سپریم کورٹ، مندر مسند اور مایاوتی

وجے یادو
اجودھیا مسئلے پر ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ مایا وتی نے فیصلے کے ردعمل کی ذمہ داری مرکز کے سر پر ڈال دی۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال بگڑتی ہے تو مرکز ذمہ دار ہوگا۔ مایا وتی نے یہ بات اجودھیا کے تعلق سے تو کہہ دی تھی، لیکن کیا وہ عوامی مقامات پر بنے 45ہزار سے زائد غیر قانونی مذہبی مقامات کے معاملے میں بھی ایسا کہہ سکیں گی۔ سپریم کورٹ نے ان غیر قانونی مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ یہ مذہبی ڈھانچے عوامی مقامات پر قبضہ کرکے بنائے گئے ہیں ۔ اب اگر انہیں منہدم کیا جاتا ہے تو ریاستی حکومت کو عوامی غم وغصہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، وہ بھی ایسے حالات میں جب بی جے پی اسی بہانے نیپال سے ملحقہ اضلاع میں مخصوص فرقہ کے مذہبی مقامات کا ایشو اٹھانے کا تہیہ کرچکی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ غیر قانونی مذہبی مقامات کے اس سنگین مسئلے کا سامنا صرف حکومت اتر پردیش کو ہی ہے۔ اس معاملے میں تمل ناڈو سرفہرست ہے ، جہاں سب سے زیادہ 77,450 غیر قانونی مذہبی مقامات ہیں۔ راجستھان میں 58,253 ،مدھیہ پردیش میں 51,647،چھتیس گڑھ میں 30,000 اور گجرات میں 15,000مذہبی مقامات ایسے ہیں، جو عوامی مقامات پر بنے ہیں۔ گجرات میں شدت پسند ہندتو کی شبیہ رکھنے والے نریندر مودی نے ایسے درجنوں مذہبی مقامات کو منہدم کراکر ایک مثال بھی قائم کی تھی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سیکولر شبیہ والی وزیر اعلیٰ مایا وتی سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں ایسا پر خطر قدم اٹھاسکیں گی۔ صرف راجدھانی لکھنؤ میں ہی ایسے مذہبی مقامات کی تعداد 971ہے۔ سب سے زیادہ 4706 غیر قانونی مذہبی مقامات سدھارتھ نگر میں ہیں۔ یہ مذہبی مقامات سڑکوں، گلیوں کے کناروں پر واقع ہیں، جہاں  لوگ آتے جاتے اپنا ماتھا ٹیکتے ہیں۔ مذہب کی آڑ میں سرکاری جائداد پر قبضہ کرکے جب یہاں تعمیرکا کام کیا جارہا تھا، اس وقت نگر نگم اور پی ڈبلیو ڈی کے انجینئرس خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ اب وہ سپریم کا چابک چلنے کے بعد ایسی جگہوں کی نشاندہی کرکے اس کی فہرست حکومت کے حوالے کرچکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ستمبر میں ریاستی حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ عوامی مقامات ،سڑکوں، نکڑوں اور پارکوں میں مندر ، مسجد، گرجا گھر، گرودوارہ اور دوسرا کوئی بھی مذہبی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں ریاستی حکومتوں کو ایک مفصل پالیسی تیار کرنے، عوامی مقامات پر بنے مذہبی ڈھانچوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں ہٹانے یا اس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے بارے میں منصوبہ بنانے کا حکم دیا تھا۔ ان مذہبی مقامات کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی، ایسا کوئی بیورا حکومت اتر پردیش ابھی تک سپریم کورٹ کے سامنے پیش نہیں کرسکی ہے۔ وجہ صاف ہے ، ریاستی حکومت اس بات سے خوف زدہ ہے کہ اگر ان مذہبی مقامات کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اسے عوامی غم وغصہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ایک سال پورا ہوچکا ہے، لیکن اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ اس سے ناراض عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ ستمبر کی 14تاریخ کو ریاستی حکومتوں کو دو ہفتہ کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ اس بار سیدھے چیف سکریٹریز کو طلب کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ اس مسئلے پر لاپروائی برداشت کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے گزشتہ 27جولائی کو ایک حکم جاری کرکے غیر قانونی مذہبی مقامات کی تعداد بتانے اور ان کے خلاف کارروائی کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے تمام غیر قانونی مذہبی مقامات کی تفصیل فراہم کردی ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے بنائی گئی پالیسی سے سپریم کورٹ کو واقف کرایا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ڈی ایم کی صدارت والی ضلع سطح کی کمیٹی ہر ایک معاملے کی چھان بین کرے گی اور پھر اپنی رپورٹ بھیجے گی۔ اپنے دفاع میں ریاستی حکومت نے یہ دلیل دی ہے کہ مذہبی مقامات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ابھی کسی ڈی ایم نے اپنی رپورٹ نہیں بھیجی ہے۔ ریاستی حکومت کے پاس اس بات کابھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ کتنے مذہبی مقامات کو ہٹایا گیا ، انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا یا پھر کتنے مذہبی مقامات کوقاعدے کے مطابقکرنے کا عمل اپنایا گیا۔ انتظامیہ کے چیف سکریٹری آلوک رنجن کے مطابق اس پورے معاملے میں وزارت داخلہ کے چیف سکریٹری فتح بہارد سنگھ کو نوڈل افسر بنایا گیا ہے۔ قانونی امور وہی دیکھ رہے ہیں۔ ان کے محکمہ سے جومعلومات طلب کی گئی تھی، وہ مہیا کرادی گئی ہے۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ رہے ہیں کہ اگر ان مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کی گئی تو مخالف سیاسی جماعتیں اس کا فائدہ اٹھانے سے گریز نہیں کریںگی۔ بھلے ہی انہدامی کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں کی جائے۔ ان افسروں کی کا اندیشہ غلط نہیں ہے۔ بی جے پی کے ودھان پریشد کے رکن اور ریاستی ترجمان ہردے نارائن دیکشت کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں حکومت کو اپنا موقف اچھی طرح سے رکھنا چاہئے اور عدالتوں کو صورت حال کی صحیح جانکاری دینی چاہئے۔

ان کے مطابق سڑک پر قبضہ کرکے مذہبی مقام تعمیر کرنا غلط ہے۔ اس سے بھی زیادہ حساس معاملہ نیپال کی سرحد سے ملحق یوپی کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں بے شمار مذہبی مقامات کی تعمیر ہے۔ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ بی جے پی اس موضوع کو اٹھائے گی، ایس پی کے ریاستی ترجمان راجندر چودھری نے اس معاملے میں حالات سامنے آنے پر ہی کوئی فیصلہ لینے کی بات کہی ۔ اتر پردیش میں دو سال بعد اسمبلی انتخابات ہوں گے، اس لحاظ سے بی ایس پی حکومت دانستہ اس آگ میں اپنے ہاتھ نہیں جلانا چاہتی ہے۔ ویسے بھی اجودھیا معاملے پر ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جس طرح سے بی جے پی اور ایس پی کی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں، اسے دیکھتے ہوئے انمذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کرنا بی ایس پی حکومت کے لئے مشکل ہوگا۔ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھلے ہی اس مسئلے پر کھل کر سامنے نہ آئیں، لیکن وہ اپنی حامی مذہبی تنظیموں کے ذریعہ لا اینڈ آرڈر کے لئے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔ اس سے نمٹنے کا راستہ تلاش کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد ہی ان مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی۔

پولس کا کوئی کیا بگاڑے گا

خاکی وردی میں یہ کلیگ کے پولس والے ہیں، جن سے امید تو لوگ انصاف کی رکھتے ہیں لیکن کافی چڑھاوے کے بعد بھی نصیب نہیں ہوپاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے سڑک اور چوراہا گھیر کر بنائے گئے مذہبی مقامات پر تو اپنی نظر ٹیڑھی کرلی لیکن ان پولس بھگوانوں کا کیا ہوگا، جو اتر پردیش کی سڑک اور فٹ پاتھ پر ہی چوکی کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ راجدھانی لکھنؤ میں ہی امین آباد جیسے مصروف اور بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں گرلز کالج اور بجلی گھر کے درمیان پولس نے سڑک کھود کر چوکی بنا رکھی ہے۔ عام آدمی یہی کام کرتا تو اسے لاٹھی ڈنڈوںسے پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیا جاتا، لیکن یہاں تو خاکی وردی خود ہی ملوث تھی، لہٰذا ذمہ دار محکموں نے اس جانب سے اپنی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ یہ تو محض ایک مثال ہے، چارباغ ہو یا پھر اندرا نگر کی بھوت ناتھ مارکیٹ یا منشی پلیا کے پاس ارویندو پارک کا علاقہ ، جہاں دل کیا پولس نے وہیں عوامی جگہ پر چوکی کھول لیہے۔ سڑک گھیر کر چوکی بنانے کے علاوہ پولس نے خاکی وردی کی دھونس جماتے ہوئے جا بجا فٹ پاتھ بوتھ کھول رکھے ہیں، جہاں صرف بیٹھک بازی ہوتی ہے۔ عام آدمی کو ان بوتھوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ یہی حال ریاست کے دوسرے شہروں کا ہے۔ وارانسی میں سنکری سڑکوں پر گاڑیوں کے بڑھتے بوجھ کے درمیان ٹریفک ویسے ہی رینگ رینگ کر آگے بڑھتا ہے۔ اس پر مزید طرہ یہ کہ سڑک گھیر کر بنائی گئیں چوکیاں اور بوتھ لوگوں کی دقتوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ سب عوام کی حفاظت کے لئے کیا جارہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس علاقہ میں بھی پولس نے ایسی چوکیاں قائم کی ہیں، وہاں محکمہ کی کمائی ضرور بڑھ گئی ہے۔ عام آدمی کو کتنا تحفظ حاصل ہوا ہے، اس کے اظہار کے لئے شہر میں آئے دن ہونے والے قتل اور لوٹ مار کے واقعات ہی کافی ہیں۔

عام آدمی ہوا چوکنا

سپریم کورٹ کے حکم سے عوام میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور وہ عوامی مقامات پر مذہبی مقامات بنائے جانے کے خلاف کھڑے ہونے لگے ہیں۔ اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایسی ہی ایک عوامی پہل ہوئی ، جسے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی، نگر نگم اور مقامی پولس انتظامیہ کا تعاون بھی ملا۔ یہاں پکنک اسپاٹ کے پاس فریدی نگر میور وہار سی بلاک میںپبلک پارک نمبر ایک ہے۔ اس پارک کی زمین پر وہاں کی’’میور وہار سی بلاک ویلفیئر سوسائٹی فریدی نگر ‘‘نے مندر کی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن سوسائٹی کی نئی اکائی کی تشکیل عمل میں آئی، اسی دن مندر بنانے کی تجویز پیش کردی گئی۔ عام طور پر کسی بھی نئی اکائی کی تشکیل کے پہلے دن ایسی کسی تجویز سے احتراز کیا جاتا ہے۔ مندر بنانے کا ایجنڈا پیش ہونے کے بعد نئی اکائی کے عہدیدار پارک کی زمین پر مندر بنانے کے لئے بیٹھک بازی کرنے لگے۔ جب مقامی لوگوں کو اس کی بھنک ملی تو انہوں نے اپنی سطح پر پہل کرکے مخالفت کی۔ جب ان کی بات نہیں سنی گئی تو کالونی کی خواتین نے کمیٹی کے عہدیداروں کو ایک خط لکھا۔ اس میں سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی مقامات پر کوئی بھی مذہبی ڈھانچہ تعمیر کرنا قانوناً غلط ہے۔ یہ جگہ پارک کے لئے ہے جہاں کالونی کے بچے کھیلتے کودتے ہیں اور عوامی زندگی کی دیگر تمام سرگرمیوں کا مرکز بھی پارک کی زمین ہے۔ اگر اس پر مندر کی تعمیر کی گئی تو کالونی کے رہنے والوں کو پریشانی ہوگی اور یہ سپریم کورٹ کے حکم کی توہین بھی ہوگی۔ اس خط کی نقل لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی چیئر مین اور سکریٹری، نگر نگم کے سٹی کمشنر، لکھنؤ کے ڈی آئی جی؍ ایس ایس پی سمیت دیگر ذمہ دار افسروں کو بھی بھیجی گئی۔ مکتوب ارسال کرنے والی خواتین میں منیب پرساد کی اہلیہ پرتیما پرساد، ویودھن کی بیوی ودیا وتی، راجندر یادو کی اہلیہ میرا دیوی، بی این یادو کی اہلیہ رینا یادو اوردیگر خواتین شامل ہیں۔ خط کا اثر یہ ہوا کہ کمیٹی کے عہدیداروں نے مندر کی تعمیر کا منصوبہ فی الحال ملتوی کردیا ہے۔ اس کے علاوہ لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ٹیم نے موقع پر جاکر صورت حال کا جائزہ لیا۔ ایل ڈی اے افسروں نے مقامی شہریوں اور خواتین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسی کسی بھی تعمیر کو شروع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مقامی خرم نگر پولس چوکی کے انچار ج نے بھی وہاں کے لوگوں کو بھروسہ دلایا اور کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ فوراً پولس کو مطلع کریں۔ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف عوامی جگہ پر مذہبی ڈھانچہ تعمیر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ میور وہار کی خواتین کی یہ پہل ان جگہوں کے لئے قابل تقلید ہے، جہاں پارک یا دیگر عوامی مقامات پر مذہبی ڈھانچہ بنانے کی سازش ہورہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *