ایڈز: دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

اسد مفتی ، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
ایک تازہ ترین خبر کے مطابق 20برس کی تحقیق کے بعد بھی سائنس دان ایڈز کی ویکسین بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ’امریکی ایسوسی ایشن برائے سائنسی ترقی‘ جس کا سالانہ بجٹ تین بلین ڈالرز سے زیادہ ہے، کے صدر بالٹی مور نے تنظیم کے سالانہ اجلاس میں کہا ہے کہ سائنس داں اس سلسلے میں خاصی مایوسی کے شکار ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سائنس یا سائنس دانوں نے ہار مان لی ہے یا ہم نے اپنی کوششوں کو ترک کردیا، تاہم ہمیں ایڈز پر قابو پانے کے لیے کچھ نئے طریقے اپنانے پڑیںگے، ورنہ یہ موذی مرض ساری دنیا کو اپنی زد میں لے لے گا۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ایچ آئی وی ایڈز نے خود کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام سے بچائے رکھنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے، یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ مدافعتی نظام کی بنیاد پر ایڈز کو شکست دینے کے لیے سائنس دانوں کو فطرت کے خلاف لڑنا پڑے گا۔
گزشتہ صدی جہاں بہت سی ایجادات اپنے جلو میں لائی وہاں دنیا کو ایک ایسے لاعلاج بھیانک اور خوفناک مرض کے بارے میں آگاہ کیا، جس کو ایڈز کا نام دیا گیا۔ ایڈز مخفف ہے ان چار لفظوں کا Acquired immune deficiency syndrome ۔ اس خوفناک مرض نے دریافت ہونے سے لے کر اب تک تقریباً تین کروڑ سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ 2001میں 30لاکھ افراد کی ایڈز کی وجہ سے موت واقع ہوگئی، اس کے علاوہ آج چار کروڑ سے زائد افراد ایچ آئی وی پازیٹو کی زندگی گزار رہے ہیں، جن میں سے 20لاکھ افراد کا تعلق جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا سے ہے، یہ اطلاع عالمی یوم ایڈز کے موقع پر یو این ایڈ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحرا سے ملحق افریقی علاقوں میں جہاں ایڈز موت کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہے، وہاں عالمی سطح پر یہ بیماری دنیا کی چوتھی بڑی بیماری ہے۔ ایک تہائی لوگ 14سے 24برس کی عمر کے ہیں، جن میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ اس موذی مرض کی جکڑ میں آچکے ہیں۔
دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں ایڈز کے بارے میں ’’معمولی معلومات‘‘ بھی نہیں ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 15لاکھ بتائی جاتی ہے۔ مشرقی یوروپ، وسطی افریقہ، مشرقی ایشیا اور خطۂ بحرالکاہل میں ایسے لوگوں کی تعداد 13لاکھ بتائی جاتی ہے۔ شمالی امریکہ میں 5لاکھ، مغربی یوروپ میں 6لاکھ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5لاکھ اور کریبین علاقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں صرف بیس ہزار افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔ میرے حساب سے ایڈز اور ایچ آئی وی کی بیماری اور وبا جہاں تیزی سے پھیل رہی ہے، وہاں یہ لاعلاج مرض بھی ہے۔ اب تک جتنا بھی علاج دریافت ہوچکا ہے، اس سے مریض کی زندگی میں کچھ طوالت آسکتی ہے، مگر اس کی دوائیں بہت مہنگی ہیں، اگرچہ دعاؤں پر کچھ خرچ نہیں آتا ، تاہم ایک ماہ کی دوا پر کم از کم دس ہزار روپے سے بیس ہزار روپے تک خرچ ہوتے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ مغربی ممالک یں جن میں امریکہ سرفہرست ہے، مختلف امراض کے لیے آئے دن نئی نئی دوائیں ایجاد ہوتی رہتی ہیں، چونکہ مقامی بازاروں میں نہ تو ان دواؤں کی بہت زیادہ کھپت ہے کہ لوگ صحت مند ہیں اور نہ ہی دوا ساز کمپنیاں اپنی مرضی کے مطابق منافع کما سکتی ہیں، اس لیے انہیں بیرونی منڈیوں کی تلاش رہتی ہے۔ اس لیے دوسری اور تیسری دنیا کو سب سے بڑی منڈی ہونے کا ’اعزاز‘ حاصل ہے۔ یہاں میں عالمی معاشی نظام وغیرہ کی تفصیلات میں جائے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی دوا ساز کمپنیاں اپنی سرکاری مشینری اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے اپنے حق میں ماحول کو ساز گار بنانے کے لیے اتنا زبردست پروپیگنڈہ کرتی ہیں کہ تھرڈ ورلڈ کے باسیوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ انہیں جو کچھ بتایا جارہا ہے، وہی سچ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تپ دق سے لے کر دمہ تک ملیریا سے لے کر دماغی بخار تک اور برڈ فلو سے لے کر ڈینگو بخار تک میں مبتلا ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد اسی تھرڈ ورلڈ میں پائی جاتی ہے۔ یہی حال کینسر اور امراض قلب کا ہے، لیکن چند برسوں سے جس ایک بیماری کا سب سے زیادہ چرچا ہے اور جسے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک قرار دیا جارہا ہے، وہ ہے ایڈز۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس مرض کا کوئی حتمی علاج یا دوا موجود نہیں ہے اور صرف اس کے پھیلنے کو روکنے اور حفظ ماتقدم اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ ایڈز کوئی متعدی مرض نہیں ہے، تاہم یہ بات باعث تشویش ہے کہ 14سے 44سال کی عمر کے افراد اس میں تیزی سے مبتلا ہوتے جارہے ہیں، ایسے نوجوان جو ’’بے راہ روی‘‘ کی زندگی گزارتے ہیں اور جو شادی بیاہ کو ’’قید‘‘ سمجھتے ہیں اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کے لیے ناجائز راستے اپناتے ہیں، وہ اس مرض الموت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مرض موروثی بھی بن گیا ہے۔ اب اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کے لیے عمر اور جنس کی بھی کوئی قید نہیں رہ گئی، جہاں نوزائیدہ اس مرض کا شکار ہیں، وہاں پچاس تا ساٹھ برس عمر کے مرد اور خواتین بھی اس میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجوہات میں اب صرف ’’ناجائز جنسی اختلاط‘‘ ہی نہیں ہے، بلکہ خون کی منتقلی کے دوران خراب خون کے شامل ہوجانے اور انجکشن کے خراب سرینج سے بھی یہ مرض منتقل ہو رہا ہے۔ ایک اچھی اور اہم بات یہ ہے کہ مرض ایڈز کے تعلق سے ان دوسری وجوہات کے منظر عام پر آنے سے وہ لوگ جو شرم کے مارے مرض کو چھپائے پھرتے تھے، اب علاج پر مائل ہورہے ہیں۔ شہرت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور فن کاروں کی حوصلہ افزائی اور ایڈز کے مریضوں میں گھل مل جانے سے بھی اس مرض کے تعلق سے غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں، پھر بھی ہم مشرقیوں میں کچھ تعداد ایسی ہے جو اس مرض کا انکشاف کرنے کو برا محسوس کرتی ہے۔ آخر میں امریکی سائنس داں پروفیسر بالٹی مور کا بوسٹن میں دیا ہوا ایک انٹرویو کا اقتباس پیش کر کے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔
’’ہمیں ایڈز کو شکست دینے کے لیے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا جو گزشتہ چار ارب سال کے ارتقا کے دوران انسانی جسم نے نہ سیکھا ہو، ہم آج کل یہی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *