اب اور کیا بگڑے گا اس ملک کا ؟

وسیم راشد
مجھے یہ سب مت بتائیے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے میرا اور میرے خاندان کا سو سال سے تعلق ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ کون ایماندار ہے اور کون بے ایمان۔ اگر کل مارکنڈے کاٹجو رشوت لینا شروع کرے گا تو پورے ملک کو اس کی خبر ہوجائے گی۔‘‘
یہ غصہ بھرا بیان ہے جسٹس کاٹجو کا۔ جسٹس کاٹجو کون ہیں؟ جسٹس کاٹجو کوئی معمولی نام نہیں ہے۔ جسٹس کاٹجو مرحوم جسٹس ایس این کاٹجو جو کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج تھے اور جن کے دادا ڈاکٹر کے این کاٹجو سابق مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر دفاع، مغربی بنگال اور اڑیسہ کے گورنر اور مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر رہ چکے ہیں۔ ظاہر ہے جسٹس کاٹجو کو وکالت بھلے ہی وراثت میں ملی ہو، مگر ایمانداری بھی انہیں ورثہ میں ہی ملی ہے اور وہ بے حد ایماندار، محنتی اور قابل جسٹس کے طور پر آج جانے جاتے ہیں۔ اسی طرح چیف جسٹس گیان سدھا مشرا جو کہ جھارکھند ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں اور اس وقت سپریم کورٹ کی واحد خاتون جج ہیں۔ یہ بھی کوئی چھوٹا موٹا نام نہیں ہے۔ سدھا مشرا کے والد بھی جسٹس چندرا مشرا پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ یہ دونوں ہی عدلیہ کے 2اہم ستون ہیں۔ اگر ان دونوں نے الٰہ آباد ہائی کورٹ پر کسی بھی طرح کی کوئی تنقید کی ہے تو اس کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔ اس وقت جب کہ پورا ملک بدعنوانی کا شکار ہے۔ اس وقت ہندوستان کا معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ کسی گھر میں پے در پے لگاتار حادثے ہوتے جائیں یا مسلسل اموات سے کوئی بھی گھر یا خاندان بری طرح ٹوٹ جائے۔ ہندوستان بھی اس وقت ایک ایسا ہی خاندان ہے، جہاں لگاتار گھوٹالے سامنے آرہے ہیںاور مظلوم عوام ان گھوٹالوں میں ایک تماشائی کی طرح بے بسی سے ٹکٹکی باندھے صرف اور صرف عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جس طرح الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ججوں کو نشانہ بنایا اور وہاں کے سسٹم میں گندگی کی بات کی ہے، وہ اس بات کی علامت ہے کہ اب عدلیہ پوری طرح بیدار ہوچکی ہے۔ حالانکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک پٹیشن دائر کی ہے، جس کے تحت انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنا بیان واپس لینے کی اپیل کی، مگر ان دونوں نے یعنی جسٹس کاٹجو اور سدھا مشرا نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ججوں کو باقاعدہ پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ یہ وقت رد عمل ظاہر کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اپنے اندر جھانکنے کا ہے۔ بات بھی ٹھیک ہے، الٰہ آباد ہائی کورٹ میں جس طرح بھائی بھتیجا واد نے پورے سسٹم کو خراب کررکھا ہے، جس طرح صرف چار یا پانچ سال پریکٹس کرنے والے وکیل لکھ پتی کروڑ پتی بنے بیٹھے ہیں، اس سے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ سب کچھ قانون کی آڑ لے کر ہو رہا ہے۔ اب جب کہ بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اعداد و شمار میں ہندوستان کو سب سے بدعنوان ملکوں میں شمار کیا ہے تو سوچ لیجیے اس ملک کا کیا ہوگا؟ اس ہمارے پیارے ہندوستان میں جہاں ہر چوتھے آدمی کو رشوت دینی پڑتی ہے اور وہ بھی کسی اور کو نہیں پولس، انتظامیہ، لیڈران اور ممبران پارلیمنٹ کو، تو سوچ لیجیے کہ کیسے یہ رشوت کا کالا سایہ چاروں طرف سے ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ اب دیکھ لیجیے پرسار بھارتی کے سی ای او جناب بی ایس لالی کو، جن کے خلاف اب کئی کیس سامنے آرہے ہیں، جن پر کرکٹ میچوں کے ٹیلی کاسٹ کو اپنی من پسند کمپنیوں کو دیے جانے کا بھی الزام ہے۔ یہ جناب لالی آج سے نہیں کئی سالوں سے پرسار بھارتی میں مختلف قسم کی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ خود وہاں کے جو ہمارے دوست ہیں، وہ ہر بار یہی شکایت کرتے تھے کہ وہ شخص بہت ہی کرپٹ ہے، مگر آج جب کہ ہماری صدر صاحبہ کے سامنے معاملہ آیا تو ہی ہم جاگے ہیں۔ ہاں ان تمام باتوں میں ایک بات ضرور خوش کن ہے کہ گزشتہ 10سالوں میں ہم بری طرح گھوٹالوں کا شکار رہے، مگر اب کم سے کم سب کچھ سامنے تو آرہا ہے۔ غریب عوام مہنگائی کے بوجھ سے دبتی چلی گئی اور بدعنوان لیڈر اور افسر اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ ایک بات اس ضمن میں اور اہم ہے کہ کپل سبل جی نے جس طرح ایک رکنی کمیٹی بنا کر اتنے بڑے 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ کے لیے 4ہفتوں کا وقت دیا ہے، وہ ایک مذاق سا لگ رہا ہے۔ اربوں، کھربوں کا گھوٹالہ اور ایک رکنی کمیٹی چہ معنی دارد؟
نہ جانے کتنے مسائل، کتنے موضوعات ہیں جو قلم اٹھانے کے بعد چھوڑے ہی نہیں جاتے۔ گزشہ دنوں وارانسی میں شیتل گھاٹ پر ہوئے بم بلاسٹ نے ایک معصوم بچے کی جان لے لی اور تقریباً 60لوگوں کو زخمی کردیا۔ اس بلاسٹ کے بعد انڈین مجاہدین نامی فرضی تنظیم نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے۔ انڈین مجاہدین جس کا نام ایک بار پھر سے سرخیوں میں ہے۔ انڈین مجاہدین کا نام سب سے پہلے 13مئی کے جے پور دھماکوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ پولس کو ایک ای میل موصول ہوا تھا، جس میں انڈین مجاہدین نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، پھر لگاتار احمد آباد، سورت، بنگلور، دہلی پر دھماکہ کے بعد یاتو ایک ای میل موصول ہوتا ہے یا پھر فون کال اور ایک بات اور 4صفحہ کے ای میل کی شروعات یہ انڈین مجاہدین صفحہ کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر کرتے ہیں۔ یعنی اپنے اس گھناؤنے کام کو وہ اللہ کا نام لے کر شروع کرتے ہیں۔ جانے کیوں عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ یہ انڈین مجاہدین اگر مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں تو کون سا مذہب اسلام ہے وہ جس کے پیروکار ہیں، کیوںکہ اللہ، رسول اللہﷺ آپ اور ہم میں سے کسی کا مذہب بے قصوروں، نہتوں، عورتوں، بچوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن پاک جو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں بھی کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ بے قصوروں کو مارا جائے یا پھر ان پر ظلم کیا جائے تو یہ انڈین مجاہدین جو اپنے کام کو اللہ کے نام سے شروع کرتے ہیں، یہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اگر واقعی اس نام کی کوئی اسلامی تنظیم ہے(جس کو کہ عقل نہیں مانتی) تو پھر اس کو اپنے اس گھناؤنے عمل پر شرمسار ہونا چاہیے۔ کہیں اس تنظیم کو صرف اسلام کے نام پر بٹہ لگانے اور مسلم نوجوانوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے تو نہیں بنایا گیا، کیوں کہ اس تنظیم کے تعلق سے ابھی تک عام مسلمانوں میں کنفیوژن ہے اور جس طرح سنگھ پریوار کا نام کئی دھماکوں میں سامنے آیاہے تو ایسا تو نہیں کہ سب کچھ سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ ہو، خیر ہمیں یہاں صرف اتنا کہنا ہے کہ اسلام کے نام پر خون خرابہ کرنے والے یقینا ہم میں سے نہیں ہیں۔
نہ جانے کیوں لکھتے لکھتے فرانس کے صدر نکولس سرکوزی یاد آگئے۔ جی ہاں وہ اس لیے یاد آئے کہ جب وہ دہلی میں وزیراعظم سے ملے تو ہمارے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ان سے فرانس میں سکھوں کی پگڑی کو لے کر کافی بات چیت کی۔ ہمیں یہاں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ منموہن جی صرف سکھوں کے وزیراعظم نہیں ہیں، وہ ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی، پارسی اور جتنی بھی ہندوستان میں مذاہب ہیں، سب کے وزیراعظم ہیں، جس طرح انہوں نے پگڑی کی بات کی، انہیں حجاب کی بات بھی کرنی چاہیے تھی، کیوں کہ فرانس میں مسلم خواتین کے لیے حجاب پہننا منع ہے اور ان کو اس کے لیے کچھ سزا بھی ملتی ہے تو بس ہمیں تو یہی کہنا تھا کہ ہمارے وزیراعظم کو ضرور ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے بھی اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ہندوستان میں سکھوں کی تعداد صرف ایک سے ڈیڑھ کروڑ ہے، جبکہ مسلمان بیس کروڑ کی تعدا میں ہیں، تو اس لحاظ سے وزیر اعظم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکوزی سے مسلمانوں کا تذکرہ پہلے کرتے اور سکھوں کا بعد میں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *