آدرش گھوٹالہ پر اے کے انٹونی کی خاموشی

اسپیکٹرم گھوٹالے میں پی ایم خاموش رہے۔ نتیجتاً انہیں عدالت عظمیٰ کو جواب دینا پڑا۔ راجا کو استعفیٰ دینا پڑا۔ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی معاملے میں بھی وزیر دفاع اے کے انٹونی سالوں خاموش رہے، لیکن کوئی ان سے جواب نہیں مانگ رہا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کو موصول ہوئے خطوط سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرز پر پی ایم او، راجا کی غلطی کو چھپاتا رہا، اسی طرز پر انٹونی صاحب نے اپنے فوجی افسران کی غلطی پر منہ کھولنا ضروری نہیں سمجھا۔ جب کہ ایک ممبر پارلیمنٹ نے مہینوں پہلے انہیں ان سب کی اطلاعات دی تھی۔ ’چوتھی دنیا‘ کا اہم جائزہ۔

ششی شیکھر
آدرش گھوٹالہ، سن کر اچھا نہیں لگتا۔ کیا کوئی گھوٹالہ بھی آدرش ہوسکتا ہے؟ لیکن فوجی افسران، لیڈروں، نوکرشاہوں کی ملی بھگت اور وزیر دفاع کی خاموشی سے وجود میں آیا آدرش نامی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا گھوٹالہ،جو سیاست میں ایک نئے آدرش کو وجود میں لا رہا ہے۔ وہ آدرش ہے، تب تک خاموش رہو، جب تک کہ میڈیا یا عدالت اپنا ڈنڈا نہ چلا دے۔ پرانی کہاوت ہے۔ ’ایک چپ، سو سکھ‘۔ لیکن کبھی کبھی یہ خاموشی مہنگی بھی پڑ جاتی ہے۔ اسی کا ایک نمونہ 2جی اسپیکٹرم میں دیکھنے کو ملا۔ اس معاملے میں وزیراعظم کو اپنا منہ بند رکھنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ راجا کو تو ہٹایا ہی گیا، وزیر اعظم کو بھی سپریم کورٹ میں جواب دینا پڑا، لیکن یو پی اے حکومت کے مکھیا یا پی ایم او ہی نہیں بلکہ کئی ایسے وزیر اور بھی ہیں جن کے اوپر کسی بھی شکایت یا مشورہ کا اثر نہیں پڑتا۔ ایسے ہی ایک وزیر ہیں، اے کے انٹونی۔ ملک کے وزیر دفاع اور آدرش لیڈر کی شبیہ والے انٹونی صاحب نے آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالے میں جو خاموشی اختیار کی وہ تبھی ٹوٹی جب ایک ایک کر کے فوجی افسروں کے نام اس گھوٹالے سے جڑتے چلے گئے۔ تب انہوں نے بیان دیا کہ’ آئی ایم شاکڈ۔‘
لیکن ’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس دستیاب (ایک ممبر پارلیمنٹ کا خط) اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انٹونی کا مذکورہ بیان محض ایک دکھاوا تھا۔ انہیں اس پورے گھوٹالے کا علم بہت پہلے سے تھا۔ گھوٹالے سے منسلک ایک ایک پہلو کے بارے میں انہیں مہینوں پہلے سے پتہ تھا اور سب سے خاص بات یہ کہ انہیں یہ جانکاری کسی ادارہ یا کسی عام آدمی نے نہیں دی تھی، بلکہ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق گھوٹالے کی خبر سماجوادی پارٹی کے ایک ممبر پارلیمنٹ یشبیر سنگھ نے اگست 2010میں ہی خط کے ذریعہ دی تھی۔ یشبیر سنگھ اترپردیش کے نگینہ لوک سبھا حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ اس خط میں یشبیر سنگھ نے انٹونی صاحب تک آدرش سوسائٹی سے متعلق ہر ایک اطلاع اگست میں ہی پہنچا دی تھی۔ اپنے خط میں یشبیر سنگھ نے صاف صاف لکھا ہے کہ آدرش کو آپریٹیو سوسائٹی(لمیٹڈ) نے غیر قانونی طریقے سے قلابہ کے رہائشی علاقہ نیوی نگر اور دفاعی تنصیبات کے آس پاس عمارت تعمیر کی ہے۔ یہ اسکیم کارگل جنگ میں شہید ہوئے لوگوں کے خاندان والوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ یشبیر سنگھ نے اپنے خط میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ یہ اسکیم 80فیصد غیرفوجی شہریوں کو الاٹ کی گئی ہے۔ یشبیر سنگھ نے اس خط کی ایک ایک کاپی وزیر مملکت برائے دفاع ایم ایم پلم راجو اور ویسٹرن نیول کمانڈ کے ایف او سی انچارج (لیگل اینڈ انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ) کو بھی بھیجی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یشبیر سنگھ کے اس خط کا جواب وزیر دفاع اے کے انٹونی اور وزیر مملکت برائے دفاع ایم ایم پلم راجو فوری دیتے ہیں۔ 18اگست کو لکھے گئے اس خط کا جواب اے کے انٹونی 21اگست کو ہی دے دیتے ہیں۔ ایم ایم پلم راجو بھی 26اگست کو اس خط کا جواب دے دیتے ہیں۔ خط کا جواب جس تیزی سے دیا جاتا ہے اس سے تو ایک بار یشبیر سنگھ کو بھی لگا ہوگا کہ ان کے خط لکھنے کا کوئی ٹھوس اثر ضرور ہوگا اور وزیر محترم کی طرف سے اس معاملے کی فوری جانچ کروائی جائے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اب ذرا اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر وزیر محترم نے اپنے جواب میں لکھا کیاہے؟ اے کے انٹونی اپنے جواب میں یشبیر سنگھ کو مطلع کرتے ہیں کہ مجھے آپ کا خط ملا اور میں اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں۔ یہی جواب ایم ایم پلم راجو کا بھی آتا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ویسٹرن کمانڈ کے ایف او سی انچارج(لیگل اینڈ انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ) کی طرف سے کوئی جواب یشبیر سنگھ کو نہیں ملا۔
یشبیر سنگھ نے اپنے خط میں وزیردفاع کے سامنے سب سے اہم بات رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ مذکورہ عمارت دفاعی تنصیبات کے 300میٹر کے دائرے کے اندر بنائی گئی ہے۔ یشبیر سنگھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ مذکورہ عمارت قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے، کیوں کہ اتنی اونچی عمارت سے کوئی بھی غیرسماجی عناصر دفاعی تنصیبات میں چل رہی سرگرمی اور نول وارشپ موومنٹ پر نظر رکھ سکتا ہے اور اس سے متعلق خفیہ اطلاعات دشمن ملک کو پہنچا سکتا ہے۔ یشبیر سنگھ وزیرمحترم سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس بات کی جانچ کرائی جائے کہ کس کے حکم پر ایک پرائیویٹ بلڈر نے دفاعی تنصیبات کے نزدیک اور عام لوگوں کے لیے ممنوعہ علاقہ میں اتنی اونچی عمارت بنا دی،لیکن ایک ممبر پارلیمنٹ کی شکایت پر بھی وزیر دفاع نے کوئی کارروائی کرنے یا جانچ کے حکم دینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اگست میں کی گئی شکایت کے بعد جب اکتوبر کے آخری دنوں میں آدرش نام کا گھوٹالہ بوتل سے باہر نکلا تب وزیر دفاع نیند سے بیدار ہوئے۔ وہ تب نیند سے بیدار ہوئے جب پتہ چلا کہ جنرل دیپک کپور اور جنرل این سی وج کے علاوہ سابق بحریہ چیف ایڈمرل مادھویندر سنگھ کے نام پر سوسائٹی میں تمام قاعدے قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے فلیٹ الاٹ کیے گئے۔ جب کہ اس میں کارگل جنگ کے شہیدوں کے خاندان کو فلیٹ دینے کا بند وبست کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انکشاف ہونے کے بعد ان افسروں نے کہا کہ انہوں نے اپنے فلیٹ واپس کر دیے ہیں۔ اس طرح جب انٹونی صاحب کے اپنے ہی سابق فوجی افسروں کی پول کھلنی شروع ہوئی تو بیان آیا کہ’ آئی ایم شاکڈ۔‘ یہ کیسا ’شاک‘ تھا؟ کیا انٹونی صاحب کو اس کی اطلاع نہیں تھی؟ یا سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ اپنے وزیراعظم کی راہ پر چل رہے تھے۔ یعنی اقتدار کا مزہ لینا ہے تو خاموش رہو۔ یہاں تک کہ حکومت آدرش رہائشی سوسائٹی گھوٹالہ معاملے کی جانچ کے لیے (جے پی سی) کی تشکیل کی اپوزیشن کی مانگ پر بھی توجہ دینے سے کترا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کی خاموشی پر تو سپریم کورٹ نے جواب مانگ لیا، لیکن اے کے انٹونی کی خاموشی کا حساب کون مانگے گا؟

اس جانچ کا کیا ہوگا

میڈیا میں خبر آنے کے بعد وزیردفاع اے کے انٹونی نے آدرش معاملے میں مسلح دستوں اور دفاعی افسروں کی جواب دہی کی جانچ کرنے کے لیے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا۔ یہ حکم ان حالات کی جانچ کے لیے تھا کہ جس کی وجہ سے فوج کی زمین پر 31منزلہ عمارت بنانے کے لیے این او سی جاری کیا گیا، لیکن اس جانچ کا مطلب کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟ یہ اس بات سے پتہ چل جاتا ہے کہ آدرش کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق اہم دستاویز گم ہوگئی ہیں۔ سوسائٹی دفتر کی فائلوں سے یہ اہم دستاویز لاپتہ ہیں۔ یہ دستاویز سی بی آئی کو جانچ کے لیے سونپی جانی تھیں۔ ان دستاویزات میں کچھ اہم لوگوں کے دستخط تھے۔ یہ دستخط آدرش اسکیم کو منظوری دینے کے لیے کیے گئے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ دستاویزات گم ہوئی ہیں یا گم کرائی گئی ہیں، اس کا اندازہ لگا پانا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔ دستاویز گم ہونے کے واقعہ سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ اس گھوٹالے کے تار کہاں سے کہاں تک جڑے ہوسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے پیچھے اتنے طاقت ور لوگ ہیں جو سرکاری دستاویز ات کو غائب کرا نے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن انٹونی صاحب ملک کے عوام ہر ایک سوال آپ ہی سے پوچھیںگے، آپ کے افسروں سے نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *