فلسطینیوں کا دکھ درد بانٹنے نکلا ایشیا کا پہلا امن کارواں

فرمان چودھری
اسرائیل کی پالیسیوں کی وجہ سے فلسطینی تشدد کا شکار ہو رہے ہیں ،جنہیں شاید اسرائیل اور فلسطین کا مطلب تک نہیں معلوم ہے۔تازہ صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کے ہوائی حملوں کے ساتھ ساتھ فلسطین کے لوگوں کو روزمرہ کی ضروریات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ دوائیوں کا ہے۔اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں۔مرنے والوں میںبچے ہیں، بوڑھے ہیں اورخواتین ہیں۔اسرائیل کی جانب سے غزہ کی اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی صورتحال انتہائی دکھ بھری ہے۔
آکسفیم ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور سیو دی چلڈرن  جیسی 21تنظیموں کی رپورٹ بھی یہی کہتی ہے۔فلسطین میں کام کررہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں وہاں کی بد حالی کے بارے میں مسلسل  بتا رہی ہیں ،پھر بھی عالمی برادری نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے لوگ صاف پانی،بجلی اور روز گار کے لیے ترس رہے ہیں۔فلسطین کے عوام کو مدد کی ضرورت ہے ۔
فلسطین کے انہی مجبور و مظلوم لوگوں سے اظہار یکجہتی کرنے اور ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہونے کے لیے گزشتہ دنوںفلسطین کی حمایت میں غزہ کے لیے ایک امن کارواں با با ئے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ سے غزہ کے لیے روانہ ہوا ۔غزہ روانہ ہونے سے قبل 60رکنی کارواں کے اراکین اور فلسطینی کاز کے حامی دیگر لوگوں نے راج گھاٹ پر ایک میٹنگ کی، جس میں آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ اور سابق مرکزی وزیر اور ممبرپارلیمنٹ منی شنکر ایئر نے بھی شرکت کی۔ ان دونوں لیڈروں نے اس پروگرام میں نہ صرف شرکت کی بلکہ کارواں کے تئیں اپنی ہمدردی اور فلسطینی کاز میں اپنی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے فلسطین کی تحریک آزادی کا حامی رہا ہے اور آج بھی ہم جد و جہد آزادی کی پرامن تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔لیکن سابق مرکزی وزیر منی شنکر ائیر نے جو کہا وہ چونکانے والا ہے۔ وہ شروعات  سے ہی فلسطینی تحریک کے حامی رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا آیا ہے۔ حالانکہ آج صورت حال کافی مختلف ہے اور پالیسی میں کافی تبدیلی آئی ہے جو افسوسناک ہے۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ملک کی بر سر اقتدار جماعت کے لیڈر اگر یہ بات کہہ رہے ہیں تو اس میں شک کی گنجائش نہیں بچتی ہے۔منی شنکر ائیر کی صاف گوئی کے لیے ان کی تعریف ہونی چاہئے کیوں کہ حکومت کی مجبوریوں کے درمیان انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مظلوم فلسطینیوں کو آزادی اور انصاف دلانے کے لیے ثابت قدم ہو کر اس کی حمایت کرنی چاہیے۔
دنیا بھر کی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہو سکتی ہیںلیکن اس کارواں کو الگ الگ ممالک کے عوام اور تنظیموں کی حمایت ضرور حاصل ہے۔فلسطینی حامی تنظیم ’ایشین پیپلز سولیڈیرٹی فار پیلسٹائن‘ کے زیر اہتمام اس کارواں میں ہندوستان کے60اراکین کے  علاوہ پاکستان، انڈونیشیا، ملیشیا، جاپان، افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، ایران، عراق، شام، عمان، ترکی، لبنان اور مصر سے تقریباً 500افراد نے شرکت کی۔ اس امن کارواں نے غزہ میں داخل ہونے کے لیے 27دسمبر کی تاریخ متعین کی، کیوں کہ اسی تاریخ کو اسرائیل کے ذریعہ غزہ کے محاصرے کے تین برس مکمل ہوجائیںگے۔
امن کارواں میں دانشور، فلمساز، ایکٹر، صحافی، حقوق انسانی کے کارکن اور زندگی کے دوسرے شعبوں کے لوگ شامل ہوئے۔ کارواں کوایشیا کی سینکڑوں تنظیموں اور جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔اکیلے ہندوستان سے تقریباً 80تنظیموں اور افراد نے اس کارواں کی حمایت کا اعلان کیا۔ جن میں سوشلسٹ آرگنائزیشن ،لبرل آرگنائزیشن، مذہبی تنظیمیں ،طلبا ، صحافی اور ورکرس شامل ہیں۔ان میں سے کچھ تنظیموں کے نمائندے کارواں کے ساتھ گئے جبکہ کچھ نے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ ناگپور سے سماجی کارکن سریش کھیرنار ، میگسیسے ایوارڈ ونرسندیپ پانڈے ، صحافی اجیت ساہی اور ملی گزٹ کے چیف ایڈیٹرڈاکٹر ظفرالاسلام خان جیسے لوگ امن کارواں میں شریک ہوئے ۔ اس کارواں میں پورے ملک کے ہر طبقہ کی نمائندگی کی کامیاب کوشش کی گئی۔ اس کارواں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان سمیت تمام ایشیائی ممالک کے ذریعہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے باوجود کوئی کارواں آج تک اس سے پہلے ایشیا سے نہیں گیا۔یورپ سے بڑے بڑے کارواں گئے اور جا رہے ہیں۔ترکی سے اسی سال فریڈم فلوٹیلا نامی ایک کارواں غزہ کے لیے گیا تھا جس میں غذائی اجناس،دوائیں اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کی اشیا تھیں اور اس میں دنیا بھر کے تقریباً 300لوگ سوار تھے۔وہ غزہ جانا چاہتے تھے، لیکن بیچ راستے میں بین الاقوامی سمندر میں اس پراسرائیلی کمانڈوز  نے حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں 9رضاکار جاں بحق اور 50سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ باقی لوگوں کو اسرائیلی سپاہیوں نے گرفتار کرلیا تھا اور اس جہاز کو مع سامان اٹھاکر لے گئے تھے۔ حالانکہ بعد میں وہ جہاز اسرائیل نے آزاد کردیا تھا۔اب یہ جہاز مرمت کے بعد 26دسمبر کو مصر کی سرحد پر ایک بڑے جلسے کے بعد دوبارہ غزہ روانہ کیا جائے گا۔
ایشیا سے غزہ روانہ ہونے والے امن کارواں کو 2دسمبر کو واگھہ سرحد پیدل عبور کر کے پاکستان جانا تھا، جہاں لاہور پہنچ کر، کراچی اور کوئٹہ ہوتے ہوئے ایران، ترکی، سیریا، جارڈن، لبنان اور پھر مصر کے راستے غزہ میں داخل ہونے کا پروگرام تھا۔ لیکن امن کارواں کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب سیکورٹی کو خطرہ بتا کر پاکستان نے ہندوستانی امن کارواں کے اراکین کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ بعد میں کی گئی کوششوں کے بعد پاکستان نے صرف لاہور تک کا ویزا جاری کیا، وہ بھی 60میں سے صرف 29اراکین کو۔ باقی اراکین کا ویزا پاکستان ہائی کمیشن نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے رد کردیا۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ایسا کیوں کیا؟کیا پاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں آکر ایسا کیا؟ یا پھر حقیقتاً حکومت پاکستان کو ایسا لگتا ہے کہ امن کے اس کارواں میں شامل لوگ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔پاکستان  کے اس رویہ کی وجہ وہاں کے افسر ہی بتا سکتے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی ہائی کمیشن شروع سے ہی امن کارواں کے اراکین کو یہ یقین دہانی کراتا رہا کہ ہماری حکومت اس کارواں کی حمایت کرتی ہے اور اگر کارواں کے اراکین رات کے 12بجے بھی آئیںگے تو بھی انہیں ویزے جاری کردئے جائیںگے۔ اس کے باوجود یکم دسمبر کی شام کو امن کارواں کے اراکین کو بلا کر پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعہ یہ کہنا کہ حکومت پاکستان امن کارواں کے اراکین کو پاکستان میں تحفظ فراہم نہیں کرسکتی ۔پاکستان کی حکومت کا یہ رویہ بھی شک پیدا کر تا ہے۔یہ لوگ امن کا پیغام لیکر فلسطینیوں کی مدد کرنے غزہ جا رہے ہیں۔اب کوئی حکومت ایسے لوگوں کو تحفظ دینے سے منع کردے تو اسے کیا مانا جائے۔ اس کے علاوہ پاکستانی ہائی کمیشن میں کارواں کے اراکین سے جو سوال کیے گئے، ان سے بھی پاکستان کی نیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعہ پوچھے گئے متعدد سوالات میں سے ایک یہ سوال بھی تھا کہ کیا پاکستانی صحافی مسٹر طلال بھی اس کارواں کے ساتھ غزہ جائیںگے۔ پاکستان کی اسرائیل نوازی اس سوال کے بعد پوری طرح کھل کر سامنے آگئی، کیوںکہ اسرائیلی ایجنڈے کے مطابق اسرائیل ہر اس شخص کو غزہ جانے سے روکتا ہے جو فریڈم فلوٹیلا میں شریک تھا ۔سوال یہ ہے کہ طلال کو اسرائیل غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن پاکستانی حکومت کے سامنے طلال کو روکنے کی کیا مجبوری تھی۔
غزہ جانے والے امن کارواں کو دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب کارواں کے 29اراکین واگھہ سرحد پر پہنچے تو انہیں پتہ چلا کہ واگھہ کے افسران کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ کسی امن کارواں کو پیدل پاکستان جانے کی اجازت دی جائے۔ اس موقع پر امن کارواں کے ہندوستانی اور پاکستانی اراکین نے واگھہ سرحد کی دونوں جانب احتجاج کیا۔ اس کے بعد کارواں کے اراکین دہلی واپس آنے لگے تو پنجاب سے دہلی آتے ہوئے رات کو تقریباً 9بجے کارواں کو اطلاع ملی کہ وہ کل واگھہ سرحد پیدل عبور کرسکتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستانی حکومت کا وہ چہرہ سامنے آجاتا ہے، جس کا ذکر 2دسمبر کو مہاتما گاندھی کی سمادھی پر سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر نے کیا تھا کہ ہندوستان ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا آیا ہے۔ حالانکہ آج صورتحال کافی مختلف ہے اور پالیسی میں کافی تبدیلی آئی ہے ،جو افسوسناک ہے۔ یہ فلسطین کے تئیں ہندوستانی حکومت کی  پالیسی کا ہی شاخسانہ ہے ورنہ اگر کارواں کے ذریعہ ڈیڑھ مہینہ پہلے دی گئی درخواست کو رد کیا جاچکا تھا تو اس کی اطلاع امن کارواں کو کیوں نہیں دی گئی اور اگر درخواست کو قبول کرلیا گیا تھا تو پھر واگھہ سرحد پر اس کی اطلاع کیوں نہیں بھیجی گئی۔
بالآخر غزہ جانے والے ایشیائی امن کارواں کے 29ہندوستانی اراکین نے اگلے روز پیدل واگھہ سرحد عبور کی، جہاں پاکستان کے کئی درجن لوگوں نے ان کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ واگھہ سرحد پر ہی ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستانی اراکین کارواں نے فلسطینی پرچم، پاکستانی اراکین کے سپرد کیا۔ جس کے بعد سبھی اراکین لاہور چلے گئے۔ لاہور میں 2دن قیام کے بعد ہندوستانی اراکین وطن واپس آگئے، جہاں سے وہ بذریعہ طیارہ ایران کے لیے روانہ ہوگئے۔
غزہ جانے والے ایشیائی امن کارواں کی روانگی سے قبل ان ممالک میں فلسطینیوں کے مصائب اور ان کی مشکلات اجاگر کرنے کے لیے فلم، سیمنار، دھرنے اور جلوسوں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ کارواں جن شہروں اور ممالک سے گزرا، وہاں بڑے بڑے جلسے اور پبلک میٹنگیں کی گئیں۔ غزہ سے واپس آکر کارواں کے اراکین ہندوستان کے 15بڑے شہروں میں بڑی بڑی کانفرنس کریںگے تاکہ ہندوستانی حکومت اور ہندوستانی عوام فلسطینی کاز کی اسی طرح حمایت کریں، جس طرح مہاتماگاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی نے کی تھی، کیوں کہ ہندوستانی حکومت کی پالیسی اور ہندوستانیوں کا یہ طرۂ امتیاز رہا ہے کہ جہاں کہیں بھی آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں،ہندوستانی عوام اور ہندوستانی حکومتوں نے ان تحریکوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔ اس لیے مہاتماگاندھی نے ایک بار کہا تھا۔ فلسطین اسی طرح فلسطینیوں کا ہے، جس طرح ترکی ترکیوں کا ہے، ایران ایرانیوں کا ہے اور ہندوستان ہندوستانیوں کا ہے۔جس طرح سے  ہندوستان اور پاکستان میں اس کارواں کو عوام کی حمایت ملی، جس طرح سے افسران نے مشکلیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کارواں کے حوالے سے ہند،پاک اور اسرائیل کی سرکار یں پریشان ہیں۔اب سب کی نگاہیں امن کارواں پر ٹکی ہیں۔کیا یہ غزہ پہنچ پائے گا؟ کیا اسرائیل اسے غزہ میں داخل ہونے دے گا؟کیا اس کارواں کو بھی فریڈم فلوٹیلا کی طرح روکا جائے گا؟ اگر اس کارواں کو روکا جاتا ہے تو حکومت ہند کے لیے مشکلیں بڑھ جائیں گی اور اگر یہ کارواں غزہ کے لوگوں کے ساتھ ہندوستان اور ایشا کے عوام کا پیغام پہنچاتا ہے تو ہندوستان اور فلسطین کے عوام کے درمیان دوستی او ربھائی چارے کی تاریخ میں یہ میل کا پتھر ثابت ہوگا۔

ایشیائی امن کارواں کے رکن تسلیم رحمانی سے خاص ملاقات

غزہ کے لیے ایشیائی امن کارواں کے جانے سے قبل ’چوتھی دنیا‘ سےنوازش مہدی نے مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے قومی صدر اور امن کارواں کے رکن ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی سے گفتگو کی۔پیش ہیں گفتگو کے اہم اقتباسات۔
سوال۔ہندوستان ہمیشہ سے فلسطین کی حمایت کرتارہا ہے۔اس امن کارواں کے ساتھ حکومت کا رویہ کس طرح کا ہے؟
جواب۔ ہندوستان کے سیکولر عوام کا یہ ماننا ہے کہ امریکہ کی دوستی آج تک کسی کو راس نہیں آئی ہے۔امریکہ کے مفادات ہندوستان کے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہیںلیکن ہندوستان کے مفادات امریکہ سے پورے نہیں ہو سکتے۔ اب تک دو عظیم جنگیںدنیا میں لڑی گئیں اور دونوں ہی جنگیں یوروپ میں لڑی گئیں ۔بدقسمتی سے دونوں ہی جنگوں کا موضوع اور موقع اسرائیل تھا۔1917کی جنگ عظیم  کے نتیجے میں یہ اعلان سامنے آیا کہ یہودیوں کی ایک ریاست دنیا میں ہونی چاہئے اور 1945کی جنگ عظیم کے بعد، اسرائیل ایک ریاست ہے، یہ اعلان سامنے آیا۔اور اب ایک تیسری جنگ کے قوی خدشات نظر آرہے ہیں جس کا مقصد گریٹر اسرائیل کے قیام میں مد دہوگا۔اب جبکہ برطانیہ کا زور ٹوٹ چکا ہے اور امریکہ کی اقتصادی حالت کمزور ہو رہی ہے تو تیسری جنگ عظیم کی مناسب جگہ وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا ہو سکتی ہے ،تو ایسے میں صیہونی لابی کی کوشش ہے کہ وہ مغربی ایشیاکو جنگ کے میدا ن میں بدل دے کیونکہ مغربی ایشیا میں ہی فلسطین واقع ہے۔وہ مغربی ایشیا کے چاروں طرف جو ایشیائی ممالک ہیں انہیں حلیف بنانا چاہتے ہیں۔ہندوستان اس خطہ کی سب سے بڑی قوت ہے۔اس لیے ہندوستان سے ان کے بڑھتے ہوئے روابط ان کے حق میں جاتے ہیں ہمارے حق میں نہیں جاتے ہیں۔ہمارے ملک نے جو نیوکلئیر ڈیل امریکہ کے ساتھ کی ہے اس کے تمام تر فوائد امریکہ کو ہی ملیں گے ہم کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے توانائی کے ذرائع کا جائزہ لیں تو یہ ہمیں ڈیڑھ سو سال تک توانائی دے سکتے ہیں۔ ہمارا ملٹری الائنس بھی یہی ہے کہ اگر کوئی امریکہ پر حملہ کرتا ہے تو ہندوستان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اگر ہندوستان پر کوئی حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ہندوستان پر حملہ کی توقع سوائے پاکستان کے کسی سے نہیں ہے جبکہ پاکستان خود امریکہ کاحلیف ہے۔ ہندکو اپنا حلیف بناکرامریکہ مغربی ایشیا کی متوقع جنگ میں ہندوستان کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔یہ ظاہری طور پر فلسطین کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ایک دم یوٹرن لیکراسرائیل دوستی اور فلسطین دشمنی پر مبنی ہو گئی ہے۔جسے ہندوستان کے عوام پسند نہیں کرر ہے ہیں۔اس لیے اب عوامی تحریکیں کھڑی ہونگی۔جس کا آغاز یہ کارواں ہے۔
سوال :وہ کیا اشیاء ہیں جنہیں لیکر آپ غزہ جا رہے ہیں؟
جواب:ہمارے ساتھ تقریباً 28 لاکھ روپے کی مالیت کا جراحتی سامان ہے۔یہ تمام ریلیف تقریباًایک ڈیڑھ سال پہلے ڈاکٹر ظفرالاسلام صاحب نے جمع کی تھی جو کسی وجہ سے نہیں جا سکی تھی۔اس کی اجازت مانگی گئی ہے جو ابھی تک ملی نہیں ہے۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی ہند نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وہیں سے ایک ایمبولنس خریدکراس کارواں کو دے گی۔
سوال:امن کارواں کی غزہ میں کیا مصروفیات رہیں گی؟
جواب:یہ کارواں مختلف ایشیا کے ممالک میں کانفرنس کرتا ہوا 27دسمبر کو غزہ پہنچے گا،کیونکہ اس روزغزہ کے اسرائیلی محاصرہ کو پورے تین برس مکمل ہو جائیں گے ۔ یہ کارواںغزہ کے باشندوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی محاصرہ کے خلاف احتجاج کرے گااور کارواں دو تین روز غزہ میں قیام کے بعد مصر کے راستے ہندوستان واپس آ جا ئے گا۔
سوال:غزہ جانے والے کارواں کے کیا کیا مطالبات ہیں؟
جواب:غزہ کے لوگوں نے حماس کو حکومت بنانے کے لیے چنا۔حماس ایک مذہبی جماعت ہے جو عوامی خواہشات کے مطابق حکومت دے سکتی ہے اور آزادی کی لڑائی بہتر طریقے سے لڑ سکتی ہے۔اس لیے حماس کی حکومت کو بھنگ کرکے اسرائیل نے وہاں کے عوام کو سزا کے طور پر قید کر دیا ۔لیکن انہوں نے یہ کوشش کی کہ غزہ کے عوام بھوک سے نہ مریں۔تاکہ کوئی عوامی دباؤ نہ آئے۔اور اتنا بڑا ظلم کیا جائے کہ آزادیٔ فلسطین کی تحریک سے توجہ ہٹ جائے اور صرف غزہ پر توجہ رہ جائے۔اس کے بعد  مغربی کنارہ اور جیروشلم  کے علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات میں کوئی رکاوٹ  نہ آئے۔ اور آہستہ آہستہ مسجد اقصٰی کو شہید کرنے کا منصوبہ کامیاب ہو جائے۔اس لیے اس کارواں کے ذریعہہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ غزہ کا محاصرہ فوراً ختم کیا جائے جس سے وہاں کے باشندے نارمل زندگی جی سکیںاور حماس کی منتخب حکومت کو آزادانہ طور پر کام کر نے کا موقع دیا جائے۔دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ تحریک آزادیٔ فلسطین کو دنیا تسلیم کرے اور اس تحریک کو دہشت گردی سے تعبیر کرنا بند کیا جائے۔تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کو اسرائیلی تسلط سے آزاد کیا جائے۔
سوال۔اس امن کارواں کے لیے آپ کو رقم کہاں سے دستیاب ہو رہی ہے؟
جواب۔یہ بڑا فطری سوال ہے کیونکہ اتنا بڑا کارواں ہے اور 8ممالک میں جائے گااس لیے رقم تو چاہئے لیکن ہم نے کسی ایجنسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ جتنے بھی لوگ غزہ جا رہے ہیں ان سبھی نے 30-30ہزار روپے  جمع کئے ہیں۔البتہ کچھ حکومتوں نے اس کارواں کی ویزا فیس معاف کردی ہے۔اس کے علاوہ یہ کارواں مقامی افراد کا مہمان رہے گا جس سے کارواں کاقیام اور طعام کا خرچ بھی بچ جائے گا۔

Latest posts by فرمان چودھری (see all)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *