بہار کے نتائج اتر پردیش کے انتخابات پر اثر ڈالیں گے؟

پربھات رنجن دین
بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے ٹھیک ایک دن قبل اترپردیش کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا بھی اعلان ہوا۔ اس کے پہلے اترپردیش میں پنچایت کے انتخابات ہوئے، جو اسمبلی انتخابات کے پہلے کا ریہرسل مان کر پورے حوصلہ سے لڑے گئے۔ پنچایت انتخابات کے نتائج کے حوالے سے کھینچ تان اوردعوے 2012میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ٹریلر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، لیکن اسی دوران بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے پڑوسی ریاست اترپردیش کے ووٹروں کو بھی باخبر کر دیا ہے۔ اب ریاست کے ووٹروں میں بھی اس موضوع پر بات ہونے لگی ہے کہ یوپی کی ترقی کون کرسکتا ہے اور ترقی کے علاوہ انتخاب کی دوسری کوئی بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔ بہار کے انتخابی نتائج اور اترپردیش میں اس کے حوالے سے تذکروں کا اثر سیاسی پارٹیوں پر بھی ہے، خاص طور سے بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی پر گہرا اثر ہے۔ بہار کے سیاسی منظرنامہ سے تھوڑا الگ، اترپردیش میں چھوٹی ذات کے مقامی سیاسی لیڈروں کی سرگرمی زیادہ ہے اور اب وہ نئے سرے سے ترقی کے ایشو پر ہی سہی لیکن ترقی میں اپنی سرگرم حصہ داری کے سوال پر متحد ہونے لگے ہیں۔ یوپی کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بھی چھوٹی مقامی سیاسی پارٹیوں نے اپنی موجودگی کا احساس تمام بڑی پارٹیوں کو کرایاہے۔ یوپی میں انتخاب ہونے میں ابھی تقریباً دو سال باقی ہیں۔ 2007میں اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی بہوجن سماج پارٹی پتھر کی مورتیوں کا جال بچھانے کے بعد مالی بربادی اور بدعنوانی کے حوالے سے ترقی کے سوالوں میں جس بری طرح سے گھری ہوئی ہے، اس سے نکلنے کی بے چینی اب مایاوتی پر صاف نظر آرہی ہے۔ مایاوتی ترقی کے محض وہ کام کرا رہی ہیں جو سڑک پر لوگوں کو نظر آئیں اور متاثر کریں، مثلاً لکھنؤ شہر کی تزئین کاری، سرکاری ملازمین کو بھتے وغیرہ کا لالچ وغیرہ، لیکن شہر اور گاؤں کے درمیان جو ترقی اور سیاسی سلوک کا فرق دکھائی دے رہا ہے، وہ اسمبلی انتخابات میں زبردست کردار ادا کرنے والا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بہار پورے ملک میں مذمت  اور مذاق کا موضوع بنتا رہا، لیکن اترپردیش کے دیہی علاقوں سے ہو کر گزریں یا شہروں اور قصبوں میں جائیں تو یہاں کی بدنظمی اور بنیادی ڈھانچے کی بدحالی کا اندازہ ہوجائے گا۔ تب آپ کو یہ احساس ہوگا کہ بجلی کی چمک اور پانی سے دھوئی گئی سڑکیں صرف راجدھانی لکھنؤ میں ہیں اور وہ بھی صرف اقتدار کے گلیارے کے نزدیک۔ باقی ماندہ جگہ آپ کو خراب سڑکیں، گندگی، کوڑے کا انبار اور اندھیرا ہی نظر آئے گا۔ اب ووٹر واضح طور پر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ معزز اور غیر معزز کا ووٹ الگ الگ نہیں ہوتا، شہری ووٹ اور دیہی ووٹ الگ الگ نہیں ہوتے تو پھر سہولتیں الگ الگ کیوں ہیں؟
بہرحال اترپردیش کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بی ایس پی نے اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارا تھا۔ مایاوتی نے یہ فیصلہ پہلے ہی لے لیا تھا، لیکن اس فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی فراخ دلی نہیں تھی، بلکہ خفیہ ایجنسیوں کی وہ خبریں تھیں جو عام آدمی کے رد عمل اور رجحان سے حکمراں پارٹی  کو مسلسل باخبر کرا رہی تھیں۔ پنچایتی انتخابات میں بھی برسراقتدار پارٹی بھگدڑ، ضابطہ شکنی اور دیگر  فضیحتیں جھیل چکی تھی۔ لٹمس ٹیسٹ کے لیے لکھیم پور کھیری صدر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں بھی بی ایس پی نے اپنا غیر اختیاری امیدوار اتارا، لیکن اس میں بھی پارٹی کا مبینہ سخت ڈسپلن بکھر گیا۔ بی ایس پی کے سرگرم ممبر پون گپتا میدان میں اترے اور بی ایس پی کے غیراعلان شدہ امیدار کے طور پر میدان میں ڈٹے رہے۔ یہاں بھی دو بسپائیوں میں ٹکر ہو گئی اور مسلم ووٹروں کو لبھانے کے ارادے سے بی ایس پی نے پون گپتا کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا۔ پھر عبدالعزیز عرف راجے صدیقی بی ایس پی کے حمایت یافتہ امیدوار کی شکل میں انتخاب لڑے، لیکن پون گپتا کو راجے صدیقی سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے اور بی ایس پی کو زمینی ٹمپریچر کا اندازہ ہوگیا۔ یہی حال ایٹہ کے نیدھولی کلاں اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں بھی ہوا۔ ان دونوں اسمبلی حلقوں میں برسراقتدار بی ایس پی لیڈروں کے تئیں لوگوں کا غصہ واضح طور پر ظاہر ہوا۔ نیدھولی کلاں میں بی ایس پی نے کلیان سنگھ کی پارٹی کو اپنی حمایت دے کر قرض ادا کرنے کی کوشش کی۔ کلیان سنگھ نے ایک جلسۂ عام میں بی ایس پی سے قرض ادا کرنے کا خطاب کیا تھا۔ کلیان سنگھ کی وہ پکار اور ان کی قرض چکانے کے لیے کی گئی حمایت، یہ سب اتحاد کی ضرورت کے ہی اشارے دے رہے ہیں۔
ان دو ضمنی انتخابات میں قومی پارٹی کانگریس اور بی جے پی دونوں کی خوب فضیحت ہوئی اور یہ عیاں ہوگیا کہ کسی طاقت ور علاقائی پارٹی کو ساتھ لیے بغیر یوپی میں کسی قومی پارٹی کا اقتدار میںآنا مشکل ہے۔ جے ڈی یو- بی جے پی اتحاد کی طرح اترپردیش میں بھی ایسے ہی کسی طاقت ور اتحاد کا راستہ پھر سے کھل رہا ہے۔ اس پر کانگریس اور بی جے پی دونوں کے سینئر لیڈر غور کر رہے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں پارٹیوں کے کچھ سینئر لیڈروں سے اس مسئلے پر ’چوتھی دنیا‘ کی بات چیت ہوئی، فی الحال وہ اس سلسلے میں ظاہری طور پر کچھ بولنا پارٹی کے حق میں نہیں مانتے، لیکن ایسے اتحاد کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں اور کہتے بھی ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان دونوں قومی پارٹیوں کے ساتھ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے کچھ لیڈروں سے ہوئی بات چیت کا لب لباب نکالیں تو کانگریس-سماجوادی پارٹی اور بی جے پی-بی ایس پی کے درمیان اتحاد کا امکان نظر آتا ہے۔ حالانکہ ظاہری طور پر سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر اکھلیش یادو کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی بی جے پی اور کانگریس دونوں سے ہی فاصلہ بنا کر رکھے گی، تنہا الیکشن لڑے گی اور 2012کے انتخابات میں اقتدار میں آئے گی۔ کانگریس کے قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ بھی یہ کہتے ہیں کہ اترپردیش میں کانگریس تنہا انتخاب لڑے گی اور اقتدار میں آئے گی۔ بہار کے انتخابات کے نتائج اور اترپردیش کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا اکھلیش الگ الگ جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار کے انتخابات کے نتائج نے یہ صاف کردیا کہ ذات پات کی سیاست ختم ہو رہی ہے اور ترقی کی بنیادپر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس کا اثر صرف بہار پر ہی نہیں پڑا بلکہ یہ یوپی کے انتخابات پر بھی اثر ڈالے گا اور ذات یا مذہب کی سیاست کرنے والوں کو دھودے گا۔ اکھلیش پرتاپ کہتے ہیں کہ بہار میں کانگریس کہیں اسٹینڈ نہیں کرتی تھی، لیکن راہل نے بہتر گورننس کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کیا۔ عوام نے بھی وہی کیا۔ راہل کا ہی ایجنڈا چلا۔ بہار میں جو بہتر گورننس دے رہا تھا لوگوں نے اسے ووٹ دے کر اقتدار پر بٹھایا۔ یوپی میں ابھی جو انتخاب ہوئے وہ تو ہمدردی والے انتخاباب تھے۔ ممبران اسمبلی کی موت سے خالی ہوئی سیٹ پر سیاست کام نہیں کرتی جذبات کام کرتے ہیں۔ پھر بھی کانگریس کا ووٹ فیصدبڑھا ہے کم نہیں ہوا ہے۔ بہرحال کانگریس، سماجوادی پارٹی یا بی جے پی کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیڈر ہوں، وہ اتحاد کے امکانات سے ابھی تو انکار کرتے ہیں، لیکن اتحاد سیاسی مجبوری ہوتی جارہی ہے، اس سے وہ متفق بھی ہوتے ہیں۔ بہار سے الگ یوپی میں چھوٹی علاقائی پارٹیاں کہہ لیں یا ذاتی چھترپ، ان کا اہم کردار مسلسل درج ہو رہا ہے، لہٰذا ان چھوٹے چھترپوں کو نظرانداز کر کے کسی بڑی سیاسی پارٹی کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہونے والی ہے۔ لکھیم پور صدر اور ندھولی کلاں اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات نے بھی اور اس کے پہلے ڈومریاگنج ضمنی انتخاب میں بھی چھوٹی پارٹیوں نے اپنی مضبوط شناخت درج کرائی اور اپنے امیدوار کو جتانے میں نہیں بلکہ بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کو ہرانے کا کام ضرور کیا۔ لکھیم پور صدر میں پیس پارٹی کے امیدوار ششی دھر مشرا عرف نامے مہاراج کی وجہ سے کانگریس اور بی جے پی جیسی قومی پارٹی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ یہی حال ندھولی کلاں میں ہوا، جہاں کلیان سنگھ کی جن کرانتی پارٹی نے انتخاب ہارنے کے باوجود دیگر پارٹیوں کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرادیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ڈومریا گنج میں بھی پیس پارٹی کے امیدوار سچیدا نند پانڈے نے تمام پارٹیوں کے سیاسی اتحاد کو تہس نہس کر دیا تھا۔ لکھیم پور صدر اور ندھولی کلاں دونوں اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کو جیت حاصل ہوئی، لیکن چھوٹی مقامی پارٹیوں کی ہی بدولت۔ لکھیم پور کھیری میں پیس پارٹی کی بدولت اور ندھولی کلاں میں جن کرانتی پارٹی کی بدولت چھوٹی پارٹیوں کے سبب سیاسی اتحاد کس طرح بدل رہے ہیں اور نئی شکل لے رہے ہیں، یہ لکھیم پور صدر کے انتخاب میں سامنے آیا۔ یہاں پیس پارٹی کی وجہ سے مسلم ووٹ(خاص طور پر انصاری ووٹ) یکطرفہ پڑے تو اسے بیلینس کرنے کے لیے سارے ہندو ووٹ سماجوادی پارٹی کی طرف مرکوز ہوگئے۔ لہٰذا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ لکھیم پور صدر میں سماجوادی پارٹی ہندو (غیربرہمن) ووٹوں کے سبب جیت گئی۔ ندھولی کلاں میں سماجوادی پارٹی ہندو ووٹوں کے بکھرنے کی وجہ سے جیت گئی۔ کلیان سنگھ اور بی جے پی فیکٹر میں ہندو ووٹروں کی تقسیم کا فائدہ سماجوادی پارٹی کو ملا۔ یعنی یہاں بھی چھوٹی پارٹی کا کردار ہی جیت اور ہار کی وجہ بنا۔
ان چھوٹی لیکن بااثر علاقائی پارٹیوں کے ساتھ تال میل بنا کر چلنے کی سیاسی ضرورت امرسنگھ کے میدان میں آنے کے سبب اور شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے۔ نئے سرے سے مشرقی اترپردیش کو نظر انداز کرنے کا مسئلہ، چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد کا مسئلہ اور سہولتوں میں کلین بنام ملن کا مسئلہ گرمانے لگا ہے۔ چھترپوں کو ساتھ لے کر امرسنگھ نئے سرے سے ابھرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، یقینی طور پر ان کی یہ سرگرمی مشن 2012ہی ہے۔ حالانکہ شہر بنام گاؤں کا مسئلہ سب سے پہلے راشٹروادی کمیونسٹ پارٹی اور پارکھ مہاسنگھ نے اٹھایا اور عوامی نمائندوں کو ملنے والی سہولتوں اور عوامی نمائندے منتخب کرنے والے ووٹروں کی نظراندازی کے سوال پر پوری ریاست میں جلسے، مظاہرے وغیرہ بھی منعقد کیے۔ اب سابق ممبر پارلیمنٹ الیاس اعظمی نے بھی ان کی حمایت میں ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ اسی حمایت کی نشاندہی پر راشٹروادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری و پارکھ مہاسنگھ کے صدر کوشل کشور کو لکھیم پور اسمبلی سیٹ سے ضمنی انتخاب بھی لڑایا گیا۔ ریاست کی ترقی اور شہر بنام گاؤں کے سوال اور اقتدار سے محروم ذاتوں کو سیاست کی مین اسٹریم میں شامل کرنے کے مسئلے پر یہی چھوٹی پارٹیاں اب یوپی میں ایم پی ایم اتحاد درست کرنے میں لگ گئی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح بہار میں تیزی سے ایم ایم ایم اتحاد ابھرا اور تمام اتحاد تہس نہس کر دئے۔ بہار میں مسلم-متوسط طبقہ اور خواتین اتحاد لالو کے خلاف متحد ہوا، اسی طرح اترپردیش میں مسلم-پاسی- مہادلت اتحاد درست کرنے کی زمینی سطح پر تیزی سے کوششیں ہو رہی ہیں۔ سابق ممبر پارلیمنٹ الیاس اعظمی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام اقتدار سے محروم ذاتوں اور مہا دلتوں کو متحد کیا جارہا ہے۔ اس وسیع اتحاد میں پاسی، مسلم، لونیا، کہار، لودھ، گڈریا، موریا، کمہار، چورسیا، بنیا، بڑھئی، لوہار، ساہو، کوری، کھٹک، کلوار، نائی، بھورجی، دھوبی، دھانک جیسی اقتدار سے محروم ذاتیں شامل ہو رہی ہیں۔ راج بھر اور کئی دوسری ایسی ذاتوں کو لے کر چلنے والی پارٹیوں کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ ریاست کی تمام مسلم تنظیموں سے بھی بات ہو رہی ہے اور یہ بات چیت ٹھوس شکل لے چکی ہے۔ مسلم تنظیمیں بھی یہ سمجھتی ہیں اور سمجھ دار مسلمان یہ جانتا ہے کہ مرادآباد میں 1980میں عیدگاہ پر ہوئی فائرنگ کے خلاف میں نے لکھنؤ سے دہلی تک پیدل سفر کیا تھا۔ اسی دوران میری بیوی کا انتقال ہوگیا اور میں ان کی آخری رسوم میں بھی شریک نہیں ہوسکا۔ ضمنی انتخابات میں پیس پارٹی کے کردار اور مسلم پرست بیان بازیوں پر اعظمی نے تلخ انداز میں کہا کہ پیس پارٹی بی جے پی کی ڈمی پارٹی ہے۔
غور طلب ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود بی ایس پی حکومت نے جن آدیواسیوں کے لیے سیٹیں ریزرو نہیں کیں اور انہیں پنچایت انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا، ان ذاتوں کو بھی ساتھ لینے کی ٹھوس پہل ہو رہی ہے۔ آپ کو یاد دلا دیں کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے درج فہرست ذات سے درج فہرست قبائل میں شامل ہوئی ذاتوں کے لیے پنچایت انتخابات میں ریزرویشن دینے کا حکم دیا تھا اور نہ دینے کی صورت میں انتخاب ملتوی کرنے کا حکم جاری کیا تھا، لیکن مایاوتی حکومت اس کے خلاف سپریم کورٹ چلی گئی اور وہاں سے انتخاب کرانے کی ہری جھنڈی لے لی تھی۔ جن سنگھرش مورچہ کے دنکر کپور بھی کہتے ہیں کہ درج فہرست قبائل کے تئیں بی ایس پی حکومت کے غیرجمہوری رخ کے خلاف لوگوں میں کافی ناراضگی ہے۔ گونڈ، کھروار، پنیکا، چیرو، اگریا، بھویاں، بیگا، کول، دھانگر، اراؤں، کوروا، کرہیا جیسی کئی نظرانداز کی گئیں درج فہرست ذات اورقبائل کی اس ناراضگی کو سیاسی اتحاد میں لانے اور انہیں ان کا سیاسی حق دلانے کے لیے سرگرم کوشش کی جا رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *