نریگا کا حساب کتاب

نریگا اب منریگا ضرور ہو گئی لیکن بدعنوانی ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ۔اس اسکیم کے تحت ملک کے کروڑوں لوگوں کو روزگار دیا جا رہا ہے۔گاؤں کے غریبوں -مزدوروں کے لیے یہ اسکیم ایک طرح  سے سنجیونی کا کام کر رہی ہے۔حکومت ہر برس تقریباً 40ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے لیکن ملک کے کم و بیش سبھی حصوں سے یہ خبر آتی رہتی ہے کہ کہیں فرضی مسٹر رول بنادیا گیا تو کہیں مردہ آدمی کے نام پر سرپنچ ۔ ٹھیکیداروں نے پیسہ اٹھا لیا۔سال میں 100دنوں کی جگہ کبھی کبھی صرف 80-70دن ہی کام دیا جاتا ہے۔کام کے بدلے پورا پیسہ بھی نہیں دیا جاتا ہے۔ظاہر ہے یہ پیسہ ان غریبوں کا ہوتا ہے جن کے لیے یہ اسکیم بنائی گئی ہے۔منریگا میں بدعنوانی کا سوشل آڈٹ کرانے کی اسکیم کی بھی پنچایتوں اور ٹھیکیداروں کے ذریعہ زبردست مخالفت کی جاتی ہے۔کبھی کبھی تومعاملہ مار پیٹ تک پہنچ جاتا ہے ۔قتل تک ہو جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس بدعنوانی کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟اس کا جواب بہت آسان ہے۔اس مسئلہ سے لڑنے کا ہتھیار بھی بہت کارگر ہے۔آر ٹی آئی۔آپ کو بس اپنے اس حق کا استعمال کرنا ہے۔اس مرتبہ کی درخواست منریگا سے متعلق ہے۔ یہ درخواست اس اسکیم میں ہو رہی دھاندھلی کو سامنے لانے اور جاب کارڈ بنوانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ہم اپنے قارئین سے امید کرتے ہیں کہ وہ گاؤں ۔ دیہات میں رہنے والے لوگوں کو بھی اس کالم کے بار ے میں بتائیں گے اور دی گئی درخواست کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتائیں گے۔سرکاری اسکیموں میں پھیلی بدعنوانی  سے لڑنے کی چوتھی دنیا کی مہم  میں آپ کا ساتھ بھی اہمیت رکھتا ہے۔یہاں ہم منریگا اسکیم سے جڑے کچھ سوال  درخواست کے طور پر شائع کر رہے ہیں ۔آپ اس درخواست کے ذریعہ منریگا کے تحت بنے جاب کارڈ،مسٹررول ،ادائیگی،کام اور ٹھیکیدار کے بارے میں جانکاری مانگ سکتے ہیں۔چوتھی دنیا آپ کو اس کالم کے ذریعہ سے وہ طاقت دے رہا ہے،جس سے آپ پوچھ سکیں گے صحیح سوال۔ایک صحیح سوال آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ہم آپ کو ہر شمارے میں بتارہے ہیں کہ کیسے اطلاعات کے حق کا استعمال کرکے آپ دکھا سکتے ہیں’ ’گھوس کو گھونسا‘‘۔ کسی بھی طرح کی دقت یا پریشانی ہونے پر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

(منریگا کے تحت جاب کارڈ،روزگار اور بے روزگاری بھتے کی تفصیل)

مؤرخہ
بخدمت،
پبلک انفارمیشن افسر            دفتر کانام …………………..            پتہ………………………….

ریفرنس: حق اطلاعات قانون 2005کے تحت درخواست
عزت مآب،
……..بلاک کے گاؤں……….کے متعلق مندرجہ ذیل جانکاری دستیاب کرائیں۔
-1مندرجہ بالا گاؤں سے این آر ای جی اے کے تحت جاب کارڈ بنوانے کے لیے اب تک کتنی درخواست ملیں؟اس کی فہرست مندرجہ ذیل تفصیلات کے ساتھ دستیاب کرائیں۔
الف۔درخواست دہندہ کا نام اور پتہ
ب۔درخواست نمبر            ج۔درخواست کی تاریخ        د۔درخواست پر کی گئی کارروائی کی مختصر تفصیل(جاب کارڈ بنا/جاب کارڈ نہیں بنا/زیر غور)
ث۔اگر جاب کارڈ نہیں بنا تو اس کی وجہ بتائیں    ح۔اگر بنا تو کس تاریخ کو
-2جن لوگوں کوجاب کارڈ دیا گیا ہے ان میں سے کتنے لوگوں نے کام کے لیے درخواست دی؟اس کی فہرست مندرجہ ذیل اطلاعات کے ساتھ دستیاب کرائیں۔
الف۔درخواست دہندہ کا نام اور پتہ        ب۔درخواست دینے کی تاریخ    ج۔دیے گیے کام کا نام        د۔کام دیے جانے کی تاریخ
ث۔کام کے لیے ادا کی گئی رقم اور ادائیگی کی تاریخ    ح۔ریکارڈ رجسٹر کے اس حصہ کی مصدقہ نقل،جہاں ان کی ادائیگی سے متعلق تفصیلات درج ہیں
خ۔اگر کام نہیں دیا گیا  ہے تو کیوں؟        چ۔کیا انہیں بے روزگاری بھتہ دیا جا رہا ہے؟
-3مندرجہ بالا گاؤں سے این آر ای جی اے کے تحت روزگار کے لیے درخواست دینے والے جن درخواست دہندگان کو بے روزگاری بھتہ دیا جارہا ہے، ان کی فہرست مندرجہ ذیل اطلاعات کے ساتھ دستیاب کرائیں۔
الف۔درخواست دہندہ کا نام اور پتہ        ب۔درخواست دینے کی تاریخ    ج۔بے روزگاری بھتہ دیے جانے کی تاریخ    د۔بطور بے روزگاری بھتہ ادا کی گئی رقم اور ادائیگی کی تاریخ
ث۔ریکارڈ رجسٹر کے اس حصہ کی مصدقہ نقل، جہاں ان کی ادائیگی سے متعلق تفصیلات درج ہیں
میں درخواست فیس کے طور پر ……..روپے الگ سے جمع کر رہا/رہی ہوں۔
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں،اس لیے سبھی فیس سے آزاد ہوں۔میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……ہے۔
اگر مانگی گئیں اطلاعات آپ کے دفتر سے متعلق نہ ہوں تو حق اطلاعات قانون 2005کی دفعہ (3)6کے تحت میری درخواست متعلقہ انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کی مدت کے اندر پہنچا دیں۔ساتھ ہی قانون کے تحت اطلاعات دستیاب کراتے وقت پہلے اپیل افسر کا نام  اور پتہ ضرور بتائیں۔
عرضی گذار
نام…..                پتہ……            فون نمبر……            منسلک(اگر کچھ ہوں تو)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *