر ایک پاکستانی، ایک اسرائیلی اور ایک جرمن شہری کو بغیر لازمی دستاویزوں کے ہندوستان میں گھستے ہوئے مسلح حفاظتی دستے کے اہلکاروں نے پکڑا تھا۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر وطن کے خلاف سرگرمیوں میں  شامل ہوکر کئی لوگ راتوں رات امیر ہو گئے، جن پر انتظامیہ کی نظر تو ہے لیکن وہ ان پر براہ راست کارروائی کرنے سے کترا رہا ہے۔
خفیہ مشنری کی مانیں تو ممنوعہ تنظیم کا ایک ممبر علاقہ کے تعلیمی ادارے میں درس تدریس کا کام کر رہا ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آئی ایس آئی نے ہند، نیپال سرحد پر اپنی جڑیں کتنی گہرائی تک جما لی ہیں ۔ ایس ایس بی کے ڈی آئی جی برج سوم کا کہنا ہے کہ سرحد پر ایس ایس بی کے جوان باخبر ہیں، مسلسل چیکنگ کی جا رہی ہے۔ نیپال سے ملحق سرحد پر دہشت گردوں کی بڑھتی نقل و حرکت ہندوستان کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *