سیاست میں الجھے نوکر شاہ

دلیپ چیرین
سیاست کی کشتی میں نوکرشاہوں کی طرفداری کرنا اکثر ان کے لئے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ پنجاب کے دو سینئر آئی پی ایس افسروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل، ان کی بیوی اور بیٹے سکھ بیر سنگھ بادل کے خلاف آمدنی سے زیادہ دولت رکھنے کے معاملے میں انہوں نے گواہوں کو ڈرایا دھمکایا اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ غور طلب ہے کہ بادل اور ان کے اہل خاندان کو عدالت نے الزامات سے بری کردیا تھا، لیکن یہ دونوں پولس افسران اب جانچ ایجنسیوں کے نشانے پر ہیں۔ دونوں افسران، ایس پی (نگرانی) سریندر پال سنگھ اور ڈی آئی جی بی کے اُپل نے بادل خاندان کے خلاف مقدمے کی مخالفت کی تھی۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ پنجاب میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ریاست میں بدعنوان بابوؤں کی تو جیسے شامت آگئی ہے۔ ریاست کے ایک سینئر آئی اے ایس افسر اور ٹرانسپورٹ ڈائرکٹر مندیپ سنگھ بھی سی بی آئی کی جانچ کے دائرے میں آگئے ہیں۔ ان پر پنچایت سکریٹریوں کی تقرری میں گڑبڑی کرنے کا الزام ہے۔ اس گھوٹالے میں ریاست کے اسمبلی اسپیکر نرمل سنگھ کہلان اور13دیگر نوکر شاہوں کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ریاستی حکومت نے جانچ کے لئے سی بی آئی کی درخواست کو ٹھکرادیا تھا۔ جانچ ایجنسی نے اس کے بعد وزرات داخلہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حالانکہ سی بی آئی کو گھوٹالے میں شامل سبھی لوگوں کے خلاف جانچ کی اجازت مل گئی ہے، لیکن اس سے سیاسی گلیاروں میں سیاست کا کھیل بند ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *