اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار

ڈاکٹر محمد قائم الاعظمی
اولاد والدین کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ہزاروں منتوں، دعاؤں کے بعد اولاد کی پیدائش ہوتی ہے تو والدین خوشیاں مناتے ہیں، خویش و اقارب میں مسرتیں بانٹتے ہیں، اعزا و اقربا انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس کے لئے خیروبرکت کی دعائیں کرتے ہیں۔ اولاد کی تربیت و پرورش اس انداز میں کی جائے کہ اپنے مابعد اپنا دین و دنیا کا جانشیں چھوڑ جائیں۔
آج کل مسلم معاشرہ میں اسلامی طرز و تہذیب و ادب کے خلاف مغربی تہذیب و اطوار کا بول بالا ہے۔ اولاد کی پیدائش کے موقع پر والدین خوشی و مسرت کے عالم میں اتنا بے خود ہو جاتے ہیں کہ انہیں حدود شرع کی پامالی کا کوئی خوف نہیں ہوتا، اولاد کا استقبال اسلامی طرز پر اذان و دعاؤں سے نہیںبلکہ اس کی جگہ ڈھول باجے، تاشے اور رقص و شہنائیوں کی گونج سے کرتے ہیں۔ غور کیجئے اولاد کا ذہن ایک لوح سادہ کی مانند ہوتا ہے، اس پر جس طرح کی تعلیم و تربیت، ادب و تہذیب کی تحریریں لکھی جائیں گی، اسی انداز میں اولاد پروان چڑھے گی۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ والدین اولاد کی پرورش و نگہداشت میں حد سے زیادہ تجاوز کر جاتے ہیں، اولاد کے لہو و لعب کے لئے جانداروں کی شکل و شباہت کے کھلونے دے کر شروع ہی سے یہ ذہن دینا چاہتے ہیں کہ انسان کے گھر پیدا ہو کر اولاد انسانیت کی بجائے جانوروں کے بیچ میں رہ کر حیوانیت کے طور طریقے سیکھے۔
اولاد کی پرورش و تربیت میں والدین اسلامی آداب کو بالائے طاق رکھ کر بسم اللہ، کلمہ طیب، سلام، اللہ اور اس کے رسول کے مبارک ناموں کی تعظیم دینے کی بجائے گڈمارننگ، ہائے ہائے، بائے بائے کے مشرکانہ طور طریقے سکھلا کر اور ان کے کانوں میں اذان، قرآنی آیات، دعاء و ذکراللہ کا ورد کرنے کی بجائے فلمی گانوں، بجانوں، دھنوں اور فحش کلمات کی گونجیں سناتے ہیں، اس طرح بچپن ہی سے اولاد کو ماڈرن تہذیب کا شیدائی، فدائی اور دلدادہ بنا دیتے ہیں۔
غور کا مقام ہے مذہب اسلام میں اولاد کی تعلیم و تربیت کے لئے جو اصول و ضوابط اور ہدایات موجود ہیں، ان پر عمل پیرا ہو کر والدین اپنی اپنی اولاد کو صحیح و صالح اور پاکیزہ تعلیم و تربیت و پرورش کرکے اپنی اولاد کو جہنم کے شعلوں سے اور خود کو دنیا میں اولاد کے شر و فساد اور نافرمانیوں سے بچا سکتے ہیں اور آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی اپنی سرخ روئی، عزت و توقیر کا سامان فراہم کر سکتے ہیں۔
اولاد کی پرورش میں والدین کا کیا کیا کرادر ہونا چاہیے؟ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ملاحظہ کیجئے۔
اولاد کو بات بات پر ڈانٹنے جھڑکنے اور سرزنش کرنے سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنے کا حکم ہے، ان کی کوتاہیوں اور غلطیوں پر نفرت و بیزاری کا اظہار کرنے کی بجائے حکمت و سوز کے ساتھ ان کی تربیت، محنت و مشقت کے ساتھ کیجئے۔ اپنے طرز عمل سے بچوں کے اوپر یہ خوف و ہراس بہرحال غالب رہے کہ ان کی کوئی خلاف شرع بات آپ ہرگز برداشت نہ کریں گے۔ اولاد کے ساتھ ہمیشہ نرمی، خوش اخلاقی، پیار و شفقت کا برتاؤ کیجئے۔ ان کی حسب منشاء ضرورتوں اور چاہتوں کو پوری کرکے ان کو خوش رکھئے اور اطاعت و فرمانبرداری اور وفاشعاری کے جذبات ابھارئے۔
ایک بار احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، کہیے اولاد کے سلسلے میں کیا سلوک ہونا چاہیے؟ احنف بن قیس نے کہا، امیر المومنین اولاد ہمارے قلوب کا ثمرہ ہیں، کمر کی ٹیک ہیں، ہماری حیثیت ان کے لئے زمین کی طرح ہے، جو نہایت نرم اور بے ضرر ہے اور ہمارا وجود ان کے لئے سایہ فگن آسمان کی طرح ہے اور ہم انہیں کے ذریعہ بڑے بڑے کام انجام دینے کی ہمت کرتے ہیں۔ پس اگر وہ کچھ آپ سے مطالعہ کریں تو ان کے دلوں کا غم دور کیجئے، نتیجہ میں وہ آپ سے محبت کریں گے، آپ کی پدرانہ کوششوں کو پسند کریں گے اور کبھی ان پر ناقابل برداشت بوجھ نہ بنئے کہ وہ آپ کی نزدیکی سے اکتا جائیں اور آپ کی موت کے خواہاں ہوں، آپ کے قریب آنے سے نفرت کریں۔
حضرت معاویہ کو ان حکیمانہ باتوں نے کافی متاثر کیا اور آپ نے فرمایا احنف خدا کی قسم ! آپ جس وقت میرے پاس آکر بیٹھے ہیں یزید کے خلاف غصہ میں بھرا بیٹھا تھا، پھر حضرت احنف کے چلے جانے کے بعد امیر معاویہ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، اور یزید سے راضی ہوگئے، اسی وقت یزید کو دوسو درہم اور دوسو جوڑے بھیجوائے، یزید کے پاس جب یہ تحفے پہنچے تو یزید نے ان کے دو حصے کئے اور سو درہم اور جوڑے حضرت احنف ابن قیس کی خدمت میں بھیجوائے۔چھوٹے بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرئیے انہیں گود میں لے کر پیار کیجئے، ان کے ساتھ خوش روئی سے پیش آئیے۔ ہر وقت تند مزاج اور سخت گیر حاکم نہ بنے رہیے، اس طرز سے اولاد کے اندر والدین کے والہانہ جذبہ محبت بھی پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر خود اعتمادی و خودداری پیدا نہیں ہوتی اور ان کی طبعی نشوونماپر بھی خوشگوار اثرنہیں پڑتا۔
ایک مرتبہ اقرع بن حابس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیار کر رہے تھے۔ اقرع کو دیکھ کر تعجب ہوا اور بولے یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! آپ بھی بچوں کو پیار کرتے ہیں میرے تو دس بچے ہیں، لیکن میں نے تو کبھی کسی ایک کو بھی پیار نہیں کیا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اقرع کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا،’’اگر خدا نے تمہارے دل سے رحمت و شفقت نکال دی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔‘‘
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی اہم عہدے پر تھے، ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنے کے لئے ان کے گھر پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لیٹے ہوئے ہیں اور بچے سینے پر چڑھے ہوئے، کھیل رہے تھے۔ حضرت عامر کو یہ بات ناگوار گزری۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیشانی کے اتار چڑھاؤ سے ان کی ناگواری کو بھانپ لیا اور حضرت عامر سے بولے۔آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ برتاؤ کیسا رہتا ہے؟ حضرت عامر کو موقع مل گیا، بولے امیر المومنین! جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو گھر والوں پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے، سب اپنا دم سادھ کر چپ ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے سوز سے کہا۔ عامر ! امت محمدیہ کے فرزند ہوتے ہوئے یہ نہیں جانتے کہ مسلمانوں کو اپنے گھر والوں کے ساتھ کس طرح نرمی اور محبت کا سلوک کرنا چاہیے ؟ اولاد کو پاکیزہ صالح تعلیم و تربیت سے آرستہ و پیراستہ کرنے کے لئے اپنی ساری کدہ کاوش کو صرف کر دینا چاہیے اور اس راہ میں بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے، یہ والدین کی دینی و مذہبی ذمہ داری بھی ہے اور اہم فریضہ بھی ہے اور اولاد کے ساتھ عظیم احسان بھی اور اپنی ذات کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ مومنو ! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے ‘‘جہنم کی آگ سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ علم دین کے اسرار و رموز سے واقف ہو اور زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزرے، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں بہتر عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)
آپ کی تہذیبی و ثقافتی روایات مذہبی تعلیمات اور پیغام توحید کو زندہ تابندہ رکھنے میں اولاد اہم رول ادا کرتی ہے اور مومن نیک پڑھنے کے طور طریقے سکھلائے جائیں، نماز پڑھنے کی تلقین کی جائے، اپنے ساتھ مسجد لے جاکر اس کے شوق کو بیدار کیجئے اور جب وہ دس سال کا ہو جائے تو نماز میں کوتاہی و غفلت برتنے پر مناسب سزا بھی دیجئے اور اپنے طرز عمل سے ان پر واضح کیجئے کہ نماز سے غفلت آپ قطعی برداشت نہیں کریں گے۔بچہ جب دس سال کا ہو جائے تو اس کا بستر الگ کر دیا جائے اور ہر ایک کو الگ الگ چارپائی پر سلایا جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اولاد کو نماز پڑھنے کی تلقین کرو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور نماز کے لئے ان کو سزا دو جب وہ دس سال کے ہو جائیں اور اس عمر تک پہنچنے کے بعد ان کا بستر الگ کر دو۔
بچوں کی صفائی ستھرائی پر خاص خیال رکھنا چاہیے، ان کی طہارت و نظامت اور غسل وغیرہ کا خیال رکھا جائے، صاف ستھرے کپڑے رکھے جائیں، زیادہ بناؤ سنگھار، نام و نمود سے اجتناب کئے جائیں۔ لڑکی کے کپڑے بھی نہایت سادہ رکھئے، بھڑکیلے چمکدار، پرکشش لباس پہناکر بچوں کے مزاج و عادات کو خراب نہ کیا جائے، بچوں کے عیب دوسروں کے سامنے بیان نہیں کرنے چاہئیں، کیونکہ ایسا کرنے پر ان کی عزت و انا پر ٹھیس پہنچتی ہے، ان کی معمولی اچھائیوں کی خوب خوب تعریف کیجئے، ان کا دل بڑھانے اور ان میں خود اعتمادی اور حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کیجئے، تاکہ یہ لوگ اس دنیا میں اونچا سے اونچا مقام حاصل کر سکیں۔بچوں کو انبیاء و اولیائ، صلحاء و صالحین، صحابہ کرام اور مجاہدین اسلام کے قصے سنائیں جائیں، ان کی تربیت، کردار سازی، دین سے شغل و شغف کے لئے اس کو انتہائی ضروری سمجھے۔ ان کے سامنے قرآن پاک کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھیے، موقع بموقع نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات حسنہ کو بتائیں اور ابتدائی عمر سے ہی ان کے دلوں میں عشق رسول کی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔بچوں کے ذریعہ غریبوں محتاجوں کو کھانا، پیسے، کپڑے وغیرہ دلوائیے، جس سے ان کے دلوں میں محتاجوں کے ساتھ حسن سلوک صدقات و خیرات و عطیات و سخاوت کا جذبہ پیدا ہو۔ بھائیوں اور بہنوں میں خود ہی کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کریں تاکہ ایک دوسرے کے حقوق کا احساس اور انصاف و دیانتداری کی عادت پیدا ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *