!دشمن کا یہ حربہ بھی ناکام ہوگا


انتیس نومبر کو تہران میں صیہونی حکومت کے زرخرید ایجنٹوں نے دہشت گردانہ کارروائی کے دوران دو ایرانی ایٹمی سائنس دانوں پر قاتلانہ حملے کیے۔ ان حملوں میں پروفیسر مجید شہریاری شہید ہو گئے جبکہ پروفیسر فریدون عباسی زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بھی بارہ جنوری کو دہشت گردوں نے تہران میں ہی تہران یونیورسٹی کے پروفیسر مسعود علی محمدی کو ان کے گھرجاہر شہید کر دیا تھا۔
انقلاب اسلامی کے ساتھ عالمی سامراج کی دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ہی اس دشمنی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو تین عشرے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی بدستور جاری ہے۔ ایک طرف تو عالمی سامراج نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا نعرہ لگا رکھا ہے اور دوسری طرف وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں کی سرپرستی حاصل کر رہا ہے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مقدس اسلامی نظام کے دشمنوں نے قتل و غارت گری کے ذریعے اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن جب وہ اس میں ناکام رہا تو اس نے اپنے پٹھو صدام کے ذریعے ایران پر فوجی حملہ کروا دیا۔ آٹھ سال تک عالمی سامراج اور اس کے حامیوں نے اپنے پٹھو صدام کی بھرپور مالی و فوجی حمایت کی، لیکن وہ ایران اور ایرانی قوم پر غلبہ پانے میں ناکام رہے۔ تمام تر حملوں ، پابندیوں ، مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایرانی قوم نے اپنی ترقی و پیش رفت کے راستے کو جاری رکھا اور آج وہ بڑی تیزی کے ساتھ ہر شعبے میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہے جو دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور وہ اسے روکنے کے لیے ہر ہتھکنڈے اور حربے کو استعمال کر رہا ہے لیکن ایرانی قوم پوری استقامت اور پختہ عزم کے ساتھ ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ ایران نے گزشتہ کچھ عرصے سے ایٹمی میدان میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی ہیں اور وہ ایران کو اس کے پرامن ایٹمی پروگرام سے روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ گاہے بگاہے ایران کو فوجی حملے کی دھمکی بھی دیتا رہتا ہے لیکن پرامن ایٹمی توانائی کا حصول دنیا کے تمام ممالک کا قانونی حق ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کا رکن ہونے کی حیثیت سے بھی اس کو یہ حق حاصل ہے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی بھی اس بات کی پابند ہے کہ وہ پرامن ایٹمی توانائی کے حصول کے سلسلے میں اپنے رکن کی مدد کرے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں جاری ہے اور آئی اے ای اے کی متعدد رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اس میں کسی قسم کا انحراف نہیں پایا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ کی سرکردگی میں عالمی سامراج ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اپنا پرامن ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔ یہ مطالبہ ایسے ممالک کر رہے ہیں کہ جن کے گودام ایٹمی ہتھیاروں سے بھرے پڑے ہیں اور وہ خود انسانیت کے خلاف ایٹم بم کا استعمال ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ کر چکے ہیں۔ یہ ممالک ایران کے خلاف کہ جس کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں ہے اور جس نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا ہے اور نہ ہی ایٹمی ہتھیاروں کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے، ایک محاذ بنائے بیٹھے ہیں اور اس کو پرامن ایٹمی توانائی کے حصول سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس کے لیے ایک طرف تو انہوں نے ایران پر طرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں اور دوسری طرف وہ اس کے ساتھ مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں۔ ایران نے بارہا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ ہر مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے لیکن یہ بات ہر طرح کی قید و شرط سے آزاد ہونی چاہیے۔ پرامن ایٹمی توانائی کا حصول اور یورینیم کی افزودگی عالمی قوانین کے مطابق اس کا قانونی حق ہے۔
آج ایران اپنے نوجوان سائنس دانوں کی استعداد و صلاحیتوں سے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ ایک ایسی ٹیکنالوجی کہ جس پر چند ملکوں نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور وہ کسی دوسرے ملک کو یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایران تمام تر پابندیوں کے باوجود ترقی و پیشرفت کی منازل طے کر رہا ہے اور دشمن گزشتہ تین عشروں کے دوران اپنی تمام تر سازشوں اور کوششوں کے باوجود ایران کو اپنے اصولی موقف سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ آج ملت ایران پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اس کے حکام بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران اپنے اصولی موقف سے کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹے گا اور ملت ایران کے فرزندوں کی شہادت اس کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے اس کے ارادوں کی مضبوطی کا باعث بنے گی۔
بشکریہ: عرب ورلڈ سروس


Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *