کانگریس راہ سے بھٹک گئی ہے

سنتوش بھارتیہ
فیس بک پر راہل گاندھی کو 2014میں وزیر اعظم بنانے کے لئے تشہیر ی مہم چل رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، ٹیلی ویژن کا زمانہ ہے، تشہیر کا زمانہ ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ کانگریس سوچ رہی ہو کہ اس کے لئے 2014بہت آسان ہوگا۔ آسان ہو بھی سکتا ہے لیکن کانگریس کارکنان متفکر ہیں۔ ان کے لئے بہار ایک ایسے تجربہ کی طرح ہے جسے وہ چاہ کر بھی نہیں بھلا پا رہے ہیں۔ ملک کے ہر حصے کے کانگریس کارکنان سے بات کرنے کے بعد ایک ہی بات سامنے آ رہی ہے کہ جس اتر پردیش میں راہل گاندھی کا مشن 2012اتنا دھندلا گیا کہ خود راہل گاندھی کو امیٹھی میں کہنا پڑا کہ کیسا مشن 2012، میرا ایسا کوئی مشن نہیں ہے۔ ایسے ہی کہیں مشن 2014بھی دھندلاہٹ کا شکار نہ ہو نے لگے۔
بہار کی کمان راہل گاندھی نے اپنے ہاتھوں میں لی تھی، لیکن کمان ہاتھ میں لینا ایک بات ہے اس کی نگرانی کرنا دوسری بات ہے۔ پورا ایک سال جگدیش ٹائٹلر سے جھگڑے میں ریاستی صدر انل شرما کا گزر گیا لیکن دہلی سے نہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کوئی دخل اندازی کی اور نہ ہی جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے۔ انتخابات سے ٹھیک پہلے دونوں کو بدل کر مکل واسنک کو انچارج اور چودھری محبوب علی قیصر کو صدر بنا دیا۔ پارٹی کھڑی کرنے کے نام پر تمام سیٹوںپر لڑنے کا فیصلہ لیا گیا ،مگر لڑنے کے لئے ان سبھی کو بلا لیا جنہیں دوسری جماعتوں نے خارج کر دیا تھا۔ ایک امید بنی تھی کہ راہل گاندھی کے اس وعدے پر عمل ہوگا کہ بہار میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دئے جائیں گے مگرجب لوگوں نے دیکھا کہ نوجوانوں کے نام پر نسلی مجرم اورمافیاقسم کے لوگ امیدوار بن رہے ہیں تو انھوں نے کانگریس سے دوری اختیار کر لی۔کانگریس نے گزشتہ دو سالوں میں ، خاص طور سے لوک سبھا انتخابات کے بعد بہار میں نہ نظریاتی جدوجہد کی اور نہ پارٹی کو کھڑا کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ انہیں محسوس ہوا کہ تمام سیٹیں لڑیں گے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی تشہیر کریں گے تو کم سے کم تیس سیٹیں تو مل ہی جائیں گی۔ جامن کے بغیر دودھ دہی میںتبدیل نہیں ہوتا لیکن صرف جامن ہو اور دودھ نہ ہو تو؟ پارٹی تنظیم جیسا دودھ بہار میں تھا ہی نہیں جبکہ جامن کے روپ میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی گھوم رہے تھے، بھیڑ آ رہی تھی مگر جتنی بڑی بھیڑ آرہی تھی، کانگریس کا اتنا ہی ووٹ کم ہو رہا تھا۔ دو سو کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ اور سیٹیں صرف چار۔ کارکنان کو افسوس ہے کہ اتنے بڑے دھکے کے بعد بھی پارٹی نے بہار کی شکست کا نہ تو جائزہ لیا، نہ اسباب کی تلاش کی اور نہ ہی کوئی سبق لیا۔
اتر پردیش کی کہانی بھی کچھ کچھ بہار جیسی ہی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے 21ممبران پارلیمنٹ اتر پردیش سے آئے۔ کانگریس کو لگا کہ اب یہاں نئے سرے سے پارٹی کو کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے اس کا منصوبہ بنایا۔ بابا صاحب امبیڈ کر کے یوم پیدائش 14اپریل کو امبیڈ کر نگر میں ایک بڑا جلسہ ہوا، جس میں راہل گاندھی گئے اور انھوں نے ’’سندیش یاترا‘‘ کی شروعات کی۔ اس ’’سندیش یاترا‘‘ کو انھوں نے ہری جھنڈی دکھائی، ان کے لیڈر تھے راجیندر رام، پردیپ ماتھر، پروین ایرن، عبد المنان ، پی ایل پونیا، جگدمبیکا پال، بھولا پانڈے ، راجیش پتی ترپاٹھی، شیکھر بہوگنا اور رنجیت سنگھ جودیو ۔انہیں 40 سے 45اسمبلی حلقوں میں جانا تھا اور کانگریس کا یا سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا پیغام دے کر تنظیم بنانا تھی۔ بیشتر لیڈر صرف نصف ہدف ہی مکمل کر پائے۔ سب سے زیادہ بھولا پانڈے اور پردیپ ماتھر نے اسمبلی حلقوں میں اجلاس کئے۔
ان یاترائوں کااستقبال ہوا۔سالوں کے بعد انتخابات کے علاوہ کانگریس کے لیڈران کی باتیں عوام نے سنیں اور بڑی تعداد میں کانگریس کی جانب متوجہ ہوئے۔ یکبارگی تو ایسا لگا کہ اتر پردیش میں کانگریس پھر سے زندہ ہونے جا رہی ہے۔ تب تک آ گئے پنچایتی انتخابات اور ڈیڑھ مہینے سے جاری یاترائوں کو روکنا پڑا۔ ان یاترائوں سے پیدا ہوئے جوش اور طاقت کا اندازہ راہل گاندھی نے لگانا مناسب نہیں سمجھا۔ انھوں نے ایک نیا پروگرام دے دیا کہ ممبر بنائے جائیں اور پارٹی میں ہر سطح پر منتخب لوگ ہی جائیں۔
پورے ملک میں ممبر بنائے گئے، مثال کے طور پر اتر پردیش کو لیتے ہیں۔ ہر ضلع میں کانگریس کارکنان ممبر بنانے میں لگ گئے۔ ایسا لگاکہ تنظیم ایک بار پھر زندہ ہونے جا رہی ہے لیکن جب انتخابات کی باری آئی تو ایسے لوگ منتخب ہوئے جنھوں نے ممبر بنانے میں کوئی خاص تعاون نہیں دیا تھا۔ کہیں سے کوئی فہرست آئی اور صدر ویسے ہی بنے، ایسے ہی ریاستی کانگریس کمیٹی بنی جسے پی سی سی کہتے ہیں اور ایسے ہی اے آئی سی سی بنی۔کارکنان سمجھ ہی نہیں پائے کہ کیا ہو گیا۔انہیں لگا کہ راہل گاندھی نے ممبر شپ بنانے اور صحیح کارکنان کو تنظیم میں آگے آنے کا خواب دکھایا تھا، وہ صحیح نہیں تھا کیونکہ انھوں نے خود اس عمل پر نگرانی نہیں رکھی، زیادہ تروہ لوگ دوبارہ قابض ہو گئے جنھوں نے گزشتہ سالوں میں ناکارہ ہونے کا ریکارڈ بنا لیا تھا۔ کانگریس کے تئیں پیدا ہوتا رجحان ٹھنڈا ہو گیا۔ اس لئے 19دسمبر سے شروع ہوئی ’’سندیش یاترائوں‘‘ کا دوسرا مرحلہ نہایت سست چل رہا ہے۔اس میں نہ جوش ہے اور نہ حوصلہ مند کارکنان ۔ افسوس کی بات ہے کہ کانگریس قیادت اس کے پیچھے کی ذہنیت کو اب بھی سمجھنا نہیں چاہتی۔
مگر سب سے بڑا سوال تو دہلی سے چل رہی کانگریس کی مرکزی تنظیم پر ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی ہیں۔انہیں صلاح ان کے جنرل سکریٹری دیتے ہیں، ان کی مجلس عاملہ جسے ورکنگ کمیٹی کہتے ہیں ،دیتی ہے یاکور گروپ دیتا ہے یا پھر کوئی اور دیتا ہے۔ کانگریس کارکنان کو لگتا ہے کہ فیصلے ایسے کیوں ہوتے ہیں جو تنظیم کو بڑھاتے نہیں بلکہ تنظیم کو چھوٹا کرتے ہیں۔ دراصل کانگریس میں کسی کو معلوم نہیں کہ فیصلہ کو ن کرتا ہے جو کانگریس صدر کے نام سے سامنے آتے ہیں۔خواہ پارلیمنٹ کا سینٹرل ہال ہو، جس میں کانگریس کے موجودہ اور سابق ممبران پارلیمنٹ مل جاتے ہیں یا عام کارکن یتیموں کی طرح کہیں بھی مل جاتے ہیں، ایک ہی بات کہتے ہیں کہ کانگریس صدر کو زمینی حقیقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ وہ اندرا جی کے وقت کو یاد کرتے ہیں جب انہیں بے تکلف اپنے لیڈر سے ملنے کا موقع مل جاتا تھا۔ جنہیں وقت نہیں مل پاتا تھا وہ جنتا دربار میں مل لیتے تھے۔ اندرا جی جنتا دربار کو بہت اہمیت دیتی تھیں کیونکہ یہ جنتا دربار ہی تھا جو انہیں ملک کی نبض اور پارٹی کی کمزوری یا مضبوطی کی جانکاری دیتا تھا۔ اندرا جی اسی لئے اپنے ساتھیوں کے اوپر برس پڑتی تھیں اور ان کے صلاح کار بھی انہیں غلط معلومات نہیں دے پاتے تھے۔ کارکنان کے پاس جنتا دربار ایک اچوک موقع تھا جس میں وہ اپنی تکلیفیں، اپنے مشورے اپنے لیڈر تک پہنچا دیتے تھے۔
کانگریس کے لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر سونیا گاندھی بھی جنتا دربار شروع کریں تو انہیں بھی صرف ملک کی نبض ہی نہیں بلکہ پارٹی کو مضبوط کرنے میں آنے والی پریشانیوں کا پتہ بھی چل سکتا ہے، وہ کیوں ایسا نہیں کرتیں، یہ کارکنان تو کیالیڈران تک کی سمجھ میں نہیں آتا۔ کانگریس کارکنان بے تابی سے اس دن کا انتظا کر رہے ہیں جب جنتا دربار شروع ہوگا، وہ سیدھے اپنے لیڈر سے مل پائیں گے۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ اسی دن سے کانگریس تنظیم کا پھر سے نیا جنم ہوگا۔ یہی کانگریس کی تہذیب ہے جسے کانگریس نے چھوڑ دیا ہے۔
سونیا گاندھی کی نقل کرتے ہوئے پارٹی کے لیڈر بھی کارکنان سے نہیں ملتے، نہ ان کی رائے سننا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں زمینی حقیقت کی جانکاری نہیں مل پاتی، کانگریس کی نئی تہذیب یہی ہے، جس کی مثال کانگریس کے مرکزی وزیر ہیں جو کارکنان سے ملناتو دور اپنے ممبران پارلیمنٹ تک سے نہیں ملتے۔
کانگریس میں تین طرح کے کام کرنے کے طریقے ہیں، کانگریس صدر سونیا گاندھی کا طریقہ کانگریس کارکنان میں جوش پیدا نہیں کررہاہے۔جنرل سکریٹری راہل گاندھی کا طریقہ نوجوانوں میں جوش پیدا کرنے والا تو ہے مگر وہ بنا کسی پختہ نتیجہ کے صفر بن جاتے ہیں۔ راہل گاندھی کا اپنا الگ سکریٹریٹ ہے،صلاح کار ہیں اور گھومنے کے منصوبے بھی ہیں۔ وہ دانشمند اورباصلاحیت لوگوں کی ملک میں تلاش کر رہے ہیں جسے کانگریس کے لوگ ٹیلنٹ ہنٹ کہتے ہیں۔ پورے ملک میںیوتھ کانگریس کی انھوں نے تشکیل نو کی، نئے لوگ لئے لیکن یوتھ کانگریس اور طلبا کانگریس ملک میں پہلے سے بھی زیادہ انجان بن گئی ہے۔ راہل گاندھی کی دو کمزوریاں ہیں، پہلی وہ کبھی اپنے ذریعہ شروع کئے گئے پروگراموں کی نگرانی نہیں کر پاتے یا کرنا نہیں چاہتے اور دوسری، انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ سماج کا لیڈر وہی ہو سکتا ہے جس کے دل میں سماج کے لئے، غریبوں کے لئے درد ہو۔ ان کی پالیسی ہے کہ سرکاری یا غیر ملکی پیسے سے چل رہیں سماجی خدمات کی تنظیمیں جنہیں عام زبان میں این جی او کہتے ہیں، کانگریس کی طاقت بنیں۔ راہل گاندھی کو سمجھنا چاہئے کہ کانگریس کی طاقت اس کی روائت میں، اندرا گاندھی کی زبان میں اور جواہر لال نہرو اور لال بہادر شاستری کے ذریعہ دیکھے گئے خوابوں میں ہے۔ اس سے الگ اگر کانگریس جاتی ہے تو اس میں اور بی جے پی میں صرف دفتر کے پتے کے علاوہ کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔
حکومت کا کام کرنے کا طریقہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ سونیا گاندھی کی زبان ملک میں غریبی کے تئیں تشویش ظاہر کرتی ہے۔راہل گاندھی کی زبان ترقی کے اس راستہ کی طرف نظر ڈالتی ہے جس میں غریب اور قبائلی بھی کھڑے دکھائی دیتے ہیں مگر حکومت کے قدم اس سے بالکل الگ چلتے ہیں۔ کیسے مانیں کہ حکومت سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی رائے کے بغیر چل رہی ہے۔ یا پھر حکومت ایسے چل رہی ہے جس پر منموہن سنگھ کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی کوئی قابو نہیں ہے۔ کم سے کم 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ اور دیا ندھی مارن اور اے راجا کا سلوک تو یہی بتاتا ہے۔
وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے سونیا گاندھی کے ذریعہ دئے گئے کئی مشورے نہیں مانے ہیں۔ سونیا گاندھی کو بھی اب اپنے مشورے لکھ کر دینے پڑ رہے ہیں۔ جس طرح اے راجا کے سوال کو پی ایم او نے ہینڈل کیا وہ سونیا گاندھی کو سمجھ میں نہیں آیا مگر پی جے تھامس کو سی وی سی بنانے کا مشورہ دس جن پتھ کا تھا جن کے اوپر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے طرز عمل کی وجہ سے ملک میں جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں وہ ایک علامت ہے لیکن سونیا گاندھی کو سمجھنا چاہئے کہ ملک کے 260اضلاع اس وقت فاقہ کشی اور غریبی سے کراہ رہے ہیں اور حکومت کے خلاف مائونوازوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔جب منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تھے تو یہ تعداد 80اضلاع تک محدود تھی۔ نہ صرف اس صورتحال کو مزید بگڑنے دینا ہے بلکہ خراب صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے اقتصادی اور سیاسی پہل کرنا بھی ضروری ہے۔حکومت کے طرز عمل نے بدعنوانی کو ایک بار پھر مرکزی ایشو بنا دیا ہے۔ حکومت کے طرز عمل کی وجہ سے کانگریس کارکنان کا جوش ان دنوں ٹھنڈا پڑا ہوا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پالیسیوں میں اصلاح کی جائے اور انہیں عوام کے لئے اہم بنایا جائے۔ کانگریس کی حکومت نے آر ٹی آئی اور سو دن کی روزگار کی گارنٹی جیسے کام کئے لیکن ان کاموں کا کوئی سیاسی فائدہ اسے نہیں مل پا رہا ہے۔ کیوں؟ اس کا سبب سونیا گاندھی کو تلاش کرنا چاہئے۔ بہار میں چار چار لوگوں کا اسمبلی پہنچنا اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
راہل گاندھی کے اہم صلاح کاروں میں کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ ہیں، جن کی حکمت عملی پر عمل کرنے کا ذمہ پرویز ہاشمی پر ہے۔ دونوں کی جوڑی نے پہلے بہار میں کام کیا، بعد میں انہیں آسام دیا گیا، پھر آندھرا پردیش۔ اس کے بعد انہیں اتر پردیش میں راہل گاندھی کے مشن 2012کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی مگر اب اچانک انہیں آسام بھی سونپ دیا گیا جہاں آئندہ سال کی شروعات میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ راہل گاندھی کے بیانات میں سیاسی تیور دگوجے سنگھ کی صلاح پر تیکھے یا ہلکے دکھائی دیتے ہیں۔ پرویز ہاشمی راہل گاندھی کو مسلمانوں نے حوالے سے رائے دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں راہل گاندھی کااہم کام کنشک سنگھ سنبھالتے ہیں۔ کانگریس کے بیشتر لیڈر جنہیں راہل گاندھی سے ملنے کا وقت نہیں ملتا وہ کنشک سنگھ سے ہی مل کر گدگد ہو جاتے ہیں۔
سونیا گاندھی ان دنوں احمد پٹیل، پرنب مکھر جی اور اے کے انٹونی کی صلاح پر فیصلہ لیتی ہیں۔ جناردن دویدی کے اوپر اہم طور پر عوام میں بولی جانے والی زبان کے الفاظ تیار کرنے کا کام ہے۔ موتی لال ووہرا جی خزانچی ہیں مگر ان کی رائے کو سونیا گاندھی اہمیت دیتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ احمد پٹیل سے وہ فیصلہ لینے سے پہلے مشورہ ضرور کرتی ہیں۔ احمد پٹیل اس لحاظ سے ملک کے سب سے طاقتور شخص ہیں، لیکن ان دنوں ان کے اوپر کچھ الزامات بھی عائد ہوئے ہیں اور کچھ ناراضگیاں بھی ہیں۔ الزام مسلم سماج لگا رہا ہے کہ احمد پٹیل ان کے سوالوں کو سونیا گاندھی کے سامنے مضبوطی سے نہیں اٹھاتے۔ ناراض ان سے وزیر اعظم ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ سونیا کی الگ زبان کے لئے احمد پٹیل ذمہ دار ہیں۔ یہ ناراضگی اوبامہ کے اعزاز میں دئے گئے عشائیہ میں نظر آئی جبکہ سبھی کو انھوں نے بلایا، لیکن احمد پٹیل کو نہیں بلایا۔ بہار کی شکست کا ٹھیکرا یا غلط حکمت عملی بنانے کا الزام بھی احمد پٹیل پر ڈالا جا رہا ہے۔ ثبوت کے طور پر ریاستی کانگریس صدر کے عہدہ پر محبوب علی قیصر کی تقرری اور مرکزی سپروائزر کے طور پر مکل واسنک کا نام لیا جا رہا ہے۔
احمد پٹیل کا مزاج نرم ہے اور رات دو بجے تک جاگ کر کام کرتے ہیں ۔ وہ صرف اور صرف سونیا گاندھی کو سامنے رکھ کر سوچتے ہیں۔ یہ ان کی طاقت بھی ہے اور ان سے بہت سے لوگوں کی ناراضگی کی وجہ بھی۔دوسری جانب دگ وجے سنگھ ہیں جو راہل گاندھی کے یہاں تنہا سیاسی ذہنیت والے شخص ہیں۔ راہل گاندھی کے کسی بھی بیان کے حق میں سب سے پہلے وہی کھڑے ہوتے ہیں۔
آج کانگریس کے پاس کوئی مسلم چہرہ نہیں ہے۔ سلمان خورشید اور غلام نبی آزاد ہیں مگر عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ پرویز ہاشمی کو کانگریس آگے نہیں بڑھا رہی ہے۔ بہار میں ایک کانگریس صدر بنایا مگر وہ بے دم اور اعلیٰ طبقہ کی ذہنیت والا نکلا۔ اس نے انتخابات کے نتائج آنے سے قبل ہی ہار کی صفائی دینی شروع کر دی۔ کانگریس کو سب سے پہلے مسلم چہرہ لانا ہوگا۔
کانگریس کے پاس شمال میں صرف دو ریاستیں ہیں۔ پہلی ہریانہ اور دوسری راجستھان، جہاں بھوپیندر ہڈا اور اشوک گہلوت وزیر اعلیٰ ہیں۔اگر یہ دونوں غیر معمولی کام کریں تو اس کا فائدہ کانگریس کو دوسری ریاستوں میں مل سکتا ہے مگر ابھی تک کوئی غیر معمولی کام نظر نہیں آیا ہے۔ اشوک گہلوت کی پریشانی یہ ہے کہ انہیں زیادہ تر نئے لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی وہاں ہر تیسرے ماہ کوئی افواہ پھیلتی ہے کہ ڈاکٹر سی پی جوشی کو راہل گاندھی وزیر اعلیٰ بنا کر بھیج سکتے ہیں۔ اشوک گہلوت اور بھوپیندر سنگھ ہڈا کو نظر بھی رکھنی چاہئے اور انہیں صلاح دینی چاہئے کہ وہ کون سے کام کریں جس سے کانگریس کو گجرات، آسام، تمل ناڈو اور اتر پردیش میں فائدہ ملے۔
کانگریس کارکنان کی فکر کی حد نہیں دکھائی دیتی۔ انہیں بنگال، آسام، تمل ناڈ، اترپردیش اور گجرات میں پارٹی کے انتخاب میں ممکنہ مظاہرہ کے حوالے سے تشویش ہے۔ کیا کانگریس یہاں تال میل بنائے گی یاتنہا ہی انتخابات لڑے گی؟بنگال میں راہل گاندھی بیان دے چکے ہیں کہ انہیں صحیح سیٹیں ملیں گی تبھی وہ ممتا بنرجی کا ساتھ دیں گے۔ اتر پردیش میں کیا کانگریس ملائم سنگھ کے ساتھ جائے گی یا اکیلے یا پھر مایاوتی کے ساتھ سمجھوتہ کرے گی کہ وہ ریاست سنبھالیں؟ مرکز میں کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ جائیں۔ کارکنان اندھیرے میں ہیں انہیں یہ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ریاستی صدور کااعلان ہوا لیکن اعلان سے پہلے ماحول بن گیا کہ صدر بدلے جائیں گے مگر زیادہ تر صدر بدلے نہیں گئے۔ جن صدور کے رہتے ہوئے کانگریس کی یہ حالت ہے اب ان کو ہی دوبارہ صدر بنا دیا گیا ہے۔ کوئی منصوبہ تنظیم کو کھڑا کرنے کا کسی بھی ریاستی صدر کے پاس نہیں ہے۔ان ریاستوں کے علاوہ آندھرا پردیش کا خطرہ اشارہ دے رہا ہے کہ کانگریس وہاں کمزور ہو رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بارے میں کیا کہیں، تنظیم منتشر ہو گئی ہے۔ اگر کانگریس کو اکیلے انتخاب لڑنا ہے تو ممبران پارلیمنٹ کا استعمال تنظیم بنانے میں نہیں ہو رہا ، کیونکہ ان کارکنان کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے جو ممبر شپ بنانے میں جی جان لگا چکے ہیں۔ بہار میں ایسا ہو چکا ہے اور اترپردیش میں یہ ہو رہا ہے۔ کارکنان کا ماننا ے کہ 19ممبران پارلیمنٹ کو سبھی اسمبلی حلقوں میں تقسیم کر دینا چاہئے اور انہیں ممبران پارلیمنٹ کے سیشن کے علاوہ حلقہ میں ہی رہنے کی ہدایت دینی چاہئے ، لیکن مزے کی بات ہے کہ بہار میں کانگریس نے 247میں 20سے 22سیٹیں جیتنے کا ہدف بنایا تھا اور اب اترپردیش کی چار سو سیٹوں میں سے 45سیٹیں جیتنے کا ہدف بنا رہی ہیں۔ کانگریس کے سامنے خطرہ ہے حکومت کی دانشمندی کی وجہ سے، بدعنوانی ملک کے سامنے ایشو بن کرابھر گئی ہے اور اس حوالے سے کانگریس کارکنان سوچ نہیں رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی نوجوانوں کے لیے کی جا رہی تقاریر بے معنی ہو رہی ہیں۔کیونکہ وہ بہار میں نوجوانوں کو انتخاب نہیں لڑا پائے۔ ان سب میں اب بھی ایک پتہ کانگریس کے پاس ہے، وہ ہے پرینکا گاندھی۔ کانگریس کارکنان اب بھی اس امید بھرے وہم میں ہیں کہ اگر پرینکا گاندھی ذمہ داری لے کر مہم چلاتی ہیں تو بنگال، آسام، گجرات، تمل ناڈو اور اتر پردیش میں کانگریس کی قسمت بدل سکتی ہے۔ پرینکا گاندھی سے کانگریس کارکنان معلوم نہیں کیوں زیادہ کلوز تعلقات بنا لیتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ وہ خاتون ہیں، یا اس لئے کہ ان میں سمجھ زیادہ ہے، معلوم نہیں۔ مگر کانگریس کارکنان کا یہ بھی ماننا ہے کہ سونیا گاندھی روایتی مائوں کی طرح بیٹے راہل پر ہی دائوںکھیل رہی ہیں، بیٹی پر نہیں۔ ہمارا کانگریس کارکنان سے کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی بھی شاید کچھ نہ کر پائیں کیونکہ پورے کنویں میں بھانگ پڑی ہے اور یہی چیلنج سونیا گاندھی کے سامنے ہے کہ کیسے کانگریس تنظیم کو، کانگریس کارکنان کو، اس بھانگ کے کنویں سے دور لے جائیں ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “کانگریس راہ سے بھٹک گئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *