سویڈن کی ڈائری

ڈاکٹر عارف کسانہ
سویڈن کی حکومت اور حزب اختلاف افغانستان سے سویڈش افواج کو واپس بلانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ نئی حکومت کو پارلیمان میں اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے سویڈش افواج کو واپس بلانا پڑ رہا ہے۔ حزب اختلاف کی تینوں جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور میں افواج کو واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا اور حکومت سے بات چیت میں یہی پیش نظر رہا، مگر تین جماعتی سرخ سبز اتحاد میں سے لیفٹ پارٹی نے مذاکرات سے علیحدگی اختیار کرلی اور جماعت کے سربراہ (لارش اولے) اپنے اصولی موقف پر قائم رہے، جب کہ حزب اختلاف کی جماعتوں سوشل ڈیموکریٹ اور گرین پارٹی نے مذاکرات کر کے اسے نتیجہ خیز بھی بنایا اور نسل پرست جماعت سویڈش ڈیموکریٹ کو اس مسئلہ سے الگ کیے رکھا۔ سویڈن، نیٹو اور ایساف کے تحت افغانستان میں چھیالیس ممالک کے ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد فوجی اور سویلین تعینات ہیں، جن میں سویڈن کے ساڑھے پانچ سو فوجی بھی شامل ہیں، جو مزار شریف کے علاقے میں تعینات ہیں۔ سکینڈے نیویا کے تمام ممالک کے فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ سویڈش حکومت اور حزب اختلاف کے معاہدے کے مطابق 2012سے افغانستان میں موجود افواج کو کم کرنا شروع کیا جائے گا اور 2014تک تمام افواج کو واپس بلا لیا جائے گا اور اس کی بجائے سویلین سطح پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔ افغانستان جیسے اہم معاملہ میں نسل پرست سویڈش سیاسی جماعت سویڈش ڈیموکریٹ کو الگ رکھنے کے بعد اس سال 10دسمبر کو نوبل انعامات کی تقسیم کی اہم تقریب میں بھی اس جماعت کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔ نسل پرست جماعت نے اس پر برہمی کا اظہار کیا، جب کہ نوبل کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ نسل پرستانہ نظریات الفڈ نوبل کی وصیت اور تعلیمات کے منافی ہیں، اس لیے انہیں دعوت نہیں دی جائے گی۔ بلاشبہ سویڈن کا یہ قدم قابل تحسین ہے۔
پاکستان کے متاثرین سیلاب کا دکھ درد اور مشکلات کا احساس بیرون ملک رہنے والے ہر ہم وطن کو ہے اور ان کی امداد کے لیے دنیا بھر میں پاکستانی سرگرم ہیں۔ وطن سے دور رہنے بلکہ نقل مکانی کرنے کے باوجود ان کے دل وہاں رہنے والوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ ان کے ہر کرب اور پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح سویڈن میں بھی رہنے والے پاکستانی بھی آزمائش کی اس گھڑی میں کھلے آسمان تلے مدد کے منتظر لاکھوں انسانوں کی امداد کے لیے کوشاں ہیں۔ سویڈن کی مختلف پاکستانی تنظیموں نے امدادی رقوم جمع کر کے ارسال کی ہیں۔ یہاں زیر تعلیم طلباء اور ان کی تنظیم (پی ایس اے) نے بھی اس سلسلہ میں قابل قدر کوشش کی ہے۔ سویڈش یونیورسٹیوں خصوصاً رائل انجینئرنگ یونیورسٹی(کے ٹی ایچ) کے طلباء نے پاک سوی ڈرامیٹک سوسائٹی کی بنیاد رکھی ہے، جو خصوصی تقریبات میں موسیقی، ڈرامے اور دوسرے ثقافتی اور تفریحی پروگرام منعقد کرکے سویڈن میں پاکستانی ثقافت اور اردو کی ترویج کا باعث ہے۔ محض تفریح ہی نہیں بلکہ اعلیٰ مقاصد کا حصول بھی ان کے پیش نظر ہے۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسٹاک ہوم کی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک رنگا رنگ تقریب منعقد کی، جس کا مقصد سیلاب زدگان کی مدد تھا۔ پاکستانی کمیونٹی کے مخیر حضرات چودھری رحمت علی، آصف بٹ، چودھری ظفر، زمان خان، عامر علی، چودھری سرور، خالد محمود، راشد اور محمد علی لاشاری نے خصوصی تعاون کیا۔ پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، اس خیراتی شو میں شریک تھے۔ پاکستانی سفارت خانہ کے قونصلر امیر محمد خان بھی موجود تھے۔ تقریب کے آغاز میں احتشام نے تلاوت قرآن کی، جب کہ سائرہ اور سمیع نے نعت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیش کی۔ اس خوبصورت تقریب کی نظامت پاکستان اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن کے صدر سہیل صفدر اور ارسلان نے بڑے دلنشیں انداز میں کی۔ آصفہ اقبال اور تصدق نے اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگایا۔ علی اظہر اور احسن نے بہت سے کردار اور گانے پیش کرکے خوب داد حاصل کی۔ احسن نے گائیکی کے ساتھ اپنے مخصوص انداز کے رقص سے میلہ لوٹ لیا، جب کہ علی اظہر بٹ نے اپنی آواز کے جادو کے ساتھ اداکاری کے جوہر بھی بڑی کامیابی کے ساتھ دکھائے۔
سیلاب زدگان کی صورت حال کو واضح کرنے کے لیے افضل فاروقی جو کہ اسٹاک ہوم کے اسٹیج پر کافی شہرت حاصل کرچکے ہیں، اپنے ساتھیوں شہزاد، محسن، عمر، ذیشان، ڈار اور دیگر کے ساتھ مل کر بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ فاروق نے ایک نظم کے ذریعے سیلاب زدگان کی صورت حال پیش کی۔ تصدق نے اس موقع پر جو گانے پیش کیے حاضرین نے انہیں بہت پسند کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمود کسانہ نے خطاب کرتے ہوئے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ سیلاب متاثرین کی امداد کے سلسلہ میں بھر پور تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے اور انسانیت کے رشتہ کے پیش نظر ہمارا فرض ہے کہ جس قدر ممکن ہوسکے اس نیک کام میں حصہ لیا جائے۔ شرکاء نے ان کی اپیل پر مثبت رد عمل کا مظاہرہ کیا اور اس پروگرام کی وساطت سے پچاس ہزار کراؤن سے زائد کی رقم اکٹھی ہوئی، جو بہت جلد پاکستان بھیجی جارہی ہے۔ اسٹاک ہوم کی پاکستانی کمیونٹی اور پاک سوی ڈرامیٹک سوسائٹی کے تمام اراکین کی یہ کاوش قابل تحسین اور انسانیت دوست ہے۔
پاکستان اور سویڈن کے باہمی تعلقات میں قربت اور دونوں عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے (سویڈن پاکستان فرینڈشپ سوسائٹی) قائم کی گئی تھی، جو کہ ایک عشرہ سے غیرفعال تھی۔ اب سفیر پاکستان ندیم ریاض کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے اس سوسائٹی کے تن مردہ میں پھر سے جان ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، جو کہ بار آور ہوتی نظر آرہی ہے۔ سوسائٹی کے نئے عہدیداران میں سویڈش اور پاکستانی شامل ہیں، جو اسے متحرک اور فعال بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ اسے ایسی فعال تنظیم بنانا چاہتے ہیں، جو دونوں ممالک کی عوام کے درمیان دوستی اور مضبوط تعلق کے ایک پل کا کردار ادا کرے، جو سماجی، تعلیمی، ثقافتی، تجارتی اور معاشی تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے۔ عمومی طور پر حکومتی اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی خامیوں اور شکایات کو تو منظر عام پر لایا جاتا ہے، بیرونی ممالک میں قائم سفارت خانوں میں تعینات عملہ شکایات کی خبریں اکثر پڑھنے کو ملتی ہیں۔ مگر ان کی بہتر کارکردگی اور وہاں تعینات عملہ کی خوبیوں اور محاسن کا تذکرہ کرنے میں پہلو تہی کی جاتی ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ شکایات اور خامیوں کے ساتھ خوبیوں کو بھی سامنے لایا جائے، تاکہ ایک طرف تو اچھی خوبیوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی ہو تو دوسری جانب دوسروں کو بھی ترغیب حاصل ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *