اردو اخبارات کو جذبات سے نہیں مسائل سے جوڑئے

وسیم راشد
نہ جانے کیوں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ دہلی کے اردو اخبارات پر بات کی جائے۔ دہلی میں اس وقت لا تعداد اردو اخبارات نکل رہے ہیں، مگر ان کا معیار کیا ہے وہ کس حد تک مسلمانوں کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں یہ بات بہت اہم ہے۔آج کے اردو اخبارات پر بات کرنے سے قبل ذرادہلی کے اردو اخبارات کی تاریخ اٹھا لی جائے تو بہتر ہوگا۔
اردو صحافت کو چار ادوار میں تقسیم کیاجاتا ہے اور یہ چار ادوار جو نہ صرف پورے ہندوستان کی صحافت کے اہم ستون ہیں، بلکہ دہلی کی صحافتی سرگرمیاں بھی ان سے وابستہ رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ پہلاعہد جسے ہم 1822سے 1857کا عہد مانتے ہیں، جس میں اردو کاپہلا اور ہفتہ وار اخبار ’جام جہاں نما‘، جو کلکتہ سے نکلتا تھا اور اس دور کا مشہور اخبار ’دہلی اردو اخبار‘ جو مولوی محمد باقر نے نکالا تھا، کا بھی عہد ہے۔ دہلی کے اس اخبار نے 1857کی آزادی کی لڑائی کی پہلی کوشش میں نمایاں رول ادا کیا تھا۔ اسی زمانے میں دہلی میں ’صادق الاخبار‘ بھی نکلا کرتا تھا۔ دہلی میں ہی اس زمانے میں سرسید احمد خاں کے بڑے بھائی نے بھی ایک اخبار ’سیدالاخبار‘ کے نام سے نکالا تھا۔ دوسرا عہد 1858سے 1947تک کا اگر ہم لیں تو ہندوستان میں تو کئی اخبار نکلے، جن میں’تہذیب الاخلاق‘، ’اردوئے معلی‘، ’الہلال‘، ’البلاغ‘، ’زمیندار‘ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس میں ممبئی سے ’خلافت‘ بہت اہم اخبار تھا۔ لاہور کا’سیاست‘ بھی اسی دوسرے دور کا اخبار ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اپنا سہ روزہ اخبار ’الجمعیۃ‘ نکالا۔ دہلی سے اس دوسرے دور میں جماعت اسلامی نے پہلا ہفتہ وار ’دعوت‘ جاری کیا، جو کئی سال چل کر روزنامہ ہوا۔
اسی زمانے میں مولانا عبدالوحید صدیقی نے دہلی سے ’نئی دنیا‘ جاری کیا، جو ہفتہ وار کی صورت میں اب بھی نکل رہا ہے۔ آزادی کی تحریک کے دور میں ہی لاہور سے مہاشے کرشن نے ’پرتاپ‘ اور لالہ خوشحال چند نے ’ملاپ‘ نکالا، جو اب بھی مجھے یاد ہے۔ ہمارے بچپن سے شعور کی منزلوں تک یعنی 1970سے 1980-85تک بہت مشہور تھے۔ دہلی میں ہی سوامی شردھا نند نے ’تیج‘ نکالا اور سب جانتے ہیں کہ ان کے قتل کے بعد دیش بندھو گپتا، منشی گوپی ناتھ اخبار ہوا کرتے اور جمنا داس اختر جیسے بڑے صحافی اس کے ایڈیٹر رہے۔ جمنا داس اختر نے ’تیج‘ سے الگ ہو کر سویرا نکالا اور اسی دوسرے دور کا سب سے اہم نام ’قومی آواز‘ ہے، جو بدقسمتی سے اب بند ہوچکا ہے۔ مگر ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ گھر میں ہمارے بچپن میں ہماری والدہ، والد اور بڑے بھائی اس اخبار کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے اور جب ہم نے شعور سنبھالا تو ہم بھی اس کے اسیر ہو گئے۔ شاید 1987یا 1988میں جب میرٹھ، ملیانہ فساد ہوئے تو ہم نے بھی ایک کہانی لکھی، جس کا عنوان تھا ’اور انسانیت سسکتی رہی‘ اور ’قومی آواز‘ کے دفتر پہنچی، وہاں ملاقات ہوئی نور جہاں ثروت آپا سے اور آج بھی مجھے ان کی وہ شفقت اور محبت یاد ہے اور اس کہانی کا چھپنا بھی، کیوں کہ اس وقت ’قومی آواز‘ میں کچھ بھی شائع ہونا فخر کی بات تھی اور ہم پھولے پھولے پھر رہے تھے کہ ہماری کہانی شائع ہوئی ہے۔ دوسری عالم گیر جنگ کے وقت میں دہلی سے ’جنگ‘ اور ’انجام‘ نکلا کرتے تھے، جو آزادی کے بعد پاکستان سے نکلنے لگے اور آج تو ’جنگ‘ کا نام پوری دنیا میں مشہور ہوچکاہے۔ اسی دور میں ممبئی سے ’انقلاب‘، ’ہندوستان‘، ’آفتاب‘، ’جمہوریت‘ وغیرہ اخبار نکلے اور اس میں انقلاب بھی آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ آج کتنا مشہور ہے اور اب سنا ہے دہلی سے باقاعدہ نکل کر دھوم مچانے والا ہے۔
یقینا دوسرا دور بہت اہم ہے اور آزادی کے بعد بھی جو اخبار نکل رہے ہیں، وہ اس دوسرے دور سے کچھ ابھی تک جڑے ہوئے ہیں۔
تیسرا دور جو 1947کے بعد کا ہے۔ ظاہر ہے تقسیم نے نہ صرف رشتوں کی اور سرحدوں کی تقسیم کی، بلکہ بہت حد تک اردو زبان کو بھی تقسیم کردیا۔ پاکستان کی قومی زبان اردو بنی اور ہندوستان کی ہندی۔ اردو صحافت پر بھی اس کا گہرا اثر ہوا۔ ظاہر ہے بہت سے اخبار بند ہوگئے۔ بہت سے مشہور صحافی پاکستان چلے گئے۔ ہاں دہلی میں دیکھا جائے تو یہ’ملاپ‘ اور ’پرتاپ‘ کا دور تھا اور آزادی کے بعد تو آفسیٹ کی چھپائی کے ساتھ ساتھ دہلی سے بہت سے نامور اخبار نکلنے لگے، جس میں روزنامہ،، ہفت روزہ، ماہنامہ وغیرہ سبھی بھی شامل ہیں۔ ’ملاپ‘، ’پرتاپ‘، ’الجمعیۃ‘ ان میں 70اور 80کی دہائی میں ’نئی دنیا‘ اور ’اخبار نو‘ کافی مشہور اخبار رہیں، جس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ہفت روزہ تھے اور پورے ملک میں پہنچتے تھے۔ سہ روزہ اخباروں میں جماعت اسلامی کا ’دعوت‘ اور مولانا وحیدالدین خان کا ’الرسالہ‘ بھی کافی مشہور رہے۔ اب ہم آجاتے ہیں دہلی سے نکلنے والے آج کے دور کے کچھ اخباروں پر، تو دہلی سے اس وقت روزنامے کافی نکل رہے ہیں، جن میں ’صحافت‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’ہندوستان ایکسپریس‘، ’ہمارا سماج‘، ’اخبار مشرق‘، ’ان دنوں‘، ’جدید خبر‘، ’قومی پرچم‘،’ہمارا مقصد‘، ’سیکولر قیادت‘، ’قاصد‘، ’سیاسی افق‘ اور ان کے ساتھ ساتھ ’پرتاپ‘اور ’ملاپ‘اب بھی نکل رہے ہیں، مگر اب وہ نام اور شہرت نہیں ہے۔ پندرہ روزہ اخباروں میں ’خبردار‘، ’اخبار نو‘، ہفت روزہ میں ’نئی دنیا‘ اور ’عالمی سہارا‘ جو اب میگزین کی شکل لے چکا ہے اور ایک نیا اردو انٹرنیشنل اخبار جس کی میں ناچیز ایڈیٹر ہوں ’چوتھی دنیا‘ ہے، حالانکہ ان سبھی میں ’قومی آواز‘ کی کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے، کیوں کہ ’قومی آواز‘ کے سنڈے ضمیمہ کا انتظار کیا جاتا تھا۔ ایک پارٹی سے منسلک ہونے کے باوجود ’قومی آواز‘نے کبھی بھی اپنے معیار کو گرنے نہیں دیا۔ موہن چراغی کے اداریے ایک زمانے میں بہت پڑھے جاتے تھے اور ’قومی آواز‘ کا بند ہونا اردو صحافت کے لیے ایک ناقابل فراموش جھٹکا تھا۔ حالانکہ ’قومی آواز‘ کے ساتھ ساتھ ہی ’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘ نے بھی خوب دھوم مچائی، مگر آج بھی ’قومی آواز‘ کا قاری اس کی تلاش کرتا ہے۔ اس میں ’اخبار مشرق‘ کو جو مقبولیت کلکتہ میں حاصل ہوئی، وہ دہلی میں نہ ہوسکی۔ ہاں ’روزنامہ صحافت‘ نے دہلی میں اچھی ساکھ قائم کرلی ہے، مگر لکھنؤ اور ممبئی میں جو معیار اس اخبار کا ہے اور جو قارئین کی محبت اسے وہاں میسر آئی، وہ دہلی ایڈیشن کو حاصل نہ ہوسکی۔ ’ہمارا سماج‘ بھی ابھی اتنا مقبول نہیں ہے اور ’ہندوستان ایکسپریس‘ کا بھی ابھی اتنا نام نہیں ہے۔ محمد آصف کی ادارت میں ’ان دنوں‘ کئی صوبوں سے شائع ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں اس گروپ سے ’لبنیٰ‘ جیسی نیوز میگزین بھی شائع ہوئی تھی۔ ہفت روزہ میں ’نئی دنیا‘ کافی مشہور ہے، مگر جس طرح کے جذباتی مضامین اس میں شائع ہوتے ہیں، اس سے مذہبی عقیدت مندی کو تو فروغ مل سکتا ہے، مگر سیاسی مضامین میں جذباتیت کا عنصر زیادہ ہے۔ اصل میں آزادی کے بعد سے مسلمانوں کا سب سے منفی پہلو یہ رہا کہ انہوں نے کبھی خود کو ملک کے مسائل سے نہیں جوڑا۔ زبان زیادہ ترپیار، محبت، رومانیت سے جڑی رہی اور جب اس سے باہر نکلی تو جذباتی مسائل میں داخل ہوگئی۔ بے کاری، مہنگائی، استحصال، نابرابری، ناانصافی یہ سب مسلمانوں کے ہی مسائل نہیں ہیں، بلکہ ملک کے مسائل ہیں، تو جتنے یہ مسلمانوں کو پریشان کرتے ہیں،اتنے ہی دوسرے مذاہب کے لیے بھی پریشان کن ہیں، جتنے بھی آج کے اردو اخبار ہیں، چاہیں نمبر 1 یا غیر سب سے آخری نمبر کا اخبار اب نمبر ایک اور آخری کون سا ہے اس کا تعین تو آپ کیجیے، مگر سب ایک ہی طرز پر چل رہے ہیں اور زبان یا اخبار کی ترقی یا صحافت کے فروغ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے لیے اخبار اور زبان کا استعمال کر رہے ہیں، جو سب سے کمزور ہے، وہ سوچ رہا ہے کہ کیسے Corporator ہوجائے اور جو سب سے مشہور، بڑا اور طاقتور ہے، وہ گورنر اور راجیہ سبھا کی دوڑ میں ہے، یہ بتائیے اردو کی دوڑ میں کون ہے؟ مسئلوں کی دوڑ میں کون ہے۔ کونسا ایسا اخبار ہے جو نوجوانوں کے خواب پورے کرنے کا کام کر رہا ہے، سوائے جذبات بھڑکانے کے۔ وہی سب کچھ علی گڑھ، جامعہ، بابری مسجد، مسلم پرسنل لاء، جمعیۃ علماء ہند کی آپسی دشمنی، بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر سب اپنی اپنی روٹی پر دال کھینچنے کے چکر میں ہیں۔اردو اخبارات کی زبان پر بھی بات کرنا چاہتی تھی، لیکن صرف زبان پر ہی بات کرنے بیٹھی تو کم سے کم دو گھنٹے لگ جائیں گے،اس لیے دو مثالیں دوں گی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ایک اخبار نے سرخی لگائی ’’مسلمان بابری مسجد کے آلۂ وجود کو ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ جانے کی تیاری میںہیں۔‘‘ ایک ڈپلومیٹ کا لندن میں ایکسیڈنٹ ہو ا ان کو بہت ہی سیریس حالت میں دہلی لایا گیا۔ اخبار نے سرخی لگائی ’’ڈپلومیٹ کو سنجیدہ حالت میں دہلی لایا گیا‘‘ ۔ ایک صاحب کی کئی اداروں سے وابستگی تھی ان کے بارے میں اخبار میں سرخی تھی’’ فلاں صاحب کئی اداروں میں ملوث پائے گئے‘‘۔ خیر ! اگر ہم دیکھیں توانگریزی کی سطح پر کوئی ایک بھی اردو اخبار نہیں ہے۔ دنیا ایک چھوٹے سے گلوبل میں داخل ہوچکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے دامن دنوں دن وسیع ہوتے جارہے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے جیسے اردو اخبارات تجزیہ و نتائج کی سطح پر اپنا مرکزی رول ادا کرنے کے معاملے میں اب بھی پیچھے رہ گئے ہوں۔ اردو اخبارات آج بھی قومی مسائل سے آگے کی دنیا تلاش کرنے میں یکسر ناکام ہیں۔ پورے پورے صفحے کے اشتہارات، وہی گھسے پٹے اداریے، وہ چٹ پٹی مصالحے دار خبریں ڈھونڈ ڈھونڈ کر چھاپنا، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اخبار کو عام آدمی سے اس کی پریشانیوں سے اور اس کے خیالات سے جوڑا جائے۔ علم تجارت نہیں ہوسکتا اور اخبار نکالنا بھی علم ہے تجارت نہیں۔ اردو اخبار کو جذباتیت سے نکالنے کی ضرورت ہے، سیکولر خیالات اور آپسی میل ملاپ کی تبلیغ کی ضرورت ہے۔ اس وقت پورے ہندوستان میں تقریباً 44 Onlineاخبار بھی ہیں، جس میں تقریباً 11؍ اردو اخبار ہیں۔
25؍جون 2010کو اردو ایڈیٹرز کانفرنس میں شیلادکشت جی نے کہا تھا کہ اردو اخباروں کی تمام پریشانیوں کا حل نکالا جائے گا اور 7؍لوگوں کی کمیٹی بنانے کی بات بھی کہی تھی اور انہوں نے اردو اخبارات کو اشتہارات دلانے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کانفرنس میں یہ بات اٹھی تھی کہ چونکہ اقلیتوں کی پریشانیوں اور ان کے مسائل کو زیادہ تر اردو اخبار ہی اٹھاتے ہیں تو اقلیتوں سے متعلق اشتہارات ان کو ہی ملنے چاہئیں، اس کانفرنس میں کافی نامور ہستیاں تھیں، مگر ابھی تک اس کا بھی کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکلا ہے۔ اس کے بعد این سی پی یو ایل نے بھی ایک میٹنگ کر کے اردو صحافیوں سے بات چیت کی تھی، جس میں اردو صحافیوں کی ٹریننگ اور ٹرانسلیشن کا کورس شروع کرنے پر کافی زور دیا گیا تھا، مگر وہ بھی ابھی تک صرف ہوا میں ہی ہے۔
نئے ہزارہ کے ان دس برسوں میں اردو کی صورت حال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، مایوسی کے بادل چھٹے ہیں۔ دہلی سے ’بیسیویں صدی‘ پابندی سے شائع ہونے والا رسالہ ہے۔ سنا ہے بنگلور سے ماہنامہ ’شمع‘ نے دوبارہ نکلنا شروع کیا ہے۔ 15؍اگست 2010کا دن ہندوستان کی تاریخ کا اہم دن تھا، جب پارلیمنٹ میں تقریباً سبھی پارٹی لیڈران نے اردو زبان کی حمایت کی اور اخبارات کے ساتھ اشتہارات نہ دینے کی ناانصافی کی بات کی، مگر اس ضمن میں مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ہاتھی کے دانت ہیں جو کھانے کے اور ہیں اور دکھانے کے اور۔ سوچئے کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا، جو کہتا بھی ہے، اس کا اپنا مقصد کہیں نہ کہیں پنہاں ہوتا ہے، جو کرنا ہے آپ کو خود اپنے بل بوتے پر کرنا ہے۔ ممکن ہے آنے والے وقتوں میں اردو اخبارات کی ملکیت بڑے بڑے صنعتی اداروں کے ہاتھ میں چلی جائے، کیوں کہ یہ زبان مین اسٹریم میں خوبصورت واپسی کی طرف اپنے قدم تیز کرچکی ہے۔ چھوٹے شہروں سے لے کر بڑے شہروں تک اردو جاننے والے قارئین کے مزاج و معیار میں غیرمعمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ گلوبلائزیشن اور نئے صارف سماج نے دنیا کا جو چہرہ سامنے رکھا ہے، اس سے ہمارا اردو جاننے والا مکمل طور پر واقف رہے، اس لیے اب سطحی اور زرد صحافت سے اسے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ دہلی سے نکلنے والے اردو اخبارات کو بھی معیار کی سطح پر ترقی کی کچھ اور سیڑھیاں چڑھنے کی ضرورت پر شدت سے محسوس کرتی ہوں، مگر مایوس نہیں ہوں، جس طرح بابری مسجد شہادت سے 30؍ ستمبر 2010تک ہائی کورٹ کے فیصلے تک ایک نسل پروان چڑھ چکی ہے اور عام خیالات میں غیرمعمولی تبدیلیاں تعلیم کی سطح پر آچکی ہیں۔ امید ہے کہ اردو اخبارات بھی انشاء اللہ آئندہ آنے والے چند برسوں میں قارئین کے جذبات، خیالات اور احساسات کو سمجھتے ہوئے اردو اخباروں کا نیا چہرہ نئی سج دھج کے ساتھ پیش کریںگے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “اردو اخبارات کو جذبات سے نہیں مسائل سے جوڑئے

  • December 29, 2010 at 12:27 pm
    Permalink

    بلکل سچ اور درست لکھا ہے آپ نے ، بہت خوب

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *