بہار کے مدارس اسلامیہ حکومت کی بے حسی کا شکار

اشرف استھانوی
بہار کے 6 ہزار مدارس اسلامیہ اور اُن سے وابستہ لاکھو ں افراد کو ریاست کی نتیش حکومت کے نیائے یعنی انصاف کا انتظار ہے۔ نیائے کے ساتھ وکاس یعنی ترقی کے ساتھ انصاف کا خوش کن نعرہ دینے والی نتیش حکومت ریاست کے اقلیتی عوام کو ترقیات کا فائدہ پہنچانے میں ناکام رہی ہے اور اب جب کہ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے دوبارہ زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آچکا ہے ، اقلیتوں میں اس بات کے حوالے سے بڑی بے چینی پائی جاتی ہے کہ آخر اس حکومت میں مسلمانوں کو کیا ملا۔ مسلمان اب اس بات کا محاسبہ کرنے لگے ہیں کہ نتیش حکومت کی پہلی 5 سالہ میعاد میں مسلمانوں کے کون کون سے بنیادی مسائل حل ہوئے اور اگر نہیں حل ہوسکے تو اس کی کیا وجہ رہی اور اگر بے پناہ اکثریت کے نشے میں چورہوکر موجودہ حکومت ان کے مسائل کو اگلے 5 سالوں کے دوران بھی نظر انداز کرکے رکھے گی تو مسلمانوں کا کیا حال ہوگا؟
فی الوقت صرف مدارس اسلامیہ اور ان سے وابستہ افراد کی ہی بات کی جائے تو تصویر انتہائی مایوس کن نظر آتی ہے۔ ریاست میں چھوٹے چھوٹے مکاتب اور تعلیمی مراکز کے علاوہ 6 ہزار مدارس اسلامیہ ہیں۔ ان میں سے صرف 1128 مدارس حکومت سے امداد یافتہ ہیں۔ 2776 مدارس غیر امداد یافتہ ۔ مگر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجو کیشن بورڈ سے ملحق ہیں۔ ان کے علاوہ 500 مدرسۃ البنات ہیں اور 1500 آزاد مدارس نظامیہ ہیں۔ جن 1128 مدارس کو حکومت کی منظوری اور امداد حاصل ہے وہ جگن ناتھ مشرا اور لالو- رابڑی حکومت کی دین ہیں۔ نتیش حکومت کے دوران کسی ایک مدرسہ کو بھی منظوری نہیںملی ہے۔نتیش حکومت میں 500 مدرسۃ البنات میں سے صرف 9 کو منظوری حاصل ہوئی ہے اور مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کا مہنگائی بھتہ 125 فیصد سے بڑھا کر 300 فیصد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ تنخواہوں پر نظر ثانی اور پنشن و گریچویٹی جیسے دیرینہ مطالبات پر بھی کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔ نتیش حکومت کے 10 نکاتی اقلیتی فلاحی پروگراموں میں شامل مدارس کی جدید کاری اور کمپیوٹر کاری کے علاوہ تنخواہوں میں باقاعدگی لانے کے منصوبہ پر عمل ایک فیصد بھی نہیں ہو سکا ہے۔ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کو تیسرے پے کمیشن کی سفارشوں کے مطابق ہی تنخو اہ مل رہی ہے جب کہ ریاست کے دیگر اساتذہ اور ملازمین چھٹے پے کمیشن کی سفارشوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ سرکاری چپراسی کی تنخواہ سے بھی کم ہے اور سبکدوشی کے بعد انہیں ایک پیسہ کا بھی سہارا نہیں ہے کیوں کہ پنشن،میڈیکل الائنس، پی ایف یا گریچویٹی کا کوئی نظم نہیں ہے۔ یعنی سبکدوشی کے بعد یا اچانک موت کی صورت میں مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے اہل خاندان کو ایک پیسہ بھی نہیں ملتا ہے۔ نتیش حکومت نے اپنی پہلی مدت کار کے دوران ان باتوں پر دھیان نہیں دیا۔ 2776 ملحقہ مدارس میں سے ایک کو بھی منظوری نہیں دی۔ جب انتخاب کا وقت قریب آیا تو کابینہ کی آخری میٹنگ میں ان میں سے 2459 مدارس کو اپ گریڈ کرنے اور انہیں منظوری دینے کا اصولی فیصلہ لیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ انتخاب کے وقت لئے گئے فیصلے پر عمل ممکن نہ ہو سکا۔ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی اب تک اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت تو کیا کوئی چرچا بھی نہیں ہے کہ اس پر عمل درآمدکب اور کیسے ہوگا؟ بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے والی نتیش حکومت 500 مدرسۃ البنات کا کیا کرے گی اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے؟ تنخواہ پر نظر ثانی، پنشن اور گریچویٹی کا تو نام بھی نہیں لیا جاتا ہے۔ ایسے میں کمپیوٹر کاری اور جدید کاری تو محض ایک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ہے، کیوں کہ ان سارے مسائل کے حل کے لئے بہت بڑے سیاسی عزم اور اس سے بھی زیادہ بڑے سرکاری فنڈ کی ضرورت ہوگی اور مسلمانوں کے معاملے میں مالیات جٹانے میں محکمہ مالیات ہمیشہ سے کنجوسی کرتا آیا ہے۔ معمولی رقم کی منظوری بھی محکمہ مالیات سے نہیں ملتی ہے۔ شاید اس لئے کہ اس محکمہ کی کمان بی جے پی کے سشیل کمار مودی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ محکمہ پھر مودی کو مل گیا ہے۔ ایسے میں یہ مسائل کبھی حل ہو سکیں گے اس کی امید فضول ہے؟ اور جب مسائل حل نہیں ہوں گے ، مدارس کے اساتذہ اور ملازمین اوران کے متعلقین کا مستقبل محفوظ نہیں ہوگا تو جدید تعلیم سے آراستہ اور کمپیوٹر پروفیشنل مدارس کے تعلیمی نظام سے جڑنا کیوں پسند کرے گا؟
نتیش حکومت میں بد عنوانی کو بھی جم کر فروغ حاصل ہوا ہے۔ اس کا اثر دوسرے شعبوں کی طرح مدارس کے نظام اور مدرسہ ایجو کیشن بورڈ پر بھی پڑا ہے۔ این ڈی اے۔ll میں نتیش حکومت نے بد عنوانی کو ٹارگٹ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن جس طرح ترقیات کے معاملے میں یہ شعبہ نظر انداز ہوا ہے۔ اب انسداد بد عنوانی کے معاملے میں بھی نظر انداز ہی رہے گااور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار دوسرے محکموں کی طرح اقلیتی امور سے متعلق محکموں کے کاموں کی نگرانی خود نہیں کرتے ۔ شاید اس کے لئے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ہے۔ مانیٹرنگ کا نظم نہ ہونے کے سبب اقلیتی فلاح کے کام انجام نہیں پاتے۔ یعنی پہلے تو اصولی فیصلہ لینے میں پریشانی اور پھر اس کی نگرانی میں بے توجہی سارا کام خراب کر دیتی ہے اور اگر اس محکمہ کا سربراہ نا اہل یا خود بد عنوان ہو تو وہاں بد عنوانی کتنی اونچائی پر ہوگی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مدرسہ ایجو کیشن بورڈ میں پہلی بار مولانا اعجاز احمد جیسے غیر ماہر تعلیم کو چیر مین بنایا گیا ہے جس کے پاس کوئی انتظامی صلاحیت اور تجربہ نہیں ہے۔ اس لئے ان کے ماتحت افراد بالکل بے لگام ہیں۔ چیر مین خود نچلی سطح پر بد عنوانی میں ملوث ہیں اس لئے بورڈ کے افسران اور ملازمین بھی چھوٹ کر نوٹ کا کاروبار کر رہے ہیں ۔ہر معاملے میں پیسہ اور کمیشن کی مانگ ہے۔ اقرباپروری عام ہے۔ چیرمین کے پرائیویٹ سکریٹری کوویجلنس کی ٹیم نے رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہی دبوچا اس کے بعد بھی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ سب کچھ پہلے جیسا چل رہا ہے۔ سنٹر بنانا ہو یا منیجنگ کمیٹی کو منظوری دینے کا معاملہ ہویا اساتذہ کے تقرر میں پینل کو منظوری دینے کی بات ہو کوئی بھی کام رشوت کے زور پر ہو جاتا ہے اور جولوگ رشوت دینا نہیں چاہتے ان کا کیس کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو کام نہیں ہوتا ہے۔ اگست 2009 سے مدرسہ بورڈ کی تشکیل نونہیں ہوئی ہے۔ حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے۔ من مانے طریقے سے کام چل رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں چیر مین نے اپنی سطح سے اصول وضابطے کو بالائے طاق رکھ کر 6 ڈاٹا آپریٹر بحال کر لئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بحال زیادہ تر آپریٹر ان کے قریبی لوگ ہیں۔
گذشتہ کئی سالوں سے مدرسہ میں پھیلی بد عنوانیوں کے خلاف تحریک چلا رہے آل بہار مدرسہ اسٹوڈنٹس یونین کے جنرل سکریٹری دانش عابدین وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے انصاف کے ساتھ ترقی کے نعرے کو کھوکھلا بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ این ڈی اے حکومت l کے اسمبلی کے آخری اجلاس کے موقع پر تین دنوں تک ہزاروں کی تعداد میں بہار بھر کے مدارس اسلامیہ کے اساتذہ و ملازمین راجدھانی پٹنہ کی سڑکوں پر جمے رہے اور اپنے حق کے حصول کے لئے صدائے احتجاج بلند کرتے رہے مگر حکومت نے ان کی فریاد پر کوئی دھیان نہیں دیا۔بلکہ مظاہرین پر پولیس کے ڈنڈے تک چلے۔ آخر میں مدارس کے اپ گریڈیشن کا اعلان بھی ہوا تو اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ بلکہ ان پر ڈنڈے چلائے گئے۔مدرسہ اسٹوڈنٹس یونین تحریکیں چلا چلا کر تھک چکا ہے۔ مگر حاصل کچھ نہیں ہو پایا ہے۔ ایک طرف روز افزوں سرکاری بے حسی اور دوسری طرف آسمان چھوتی بد عنوانی ،ایسے میں مدارس کے تعلیمی نظام کا حشر کیا ہوگا ؟ کہنا مشکل ہے۔

Share Article

One thought on “بہار کے مدارس اسلامیہ حکومت کی بے حسی کا شکار

  • January 13, 2011 at 12:31 pm
    Permalink

    لگتا ہے کہ اشرف صاحب کسی تعصب کے شکار ہیں۔ ہر شعبہ میں خواہ وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری خوبی اور خامی دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ شاید موصوف کو بورڈ کی صرف خامی ہی نظر آئی۔ اور اشرف صاحب بورڈ کی خوبیوں سے ناواقف ہیں۔ اسی لئےانہوں نے مدرسہ بورڈ کے خامیوں کو ہی نمایاں کیا ہے۔ چیئرمین مدرسہ بورڈ کے خلاف شائد آپکے دل میں کوئی ذاتی رنجش معلوم پڑتی ہے۔ چیئرمین موصوف نے جتنا کام کیا ہے شاید اسسے پہلے کے کسی بھی چیئرمین نے نہیں کیا ہو۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *